(سنن ابن ماجہ کی احادیث سے متعلق استفسارات اور ان کا جواب)
(5)
مطیع سید: حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ تمتع کے قائل تھے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس سے منع کرتے تھے۔ ایک مرتبہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور کہا کہ آپ کیوں منع کرتے ہیں، حالاں کہ حدیث میں اس کی اجازت ہے؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھے اچھا نہیں لگتا کہ لوگ پیلو کے درخت کے نیچے جماع کریں اور پھر حج کو جائیں اور ان کے سر سے پانی ٹپک رہاہو۔1 کیا حکمران کے پاس یہ حق ہے کہ اپنے ذاتی ذوق کو اس طرح سختی سے لوگوں پر نافذ کرے، جب کہ دوسری طرف پیغمبر کی طرف سے اجازت بھی موجودہو؟
عمار ناصر: اس میں ایک بات تو یہ ہے کہ اس پابندی میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا مقصود یہ نہیں تھا کہ لوگ میرے ذاتی ذوق کے مطابق چلیں، بلکہ وہ یہ دیکھ رہے ہیں کہ یہاں پر صورت معاملہ کیا بن رہی ہے؟ تو انھوں نے دیکھا کہ یہ کوئی اچھی صورت نہیں ہے کہ عمرے کا احرام کھولنے کے بعد حج کے دنوں میں لوگ کسی درخت کے نیچے، کسی پہاڑ کی گھاٹی میں اور کسی چیز کی اوٹ میں بیویوں کے ساتھ مصروف ہوں، کیونکہ تمتع کرنے والے عمرے سے فارغ ہوکر اگر اپنی جسمانی ضروریات پوری کرنا چاہیں تو وہاں ان کے لیے رہایش اور چاردیواری وغیرہ کا تو کوئی خاص انتظام نہیں تھاتو ظاہر ہے، پھر وہ جہاں بھی موقع ملے گا، یہ کرنے کی کوشش کریں گے۔ تو غالباً اس پہلو سے حضرت عمر کو مناسب معلوم ہوا کہ وہ مصلحت کے اصول پر ان دنوں میں عمرے پر پابندی لگا دیں تاکہ جو لوگ احرام باندھ کر آئیں، وہ پھر حج ادا کر کے ہی پابندیوں سے آزاد ہوں۔ تو اس واقعے سے یہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ حکمران کو اپنا ذاتی یا ذوقی اجتہاد لوگوں پر نافذ کرنے کا حق حاصل ہے۔
دوسری بات یہ کہ خلفاے راشدین کو مسلمان اس طرح سے نہیں دیکھتے تھے کہ وہ ہمارے حکمران ہیں۔ بنیادی طور پر وہ مسلمانوں کے دینی پیشوا تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی اس بنیاد پر پابندی نہیں لگا رہے تھے کہ میں حکمران ہوں اور میں یہ پابندی عائد کر سکتا ہوں ۔جب وہ حکمران نہیں تھے تب بھی دینی معاملات میں اجتہاد کرتے تھے اور کئی معاملات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اصرار کرتے تھے۔ انھی کے اصرار پر قرآن میں امہات المومنین کے لیے حجاب کا حکم نازل ہوا تھا۔
مطیع سید: حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے جو یہ کر سکے کہ مدینے میں مرے تو اسے چاہیے کہ وہ مدینے میں مرے، کیونکہ میں ان لوگوں کے لیے جو مدینے میں مریں گے، گواہی دوں گا۔2 مجھے ایسا لگتا ہے کہ شاید مدینے کو آباد رکھنے کے لیے وہاں مسلمانوں کی ضرورت تھی ،اس لیے آپ نے یہ فرمایا، ورنہ محض مدینے میں وفات ہونےمیں ایسی کیا فضیلت ہوسکتی ہے ؟
عمار ناصر:ہجرت کے بعد تو سب لوگ مدینے میں ہی آ رہے تھے، اس لیے یہ حدیث مدینے کی طرف ہجرت کی ترغیب نہیں دے رہی۔ اصل میں آپ اس تناظر میں بات فرما رہے ہیں کہ آپ کے بعد بھی لوگوں کی ایک بڑی تعداد مدینے میں ہی مقیم رہے۔ آپ کو نظر آ رہا تھا کہ جیسے جیسے فتوحات ہوں گی اور نئے مراکز بنیں گے اور سہولیات اور تمدن کے اعتبار سے دوسرے علاقے زیادہ پرکشش بن جائیں گے تو مدینہ کہیں بالکل بے آباد نہ ہو جائے، کیونکہ مدینے میں اس وقت اس طرح کی سہولتیں اور تمدنی ترقی نہیں تھی اور وہاں کا موسم بھی گرم تھا اور کچھ وبائی صورت حال بھی تھی۔ اس تناظر میں آپ نے فرمایا کہ میرے بعد میرے شہر کو بالکل ویران نہ کر جانا۔ مدینے میں فوت ہونے کا مطلب یہی ہے کہ لوگ مدینے میں رہیں اور یہیں وفات پائیں۔
مطیع سید: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص کے پاس گنجایش ہو اور وہ قربانی نہ کرے تو ہماری مسجد میں نہ آئے۔3 اس فرمان میں تو بڑی سختی ہے اوربہ ظاہر کوئی گنجایش نہیں دی جا رہی، لیکن احناف کے علاوہ دیگر ائمہ کے ہاں قربانی واجب نہیں، بلکہ سنت ہے۔ تو کیا دیگر ائمہ کے سامنے کچھ اور احادیث ہیں جن کی بنا پر وہ قربانی کو لازم اور واجب قرار نہیں دیتے، بلکہ سنت قرار دیتے ہیں؟
عمار ناصر: حدیث سے فقہی مسئلہ اخذ کرنے میں فقہا کا ایک عمومی اصول ہے، جس کو احناف بھی مانتے ہیں کہ کسی موضوع سے متعلق تمام احادیث کو دیکھ کر طے کرنا ہوتا ہے کہ فقہی طور پر کوئی حکم واجب ہے یا سنت ہے۔ اور اگر کسی ایک نص میں ایسا پہلو دکھائی دے رہا ہے جو نصوص کی مجموعی دلالت سے مختلف ہے تو اس نص کا صحیح محل طے کرنے کی کوشش کی جاتی ہے یا اس کے سیاق کو سمجھا جاتا ہے کہ یہاں کس خاص پہلو سے یہ تاکید بیان کی جا رہی ہے۔ جیسے جمعے کے دن غسل کرنے کے معاملے میں بہت تاکید آئی ہے اور واجب تک کے الفاظ ہیں، لیکن مجموعی دلائل دیکھے جائیں تو یہ ان معنوں میں واجب نہیں ہے کہ اگر غسل نہیں کیا تو جمعہ ادا نہیں ہوگا یا آدمی گناہ گار ہوگا۔ اسی طرح قربانی سے متعلق اس حدیث میں بھی تاکید کا ایک اسلوب ہے،جب کہ دیگر احادیث میں یہ الفاظ آتے ہیں: ’من اراد منكم‘کہ تم میں سے جو قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو۔ تو دیگر احادیث کی روشنی میں اس کو سمجھا جا سکتا ہے کہ اگر قربانی کرنے کی گنجایش ہو تو تاکید یہی ہے کہ قربانی کی جائے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جیسے بعض مواقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقے کی ترغیب دینے کے لیے ارشاد فرمایا کہ تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت گھر میں نہ رکھا جائے ، اسی طرح یہ دیکھتے ہوئے کہ لوگ قربانی کر سکتے ہیں، لیکن اس سے گریز کا پہلو اختیار کر رہے ہیں ، آپ نے یہ تاکید بیان فرمائی ہو۔ ’لستم‘ اگر ایک مستحب عمل سے گریز اختیار کیا جا رہا ہو تو اس کو بھی تاکید سے بیان کرنا ایک جائز اسلوب ہے۔ اس سے لازم یہ نہیں آتا کہ آپ اس سے اس عمل کے عمومی طور پر لازم اور واجب ہونے کا حکم اخذ کریں۔
مطیع سید: لیکن احناف اس کے وجوب کے قائل ہیں۔ ایک بچی مجھے بتا رہی تھی کہ میں نے اپنے جہیز کے لیے سامان رکھا ہوا ہے، لیکن ایک مولانا صاحب کہہ رہے ہیں کہ اس میں سے کچھ سامان بیچ کر ان پیسوں سے قربانی کروں۔
عمار ناصر: میرے لیے بھی تعجب کی بات ہے کہ احناف کا جو عمومی منہج ہے،یہ راے اس سے ذرا ہٹ کر ہے ۔خاص طور پر احناف کہتے ہیں کہ جو عموم بلویٰ کی نوعیت کا معاملہ ہو، یعنی جو مسئلہ ہر ایک کو پیش آنے والا ہو،اس میں ہم خبر واحد سے وجوب کو ثابت نہیں کر سکتے۔ تو یہ غور طلب سوال ہے کہ وہ کیا اسباب ہو سکتے ہیں اور عراق میں کیا صورت حال تھی جس کی وجہ سے امام صاحب کا رجحان اس طرف گیا کہ قربانی نہ صرف واجب ہے، بلکہ اس کو ہر فرد پر واجب قرار دیا۔ پھر قربانی کی گنجایش کے سوال کو بھی حنفی فقہا نے زکوٰۃ کے نصاب سے جوڑ دیا، جس سے عام مسلمان کے لیے مزید مشکل پیدا ہو گئی۔
مطیع سید: حضرت عقبہ بن عامر فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں قربانی کی بکریاں دیں اور انھوں نے اپنے ساتھیوں کو بانٹ دیں۔ ایک سال سے کم عمر کا ایک بکری کا بچہ رہ گیا۔ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا کہ تم اس کی قربانی کر لو اور تمھارے بعد یہ کسی کے لیے جائز نہیں ہے۔4
عمار ناصر: اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرما یا کہ یہ تمھارے لیے کافی ہو جائے گا، لیکن تمھارے بعد کسی اور کے لیے کافی نہیں ہوگا۔ اس سے یہی لگتا ہے کہ یہ ایک خاص استثنائی اجازت دی گئی تھی، لیکن بعض فقہا کی راے یہ ہے کہ اگر سال سے کم کا دنبہ ہے، لیکن اس کی صحت اور قد کاٹھ اچھا ہے تووہ اس رخصت کی تعمیم کے قائل ہیں۔ بعض دیگر روایات سے بھی تعمیم کی گنجایش نکلتی ہے۔
مطیع سید: فقہا تو جانور کی صحت وغیرہ کی بات کرتے ہیں، لیکن اس حدیث میں صحابی کو دیکھا گیا ہے کہ ان کی صورت حال شاید ایسی تھی کہ انھیں اس کی اجازت دی گئی۔
عمار ناصر: جی، حدیث سے ظاہراً تو یہی لگ رہا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خصوصی طور پر انھیں انفرادی اجازت دی۔ لیکن فقہی اجتہادات میں نصوص کی تاویل اور تعبیر میں بڑی گنجایش ہوتی ہے۔ اس میں اصل میں فقیہ کو یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ مختلف نصوص سے سامنے آنے والے پہلوؤں اور شریعت کے عمومی اصولوں کے لحاظ سے کوئی فقہی اجتہاد معقول بن رہا ہے یا نہیں۔ کسی ایک خاص نص کا کسی اجتہاد پر سو فی صد منطبق ہونا ضروری نہیں ہوتا۔
مطیع سید: حضرت سعید بن خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،فرماتے ہیں کہ ہم نے ایک مینڈھا قربانی کے لیے خریدا، پھر بھیڑیا اس کے کان اور سرین کاٹ کر لے گیا ۔ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ اس کی قربانی کر لو۔5 لیکن بعض علما فرماتے ہیں کہ ایسی صورت میں نیا جانور لینا پڑے گا۔
عمار ناصر: فقہی آرا کو تو دیکھنا پڑے گا، لیکن شرعی اصول یہی ہے کہ آپ جب قربانی کے لیے جانور لے رہے ہیں تو عیب دار جانور نہیں لیں گے،کیونکہ اس وقت آپ کے اختیار میں ہے۔ البتہ جب آپ نے تندرست جانور لے لیا اور اس کے بعد کوئی آفت آگئی ،جیسا کہ اس حدیث میں بتایا گیا کہ بھیڑیا لے گیا یا چوٹ لگ گئی یا جانور گر کر زخمی ہو گیا تو پھر قربانی کرنے والے کی استطاعت کو دیکھنا ضروری ہے۔ اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ اب یہ آدمی نئے جانور کا بندوبست نہیں کر سکتا اور جو عیب پیدا ہو گیا ہے، اس میں اس کا کوئی قصور شامل نہیں ہےتو آپ نے اس کو اجازت دے دی کہ وہی جانور قربان کر لے۔ میری راے میں تو یہی شریعت کے عمومی مزاج کا تقاضا ہے۔ البتہ اگر آدمی مال دار ہے اور نیا جانور لے سکتا ہے تو پھر اس کو لینا چاہیے۔ اس کو رخصت پر عمل نہیں کرنا چاہیے۔ فقہا بھی اگر مال دار آدمی کے متعلق یہ کہتے ہیں تو درست ہے، لیکن اگر غیر مستطیع کو بھی پابند کرتے ہیں تو وہ شریعت کے مزاج کے بھی خلاف ہے اور اس حدیث کے بھی منافی ہے۔
مطیع سید: احادیث کے رواۃ میں بعض دفعہ کسی پر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ کذاب ہے، جیسے جابر جعفی کذاب ہے۔ یہ اس کی کسی خاص روایت کے حوالے سے کہا جا رہا ہوتا ہے یا یہ مراد ہوتی ہے کہ وہ عمومی طور پر کذاب اور جھوٹا ہے؟
عمار ناصر: جب راوی کا وصف بیان کیا جاتا ہے تو وہ اس خاص حدیث کے حوالے سے نہیں ہوتا، بلکہ اس کا عمومی کردار بیان کیا جا رہا ہوتا ہے۔
مطیع سید: کیا متن سے بھی یہ چیز معلوم ہوتی ہے کہ اس کو آخر اس روایت میں جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت پیش آئی ہوگی؟
عمار ناصر: یہ دونوں چیزیں لازم و ملزوم نہیں ہیں۔ محدثین اس کا لحاظ رکھتے ہیں کہ اگر متن سے بھی جھوٹ جھلک رہا ہے اور وہ راوی بھی جھوٹا ہے تو محدثین اس کا درجہ مختلف متعین کریں گے۔ لیکن اگر متن سے نہیں لگ رہا کہ اس میں وضع شامل ہے، لیکن سند میں کوئی راوی جھوٹا آگیا ہے تو پھر وہ دیکھیں گے کہ اگر اس کے دیگر تائید ی قرائن موجود ہیں تو وہ اس کو کسی نہ کسی درجے میں لے لیں گے، تائیداً واستشہاداً قبول کر لیں گے۔
مطیع سید: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب ذوالحجہ کا چاند نظر آ جائے اور تم میں سے کسی کا قربانی کا ارادہ ہو تو اپنے بال اور بدن کے اجزا، یعنی ناخن وغیرہ نہ کاٹے۔6 امام داؤد ظاہری اور محمد اسحٰق وغیرہ کے نزدیک تو یہ حرام ہے۔
عمار ناصر: ان حضرات نے اس کو ظاہر پر محمول کر لیا اور اس کو واجب قرار دیا ہے، لیکن جمہور فقہا اس کو استحباب پر ہی محمول کرتے ہیں۔
مطیع سید: فقہا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی ارشاد کو بعد میں دیکھ کر اندازہ کر رہے ہوتے ہیں کہ اس سے مراد کیا ہے ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ سے وہ بات فرما رہے تھے تو آپ کی گفتگو کا انداز ، لب ولہجہ اور اسلوب اس بات کو طے کر رہا ہوتا تھا کہ یہ حکم واجب ہے یامستحب ہے یا ممانعت کس درجے کی ہے۔ اس لحاظ سے تو صحابہ کا حدیث کا فہم نہایت اہم ہوجاتاہے۔کیا ان کے فہم کو اس سلسلے میں پوری اہمیت دی جاتی ہے؟
عمار ناصر: بالکل دی جاتی ہے۔اسی لیے اصول فقہ میں یہ بحث ہے کہ کسی حدیث کی تشریح میں فقہاے صحابہ، خصوصاً وہ صحابی جو اس حدیث کو روایت کر رہے ہیں، ان کے فہم کا کتنا اعتبار ہے۔ میری کتاب ’’فقہ الحدیث میں احناف کا اصولی منہج“ میں اس پر ایک تفصیلی فصل شامل ہے۔
مطیع سید: یہ چیز صرف احناف لیتے ہیں یا سارے فقہا لیتے ہیں؟
عمار ناصر: مطلقاً تو صحابی کے فہم یا تعبیر کو فقہا یا محدثین میں سے کوئی بھی حجت قرار نہیں دیتا۔ سب مکاتب فکر کچھ خاص پہلوؤں سے اس کو اہمیت دیتے ہیں، اور کچھ دوسرے پہلوؤں سے اختلاف کی گنجایش رکھتے ہیں۔ مثلاً حدیث کے براہ راست مفہوم سے آگے بڑھ کر اگر صحابی نے اس سے کوئی استنباط کیا ہے تو وہ ایک فقہی اور اجتہادی عمل ہے، اس میں آپ کسی صحابی کے اجتہاد سے اختلاف کر سکتے ہیں، لیکن احناف بعض روایتوں میں ایسا بھی کرتے ہیں کہ حدیث کے راوی نے اس کا جو مطلب سمجھا، اس کو چھوڑ دیتے ہیں، جب کہ محدثین کہتے ہیں کہ اس راوی نے جو حدیث سنی ہے اور احوال وقرائن سے وہ اس کا جو مطلب سمجھ رہا ہے، وہی مراد ہونا چاہیے۔ حنفیہ کے ہاں کافی مثالوں میں یہ بھی ملتا ہے کہ جب حدیث کا متبادر مفہوم ان کے فقہی سانچے میں فٹ نہیں بیٹھتاتو وہ کہتے ہیں کہ ممکن ہے، صحابی سے بات سمجھنے میں غلطی ہو گئی ہو۔ یہ تھوڑی سی عجیب بات لگتی ہے ۔ علامہ انور شاہ صاحب نے لکھا ہے کہ صحابہ تو ذہین لوگ ہیں، ان کے بارے میں یہ خیال کرنا کہ وہ حدیث کا مطلب نہیں سمجھے ہوں گے، یہ عجیب بات ہے۔
مطیع سید: حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں گھوڑے کو نحر کیا اور گوشت بھی کھایا۔7 کیا وجہ ہے کہ بہت سی روایتیں جن کی بنیاد پر احناف گفتگو کر رہے ہوتے ہیں، محدثین کے ہاں وہ کم زور ہوتی ہیں۔ اکثر و بیش تر روایتیں ایسی ہوتی ہیں جن پر محدثین نے جرح کی ہوتی ہے۔
عمار ناصر: یہ تو منہج کا فرق ہے۔ محدثین کا منہج یہی ہے کہ ہم نے تحقیق کر کے، جو حدیث صحیح سند کے ساتھ ثابت ہو اور زیادہ مستند ہو،اس کو لینا ہے۔ احناف یہاں سے اپروچ نہیں کرتے، احناف کا منہج مختلف ہے۔ وہ دیگر چیزوں کو دیکھتے ہیں کہ حدیث، قرآن کے خلاف نہ ہو، اور جو معروف عمل ہے، اس کے خلاف نہ ہو، اکابر صحابہ کا جو فہم اور عمل نقل ہوا ہے، اس کے خلاف نہ ہو، کوئی مضبوط اور قوی قیاس ہے تو اس کے معارض نہ ہو ۔ احناف ان چیزوں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ اس میں وہ کئی دفعہ ایسی روایات کو لے لیتے ہیں جو محدثین کے اصولوں کے مطابق کم زور ہوتی ہیں، لیکن احناف کے فریم ورک میں فٹ بیٹھتی ہیں۔ مثلاً غیر مسلم اور مسلمان کے قصاص اور دیت میں برابری ہے یا نہیں؟ سند کے لحاظ سے جو زیادہ صحیح اور مستند احادیث ہیں، وہ محدثین کی تائید میں ہیں اور جو نسبتاً کم زور حدیثیں ہیں، وہ احناف کی تائید میں ہیں، لیکن احناف کہتے ہیں کہ ہمارا جو اصولی منہج ہے، وہ ان احادیث کا موید ہے تو ہم انھی کو ترجیح دیں گے۔
مطیع سید: نتیجے کے طور پر احناف کا جو اصول ہے، وہ زیادہ وسعت اور گہرائی پیداکرتاہے؟
عمار ناصر: جی بالکل ،احناف کا اصولی منہج آپ کو تعبیر کے دائرے میں کافی گنجایش دے دیتا ہے۔
مطیع سید: اس کا مطلب ہے کہ احناف کو روایت کی اسناد کے حوالے سے اتنی پریشانی نہیں ہے، جیسے محدثین کہتے ہیں کہ پہلے یہ دیکھا جائے گا کہ حدیث سنداً کم زور ہے یا صحیح ۔
عمار ناصر: جی، سند کی معیاریت احناف کا بنیادی مسئلہ نہیں ہے۔ وہ زیادہ تر اس کو پیش نظر رکھتے ہیں کہ صحابہ کا تعامل کیا ہے یا مجموعی طور پر شریعت کا مزاج کیا ہے یا جو مشہور و معروف احادیث ہیں، ان سے کیا رہنمائی ملتی ہے۔ جو غریب احادیث ہوں، احناف کے منہج میں درجہ بندی میں ان کی اہمیت بہت کم ہو جاتی ہے۔
مطیع سید: ایک لحاظ سے دیکھیں تو رواۃ کی جانچ پڑتال کے اعتبار سے محدثین کی جو بہت بڑی کاوش ہے ، وہ بہت اہمیت کی حامل نہیں رہ جاتی۔
عمار ناصر: تاریخی پہلو سے تو اس کی بڑی اہمیت ہے ۔تاریخی پہلو سے دیکھیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بہت سے اقوال منسوب ہو رہے تھے، ان میں قابل اعتبار اور قابل استناد اقوال کون سے ہیں؟ اس اعتبار سے تو محدثین کا کام آپ کو مدد دیتا ہے۔ رہا یہ سوال کہ آپ نے اس مواد میں کسی خاص حدیث کی تعبیر کیسے کرنی ہے اور دیگر دلائل سے اس کا تعلق کیا بنتا ہے تو وہ ایک الگ معاملہ ہے۔
مطیع سید: ٹڈی کے بارے میں ہے کہ آپ نے ایک مرتبہ اسے بد دعا دی اور آپ نے فرمایا کہ یہ مچھلی کی چھینک سے پیدا ہوتی ہے۔8 کیا یہ ضعیف حدیث ہے؟
عمار ناصر: یہ کوئی ایسی حدیث نہیں ہے کہ جس پر کلام کیا جائے، یہ کم زور روایت ہے۔
مطیع سید: آپ نے گرگٹ کو بھی مارنے کا حکم دیا ہے،کیاوجہ تھی؟9
عمار ناصر: حدیث میں ’وزغ‘ کا لفظ ہے، اب وہ چھپکلی ہو یا کوئی اور اسی طرح کا جانور ہو، اس کو مارنے کا اصول وہی ہے جو بیان ہوا ہے کہ جو جانور موذی ہے ،نقصان پہنچا سکتا ہےیا گھروں میں ان کا ہونا معمولات میں خلل کا باعث بن سکتا ہے تو ان کو مار سکتے ہیں۔
مطیع سید: مردوں میں بہت کامل گزرے ہیں، لیکن عورتوں میں کوئی کاملہ نہیں گزری سواے مریم بنت عمران اور آسیہ زوجہ فرعون کے۔10 یہ کاملیت کیا چیز ہے؟ اس کا کیا معیار ہے؟
عمار ناصر: کاملیت سے مراد قرب الہٰی اور روحانیت اور ایمان اور تقویٰ میں خاص مقام کا حامل ہونا ہے۔ اس کا معیار تو اللہ ہی کو معلوم ہے۔
مطیع سید: کیا وجہ ہے کہ عورتوں میں کاملیت نہیں رہی، حالاں کہ ان میں بھی بہت نیک اللہ کی بندیاں ہیں اور ان کے بطن سے تو انبیا بھی پیداہوئے۔
عمار ناصر: میرا خیال ہے کہ اگر آپ کاملیت کا اس درجے کے ساتھ تقابل کریں جو نبوت اور رسالت کے ساتھ خاص ہے تو خواتین کو تو اس طرح نبوت کا منصب نہیں دیا گیا، اور یہ اللہ کا فیصلہ ہے۔ اگر اللہ چاہتا تو عورتوں میں بھی نبوت کو جاری کر دیتا، لیکن اللہ نے جاری نہیں کیا تو میرا خیال ہے یہ بات بھی اسی پہلو سے ہے۔
مطیع سید: میں نے کہیں پڑھا کہ ابن رشد یا ابن خلدون طب سے متعلق احادیث کا انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پیغمبر تو یہ باتیں بتانے کے لیے نہیں آتا۔ پیغمبر کا کام اخلاق اور عقائد کو درست کرنا ہے۔ اس ایک نکتے سے وہ ان احادیث کا انکار کر دیتے ہیں ،حالاں کہ محدثین نے اپنی کتابوں میں ’’کتاب الطب‘‘ کے عنوان سے بے شمار روایتیں بیان کی ہیں۔
عمار ناصر: نہیں، ابن خلدون وغیرہ ان احادیث کو رد نہیں کرتے اور یہ نہیں کہتے کہ یہ حدیثیں ہی صحیح نہیں ہیں ،بلکہ ان احادیث کی نوعیت کیا ہے، اس پر بات کرتے ہیں۔ اور یہ بات ابن خلدون اور شاہ ولی اللہ، دونوں کرتے ہیں کہ پیغمبر اپنے زمانے کی ثقافت اور کلچر سے کٹا ہوا نہیں ہوتا، وہ اپنے معاشرے کی عادات اور حالات سے الگ ہو کر صرف دین کی باتیں بیان نہیں کرتا۔ وہ اس معاشرے کا حصہ ہوتا ہے اور اپنے معاشرے کے جو عمومی انسانی تجربات ہوتے ہیں، ان کو بھی بیان کرتا ہے۔ابن خلدون کہتے ہیں کہ یہ پیغمبر کے منصب کا حصہ نہیں ہوتا اور نہ اس کا تقاضا ہے، لیکن نبی ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ اپنی قوم کے جو معروف تجربات ہیں، ان سے اپنے آپ کو بالکل الگ تھلگ کر لے۔ ابن خلدون کہتے ہیں کہ یہ سب کچھ جو احادیث میں آیا ہے، بیش تر طبِ عرب ہے۔ یہ آپ کو وحی سے نہیں ملی، بلکہ بنیادی طور پر اہل عرب کے طبی تجربات کا بیان ہے۔ اسی طرح کی راے شاہ ولی اللہ صاحب کی بھی ہے۔
مطیع سید: حجامہ کے لیے دن خاص کرنے کی وجہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہفتہ اور اتوار کے دن حجامہ کرانے سے بچو۔11
عمار ناصر: میرا خیال ہے کہ اس میں بھی پیچھے کچھ تجربات ہی ہوں گے یا کوئی اور مصلحت کا پہلو ہوگا۔
مطیع سید: داغنے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا اور اپنی امت کے لیے اس کو ناپسند کیا، لیکن جب ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیمار ہوئےتو آپ نے ان کے لیے طبیب بھیجا اور اس نے ان کا علاج داغنے سے کیا اور سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو بھی داغا گیا۔12
عمار ناصر: یہ متعارض احادیث کی مثال کے طور پر پیش کی جاتی ہیں کہ کہیں آپ اس علاج کی تعریف کر رہے ہیں اور کہیں اس سے منع بھی کر رہے ہیں۔ محدثین ان میں یوں تطبیق دیتے ہیں کہ جو منع ہے، وہ شرعی ممانعت نہیں ہے ،بلکہ شفقت کے پہلو سے ہے۔ مراد یہ ہے کہ یہ طریقۂ علاج موثر تو ہے اور اس وقت بعض بیماریوں کے لیے اس کا شاید کوئی متبادل بھی نہیں تھا، لیکن اس میں چونکہ تکلیف کا پہلو ہے، ظاہر ہے کہ جلائے جانے سے تکلیف ہوتی ہے تو طبعی طور پر یہ آپ کو پسند نہیں تھا۔
[باقی]
- ۔کتاب المناسک ، باب التمتع بالعمرۃ الیٰ الحج، رقم2979۔
- ۔ کتاب المناسک ، باب فضل المدینۃ ، رقم3112۔
- ۔ کتاب الاضاحی، باب الاضاحی وواجبۃ ھی ام لا، رقم3123۔
- ۔ کتاب الاضاحی، باب ماتجزی من الاضاحی، رقم3138۔
- ۔ کتاب الاضاحی، باب من اشتری اضحیۃ صحیحۃ فاصابھا عندہ شیئ ، رقم3146۔
- ۔ کتاب الاضاحی ،باب من اراد ان یضحی فلا یاخذ فی العشر من شعرہ و اظفارہ ، رقم3149۔
- ۔ کتاب الذبائح، باب لحوم الخیل ، رقم3190۔
- ۔ کتاب الصید، باب صید الحیتان و الجراد، رقم3221۔
- ۔ کتاب الصید، باب قتل الوزغ، رقم3228۔
- ۔ کتاب الاطعمہ، باب فضل الثرید علی الطعام ، رقم3280۔
- ۔ کتاب الطب ،باب فی ایّ الایام یحتجم ،رقم3487۔
- ۔ کتاب الطب، باب من اکتوی، رقم3492۔