مواد پر جائیں

یہ دورِ جہاں کیا ہے؟ دریا بہ حباب اندر

جاوید احمد غامدی اردو

پنہاں بہ حباب اندر، پیدا بہ حباب اندر

خاکی ہو کہ افلاکی، یہ سیر و سفر تیرا

ناقہ بہ حباب اندر، صحرا بہ حباب اندر

صوفی کی شریعت میں دو حرف یہی پائے

دنیا بہ حباب اندر، عقبیٰ بہ حباب اندر

مے خانۂ ہستی کا یہ رنگ بھی دیکھا ہے

مستی بہ حباب اندر، صہبا بہ حباب اندر

اک طرفہ تماشا ہے افرنگ کا طوفاں بھی

آدم بہ حباب اندر، حوا بہ حباب اندر