مواد پر جائیں

تصنیف و تالیف میں مصنوعی ذہانت کا استعمال

سید منظور الحسن اردو

(المورد امریکہ کی مطبوعات کے بارے میں ادارے کے موقف کی وضاحت)

’’چیٹ جی پی ٹی‘‘ مصنوعی ذہانت کا ایک سافٹ ویئر ہے، جو افکار کو تشکیل دے کر اُنھیں تحریر کے قالب میں ڈھال سکتا اور پھر ترتیب و تدوین کے عمل سے گزار کر مضامین، مقالات اورکتب کی صورت میں پیش کر سکتا ہے۔ اِس مقصد کے لیے یہ انٹرنیٹ پردستیاب تحریر و تقریر کے مواد کو استعمال کرتا ہے۔ اُس کی جانچ پرکھ اور تنقیح و تحقیق کے بعد مطلوب نتائج کو لمحوں میں سامنے لے آتاہے۔ اِس کے ساتھ یہ گفتگو کو مضمون کی صورت میں لکھ سکتا ، مفصل عبارت کومختصر اور مختصر کو مفصل بنا سکتا ، زبان و بیان کی اصلاح کر سکتا ، کسی تحریر کے اسلوب کو بدل سکتا، یہاں تک کہ اُسے کسی بڑے مصنف کے اسلوب نگارش میں منعکس کر سکتا ہے۔

اِس ایجاد سے جہاں کہنہ مشق مصنفین کی معاونت کے وسیع الاطراف اسباب پیدا ہوئے ہیں، وہاں نو آموز مصنفین کے لیے مشق و مزاولت اور تخلیق و تجدید کی جستجو کے امکانات میں کمی آئی ہے۔یہی وجہ ہے کہ دنیا کے اربابِ علم و دانش اِس کے نفع و نقصان اور عمومی استعمال کے بارے میں متردد ہیں۔ تاہم، امکان یہی ہے کہ تصنیف و تالیف کے میدان میں بہت جلد یہ اور اِس جیسے سافٹ ویئرز کو حتمی اور مرکزی حیثیت حاصل ہو جائے گی۔

اصولی موقف

سوال یہ ہے کہ تصنیف و تالیف کے میدان میں مصنوعی ذہانت جب تک پوری طرح مستعمل اور مسلم نہیں ہو جاتی، اُس وقت تک کیا لائحۂ عمل اختیار جائے؟ کیا اِس کو مثبت طور پر قبول کرتے ہوئے مصنفین کو اِس کے استعمال کی ترغیب دی جائے؟ یا برعکس طور پر اِس کے استعمال کی حوصلہ شکنی کی جائے اور اِس کی مدد سے لکھی گئی تحریروں کو مسروق سمجھ کر رد کر دیا جائے؟ مزید برآں، اگر قبول کیا جائے تو کیا کچھ حدود و قیود عائد کیے جائیں یا اُن کے بغیر دیگر تحریروں کی طرح قابل اشاعت سمجھ لیا جائے؟

اِن سوالوں کے جواب میں ہمارا اصولی موقف درجِ ذیل نکات پر مبنی ہے:

1۔ ماہر اور کہنہ مشق مصنفین کو چیٹ جی پی ٹی کے استعمال کی ترغیب دی جائے کہ وہ اِسے معاون محقق (research assistant) اور معاون مدیر(assistant editor) کے طور پر استعمال کریں اور اِس کی مدد سے اپنی نگارشات کومزید وسعت، کثرت اور سرعت کے ساتھ پیش کریں۔ تاہم، اُنھیں اِس معاونت کا برملا اعتراف لازماً کرنا چاہیے۔

2۔ مبتدی اور ناتجربہ کارمصنفین کو اِس سے احتراز کی تلقین کی جائے ۔ اُن سے گزارش کی جائے کہ پہلے وہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھائیں اور اُس کے بعد چیٹ جی پی ٹی کو ایک معاون کے طور پر استعمال کریں۔

3۔معروف، مستقل اور ماہر مصنفین اگر چیٹ جی پی ٹی سے کوئی مضمون یا مقالہ لکھواتے ہیں تو اُنھیں اُسے اپنی تصنیف کے طور پر پیش نہیں کرنا چاہیے۔ اُس پر اُن کا نام نگران اور نظر ثانی کرنے والے کے طور پر آنا چاہیے۔

لائحۂ عمل

اِس موقف کی روشنی میں ’’غامدی سینٹر آف اسلامک لرننگ، المورد امریکہ‘‘ کی مطبوعات ــــ کتب و جرائدـــــ کے لیے درجِ ذیل لائحۂ عمل اختیار کیا گیا ہے:

1۔ مصنفین سے درخواست کی جائے کہ وہ چیٹ جی پی ٹی سے جومدد حاصل کریں، وہ تحقیق (research) اور تدوین (editing) کے دائرے تک محدود رہنی چاہیے۔ تصنیف و تالیف کا کام اُس سے نہیں لینا چاہیے۔

2۔ اُن سے گزارش کی جائے کہ اگراُنھوں نے کسی مضمون یا مقالے کی تحقیق و تدوین میں چیٹ جی پی ٹی سے مدد حاصل کی ہے تو نمایاں طور پر اُس کی تصریح کریں۔

3۔ ادارے کا شعبۂ ادارت اِس بارے میں مصنفین سے استفسار کرے تاکہ اگر سہواً صراحت نہیں ہو سکی تو صراحت کر دی جائے۔

4۔ چیٹ جی پی ٹی کو خیال (idea) دے کر یا موقف بتا کر لکھوائی گئی تحریروں کی اشاعت سے عموماً اجتناب کیا جائے۔

5۔ تاہم اگر مصلحتاً ایسا کرنا ضروری ہو تو اُس پر مصنف کے نام کو اِس طرح لکھا جائے:

فکر و خیال: زید/ بکر

تصنیف و تالیف: چیٹ جی پی ٹی

موقف کا استدلال

درجِ بالا موقف میں ہمارا استدلال تصنیف و تالیف کی جس مسلمہ حقیقت پر مبنی ہے، وہ اجمالی طور پر یہ ہے کہ ایک مصنف اپنا مضمون یا مقالہ تحریر کرتے ہوئےبالعموم پانچ چیزوں کا التزام کرتا ہے:

اول ’’ فکر و خیال‘‘ (thought) ہے۔یعنی وہ کسی موضوع پر غور کر کےاپنے موقف اور اُس کے استدلال کو متعین کرتا ہے اور اُس کی تنقیح و توضیح کے لیے بنیادی مواد کا مطالعہ کرتا ہے۔

دوم ’’جمع مواد‘‘ (data collection) ہے۔ یعنی وہ اساتذہ، ماہرین، لائبریریوں اور انٹرنیٹ سے رجوع کر کے مطلوب علمی مواد کو جمع کرتا ہے۔

سوم ’’تصنیف و تالیف‘‘ (writing) ہے۔ یعنی وہ اپنے فکر و خیال کو جمع شدہ علمی مواد کی آمیزش سے تحریر کے قالب میں ڈھالتا ہے۔

چہارم ’’ترتیب و تدوین‘‘ (editing) ہے۔ یعنی تحریری کام مکمل ہونے کے بعد وہ اُس کی ترتیب بیان کو بہتر کرتا ، سرخیاں قائم کرتا ، پیراگرافنگ کرتا ، زبان کی اصلاح کرتا ، اوقاف لگاتا ، حوالوں کی پڑتال کرتا اور اِس نوعیت کے دیگر کام انجام دیتا ہے۔

پنجم ’’پروف ریڈنگ‘‘ (proof reading) ہے۔ یعنی وہ اشاعت کے لیے بھیجنے سے پہلے تحریر کو لفظی طور پر پڑھ کر پروف کی غلطیوں کی اصلاح کرتا ہے۔

ہر منضبط تحریر عموما اِنھی پانچ چیزوں کا مظہر ہوتی ہے۔

ان میں سے پہلی اور تیسری چیز ، یعنی ’’فکر و خیال‘‘ اور ’’تصنیف و تالیف‘‘ اصلاً تخلیقی نوعیت کی ہیں اور مصنف کی ذاتی کاوش پر مبنی ہوتی ہیں۔ اِنھی کی بنا پر کوئی شخص مصنف کہلاتا اورتحریر کی ملکیت کا حق دار سمجھا جاتا ہے۔ اِس کام میں اگر کوئی دوسرا شریک ہو تو معاون مصنف (co author) کے طور پر اُس کے لیے بھی نسبت اور ملکیت کے جملہ حقوق تسلیم کیے جاتے ہیں۔

باقی تین چیزیں ــــ ’’جمع مواد‘‘، ’’ترتیب و تدوین‘‘ اور ’’پروف ریڈنگ‘‘ ــــ اصلاً تکنیکی ہیں۔ اِن میں مصنف بالعموم بعض افراد یا سافٹ ویئرز کی خدمات حاصل کرتا ہے۔ کتاب کی صورت میں اِن کا ذکر عام طور پر دیباچے یا خاتمے میں کر دیا جاتا ہے۔ رسائل و جرائد میں اِس کی ضرورت نہیں ہوتی، کیونکہ اُن کے ٹائیٹل اورسب ٹائیٹل پر مدیران کا نام درج ہوتا ہے۔

البیان