مواد پر جائیں

خاموش خدا، خاموش کلام

ثاقب علی اردو

[یہ مضمون میرے مطالعے، مشاہدے، اور مختلف علمی ذرائع (لیکچرز/ کتب) سے حاصل کردہ خیالات پر مبنی ہے، جنھیں تحریری شکل دینے میں AI (ChatGPT) سے معاونت لی گئی ہے۔مصنف ]

اس دنیا میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور بہت سے ایسے بھی ہیں جو اللہ کی نافرمانی اور بغاوت کرتے ہیں۔ کچھ اللہ کے فرماں بردار ہیں اور کچھ نافرمان۔ بہت سے لوگ کفر اور انکار کی روش پر ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ اس دنیا میں خاموش ہیں، کیونکہ یہ دنیا امتحان کے لیے بنائی گئی ہے۔

اسی لیے ایسا نہیں ہوتا کہ اگر ہم جھوٹ بولیں تو فوراً ہماری زبان پر چھالا پڑ جائے یا اگر ہاتھ سے کوئی گناہ کریں تو ہاتھ شل ہو جائے یا آنکھوں سے کچھ غلط دیکھیں تو بینائی سلب کر لی جائے۔

اگر غور کیا جائے تو اللہ کی یہ خاموشی ہمارے لیے بہت بڑی نعمت ہے۔ اللہ تعالیٰ خاموش ہیں اور انتظار میں ہیں کہ شاید اُس کے بندے توبہ کر لیں۔ مزید یہ کہ اُنھوں نے ہمیں ہدایت کے لیے قرآن مجید عطا فرمایا ہے، جو اپنی ظاہری خاموشی کے باوجود ایک زندہ پیغام ہے۔

لیکن افسوس کہ ہم قرآن کو پڑھتے ہی نہیں یا اگر پڑھتے ہیں تو بغیر سمجھے پڑھتے ہیں۔ یہ ’’خاموش‘‘ کلام ہمیں ہمارے رب کی پسند و ناپسند سے آگاہ کرتا ہے۔ یہ وہ کلام ہے جس کے ذریعے سے رب العٰلمین، کائنات کے مالک، ہم سے ہم کلام ہونا چاہتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر ہمارا خیر خواہ کون ہو سکتا ہے؟ افسوس ہے کہ ہم قرآن کی طرف توجہ نہیں دیتے۔ ہم سو بہانے بناتے ہیں کہ ہمارے پاس وقت نہیں یا ہم قرآن پڑھ نہیں سکتے یا سمجھ نہیں سکتے۔

یاد رکھنا چاہیے:

اس سے پہلے کہ وہ دن آ جائے جب اللہ تعالیٰ کی خاموشی ٹوٹ جائے۔

وہ دن، جس کے بارے میں قرآن بتاتا ہے کہ جب وہ نظروں کے سامنے آ جائے گا تو ہر ماں اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی، حاملہ عورتیں اپنا حمل گرا دیں گی۔1

اسی دن اللہ کی طرف سے پکار آئے گی کہ اے مجرمو، آج تم سب الگ ہو جاؤ۔2

کہیں ایسا نہ ہو کہ اس دن ہم ان لوگوں میں شامل ہو جائیں جن کے بارے میں اللہ کے رسول شکایت کریں گے کہ اے میرے رب، میری اس قوم نے قرآن مجید کو نظر انداز کر دیا تھا۔3

اس دن کی مہلت ختم ہونے سے پہلے ہمیں ’’خاموش خدا‘‘ کو دریافت کر لینا چاہیے، اُس کی اطاعت اختیار کرنی چاہیے، اُس کے کلام کو سمجھ کر پڑھنا اور اس پر عمل کرنا چاہیے—کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم بھی اُن لوگوں میں شامل ہو جائیں جو آخرت میں خسارے میں ہوں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں آخرت کی تیاری کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین

  1. ۔ الحج 22: 2۔
  2. ۔ یٰس 36: 59۔
  3. ۔ الفرقان 25 : 30۔