مواد پر جائیں

حضرت انس سے مروی ایک حدیث کی توجیہ

تحریروتحقیق:علامہ شبیراحمدازہرمیرٹھی / ترتیب وتدوین:ڈاکٹرمحمدغطریف شہبازندوی اردو

]’’نقطۂ نظر‘‘ کا یہ کالم مختلف اصحاب ِفکر کی نگارشات کے لیے مختص ہے۔ اس

میں شائع ہونے والے مضامین سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔[

بسااوقات ایساہوتاہے کہ حدیث فی نفسہٖ صحیح ہوتی ہے، مگرکسی راوی سے اس کو سمجھنے میں غلطی ہوجاتی ہے۔ وہ اپنے پاس سے تشریحی الفاظ جوڑدیتاہے یااپنے فہم کی بنیادپر اس میں اضافے کرڈالتاہے۔نتیجہ یہ ہے کہ اصل بات کچھ ہوتی ہے اورمختلف راویوں کے بیانوں میں کچھ اور ہو جاتی ہے۔ ذخیرۂ حدیث میں اس کی بے شمارمثالیں موجودہیں۔ درج ذیل قصہ بھی اسی کی ایک کلاسیکل مثال ہے،جسے قارئین کی خدمت میں پیش کیاجاتاہے۔ یہ تحقیق علامہ میرٹھی کی کتاب ’’بخاری کا مطالعہ‘‘ پہلے حصہ سے ماخوذ ہے۔

امام بخاری نے کہا ہے:

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلٰی بْنُ حَمَّادٍ، ثَنَا یَزِیْدُ بْنُ زُرَیْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِیْدٌ، عَنْ قَتَادَۃَ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ حَدَّثَھُمْ أَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَطُوْفُ عَلٰی نِسَاءِہٖ فِی اللَّیْلَۃِ الوَاحِدَۃِ، وَلَہُ يَوْمَئِذٍ تِسْعُ نِسْوَۃٍ.

(رقم 5215)

’’ہم سے عبد الا علیٰ بن حماد نے بیان کیا کہ ہم سے یزید بن زُریع نے بیان کیا کہ ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے بیان کیا قتادہ سے روایت کر کے کہ حضرت انس نے قتادہ وغیرہ سے بیان کیا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات میں اپنی بیویوں پر چکر لگاتے تھے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں نو بیویاں تھیں۔‘‘

مسدّد بن مسرھد سے بھی اسی اِسناد کے ساتھ بخاری نے یہ حدیث رِوایت کی ہے۔ امام احمد نے یزید بن زریع سے بواسطہ عبد العزیز بن عبد الصمد اس کی روایت کی ہے (مسنداحمد 3/ 166)۔

معمر نے بھی قتادہ سے یہ حدیثِ انس روایت کی ہے۔ بہ ایں لفظ:

کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَطُوْفُ عَلٰی نِسَاءِہٖ، فِیْ غُسْلٍ وَاحِدٍ.(مسنداحمد 3/ 161، سنن النسائی ص 52،سنن الترمذی ص 28،سنن ابنِ ماجہ ص 44، طبعاتِ ہند)، مگر ’فِیْ غُسْلٍ وَاحِدٍ‘ قتادہ کا بیان کیا ہوا لفظ نہیں ہے۔ معمر نے اپنے فہم کے مطابق حدیثِ قتادہ میں توضیحا ً یہ اضافہ کر دیا تھا۔

سعید بن ابی عروبہ و معمر بن راشد کے علاوہ ہشام دستوائی نے بھی قتادہ سے یہ حدیث روایت کی ہے۔ ہشام کی روایت کردہ حدیث میں آخر میں ذکر کروں گا۔

ثابت بنانی نے بھی حضرت انس سے اس کی روایت کی ہے۔ ثابت سے معمر و حماد بن سلمہ نےروایت کی ہے۔ معمر کی روایت یہ ہے:

حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنِی مَعْمَرٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یُطِیْفُ بِنِسَاءِہٖ فِی لَیْلَۃٍ یَغْتَسِلُ غُسْلًا وَاحِدًا. (مسند احمد3/111)

اور حماد کی روایت یہ ہے:

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرحمٰن حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ طَافَ عَلَی نِسَاءِہِ فِی لَیْلَۃٍ وَاحِدَۃٍ بِغُسْلٍ وَاحِدٍ. (مسند احمد، رقم12515)۔ کبھی حماد نے ”طَافَ عَلٰی نِسَاءِہٖ جَمِیْعًا فِیْ یَوْمٍ وَاحِدٍ‘ کہا ہے (مسند احمد، رقم12221)۔ دارمی کی روایت میں لفظ ’جُمَعَ‘ ہے (سنن الدار می، ص103،طبع ہند)۔

حمید الطویل نے بھی حضرت انس سے اس کی روایت کی ہے۔ اس کی تخریج ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے۔ ابو داؤد کی روایت یہ ہے: ’أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ طَافَ ذَاتَ یَوْمٍ عَلٰی نِسَاءِہٖ فِیْ غُسْلٍ وَاحِدٍ‘ (سنن ابی داؤد، کتاب الطہارۃ، باب فی الجنب یعود)۔

نسائی کی روایت میں ہے: ’فِی لَیْلَۃٍ بِغُسْلٍ وَاحِدٍ‘ (سنن نسائی: کتاب الطہارۃ، باب اتیان النساء قبل احداث الغسل)۔

ہِشام بن زید نے بھی حضرت انس سے اس کی روایت کی ہے۔ اس کی تخریج مسلم و احمد نے کی ہے:’أَنَّ النَّبِیَّ صَلی اللّٰہ عَلَیہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَطَوْفُ عَلٰی نِسَاءِہٖ بِغُسْلٍ وَاحِدٍ‘(صحیح مسلم 1/144 ۔مسند احمد3 / 225)۔

پس حضرت انس رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث قتادہ و ثابت بنانی و حمید الطویل اور ہشام بن زید نے روایت کی ہے۔ اور چاروں طریق سے یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔ لیکن اس کے متن میں بہت بڑا سقم ہے، جس کی میں ان شاء اللہ وضاحت کرنے والا ہوں۔ یہاں ناظرین کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ صالح بن ابی الاخضر نے یہ حدیثِ انس زہری کی طرف منسوب کر کے رِوایت کرنے کی غلطی کی تھی۔ اس کی تخریج ابن ماجہ نے کی ہے:

عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِی الْأَخْضَرِ، عَنْ الزُّھْرِیِّ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: وَضَعْتُ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ غَسْلًا فَاغْتَسَلَ مِنْ جَمِیْعِ نِسَاءِہٖ فِی لَیْلَۃٍ.(سنن ابن ماجہ، رقم 589)

’’صالح بن ابی الاخضر سے مروی ہے کہ زہری نے حضرت انس سے روایت کی ہے، انس نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے غسل کا پانی رکھا تو اس رات آپ نے اپنی سب بیویوں سے صحبت کر کے غسل فرمایا۔‘‘

صالح بن ابی الاخضر فاسد آدمی تھا، جھوٹا لپاٹی۔(ابن معین کہتے ہیں:’لیس بالقوی،وقال مرۃ: ضعیف‘،عجلی نے کہا:’یکتب حدیثہ ولیس بالقوی‘،جوزجانی کہتے ہیں:’اتہم فی احادیثہ‘، تہذیب التہذیب 4/333)

زہری نے یہ حدیث بیان کی ہوتی تو ان کے ثقہ اور صادق الروایہ تلامذہ کے جمِ غفیر میں سے کوئی اس کی روایت کرتا۔ ہمیں یقین ہے کہ زہری نے یہ حدیث بیان نہیں کی۔ قتادہ و ثابت بنانی و حمید و ہشام بن زیدکی روایت کردہ حدیث میں صالح بن ابی الاخضر نے اپنی طرف سے ’وَضَعْتُ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ غَسْلًا ‘ کا اضافہ پیوند کر کے اسے زہری کی طرف منسوب کر دیا تھا۔ پس صالح بن ابی الاخضر کی یہ فاسد اور غلط رِوایت تو نا قابلِ التفات ہے۔ البتہ قتادہ و ثابت و حمید و ہشام کی روایت کردہ حدیث کو اچھی طرح سمجھ لینے کی ضرورت ہے۔

ان میں سے ثابت اور حمید کی روایت میں ’طَافَ‘ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت انس کے علم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ واقعہ ایک بار کا آیا تھا۔ اور قتادہ و ہِشام بن زید کی روایت میں ’کَانَ یَطُوْفُ‘ ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ اس واقعہ کا ذکر انس رضی اللہ عنہ نے اس طرح کیا تھا کہ اُن کے علم میں کئی بار وقوع میں آیا تھا، لیکن اس واقعہ کو ایک بار کا سمجھا جائے یا کئی بار کا۔ بہر حال اس پر یہ بجا سوال وارد ہوتا ہے کہ حضرت انس کو اس کا علم کیسے ہوا؟ یہ واقعہ حضرت انس کا چشم دید تو ہو نہیں سکتا۔ حضرت انس حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم تھے۔ کم سن تھے۔ دن میں خدمت کرتے، رات کو اپنی والدہ اُم سُلیم اور سوتیلے باپ ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہما کے یہاں رہتے، جیسے بچے اپنے گھر رہا کرتے ہیں۔ پوری مدت خدمت میں جو تقریباً دس سال تھی، حضرت انس نے ایک رات بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں بسر نہیں کی۔ لامحالہ اگر انس رضی اللہ عنہ کے علم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ واقعہ آیا تھا تو کسی سے اِسے سنا ہو گا، مگر کس سے؟ کیا خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے؟ نہیں، ہر گز نہیں۔ اس کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت انس کو، ایک نو عمر لڑکے کو اپنی شب باشی کا ایسا قصہ سنایا ہو یا ازواجِ مطہرات میں سے ہی کسی نے حضرت انس کو یہ بتا دیا ہو؟ نہیں، ہر گز نہیں۔ یہ بھی قطعا ًنا ممکن اور نا قابلِ تصورچیز ہے۔

یا ام سلیم والدۂ انس رضی اللہ عنہ کو کسی ام المومنین سے یہ بات معلوم ہوئی ہو اور موصوفہ نے اپنے فرزند، یعنی انس رضی اللہ عنہ کو بتادی ہو۔ واللہ، یہ بھی محال ہے۔ کوئی ماں اپنے بیٹے سے اس طرح کی بات نہیں کر سکتی۔ پس حضرت انس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اس واقعہ کا علم ہونے کی قطعاً کوئی صورت نہ تھی۔ اور حضرت انس کے متعلق یہ خیال بھی نہیں کیا جا سکتا کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ایسی بات جزم و یقین کے ساتھ کہی ہو جس کا انھیں کوئی علم نہ تھا۔ اس لیے میں یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ حضرت انس نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ قصہ بیان نہیں کیا تھا۔ تو کیاقتادہ بن دِعامہ و ثابت بن اسلم بنانی و حمید الطویل وہشام بن زید نے اسے گھڑ کر حضرت انس کی طرف منسوب کر دیا تھا؟ نہیں، ہر گز نہیں۔ یہ چاروں حضرات نیک و متقی،سچے اور ثقہ لوگ تھے۔ انھوں نے قصدا ًغلط بیانی اور دروغ بافی نہیں کی، بلکہ حضرت انس کی بیان کردہ حدیث کے متعلق غلط فہمی میں پڑ گئے تھے۔ حضرت انس کی بیان کردہ حدیث کا مطلب کچھ اور تھا اور ان راویوں نے سمجھ لیا تھا کچھ اور،پھر اپنے فہم کے مطابق(کچھ لفظوں کا اضافہ کرکے) اس کی روایت کردی۔ اصل بات یہ ہے کہ شب باشی کے لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج مطہرات کے درمیان نوبت مقرر فرما رکھی تھی۔ ایک ایک حرم کے یہاں ایک دن رات گزارتے۔ دن میں کھانا وغیرہ نوبت والی حرمِ محترم کے یہاں رہتا اور رات کو انھی کے یہاں آرام فرماتے، لیکن روزانہ تھوڑی تھوڑی دیر کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم یکے بعد دیگرے تمام ازواجِ مطہرات کے پاس تشریف لے جاتے، ہر ایک کا حال اور خیریت وعافیت پوچھتے اور حاجت و ضرورت دریافت فرماتے۔ تھوڑی تھوڑی دیر ہر ایک کے پاس رک کر، آخر میں نوبت والی حرم کے یہاں پہنچتے۔ مرضِ وفات کے اوائل میں بھی آپ کا یہ ہی طرز ِعمل رہا، حتیٰ کہ آپ کی رضا و راحت کے پیشِ نظر تمام از اواج ِ مطہرات نے بطیب خاطر آپ کو ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے یہاں ایامِ مرض گزارنے کی اجازت دے دی۔ بقیہ ایامِ مرض آپ کے انھی کے پاس گزرے اور اُنھی کے پاس وفات ہوئی اور وہی مقدس حجرہ قیامت تک کے لیے آپ کی آرام گاہ بنا۔ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَعَلٰی أَزْوَاجِہٖ وَاَصْحَابِہٖ أَجْمَعِیْنَ۔

یہ تمام ازواج کے یہاں آپ کا تھوڑی تھوڑی دیر کے لیے جانا کبھی دن میں چاشت کے وقت ہوتا تھا، کبھی نماز عصر کے بعد، کبھی مغرب و عشا کے درمیان۔ حضرت انس نے یہی بات ان الفاظ میں ذکر کی تھی:’کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَطُوْفُ عَلٰی نِسَاءِہٖ جَمِیْعًا‘۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمام ازواجِ مطہرات پر چکر لگاتے تھے، یعنی حال و ضرورت پو چھنے کے لیے یکے بعد دیگرے سب امہات المومنین کے پاس تشریف لے جاتے تھے۔ سننے والوں، یعنی ثابت و حمید و ہشام بن زید نے اس کا یہ مطلب سمجھ لیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یکے بعد دیگرے سب سے جماع فرماتے تھے۔ اسی مطلب کے مطابق اِن حضرات نے اس کی روایت کردی اور اس مطلب کی وضاحت کے لیے’بِغُسْلٍ وَاحِدٍ‘ کا اضافہ کر دیا۔قتادہ و ثابت و حمید و ہشام کے علاوہ حضرت انس سے یہ حدیث مطر الوَرّاق نے بھی روایت کی ہے۔ امام احمد فرماتے ہیں:

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسٰی، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُوْ ھِلَالٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مَطَرُ الْوَرَّاقُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: کَانَ نَبِیُّ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَطُوْفُ عَلٰی تِسْعِ نِسْوَۃٍ فِی ضَحْوَۃٍ.(مسند احمد3 / 239)

’فِیْ ضَحْوَۃٍ‘ کے معنی ہیں: بوقت ِچاشت(دن چڑھے)۔ یہ روایت اس حدیثِ انس کے صحیح معنی و مطلب پر جس کی میں نے تقریر کی ہے، دلالت کر رہی ہے۔ اور ہشام دَستُوائی نے جو یہ حدیث قتادہ سے روایت کی ہے، اُس میں اس مطلب کی مزید وضاحت ہے۔ اس کی تخریج امام بخاری و امام احمد نے کی ہے۔ ہِشام کا بیان ہے کہ قتادہ نے کہا:

حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَدُوْرُ عَلٰی نِسَاءِہٖ فِی السَّاعَۃِ الوَاحِدَۃِ، مِنَ اللَّیْلِ وَالنَّھَارِ، وَھُنَّ إِحْدٰی عَشَرَۃ. قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسٍ: أَوَکَانَ یُطِیْقُہٗ؟ قَالَ: کُنَّا نَتَحَدَّثُ ”أَنَّہٗ أُعْطِیَ قُوَّۃَ ثَلاَثِینَ. وَقَالَ سَعِیدٌ، عَنْ قَتَادَۃَ: إِنَّ أَنَسًا، حَدَّثَھُمْ تِسْعُ نِسْوَۃٍ.

(بخاری، رقم 268)

’’ ہم سے حضرت انس نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک وقت میں کبھی رات کو، یعنی آغاز شب میں اور کبھی دن کو اپنی عورتوں پر گھومتے تھے اور وہ گیارہ تھیں۔ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس سے کہا کہ کیا آپ اس کی طاقت رکھتے تھے؟ انھوں نے جواب دیا کہ ہم آپس کی بات چیت میں یہ کہتے تھے کہ آپ کو تیس مردوں کی طاقت دی گئی ہے۔ اور سعید بن ابی عروبہ نے یہ کہا ہے کہ انس نے بتایاکہ وہ نو تھیں۔‘‘

یہ گیارہ اور نو کا ذکر کوئی اختلاف نہیں ہے۔ عمرۃ القضاء سنہ7 ھ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں نو ہوگئیں۔حضرت سیدہ سودہ،حضرت سیدہ ام بنت حارث، حضرت سیدہ صفیہ، حضرت سیدہ اُم حبیبہ، حضرت سیدہ حفصہ، حضرت سیدہ عائشہ، سلمہ ، (کنیز) تھیں۔ اوردو آپ کی سَریَّہ حضرت سیدہ زینب بنت جحش، سیدہ جویریہ، حضرت سیدہ میمونہ۔

حضرت رَیحانہ قُرظَیہ اور حضرت ماریہ قِبطیہ رضی اللہ عنہما۔ قتادہ نے جب ہِشام دَستُوائی سے یہ حدیث بیان کی تھی تو ان دونوں کو بھی مراد لے لیا تھا اور جب سعید سے بیان کی تھی تو صرف منکوحہ ازواجِ مطہرات کو مراد لیا تھا۔ ہاں تو اس روایت میں ’فِی السَّاعَۃِ الوَاحِدَۃِ‘کا لفظ بتارہا ہے کہ اس حدیث میں ’ یَدُ وْرُ‘ یا ’یَطُوْفُ‘ کا لفظ وطی و جماع کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ ’یَزُوْر‘ اور ’یَلْقیٰ‘ کے معنی میں ہے۔ اس کے بعد ہشام دَستُوائی کی رِوایت میں ہے: ’قَالَ قَتَادَۃُ: قُلْتُ لِأَنَسٍ: أَوَکَانَ یُطِیْقُہٗ؟‘ قتادہ کا بیان ہے کہ میں نے یہ حدیث سن کر حضرت انس سے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طاقت رکھتے تھے؟

قتادہ کے سوال کا مطلب یہ ہے کہ وہ مرد جس کے گھر نو منکوحہ بیویاں اور دو سَریَّہ (کنیز) ہوں، اگر وہ نوبت بہ نوبت ہر بیوی سے جماع کرے تو ہر بیوی سے نویں دن جماع کرے گا۔ اور ہفتہ یا عشرہ میں کسی جوان عورت سے جماع کیا جائے تو اس عورت کی صحت پر کوئی مضر اور غلط اثر نہیں پڑتا، لیکن ہر رات جماع کرنے والے مرد کی صحت بے حد خراب ہو جائے گی۔ رَعشہ کی بیماری، ضعفِ گردہ، ہضم کی خرابی، قُویٰ کا اضمحلال،بینائی میں فتور ایسے عوارض ہیں جن میں وہ مبتلا ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اسی لیے کوئی قوی سے قوی مرد بھی ایسا نہیں ہو سکتا کہ مسلسل ایک ماہ تک ہر رات جماع کرتا رہے، برسوں کا تو ذکر ہی کیا ہے۔ اس کے جواب میں حضرت انس نے فرمایا: ’کُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّہٗ أُعْطِیَ قُوَّۃَ ثَلاَثِیْنَ‘، ’’ہم اصحاب رسول با ہم یہ بات کہا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تیس مردوں کی قوت عطا ہوئی ہے۔‘‘ حضرت انس نے یہ نہیں کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی ہے، بلکہ یہ کہا ہے کہ ہمارے درمیان یہ بات معروف تھی اور تیس (30) سے مراد غالباً خاص تیس(30) کا عدد نہیں، بلکہ مراد تکثیر ہے۔ اور یہ حقیقت شک و شبہ سے بالا تر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے نہایت عالی مرتبہ برگزیدہ بندے، منتخب روزگار اور ظاہری و باطنی تمام قوتوں میں سب سے فائق و ممتاز تھے۔ حضرت انس نے یہ بات کہہ کر قتادہ کو یہ فہمایش کی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیگر انسانوں پر قیاس کرنے کی غلطی نہ کرو۔ ہِشام دَستُوائی کی روایت صحیح بخاری طبع ہند ص 41 پر ہے اور مسند احمدج3 ص 291 طبع ہندمیں ہے۔

’قَالَ قَتَادَۃَ: قُلْتُ لِأَنَسٍ: أَوَکَانَ یُطِیْقُہٗ؟‘یہ اصل حدیث کے الفاظ نہیں ہیں، بلکہ راویوں کااپنااضافہ ہے۔ یہ قتادہ اورانس کے درمیان جوسوال و جواب ہوا، اسی سے اصل حدیث کے اصل معنی بگڑگئے اوربات کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔