مواد پر جائیں

علم آشفتہ، عقل بے انداز

جاوید احمد غامدی اردو

زندگی کیا ہے؟ حسرتوں کا مزار

بزمِ ہستی سے بے صدا آتے

ڈھونڈ لیتی ہے آرزو کی کرن

پھر وہی جسم و جاں میں ہجر و وصال

ہر سو آوارگیِ فکر و نظر

فصلِ گل چھیڑتی ہے تارِ رباب

وقت خاموش بھی ہے گویا بھی

آ رہی ہے مگر صداے حجاز

یا پھر اندیشہ ہاے دور دراز

اٹھ گیا بے خودی میں پردۂ ساز

وسعتِ آسماں، پرِ پرواز

پھر وہی انتہا، وہی آغاز

اب کہاں دردِ آگہی کا گداز

شوق ہوتا ہے زمزمہ پرداز

کھول دیتا ہے آپ اپنا راز

جلوۂ ناز میں ہے حسنِ ازل

یہ مرا سجدۂ جبینِ نیاز