مواد پر جائیں

حضرت علی سے متعلق سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر کے آثار (9) (1)

ڈاکٹر عمار خان ناصر اردو

عَنِ الْحَسَنِ قَالَ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ جَالِسًا مَعَ أَصْحَابِهِ، إِذْ جَاءَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَلَمْ يَجِدْ مَجْلِسًا، فَتَزَحْزَحَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ أَجْلَسَهُ إِلَى جَنْبِهِ، فَسُرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ بِمَا صَنَعَ ثُمَّ قَالَ: أَهْلُ الْفَضْلِ أَوْلَى بِالْفَضْلِ، وَلَا يَعْرِفُ لِأَهْلِ الْفَضْلِ فَضْلَهُمْ إِلَّا أَهْلُ الْفَضْلِ .

(فضائل الصحابۃ، ابن حنبل، رقم 1098)

’’حسن بصری روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ علی بن ابی طالب وہاں آئے، لیکن بیٹھنے کے لیے کوئی جگہ نہ پائی۔ اس پر ابوبکر اپنی جگہ سے کچھ ہٹے اور علی کو اپنے پہلو میں بٹھا لیا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ کا یہ عمل دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہوئے اور فرمایا کہ فضیلت والے کام ارباب فضیلت کو ہی جچتے ہیں، اور اہل فضیلت کی فضیلت کو بھی وہی پہچانتے ہیں جو خود اہل فضیلت ہوں۔“

لغوی تشریح

تَزَحْزَحَ، یعنی اپنی جگہ سے کچھ ہٹ گئے اور سیدنا علی کے بیٹھنے کے لیے گنجایش پیدا کی۔

تخریج اور اختلاف طرق

حسن بصری کا مذکورہ طریق مرسل ہے اور اس سند سے یہ ’’فضائل الصحابۃ‘‘ لابن حنبل میں ہی منقول ہے۔

اس کے علاوہ، درج ذیل مصادر میں یہ واقعہ سیدنا انس کی روایت سے بھی مروی ہے:

تاریخ دمشق، ابن عساکر 42/‏356 ۔ معجم ابن الاعرابی، رقم 141، 555۔ مسند الشہاب القضاعی، رقم 1164۔ تاریخ بغداد، خطیب 3/105، 7/222۔ الفوائد المنتقاۃ الحسان، خلعی، رقم 347۔

تاہم اس کی سند میں محمد بن زکریا الغلابی، احمد بن نصر الذارع اور عباس بن بکار جیسے انتہائی مجروح راویوں کی موجودگی کی وجہ سے محدثین نے اس واقعے کو موضوع روایات میں شمار کیا ہے۔ (ابن الجوزی، الموضوعات 1/380۔ ابن کثیر، البدایۃ والنہایۃ 11/95۔ الشوکانی، الفوائد المجموعۃ 1/371۔ الالبانی، سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ 7/213، رقم 3227) دیلمی نے اسے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے طریق سے بیان کیا ہے، لیکن اس کی سند میں بھی مجروح راوی موجود ہیں (ابن عراق، تنزیہ الشریعۃ المرفوعۃ عن الاخبار الشنیعۃ الموضوعۃ 1/359)۔

البتہ سخاوی لکھتے ہیں کہ سنداً‌ ضعیف ہونے کے باوجود اس کے مضمون میں کوئی قابل اعتراض بات نہیں (المقاصد الحسنۃ 1/185)۔ اسی پہلو سے بعض اہل علم نے اس اثر سے آداب مجلس اور سیدنا علی کی تعظیم وتفضیل کی بحث میں استشہاد بھی کیا ہے (دیکھیے: احکام القرآن، ابن العربی 4/199)۔ متن میں امام احمد کی ’’فضائل الصحابۃ‘‘ سے جو مرسل روایت نقل کی گئی ہے، اس سے بھی معلوم ہوتا ہےکہ اس واقعے کی اصل موجود ہے۔

(2)

عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَنَزَلْنَا بِغَدِيرِ خُمٍّ، فَنُودِيَ فِينَا: الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ، وَكُسِحَ لِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ تَحْتَ شَجَرَتَيْنِ، فَصَلَّى الظُّهْرَ، وَأَخَذَ بِيَدِ عَلِيٍّ، فَقَالَ: أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ؟ قَالُوا: بَلَى، قَالَ: أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ؟ قَالُوا: بَلَى، قَالَ: فَأَخَذَ بِيَدِ عَلِيٍّ، فَقَالَ: مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ، اللهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ. قَالَ: فَلَقِيَهُ عُمَرُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَالَ لَهُ: هَنِيئًا يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ، أَصْبَحْتَ وَأَمْسَيْتَ مَوْلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ، وَمُؤْمِنَةٍ. (مسند احمد، رقم 18479)

’’براء بن عازب بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ راستے میں ہم مقام خم پر ایک حوض پر ٹھہرے۔ باجماعت نماز کے لیے اذان دی گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک درخت کے نیچے جگہ صاف کی گئی اور آپ نے نماز ظہر ادا فرمائی۔ پھر آپ نے حضرت علی کا ہاتھ پکڑا اور (لوگوں سے مخاطب ہو کر) کہا کہ کیا تم نہیں جانتے کہ میرا مومنوں پر ان کی جانوں سے بھی زیادہ حق ہے؟ لوگوں نے کہا کہ بالکل ہے۔ آپ نے فرمایا کہ کیا تم نہیں جانتے کہ میرا ہر ہر مومن پر اس کی جان سے بھی زیادہ حق ہے؟ لوگوں نے کہا کہ بالکل ہے۔ اس پر آپ نے حضرت علی کا ہاتھ پکڑ کر کہا کہ جس کا میں مولیٰ ہوں، علی بھی اس کا مولیٰ ہے۔ اے اللہ، جو اس کے ساتھ محبت کا تعلق رکھے، اس کے ساتھ تو بھی محبت کا تعلق رکھ اور جو اس کے ساتھ مخاصمت کرے، تو بھی اس کے ساتھ مخاصمت کر۔ براء کہتے ہیں کہ اس کے بعد عمر رضی اللہ عنہ، علی رضی اللہ عنہ سے ملے اور کہا کہ اے ابن ابی طالب، تمھیں مبارک باد ہو، تم ہر مومن مرد اور عورت کے مولیٰ قرار پا گئے ہو۔“

لغوی تشریح

كُسِحَ، یعنی جھاڑو لگا کر جگہ صاف کی گئی۔

شرح ووضاحت

احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مختلف مواقع پر سیدنا علی سے متعلق بعض حضرات کا ایسا رویہ یا طرز عمل آیا جسے آپ نے پسند نہیں فرمایا اور آپ نے متعلقہ حضرات کو سیدنا علی کے ساتھ اپنے تعلق اور نسبت کا حوالہ دیتے ہوئے ان کے ساتھ محبت و مودت کا رویہ اپنانے کی تلقین فرمائی۔ حجۃ الوداع سے واپسی کے سفر میں غدیر خم کے مقام پر آپ نے اسی طرح کے رویوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اہتمام کے ساتھ لوگوں کو ایک عمومی نصیحت بھی فرما دی ، جس کا زیر بحث روایت میں ذکر ہوا ہے۔ انداز کلام اور اسلوب میں جس سطح کا اہتمام اور تاکید موجود تھی، اس کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ صحابہ میں آپ کے اس خطبے کا عمومی چرچا ہونے لگا اور سیدنا عمر نے، جو اس موقع پر موجود نہیں تھے، یہ بات معلوم ہونے پر باقاعدہ سیدنا علی کو مبارک باد دی۔

اس خطبے کی اسی اہمیت کے پیش نظر سیدنا علی بھی اپنے دور خلافت میں مخالفین کے اعتراضات کے جواب اور اپنے دفاع میں اس کا حوالہ دیتے تھے۔ عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ بیان کرتے ہیں:

شَهِدْتُ عَلِيًّا فِي الرَّحَبَةِ يَنْشُدُ النَّاسَ : أَنْشُدُ اللّٰهَ مَنْ سَمِعَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ: ’’مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ‘‘ لَمَّا قَامَ فَشَهِدَ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: فَقَامَ اثْنَا عَشَرَ بَدْرِيًّا كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى أَحَدِهِمْ، فَقَالُوا: نَشْهَدُ أَنَّا سَمِعْنَا رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ: ’’أَلَسْتُ أَوْلَى بِالْمُسْلِمِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ، وَأَزْوَاجِي أُمَّهَاتُهُمْ‘‘؟ فَقُلْنَا: بَلَى يَا رَسُولَ اللّٰهِ، قَالَ: ’’فَمَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ‘‘.(مسند احمد، رقم 943)

’’میں نے سیدنا علی کو (کوفہ کی جامع مسجد کے ساتھ) کھلے میدان میں لوگوں کو یہ قسم دیتے ہوئے سنا کہ جن لوگوں نے غدیر خم کے مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ’’جس کا میں آقا ہوں، علی بھی اس کا آقا ہے“، وہ کھڑے ہو کر اس کی گواہی دیں۔ عبد الرحمٰن کہتے ہیں کہ اس پر بارہ بدری صحابہ کھڑے ہوئے ، جن کو گویا میں اب بھی دیکھ رہا ہوں، اور انھوں نے کہا کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ ہم نے غدیر خم کے مقام پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ کیا میں مومنوں پر ان کی جانوں سے زیادہ حق نہیں رکھتا، اور کیا میری ازواج ان کی مائیں نہیں ہیں؟ ہم نے کہا کہ یا رسول اللہ، بالکل ہیں۔ آپ نے فرمایا : تو پھر جس کا میں آقا ہوں، علی بھی اس کا آقا ہے۔ اے اللہ، جو علی کے ساتھ دوستی رکھے، تو بھی اس کے ساتھ دوستی رکھ اور جو اس کے ساتھ دشمنی رکھے تو بھی اس کے ساتھ دشمنی رکھ۔‘‘

تخریج اور اختلاف طرق

غدیر خم کے مقام پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ گفتگو بہت سے صحابہ سے روایات کی ایک بڑی تعداد میں منقول ہے، تاہم سیدنا عمر کے اس پر خوشی کا اظہار کرنے اور سیدنا علی کو مبارک باد دینے کا ذکر براء بن عازب کی اس روایت میں ہی ملتا ہے۔ انھی کے طریق سے یہ واقعہ درج ذیل مصادر میں بھی نقل ہوا ہے:

مصنف ابن ابی شیبہ، رقم 32118۔ فضائل الصحابۃ، ابن حنبل، رقم 981، 1006۔ الشریعۃ، آجری، رقم 1480۔

جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں نقل ہوا ہے کہ ان سے پوچھا گیا کہ کیا اس موقع پر ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما موجود تھے؟ انھوں نےکہا کہ نہیں (مصنف ابن ابی شیبہ، رقم 12121)۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا عمر نے بعد میں یہ واقعہ علم میں آنےپر سیدنا علی سے مل کر انھیں مبارک باد دی۔

(3)

عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ خَطَبَ إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ ابْنَتَهُ أُمَّ كُلْثُومٍ، فَقَالَ عَلِيٌّ: إِنَّمَا حَبَسْتُ بَنَاتِي عَلَى بَنِي جَعْفَرٍ. فَقَالَ: أَنْكِحْنِيهَا، فَوَاللّٰهِ مَا عَلَى الْأَرْضِ رَجُلٌ أَرْصَدَ مِنْ حُسْنِ عِشْرَتِهَا مَا أَرْصَدْتُ. فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ: قَدْ أَنْكَحْتُكَهَا. فَجَاءَ عُمَرُ إِلَى مَجْلِسِ الْمُهَاجِرِينَ بَيْنَ الْقَبْرِ وَالْمِنْبَرِ، وَكَانَ الْمُهَاجِرُونَ يَجْلِسُونَ ثَمَّ، وَعَلِيٌّ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، وَالزُّبَيْرُ، وَعُثْمَانُ، وَطَلْحَةُ، وَسَعْدٌ، فَإِذَا كَانَ الْعَشِيُّ يَأْتِي عُمَرَ الْأَمْرُ مِنَ الْآفَاقِ وَيَقْضِي فِيهِ، جَاءَهُمْ وَأَخْبَرَهُمْ ذَلِكَ، وَاسْتَشَارَهُمْ كُلَّهُمْ، فَقَالَ: رَفِّئُونِي. قَالُوا: بِمَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ : بِابْنَةِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ . ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ قَالَ : كُلُّ نَسَبٍ وَسَبَبٍ مُنْقَطِعٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا نَسَبِي وَسَبِبِي. كُنْتُ قَدْ صَحِبْتُهُ فَأَحْبَبْتُ أَنْ يَكُونَ لِي أَيْضًا.

(سنن سعید بن منصور، کتاب النکاح، رقم 501)

’’امام محمد الباقر اپنے والد علی بن الحسین (زین العابدین) سے روایت کرتے ہیں کہ عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی کو ان کی بیٹی ام کلثوم کے نکاح کا پیغام دیا۔ سیدنا علی نے کہا کہ میں نے تو اپنی بیٹیوں کو اپنے بھائی جعفر کے بیٹوں کے نکاح میں دینے کا ارادہ کر رکھا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ام کلثوم کو میرے نکاح میں دے دیں،بخدا، روے زمین پر کوئی کوئی بھی شخص اس کے ساتھ اتنے اچھے برتاؤ کا اہتمام نہیں کرے گا، جیسا میں کروں گا۔ اس پر سیدنا علی نے کہا کہ میں نے اس کا نکاح آپ کے ساتھ کر دیا۔ پھر سیدنا عمر مہاجرین کی مجلس میں آئے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر اور منبر کے مابین ہوتی تھی۔ یہاں مہاجرین اور علی، عبد الرحمٰن بن عوف، زبیر، عثمان، طلحہ اور سعد رضی اللہ عنہم بیٹھا کرتے تھے۔ جب دن کا آخری پہر ہوتا تو سیدنا عمر کے سامنے مملکت کے اطراف سے آنے والے معاملات پیش کیے جاتے تھے اور وہ ان کے متعلق فیصلہ کرتے تھے۔ (اس سلسلے میں) سیدنا عمر بھی مہاجرین کی اس مجلس میں آتے اور ان سب حضرات کے ساتھ مشاورت کرتے تھے۔ (ام کلثوم رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح کے بعد وہ وہاں آئے اور) کہا کہ مجھے (نکاح کی) مبارک باد دو۔ انھوں نے پوچھا کہ اے امیر المومنین، کس کے ساتھ؟ سیدنا عمرنے کہا کہ علی بن ابی طالب کی دختر کے ساتھ۔ پھر وہ انھیں بتانے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے روز ہر تعلق اور نسبی رشتہ ختم ہو جائے گا، سواے اس تعلق اور اس نسبی رشتے کے جو میرے ساتھ ہے۔ (عمر نے کہا کہ) مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت حاصل تھی تو میں نے چاہا کہ مجھے آپ کے ساتھ نسبی تعلق کا شرف بھی حاصل ہو جائے۔ “

لغوی تشریح

رَفِّئُونِي: ’رِفَاء‘ سے مشتق ہے، جس کا مطلب باہمی موافقت ہوتا ہے۔ عرب میں کسی کو شادی کی مبارک باد دینے کے لیے ’بِالرِّفَاءِ والبَنِين‘ کے دعائیہ کلمات بولے جاتے تھے، یعنی میاں بیوی کے مابین موافقت رہے اور اولاد نصیب ہو۔ یوں محاورتاً ’رَفِّئُونِي‘ کا مطلب ہوگا: مجھے شادی کی مبارک باد دو۔

شرح و وضاحت

1۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نسبی وخاندانی تعلق کے، قیامت کے روز کارآمد ہونے یا نہ ہونے کے مختلف پہلوؤں کی وضاحت احادیث میں کی گئی ہے۔ مثلاً‌ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے کہ آپ نے اپنے قبیلے کے لوگوں کو ایمان کی دعوت دیتے ہوئے واضح فرمایا کہ ایمان لائے بغیر محض آپ کے ساتھ رشتہ داری قیامت کے روز ان کے کسی کام نہیں آئے گی:

يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ، اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ، لاَ أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللّٰهِ شَيْئًا. يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ، لاَ أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللّٰهِ شَيْئًا. يَا عَبَّاسُ بْنَ عَبْدِ المُطَّلِبِ، لاَ أُغْنِي عَنْكَ مِنَ اللّٰهِ شَيْئًا. وَيَا صَفِيَّةُ عَمَّةَ رَسُولِ اللّٰهِ، لاَ أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللّٰهِ شَيْئًا. وَيَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ، سَلِينِي مَا شِئْتِ مِنْ مَالِي، لاَ أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللّٰهِ شَيْئًا.

(بخاری، رقم 2628)

’’اے گروہ قریش، اللہ کے ساتھ اپنی جانوں کا سودا خود کرو، میں تمھیں اللہ کی گرفت سے نہیں بچا سکتا۔ اے بنی عبد مناف، میں اللہ کی گرفت میں تمھارے کسی کام نہیں آ سکتا۔ اے عباس بن عبد المطلب، میں اللہ کی بارگاہ میں آپ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔ اے رسول اللہ کی پھوپھی صفیہ، میں تمھیں اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکتا۔ اے فاطمہ بنت محمد، مجھ سے میرا مال جتنا چاہو، مانگ لو، لیکن میں اللہ کے معاملے میں تمھارے کسی کام نہیں آ سکتا۔‘‘

ایک دوسری حدیث میں آپ نے واضح فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو اپنے اقربا اور متعلقین کے حق میں سفارش کرنے کا اذن حاصل ہوگا، بشرطیکہ وہ آپ کے بعد آپ کے طریقے پر کاربند رہیں ۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ :

سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ: مَا بَالُ رِجَالٍ يَقُولُونَ: إِنَّ رَحِمَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ لَا تَنْفَعُ قَوْمَهُ، بَلَى وَاللّٰهِ إِنَّ رَحِمِي مَوْصُولَةٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَإِنِّي أَيُّهَا النَّاسُ فَرَطٌ لَكُمْ عَلَى الْحَوْضِ، فَإِذَا جِئْتُمْ قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ، وَقَالَ آخَرُ: أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ، قَالَ لَهُمْ: أَمَّا النَّسَبُ فَقَدْ عَرَفْتُهُ، وَلَكِنَّكُمْ أَحْدَثْتُمْ بَعْدِي وَارْتَدَدْتُمُ الْقَهْقَرَى.

(مسند احمد، رقم 10923)

’’میں نے اس منبر پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ان لوگوں کا کیا مسئلہ ہے جو کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول کے ساتھ قرابت داری ان کی قوم کو فائدہ نہیں دے گی؟ کیوں نہیں دے گی؟ بخدا، میں اپنی قرابت داری کا حق دنیا اور آخرت، دونوں جگہ ادا کروں گا۔ (لیکن یہ یاد رکھو) اے لوگو کہ میں تم سے پہلے حوض کوثر پر پہنچوں گا۔ پھر جب تم وہاں آؤ گے تو ایک شخص کہے گا کہ یا رسول اللہ، میں فلاں کا بیٹا فلاں ہوں، اور دوسرا کہے گا کہ میں فلاں کا بیٹا فلاں ہوں۔ لیکن اللہ کا رسول کہے گا کہ تمھارا نسب تو میں نے پہچان لیا، لیکن تم میرے بعد میرے طریقے سے ہٹ گئے تھے اور الٹے پاؤں لوٹ گئے تھے۔“

ایک اور حدیث میں آپ کے اپنے ان اقربا کے حق میں شفاعت کرنے کا بھی ذکر ہوا ہے، جو ایمان تو نہیں لائے، لیکن دنیا میں آپ کی نصرت وحمایت کرتے رہے۔ چنانچہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:

أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذُكِرَ عِنْدَهُ عَمُّهُ أَبُو طَالِبٍ، فَقَالَ: ’’لَعَلَّهُ تَنْفَعُهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ القِيَامَةِ، فَيُجْعَلُ فِي ضَحْضَاحٍ مِنَ النَّارِ يَبْلُغُ كَعْبَيْهِ، يَغْلِي مِنْهُ أُمُّ دِمَاغِهِ‘‘.(بخاری، رقم 3706)

’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آپ کے چچا ابوطالب کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا: امید ہے کہ قیامت کے دن میری سفارش ان کو فائدہ دے گی اور (ان کے عذاب میں تخفیف کے لیے) انھیں ایسی جگہ رکھا جائے گا جہاں آگ بس ان کے ٹخنوں تک پہنچے گی، جس سے ان کا دماغ ابلنے لگے گا۔“

اس پہلو سے بھی اور اس کے علاوہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نسبی تعلق کا شرف حاصل کرنے کی غرض سے بھی سیدنا عمر نے آپ کی نواسی کے ساتھ رشتۂ نکاح کی خواہش ظاہر کی جسے سیدنا علی نے ان کی شخصیت اور ان کے جذبے کا احترام کرتے ہوئے قبول کر لیا۔

2۔ سیدہ ام کلثوم کے ساتھ سیدنا عمر کا یہ عقد ان کی صغر سنی میں ہوا تھا۔ بعد میں رخصتی ہوئی اور ان کے بطن سے سیدنا عمر کا ایک بیٹا، زید اور ایک بیٹی، رقیہ پیدا ہوئی۔ سیدنا عمر کی وفات کے بعد سیدنا علی کے بھتیجے عون بن جعفر نے ان سے عقد کیا۔ پھر ان کی وفات کے بعد وہ محمد بن جعفر اور پھر ان کی وفات کے بعد عبد اللہ بن جعفر کے نکاح میں آئیں۔ سیدنا معاویہ کے عہد خلافت میں ان کے بیٹے زید بن عمر ایک تصادم میں چوٹ لگنے سے وفات پا گئے اور عین اسی وقت میں ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا بھی انتقال ہو گیا۔ ان دونوں کی نماز جنازہ عمومی روایات کے مطابق عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے پڑھائی۔ ابن عساکر کی روایت ہے:

وقال الحسين بن علي لعبد اللّٰه بن عمر: تقدم فصل على أمك وأخيك فتقدم فصلى عليهم.

(تاریخ دمشق 19/489)

’’حسین بن علی نے عبد اللہ بن عمر سےکہا: آگے بڑھیے اور اپنی والدہ اور اپنے بھائی کی نماز جنازہ پڑھائیے۔ چنانچہ ابن عمر آگے بڑھے اور ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔“

تخریج اور اختلاف طرق

امام زین العابدین کے طریق سے سیدہ ام کلثوم کے نکاح کا یہ واقعہ تفصیلات کے کچھ فرق کے ساتھ درج ذیل مصادر میں بھی منقول ہے:

المستدرک علی الصحیحین، رقم 4667۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم 12531۔ المعجم الاوسط، طبرانی، رقم 5710۔ الطبقات الکبریٰ، ابن سعد، رقم 9255۔ فضائل الصحابۃ، ابن حنبل، رقم 1033۔ المطالب العالیۃ، ابن حجر، رقم 4076۔

علی بن الحسین کے علاوہ درج ذیل حضرات نے بھی اس واقعے کی مختلف تفصیلات اپنی روایات میں بیان کی ہیں:

سیدنا حسن بن علی (السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم 1276۔ المعجم الاوسط، طبرانی، رقم 6728)

اسلم مولیٰ عمر (المعجم الکبیر، طبرانی، رقم 2568۔ حلیۃ الاولیاء، ابی نعیم، رقم 1423)

عکرمہ مولیٰ ابن عباس (مصنف عبد الرزاق، رقم 10049)

مستظل بن حصین (فضائل الصحابۃ، ابن حنبل، رقم 1034۔ معرفۃ الصحابۃ، ابی نعیم، رقم 199)

عطاء خراسانی (الشریعۃ، آجری، رقم 1665، 1770)

(4)

عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، قَالَ : …  فَقَالُوا: أَوْصِ يَا أَمِيرَ المُؤْمِنِينَ اسْتَخْلِفْ، قَالَ : مَا أَجِدُ أَحَدًا أَحَقَّ بِهَذَا الأَمْرِ مِنْ هَؤُلاَءِ النَّفَرِ — أَوِ الرَّهْطِ— الَّذِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ وَهُوَ عَنْهُمْ رَاضٍ، فَسَمَّى عَلِيًّا وَعُثْمَانَ وَالزُّبَيْرَ وَطَلْحَةَ وَسَعْدًا وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ، وَقَالَ : يَشْهَدُكُمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، وَلَيْسَ لَهُ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ. (بخاری، رقم 3530)

’’عمرو بن میمون بیان کرتے ہیں کہ … (سیدنا عمر پر قاتلانہ حملے کے بعد ) لوگوں نے ان سے کہا کہ اے امیر المومنین، کسی کو اپنا جانشین مقرر کر دیجیے۔ سیدنا عمر نے کہا کہ میں اس منصب کا حق دار اس جماعت سے زیادہ کسی کو نہیں پاتا جن سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات کے وقت راضی تھے۔ سیدنا عمر نے علی، عثمان، زبیر، طلحہ، سعد اور عبد الرحمٰن رضی اللہ عنہم کا نام لیا اور کہا کہ فیصلہ کرنے میں عبد اللہ بن عمر بھی تمھارے ساتھ شریک ہوگا، لیکن خلافت میں اس کا کوئی حق نہیں۔“

شرح ووضاحت

سیدنا ابوبکر اور ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کی وفات اور سیدنا عمر پر قاتلانہ حملے کے بعد مہاجرین کی جماعت میں یہی حضرات تھے جن کا تعلق قریش سے تھا اور جنھیں مہاجرین کے اکابر میں شمار کیا جاتا تھا۔ مسجد نبوی میں مہاجرین کی جو مستقل مجلس مشاورت منعقد ہوتی تھی، اس میں بھی یہی حضرات شریک ہوتے تھے (سنن سعید بن منصور، کتاب النکاح رقم، 501)۔ گویا ان حضرات میں خلافت کو محصور قرار دینا سیدنا عمر کا کوئی صواب دیدی اجتہاد نہیں تھا، بلکہ مقررہ اصول کے مطابق انھی میں سے کسی کا بہ طور خلیفہ انتخاب کیا جانا تھا۔ البتہ سیدنا عمر نے اپنے پیش رو کی طرح کسی کو شخصی طور پر نام زد کرنے کے بجاے اس فیصلے کو ان سب حضرات کی باہمی مشاورت اور اتفاق راے پر منحصر کر دیا اور مشاورت کی حد تک اپنے بیٹے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو بھی اس مجلس میں شامل کر دیا۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا عمر کو یہ اندازہ تھا کہ ان میں سے انتخاب سیدنا عثمان یا سیدنا علی میں سے کسی ایک کا ہوگا، چنانچہ انھوں نے نام زدگی کے بعد خاص طور پر ان دو حضرات کو ہی خلافت کی ذمہ داریوں سے متعلق نصیحت فرمائی (الطبقات الکبریٰ لابن سعد، رقم 3783)۔ اس سے ان دونوں حضرات کی اہلیت اور دیانت پر ان کا اعتماد واضح ہے۔

تخریج اور اختلاف طرق

سیدنا عمر کا یہ ارشاد عمرو بن میمون کے علاوہ معدان بن ابی طلحہ، ابو رافع، سعید بن المسیب، اسلم مولیٰ عمر، عمر مولیٰ غفرۃ، اور مسور بن مخرمہ کے طرق سے بھی الفاظ کے کچھ فرق کے ساتھ درج ذیل مصادر میں نقل ہوا ہے:

صحیح مسلم، رقم 911۔ مسند احمد، رقم 90، رقم 129۔ صحیح ابن حبان، رقم 2126۔ المستدرک علی الصحیحین، رقم 4486۔ المعجم الاوسط، طبرانی، رقم 1338، رقم 8235۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم32221۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم 15445۔ مسند الحمیدی، رقم 31۔ مسند الطیالسی، رقم 52۔ مسند ابی یعلیٰ، رقم 171، 190۔ الطبقات الکبریٰ، ابن سعد، رقم 2701، رقم 3779۔

معدان بن ابی طلحہ کے طریق میں اثر کے الفاظ یوں ہیں:

وَإِنَّ أَقْوَامًا يَأْمُرُونَنِي أَنَّ أَسْتَخْلِفَ، وَإِنَّ اللّٰهَ لَمْ يَكُنْ لِيُضَيِّعَ دِينَهُ وَلَا خِلَافَتَهُ، وَلَا الَّذِي بَعَثَ بِهِ نَبِيَّهُ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنْ عَجِلَ بِي أَمْرٌ فَالْخِلَافَةُ شُورَى بَيْنَ هَؤُلَاءِ السِّتَّةِ، الَّذِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَنْهُمْ رَاضٍ. (مسلم، رقم 911)

’’کچھ لوگ مجھے مشورہ دے رہے ہیں کہ میں کسی کو اپنا جانشین مقرر کر دوں۔ اللہ تعالیٰ نہ اپنے دین کو ضائع کرے گا اور نہ اپنی خلافت کو اور نہ اس چیز کو جسے دے کر اس نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا۔ اگر مجھے مہلت نہ ملی تو خلافت کی ذمہ داری شوریٰ کے اصول پر ان چھ افراد میں سے کسی کو دی جائے گی، جن سے اپنی وفات کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم راضی تھے۔“

(5)

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ عُمَرُ لِأَصْحَابِ الشُّورَى: لِلّٰهِ دَرُّهُمْ لَوْ وَلَّوْهَا الْأُصَيْلِعَ، كَيْفَ يَحْمِلُهُمْ عَلَى الْحَقِّ، وَإِنْ حُمِلَ عَلَى عُنُقِهِ بِالسَّيْفِ، قَالَ: فَقُلْتُ: تَعْلَمُ ذَلِكَ مِنْهُ وَلَا تُوَلِّيِهِ؟ قَالَ: إِنْ أَسْتَخْلِفْ فَقَدِ اسْتَخْلَفَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي، وَإِنْ أَتْرُكْ فَقَدْ تَرَكَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي. (المستدرک علی الصحیحین، رقم 4501)

’’عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر نے اصحاب شوریٰ کے متعلق کہا کہ یہ لوگ کیا ہی اچھا فیصلہ کریں اگر یہ ذمہ داری اس کو دے دیں جس کے سر پر بال نہیں (اور دیکھیں کہ) وہ کیسے لوگوں کو حق پر قائم رکھتا ہے، چاہے اس کی گردن پر کوئی تلوار لے کر سوار ہو۔ ابن عمر کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ آپ ان کی یہ خوبی جانتے ہوئے بھی انھیں خلیفہ مقرر نہیں کر رہے؟ سیدنا عمر نے کہا کہ اگر میں کسی کو جانشین مقرر کروں تو مجھ سے بہتر شخص (ابوبکررضی اللہ عنہ) نے بھی جانشین مقرر کیا، اور اگر میں نہ کروں تو بھی مجھ سے بہتر ہستی (نبی صلی اللہ علیہ وسلم) نے کسی کو جانشین مقرر نہیں فرمایا۔“

لغوی تشریح

الْأُصَيْلِعَ ، اصلع کی تصغیر ہے، یعنی جس کے سر پر بال نہ ہوں، گنجا۔

شرح ووضاحت

سیدنا عمر کو اندازہ تھا کہ اصحاب شوریٰ، سیدنا عثمان اور سیدنا علی میں سے ہی کسی ایک کا انتخاب کریں گے، جب کہ زیربحث اثر سے واضح ہوتا ہے کہ ان کا ذاتی رجحان سیدنا علی کے انتخاب کی طرف تھا ، کیونکہ ان کی راے میں وہ لوگوں کو جادۂ صواب پر قائم رکھنے میں زیادہ موثر کردار ادا کر سکتے تھے۔ سیدنا علی کے لیے، جن کے سر کے بال کافی گر چکے تھے، تصغیر کے صیغے (أُصَيْلِعَ) کے استعمال سے دونوں کے مابین بے تکلفی اور محبت ومودت بھی ظاہر ہو رہی ہے، جس سے دونوں حضرات کے ذاتی تعلق کی نوعیت پر روشنی پڑتی ہے۔

تخریج اور اختلاف طرق

ابن عمر رضی اللہ عنہ کا یہ اثر ابن عساکر نے بھی ’’تاریخ دمشق‘‘ (45/428) میں نقل کیا ہے، جب کہ ان کے علاوہ عبد الرحمٰن بن عبد القاری اور عمرو بن میمون کی روایات میں بھی سیدنا علی سے متعلق سیدنا عمر کا یہ تبصرہ نقل ہوا ہے۔

عبد الرحمٰن بن عبد القاری کہتے ہیں:

قَالَ عُمَرُ لِلْأَنْصَارِيِّ: مَنْ تَرَى النَّاسَ يَقُولُونَ يَكُونُ الْخَلِيفَةَ بَعْدِي؟ قَالَ: فَعَدَّدَ رِجَالًا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَلَمْ يُسَمِّ عَلِيًّا، فَقَالَ عُمَرُ: فَمَا لَهُمْ مِنْ أَبِي الْحَسَنِ؟ فَوَاللَّهِ إِنَّهُ لَأَحْرَاهُمْ إِنْ كَانَ عَلَيْهِمْ أَنْ يُقِيمَهُمْ عَلَى طَرِيقَةٍ مِنَ الْحَقِّ.

(مصنف عبد الرزاق، رقم 9471)

’’سیدنا عمر نے (وہاں موجود) انصاری سے پوچھا کہ لوگ کیا کہتے ہیں کہ میرے بعد خلیفہ کون ہوگا؟ اس نے مہاجرین میں سے کئی لوگوں کا نام لیا، لیکن سیدنا علی کا ذکر نہیں کیا۔ عمر نے پوچھا کہ لوگوں کو ابو الحسن سے کیا مسئلہ ہے؟ بخدا، اگر وہ ان پر خلیفہ مقرر ہو تو وہ سب سے بڑھ کر اس کا اہل ہے کہ انھیں حق کے راستے پر قائم رکھے۔“

یہ اثر ’’ الادب المفرد‘‘ للبخاری (رقم 600) میں بھی مروی ہے۔

عمرو بن میمون کا بیان ہے:

فَلَمَّا خَرَجُوا مِنْ عِنْدِ عُمَرَ قَالَ عُمَرُ: لَوْ وَلَّوْهَا الْأَجْلَحَ سَلَكَ بِهِمُ الطَّرِيقَ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ: فَمَا يَمْنَعُكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ؟ قَالَ: أَكْرَهُ أَنْ أَتَحَمَّلَهَا حَيًّا وَمَيِّتًا.

(الطبقات الکبریٰ، ابن سعد، رقم 3783)

’’جب یہ لوگ سیدنا عمر کے پاس سے نکل گئے تو انھوں نے کہا کہ اگر یہ اس بے بالوں کے سر والے کو یہ ذمہ داری دے دیں تو وہ انھیں سیدھے راستے پر قائم رکھے گا۔ اس پر ابن عمر نے کہا کہ اے امیر المومنین، آپ کے لیے (علی کو خلیفہ مقرر کرنے میں) کیا مانع ہے؟ عمرنے کہا کہ مجھے یہ پسند نہیں کہ میں زندگی میں بھی اس ذمہ داری کو اٹھائے رکھوں اور مرنے کے بعد بھی۔“

عمرو بن میمون کا یہ اثر درج ذیل مصادر میں بھی مروی ہے:

المصنف ، عبد الرزاق، رقم 9471۔ انساب الاشراف، بلاذری 2/103۔ الابانۃ الکبریٰ ، ابن بطۃ 8/253۔ حلیۃ الاولیاء، ابی نعیم، رقم 5185۔

(6)

عَنْ عُرْوَةَ وَهُوَ ابْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ رَجُلًا وَقَعَ فِي عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ بِمَحْضَرٍ مِنْ عُمَرَ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: تَعْرِفُ صَاحِبَ هَذَا الْقَبْرِ؟ هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَعَلِيُّ ابْنُ أَبِي طَالِبِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَلَا تَذْكُرْ عَلِيًّا إِلَّا بِخَيْرٍ، فَإِنَّكَ إِنْ أَبْغَضْتَهُ آذَيْتَ هَذَا فِي قَبْرِهِ .(فضائل الصحابۃ، احمد بن حنبل، رقم 1054)

’’عروہ بن زبیر روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے سیدنا عمر کی موجودگی میں سیدنا علی بن ابی طالب کی شان میں گستاخی کی تو حضرت عمر نے اس سے کہا: تم اس ہستی کو جانتے ہو جو اس قبر میں آرام فرما ہے؟ یہ محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب ہیں اور علی بھی ابو طالب کے بیٹے ہیں جو عبدالمطلب کے بیٹے تھے۔ اس لیے علی کا ذکر ہمیشہ خیر کے ساتھ کیا کرو، کیونکہ اگر علی کو ناراض کرو گے تو اس قبر میں موجود ہستی کو اذیت پہنچاؤ گے۔“

تخریج اور اختلاف طرق

ابن زبیر کا یہ اثر ابن عساکر نے ’’تاريخ دمشق‘‘ (42/‏519) اور الرافعی نے ’’التدوین فی اخبار قزوین‘‘ (1/‏293) میں بھی نقل کیا ہے۔

[باقی]