مواد پر جائیں

معارف نبوی

اردو

ــــــ 1 ــــــ

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اِن لوگوں سے جنگ کروں، یہاں تک کہ یہ اِس بات کی شہادت دیں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور اِس بات کی شہادت دیں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں، اور نماز کا اہتمام کریں اور زکوٰۃ ادا کریں۔ پھرجب یہ کر لیں تو اِن کی جانیں اور اِن کے مال مجھ سے محفوظ ہو جائیں گے، الاّ یہ کہ اُن سے متعلق کسی حق کے تحت یہ لوگ اِس حفاظت سے محروم کر دیے جائیں۔ رہا اِن کا حساب تو وہ اللہ کے ذمے ہے۔ (بخاری ،رقم 24)

ــــــ 2 ــــــ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہوئے اور آپ کے بعد ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آپ کے جانشین بنائے گئے اور عربوں میں سے جنھوں نے انکار کرنا تھا، اُنھوں نے انکار کر دیا تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر سے کہا:آپ اِن لوگوں سے کس طرح لڑیں گے، جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیان کر چکے ہیں کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اِن لوگوں سے جنگ کروں، یہاں تک کہ یہ لا الٰہ الا اللہ کہہ دیں،پھر جس نے لا الٰہ الا اللہ کہہ دیا، اُس نے اپنا مال اور اپنی جان مجھ سے محفوظ کر لی، الاّ یہ کہ اُن سے متعلق کوئی حق اُس پر قائم ہو جائے، اور اُس کا حساب اللہ کے ذمے ہے؟ سیدنا ابوبکر نے یہ سنا تو فرمایا: خدا کی قسم، میں اُن لوگوں سے ضرور لڑوں گا جو نماز اور زکوٰۃ میں فرق کرتے ہیں،اِس لیے کہ زکوٰۃ مال کا حق ہے۔ خدا کی قسم، جانور کو باندھنے کی ایک رسی بھی اُنھوں نے مجھ سے روکی جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتے تھے تو میں اِس روکنے پر اُن سے لڑوں گا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: بخدا، بات یہ تھی کہ ابوبکر کو اللہ نے اِس جنگ کے لیے شرح صدر عطا کر دیا تھا، سو میں سمجھ گیا کہ یہی حق ہے۔ (السنن الصغریٰ، نسائی ،رقم3059)

ــــــ 3 ــــــ

انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اِن لوگوں سے جنگ کروں، یہاں تک کہ وہ اِس بات کی گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور اِس بات کی گواہی دیں کہ محمد اُس کے بندے اور رسول ہیں،اور وہ ہمارے قبلے کا رخ کریں اور ہمارا ذبیحہ کھائیں اور ہمارے طریقے پر نماز پڑھیں۔ پھر جب وہ یہ شرطیں پوری کر دیں تو اُن کے خون اور اُن کے اموال ہم پر حرام ہوں گے ، الاّ یہ کہ اُن سے متعلق کسی حق کے تحت یہ حرمت اٹھالی جائے۔ اُن کے وہی حقوق ہوں گے جو مسلمانوں کے ہیں اور اُن پر وہی ذمہ داری ڈالی جائے گی جو مسلمانوں پر ڈالی جاتی ہے ۔ (ترمذی،رقم2550)