مواد پر جائیں

البیان

جاوید احمد غامدی اردو

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سورة البقرۃ
(21)

مَثَلُ الَّذِیۡنَ یُنۡفِقُوۡنَ اَمۡوَالَہُمۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ کَمَثَلِ حَبَّۃٍ اَنۡۢبَتَتۡ سَبۡعَ سَنَابِلَ فِیۡ کُلِّ سُنۡۢبُلَۃٍ مِّائَۃُ حَبَّۃٍ ؕ وَ اللّٰہُ یُضٰعِفُ لِمَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۲۶۱﴾ اَلَّذِیۡنَ یُنۡفِقُوۡنَ اَمۡوَالَہُمۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ثُمَّ لَا یُتۡبِعُوۡنَ مَاۤ اَنۡفَقُوۡا مَنًّا وَّ لَاۤ اَذًی ۙ لَّہُمۡ اَجۡرُہُمۡ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ ۚ وَ لَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ ﴿۲۶۲﴾ قَوۡلٌ مَّعۡرُوۡفٌ وَّ مَغۡفِرَۃٌ خَیۡرٌ مِّنۡ صَدَقَۃٍ یَّتۡبَعُہَاۤ اَذًی ؕ وَ اللّٰہُ غَنِیٌّ حَلِیۡمٌ ﴿۲۶۳﴾ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُبۡطِلُوۡا صَدَقٰتِکُمۡ بِالۡمَنِّ وَ الۡاَذٰی ۙ کَالَّذِیۡ یُنۡفِقُ مَالَہٗ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا یُؤۡمِنُ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِؕ فَمَثَلُہٗ کَمَثَلِ صَفۡوَانٍ عَلَیۡہِ تُرَابٌ فَاَصَابَہٗ وَابِلٌ فَتَرَکَہٗ صَلۡدًا ؕ لَا یَقۡدِرُوۡنَ عَلٰی شَیۡءٍ مِّمَّا کَسَبُوۡا ؕ وَ اللّٰہُ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۲۶۴﴾

(ہدایت و ضلالت کے معاملے میں اللہ کا طریقہ یہی ہے۔ اِس لیے یہ نہیں مانتے تو اِنھیں چھوڑو اور تم اچھی طرح سمجھ لوکہ) اللہ کی راہ میں اپنے مال خرچ کرنے والوں کے اِس عمل کی مثال

وَ مَثَلُ الَّذِیۡنَ یُنۡفِقُوۡنَ اَمۡوَالَہُمُ ابۡتِغَآءَ مَرۡضَاتِ اللّٰہِ وَ تَثۡبِیۡتًا مِّنۡ اَنۡفُسِہِمۡ کَمَثَلِ جَنَّۃٍۭ بِرَبۡوَۃٍ اَصَابَہَا وَابِلٌ فَاٰتَتۡ اُکُلَہَا ضِعۡفَیۡنِ ۚ فَاِنۡ لَّمۡ یُصِبۡہَا وَابِلٌ فَطَلٌّ ؕ وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ ﴿۲۶۵﴾

اَیَوَدُّ اَحَدُکُمۡ اَنۡ تَکُوۡنَ لَہٗ جَنَّۃٌ مِّنۡ نَّخِیۡلٍ وَّ اَعۡنَابٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ ۙ لَہٗ فِیۡہَا مِنۡ کُلِّ الثَّمَرٰتِ ۙ وَ اَصَابَہُ الۡکِبَرُ وَ لَہٗ ذُرِّیَّۃٌ ضُعَفَآءُ ۪ۖ فَاَصَابَہَاۤ اِعۡصَارٌ فِیۡہِ نَارٌ فَاحۡتَرَقَتۡ ؕ کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمُ الۡاٰیٰتِ لَعَلَّکُمۡ تَتَفَکَّرُوۡنَ ﴿۲۶۶﴾

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡفِقُوۡا مِنۡ طَیِّبٰتِ مَا کَسَبۡتُمۡ وَ مِمَّاۤ اَخۡرَجۡنَا لَکُمۡ مِّنَ الۡاَرۡضِ ۪ وَ لَا تَیَمَّمُوا الۡخَبِیۡثَ مِنۡہُ تُنۡفِقُوۡنَ وَ لَسۡتُمۡ بِاٰخِذِیۡہِ اِلَّاۤ اَنۡ تُغۡمِضُوۡا فِیۡہِ ؕ وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ حَمِیۡدٌ﴿۲۶۷﴾

اُس دانے کی ہے جس سے سات بالیں نکلیں، اِس طرح کہ ہر بال میں سو دانے ہوں۔ اللہ(اپنی حکمت کے مطابق)جس کے لیے چاہتا ہے، اِسی طرح بڑھا دیتا ہے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ بڑی وسعت والا ہے، وہ ہر چیز سے واقف ہے۔ جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں، پھر جو کچھ خرچ کیا ہے، اُس کے پیچھے نہ احسان جتاتے ہیں، نہ دل آزاری کرتے ہیں، اُن کے لیے اُن کے پروردگار کے ہاں اُن کا اجر ہے اور اُن کے لیے نہ وہا ں کوئی اندیشہ ہے اور نہ وہ کبھی غم زدہ ہوں گے۔ ایک اچھا بول اور (ناگواری کا موقع ہو تو) ذرا سی چشم پوشی اُس خیرات سے بہتر ہے جس کے ساتھ اذیت لگی ہو ئی ہو۔ اور (تمھیں معلوم ہونا چاہیے کہ) اِس طرح کی خیرات سے اللہ بے نیاز ہے، (اِس رویے پر وہ تمھیں محروم کر دیتا، لیکن اُس کا معاملہ یہ ہے کہ) اِس کے ساتھ وہ بڑا بردبار بھی ہے۔ ایمان والو، احسان جتا کر اور (ددسروں کی ) دل آزاری کر کے اپنی خیرات کو اُن لوگو ں کی طرح ضائع نہ کرو جو اپنا مال لوگو ں کو دکھانے کے لیے خرچ کرتے ہیں اور وہ نہ خدا پر ایما ن رکھتے ہیں او ر نہ قیامت کے دن کو مانتے ہیں۔ سو اُن کی مثال ایسی ہے کہ ایک چٹان ہو جس پر کچھ مٹی ہو، پھر اُس پر زور کا مینہ پڑے اوراُس کو بالکل چٹان کی چٹان چھوڑ جائے۔ (قیامت کے دن) اُن کی کمائی میں سے کچھ بھی اُن کے ہاتھ نہ آئے گا۔ اور حقیقت یہ ہے کہ اِس طرح کے ناشکرے لوگوں کو اللہ کبھی راہ یاب نہیں کرتا۔264

اللہ کی خوشنودی چاہنے کے لیے اور اپنے آپ کو حق پرقائم رکھنے کی غرض سے اپنا مال خرچ کرنے والوں کی مثال اُس باغ کی ہے جو بلند اور ہموار زمین پر واقع ہو۔ اُس پر زور کی بارش ہو جائے تو

اَلشَّیۡطٰنُ یَعِدُکُمُ الۡفَقۡرَ وَ یَاۡمُرُکُمۡ بِالۡفَحۡشَآءِ ۚ وَ اللّٰہُ یَعِدُکُمۡ مَّغۡفِرَۃً مِّنۡہُ وَ فَضۡلًا ؕ وَ اللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۲۶۸﴾ۖ یُّؤۡتِی الۡحِکۡمَۃَ مَنۡ یَّشَآءُ ۚ وَ مَنۡ یُّؤۡتَ الۡحِکۡمَۃَ فَقَدۡ اُوۡتِیَ خَیۡرًا کَثِیۡرًا ؕ وَ مَا یَذَّکَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ﴿۲۶۹﴾ۙ

وَ مَاۤ اَنۡفَقۡتُمۡ مِّنۡ نَّفَقَۃٍ اَوۡ نَذَرۡتُمۡ مِّنۡ نَّذۡرٍ فَاِنَّ اللّٰہَ یَعۡلَمُہٗ ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیۡنَ مِنۡ اَنۡصَارٍ ﴿۲۷۰﴾

اِنۡ تُبۡدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا ہِیَ ۚ وَ اِنۡ تُخۡفُوۡہَا وَ تُؤۡتُوۡہَا الۡفُقَرَآءَ فَہُوَ خَیۡرٌ لَّکُمۡ ؕ وَ یُکَفِّرُ عَنۡکُمۡ مِّنۡ سَیِّاٰتِکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ ﴿۲۷۱﴾

اپنا پھل دونا لائے اور زور کی بارش نہ ہو تو پھوار بھی کافی ہو جائے۔ (یہ مثال سامنے رکھو) اور (مطمئن رہو کہ) جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اُسے دیکھ رہا ہے۔ 265

کیا تم میں کوئی یہ پسند کرے گا کہ اُس کے پاس کھجوروں اور انگوروں کا ایک باغ ہو جس کے نیچے نہریں بہتی ہوں۔ اُس میں اُس کے لیے ہر قسم کے پھل ہوں اور وہ بوڑھا ہو جائے اور اُس کے بچے ابھی ناتواں ہوں اور باغ پر سموم کا بگولا پھر جائے اور وہ جل کر خاک ہو جائے۔ (احسان جتا کر اور دوسروں کی دل آزاری کر کے اپنا انفاق برباد کر لینے والوں کی حالت قیامت میں یہی ہو گی)۔ اللہ اِسی طرح اپنی آیتیں تمھارے لیے واضح کرتا ہے تاکہ تم غور کرو۔266

ایمان والو، اپنی پاکیزہ کمائی میں سے خرچ کرو اور اُس میں سے بھی جو ہم نے تمھارے لیے زمین سے نکالا ہے، اور کوئی بری چیز تو اُس میں سے (اللہ کی راہ میں) خرچ کرنے کا خیال بھی نہ کرو۔ تم اِس طرح کی چیزوں میں سے خرچ کرتے ہو، لیکن اپنا حال یہ ہے کہ اُس کی قیمت گھٹانہ لو تو اُسے لینے کے لیے تیار نہیں ہوتے اور جان رکھو کہ (تمھاری اِس خیرات سے) اللہ بے نیاز ہے، وہ ستودہ صفات ہے۔ 267

شیطان تمھیں تنگ دستی سے ڈراتا اور (خرچ کے لیے) بے حیائی کی راہ سجھاتا ہے اور اللہ اپنی طرف سے تمھارے ساتھ مغفرت اور فضل کا وعدہ کرتا ہے، اور اللہ بڑی وسعت اور بڑا علم رکھنے والا ہے۔ وہ (اپنے قانون کے مطابق) جس کو چاہتا ہے، اِس وعدے کا فہم عطا کر دیتا ہے، اور جسے یہ فہم دیا گیا، اُسے تو درحقیقت خیر کثیر کا ایک خزانہ دے دیا گیا۔ لیکن (اِس طرح کی باتوں سے) یاددہانی صرف دانش مند ہی حاصل کرتے ہیں۔ 268-269

(اِس بات کو سمجھ لو) اور (مطمئن رہو کہ) جو خرچ بھی تم کرو گے یا جو نذر بھی تم مانو گے، اُس کا صلہ لازماً پاؤ گے، اِس لیے کہ اللہ اُسے جانتا ہے اور (اللہ کی اِس ہدایت سے منہ موڑ کر) اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والوں کا (اللہ کے ہاں) کوئی مددگار نہ ہو گا۔ 270

تم اپنی خیرات علانیہ دو تو یہ بھی کیا اچھی بات ہے اور اُسے چھپاؤ اور غریبوں کو دے دو تو یہ تمھارے حق میں زیادہ بہتر ہے۔ (اللہ تم کو اِس کا صلہ دے گا) اور تمھارے بہت سے گناہ تم سے جھاڑ دے گا اور حقیقت یہ ہے کہ جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اُس سے پوری طرح باخبر ہے۔271

[باقی]