بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سورة البقرۃ
(22)
لَیۡسَ عَلَیۡکَ ہُدٰىہُمۡ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ یَہۡدِیۡ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ مَا تُنۡفِقُوۡا مِنۡ خَیۡرٍ فَلِاَنۡفُسِکُمۡ ؕ وَ مَا تُنۡفِقُوۡنَ اِلَّا ابۡتِغَآءَ وَجۡہِ اللّٰہِ ؕ وَ مَا تُنۡفِقُوۡا مِنۡ خَیۡرٍ یُّوَفَّ اِلَیۡکُمۡ وَ اَنۡتُمۡ لَا تُظۡلَمُوۡنَ ﴿۲۷۲﴾
لِلۡفُقَرَآءِ الَّذِیۡنَ اُحۡصِرُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ لَا یَسۡتَطِیۡعُوۡنَ ضَرۡبًا فِی الۡاَرۡضِ ۫ یَحۡسَبُہُمُ الۡجَاہِلُ اَغۡنِیَآءَ مِنَ التَّعَفُّفِ ۚ تَعۡرِفُہُمۡ بِسِیۡمٰہُمۡ ۚ لَا یَسۡـَٔلُوۡنَ النَّاسَ اِلۡحَافًا ؕ وَ مَا تُنۡفِقُوۡا مِنۡ خَیۡرٍ فَاِنَّ اللّٰہَ بِہٖ عَلِیۡمٌ ﴿۲۷۳﴾ اَلَّذِیۡنَ یُنۡفِقُوۡنَ اَمۡوَالَہُمۡ بِالَّیۡلِ وَ النَّہَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِیَۃً فَلَہُمۡ اَجۡرُہُمۡ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ ۚ وَ لَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ ﴿۲۷۴﴾ؔ
(بنی اسرائیل نہیں مانتے تو اے پیغمبر)، اِن کو ہدایت پر لے آنا تمھاری ذمہ داری نہیں ہے، بلکہ اللہ ہی جس کو چاہتا ہے، (اپنے قانون کے مطابق) ہدایت دیتا ہے۔ (ایمان والو، تم البتہ سمجھ لو کہ) جو مال بھی تم خرچ کرو گے، اُس کا نفع تمھیں ہی ملنا ہے، او رتم اِسی لیے تو خرچ کر رہے ہو کہ
اَلَّذِیۡنَ یَاۡکُلُوۡنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوۡمُوۡنَ اِلَّا کَمَا یَقُوۡمُ الَّذِیۡ یَتَخَبَّطُہُ الشَّیۡطٰنُ مِنَ الۡمَسِّ ؕ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ قَالُوۡۤا اِنَّمَا الۡبَیۡعُ مِثۡلُ الرِّبٰوا وَ اَحَلَّ اللّٰہُ الۡبَیۡعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا ؕ فَمَنۡ جَآءَہٗ مَوۡعِظَۃٌ مِّنۡ رَّبِّہٖ فَانۡتَہٰی فَلَہٗ مَا سَلَفَ ؕ وَ اَمۡرُہٗۤ اِلَی اللّٰہِ ؕ وَ مَنۡ عَادَ فَاُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ النَّارِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۲۷۵﴾ یَمۡحَقُ اللّٰہُ الرِّبٰوا وَ یُرۡبِی الصَّدَقٰتِ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یُحِبُّ کُلَّ کَفَّارٍ اَثِیۡمٍ ﴿۲۷۶﴾ اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَوُا الزَّکٰوۃَ لَہُمۡ اَجۡرُہُمۡ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ ۚ وَ لَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ ﴿۲۷۷﴾
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ ذَرُوۡا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰۤوا اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۲۷۸﴾ فَاِنۡ لَّمۡ تَفۡعَلُوۡا فَاۡذَنُوۡا بِحَرۡبٍ مِّنَ اللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ ۚ وَ اِنۡ تُبۡتُمۡ فَلَکُمۡ رُءُوۡسُ اَمۡوَالِکُمۡ ۚ لَا تَظۡلِمُوۡنَ وَ لَا تُظۡلَمُوۡنَ ﴿۲۷۹﴾ وَ اِنۡ کَانَ ذُوۡ عُسۡرَۃٍ فَنَظِرَۃٌ اِلٰی مَیۡسَرَۃٍ ؕ وَ اَنۡ تَصَدَّقُوۡا خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۲۸۰﴾ وَ اتَّقُوۡا یَوۡمًا تُرۡجَعُوۡنَ فِیۡہِ اِلَی اللّٰہِ ٭۟ ثُمَّ تُوَفّٰی کُلُّ نَفۡسٍ مَّا کَسَبَتۡ وَ ہُمۡ لَا یُظۡلَمُوۡنَ ﴿۲۸۱﴾
اللہ کی رضا حاصل ہو، اور (اِس مقصد سے) جو مال بھی تم خرچ کرو گے، وہ (قیامت میں) تمھیں پورا کر دیا جائے گا او رتمھارے حق میں ذرا بھی کمی نہ ہو گی۔272
یہ خاص کر اُن غریبوں کے لیے ہے جو اللہ کی راہ میں گھرے ہوئے ہیں، (اپنے کاروبار کے لیے) زمین میں کوئی دوڑ دھوپ نہیں کر سکتے، اُن کی خودداری کے باعث ناواقف اُن کو غنی خیال کرتا ہے، اُن کے چہروں سے تم اُنھیں پہچان سکتے ہو، وہ لوگوں سے لپٹ کر نہیں مانگتے۔ (اُن کی مدد کرو) اور (سمجھ لو کہ اِس مقصد کے لیے) جو مال بھی تم خرچ کرو گے، اُس کا صلہ تمھیں لازماً ملے گا، اِس لیے کہ اللہ اُسے خوب جانتا ہے۔ جو لوگ شب و روز، علانیہ اور چھپا کر اپنا مال (اللہ کی راہ میں) خرچ کرتے ہیں، اُن کے لیے اُن کا اجر اُن کے پروردگار کے پاس ہے اور وہاں اُن کے لیے کوئی اندیشہ ہے اور نہ وہ کبھی غم زدہ ہوں گے۔ 273-274
اِس کے برخلاف جو لوگ سود کھاتے ہیں، وہ قیامت میں اٹھیں گے تو بالکل اُس شخص کی طرح اٹھیں گے جسے شیطان نے اپنی چھوت سے پاگل بنا دیا ہو۔ یہ اِس لیے کہ اُنھوں نے کہا ہے کہ بیع بھی تو آخر سود ہی کی طرح ہے اور تعجب ہے کہ اللہ نے بیع کو حلال اور سود کو حرام ٹھیرایا ہے۔ (اِس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ نے اُسے حرام ٹھیرا یا ہے)، لہٰذاجسے اُس کے پروردگار کی تنبیہ پہنچی اور وہ باز آ گیا تو جو کچھ وہ لے چکا، سو لے چکا، (اُس کے خلاف کوئی اقدام نہ ہو گا) اور اُس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے۔ اور جو (اِس تنبیہ کے بعد بھی) اِس کا اعادہ کریں گے تو وہ دوزخ
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا تَدَایَنۡتُمۡ بِدَیۡنٍ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی فَاکۡتُبُوۡہُ ؕ وَ لۡیَکۡتُبۡ بَّیۡنَکُمۡ کَاتِبٌۢ بِالۡعَدۡلِ ۪ وَ لَا یَاۡبَ کَاتِبٌ اَنۡ یَّکۡتُبَ کَمَا عَلَّمَہُ اللّٰہُ فَلۡیَکۡتُبۡ ۚ وَ لۡیُمۡلِلِ الَّذِیۡ عَلَیۡہِ الۡحَقُّ وَ لۡیَتَّقِ اللّٰہَ رَبَّہٗ وَ لَا یَبۡخَسۡ مِنۡہُ شَیۡئًا ؕ فَاِنۡ کَانَ الَّذِیۡ عَلَیۡہِ الۡحَقُّ سَفِیۡہًا اَوۡ ضَعِیۡفًا اَوۡ لَا یَسۡتَطِیۡعُ اَنۡ یُّمِلَّ ہُوَ فَلۡیُمۡلِلۡ وَلِیُّہٗ بِالۡعَدۡلِ ؕ وَ اسۡتَشۡہِدُوۡا شَہِیۡدَیۡنِ مِنۡ رِّجَالِکُمۡ ۚ فَاِنۡ لَّمۡ یَکُوۡنَا رَجُلَیۡنِ فَرَجُلٌ وَّ امۡرَاَتٰنِ مِمَّنۡ تَرۡضَوۡنَ مِنَ الشُّہَدَآءِ اَنۡ تَضِلَّ اِحۡدٰىہُمَا فَتُذَکِّرَ اِحۡدٰىہُمَا الۡاُخۡرٰی ؕ وَ لَا یَاۡبَ الشُّہَدَآءُ اِذَا مَا دُعُوۡا ؕ وَ لَا تَسۡـَٔمُوۡۤا اَنۡ تَکۡتُبُوۡہُ صَغِیۡرًا اَوۡ کَبِیۡرًا اِلٰۤی اَجَلِہٖ ؕ ذٰلِکُمۡ اَقۡسَطُ عِنۡدَ اللّٰہِ وَ اَقۡوَمُ لِلشَّہَادَۃِ وَ اَدۡنٰۤی اَلَّا تَرۡتَابُوۡۤا اِلَّاۤ اَنۡ تَکُوۡنَ تِجَارَۃً حَاضِرَۃً تُدِیۡرُوۡنَہَا بَیۡنَکُمۡ فَلَیۡسَ عَلَیۡکُمۡ جُنَاحٌ اَلَّا تَکۡتُبُوۡہَا ؕ وَ اَشۡہِدُوۡۤا اِذَا تَبَایَعۡتُمۡ ۪ وَ لَا یُضَآرَّ کَاتِبٌ وَّ لَا شَہِیۡدٌ ۬ؕ وَ اِنۡ تَفۡعَلُوۡا فَاِنَّہٗ فُسُوۡقٌۢ بِکُمۡ ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ وَ یُعَلِّمُکُمُ اللّٰہُ ؕ وَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿۲۸۲﴾
کے لوگ ہیں، وہ اُس میں ہمیشہ رہیں گے۔ (اُس دن) اللہ سود کو مٹا دے گا اور خیرات کو بڑھائے گا اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ کسی ناشکرے اور کسی حق تلفی کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ ہاں، جو لوگ ایمان لائے اور اُنھوں نے نیک عمل کیے اور نماز کا اہتمام کیا اور زکوٰۃ ادا کی، اُن کے لیے اُن کا اجر اُن کے پروردگار کے پاس ہے اور وہاں اُن کے لیے کوئی اندیشہ ہوگا اور نہ وہ کوئی غم کبھی کھائیں گے۔275- 277
ایمان والو، اگر تم سچے مومن ہو تو اللہ سے ڈرو اور جتنا سود باقی رہ گیا ہے، اُسے چھوڑ دو۔ لیکن اگر تم نے ایسا نہیں کیا تو اللہ اوراُس کے رسول کی طرف سے جنگ کے لیے خبردار ہو جاؤ، اور اگر توبہ کر لو تو تمھاری اصل رقم کا تمھیں حق ہے۔ نہ تم کسی پر ظلم کرو گے، نہ تم پر ظلم کیا جائے گا۔ اور مقروض کبھی تنگ دست ہو تو ہاتھ کھلنے تک اُسے مہلت دو اور اگر تم بخش دو تو یہ تمھارے لیے بہتر ہے، اگر تم سمجھتے ہو۔ اور اُس دن سے ڈرو، جس میں تم اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ پھر ہر شخص کو اُس کی کمائی وہاں پوری مل جائے گی اور لوگوں پر کوئی ظلم نہ ہو گا۔278- 281
ایمان والو، (قرض کے معاملات، البتہ ہوں گے۔ لہٰذا) تم کسی مقرر مدت کے لیے ادھار کا لین دین کرو تو اُسے لکھ لو اور چاہیے کہ اُس کو تمھارے درمیان کوئی لکھنے والا انصاف کے ساتھ لکھے۔ اور جسے لکھنا آتا ہو، وہ لکھنے سے انکار نہ کرے، بلکہ جس طرح اللہ نے اُسے سکھایا ہے، وہ بھی دوسروں کے لیے لکھ دے۔ اور یہ دستاویز اُسے لکھوانی چاہیے جس پر حق عائد ہوتا ہو۔ اور وہ
وَ اِنۡ کُنۡتُمۡ عَلٰی سَفَرٍ وَّ لَمۡ تَجِدُوۡا کَاتِبًا فَرِہٰنٌ مَّقۡبُوۡضَۃٌ ؕ فَاِنۡ اَمِنَ بَعۡضُکُمۡ بَعۡضًا فَلۡیُؤَدِّ الَّذِی اؤۡتُمِنَ اَمَانَتَہٗ وَ لۡیَتَّقِ اللّٰہَ رَبَّہٗ ؕ وَ لَا تَکۡتُمُوا الشَّہَادَۃَ ؕ وَ مَنۡ یَّکۡتُمۡہَا فَاِنَّہٗۤ اٰثِمٌ قَلۡبُہٗ ؕ وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ عَلِیۡمٌ ﴿۲۸۳﴾
لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ وَ اِنۡ تُبۡدُوۡا مَا فِیۡۤ اَنۡفُسِکُمۡ اَوۡ تُخۡفُوۡہُ یُحَاسِبۡکُمۡ بِہِ اللّٰہُ ؕ فَیَغۡفِرُ لِمَنۡ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۲۸۴﴾
اللہ، اپنے پروردگار سے ڈرے اور اُس میں کوئی کمی نہ کرے۔ پھر اگر وہ شخص جس پر حق عائد ہوتا ہے، نادان یا ضعیف ہو یا لکھوا نہ سکتا ہو تو اُس کے ولی کو چاہیے کہ وہ انصاف کے ساتھ لکھوا دے۔ اور تم اِس پر اپنے مردوں میں سے دو آدمیوں کی گواہی کرالو، لیکن اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد او ردو عورتیں ہوں، تمھارے پسندیدہ گواہوں میں سے۔ دو عورتیں اِس لیے کہ اگر ایک الجھے گی تو دوسری اُس کو یاددلا دے گی۔ اور یہ گواہ جب بلائے جائیں تو اُنھیں انکار نہیں کرنا چاہیے۔ اور معاملہ چھوٹا ہو یا بڑا، اُس کے وعدے تک اُسے لکھنے میں اکتایا نہ کرو۔ اللہ کے نزدیک یہ طریقہ زیادہ مبنی بر انصاف ہے، گواہی کو زیادہ درست رکھنے والا ہے اور اِس سے تمھارے شبہوں میں پڑنے کا امکان کم ہو جاتا ہے۔ ہاں، اگر لین دین روبرو اور دست گرداں نوعیت کا ہو، تب اُس کے نہ لکھنے میں تم پر کوئی حرج نہیں ہے۔ اور سودا کرتے وقت بھی گواہ بنا لیا کرو، اور (متنبہ رہو کہ) لکھنے والے یا گواہی دینے والے کو کوئی نقصان نہ پہنچایا جائے، اور اگر تم ایسا کرو گے تو یہ وہ گناہ ہے جو تمھارے ساتھ چپک جائے گا۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو، اور (اِس بات کو سمجھو کہ) اللہ تمھیں تعلیم دے رہا ہے، اور اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔282
اور اگر تم سفر میں ہو اور تمھیں کوئی لکھنے والا نہ ملے تو قرض کا معاملہ رہن قبضہ کرانے کی صورت میں بھی ہو سکتا ہے۔ پھر اگر ایک دوسرے پر بھروسے کی صورت نکل آئے تو جس کے پاس (رہن کی وہ چیز) امانت رکھی گئی ہے، وہ یہ امانت واپس کر دے اور اللہ، اپنے پروردگار سے ڈرتا رہے (اور اِس معاملے پر گواہی کرا لے)، اور گواہی (جس صورت میں بھی ہو ، اُس) کو ہرگز نہ چھپاؤ اور (یاد رکھو کہ) جو اُسے چھپائے گا، اُس کا دل گناہ گار ہو گا، اور (یاد رکھو کہ) جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اُسے جانتا ہے۔ 283
زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے، سب اللہ ہی کا ہے، (اِس لیے، تم بھی اے بنی اسرائیل، ایک
اٰمَنَ الرَّسُوۡلُ بِمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡہِ مِنۡ رَّبِّہٖ وَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ؕ کُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ مَلٰٓئِکَتِہٖ وَ کُتُبِہٖ وَ رُسُلِہٖ ۟ لَا نُفَرِّقُ بَیۡنَ اَحَدٍ مِّنۡ رُّسُلِہٖ ۟ وَ قَالُوۡا سَمِعۡنَا وَ اَطَعۡنَا ٭۫ غُفۡرَانَکَ رَبَّنَا وَ اِلَیۡکَ الۡمَصِیۡرُ ﴿۲۸۵﴾ لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَہَا ؕ لَہَا مَا کَسَبَتۡ وَ عَلَیۡہَا مَا اکۡتَسَبَتۡ ؕ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذۡنَاۤ اِنۡ نَّسِیۡنَاۤ اَوۡ اَخۡطَاۡنَا ۚ رَبَّنَا وَ لَا تَحۡمِلۡ عَلَیۡنَاۤ اِصۡرًا کَمَا حَمَلۡتَہٗ عَلَی الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِنَا ۚ رَبَّنَا وَ لَا تُحَمِّلۡنَا مَا لَا طَاقَۃَ لَنَا بِہٖ ۚ وَ اعۡفُ عَنَّا ٝ وَ اغۡفِرۡ لَنَا ٝ وَ ارۡحَمۡنَا ٝ اَنۡتَ مَوۡلٰىنَا فَانۡصُرۡنَا عَلَی الۡقَوۡمِ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۲۸۶﴾
دن اُسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے) اور جو کچھ تمھارے دلوں میں ہے، اُسے تم ظاہر کرو یا چھپاؤ، اللہ اُس کا حساب تم سے لے گا۔ پھر جس کو چاہے گا، (اپنے قانون کے مطابق) بخش دے گا اور جس کو چاہے گا، سزا دے گا، اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔284
(تم نہیں مانتے تو اِس کا نتیجہ بھی تمھیں ہی دیکھنا ہے)۔ ہمارے پیغمبر نے تو اُس چیز کو مان لیا جو اُس کے پروردگار کی طرف سے اُس پر نازل کی گئی ہے، اور اُس کے ماننے والوں نے بھی۔ یہ سب اللہ پر ایمان لائے، اور اُس کے فرشتوں اور اُس کی کتابوں اور اُس کے پیغمبروں پر ایمان لائے۔ (اِن کا اقرار ہے کہ) ہم اللہ کے پیغمبر وں میں سے کسی کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتے اور اِنھوں نے کہہ دیا ہے کہ ہم نے سنا اور سر اطاعت جھکا دیا۔ پروردگار، ہم تیری مغفرت چاہتے ہیں اور (جانتے ہیں کہ) ہمیں لوٹ کر تیرے ہی حضور میں پہنچنا ہے۔ ــــــ یہ حقیقت ہے کہ اللہ کسی پر اُس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ (اُس کا قانون ہے کہ) اُسی کو ملے گا جو اُس نے کمایا ہے اور وہی بھرے گا جو اُس نے کیا ہے ــــــ پروردگار، ہم بھول جائیں یا غلطی کر جائیں تو اُس پر ہماری گرفت نہ کر۔ اور پروردگار، تو ہم پر کوئی ایسا بوجھ نہ ڈال جو تو نے ہم سے پہلوں پر ڈالا تھا۔ اور پروردگار، کوئی ایسا بوجھ جس کو ہم اٹھانے کی طاقت نہیں رکھتے، تو ہم سے نہ اٹھوا، اور ہم سے درگذر کر اور ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔ تو ہمارا آقا ہے، سواِن منکروں کے مقابلے میں (جو ہمارے دشمن بن کر اٹھ کھڑے ہوئے ہیں)، تو ہماری مدد کر۔285- 286