بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سورة آل عمران
(3)
اِنَّ اللّٰہَ اصۡطَفٰۤی اٰدَمَ وَ نُوۡحًا وَّ اٰلَ اِبۡرٰہِیۡمَ وَ اٰلَ عِمۡرٰنَ عَلَی الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿ۙ۳۳﴾ ذُرِّیَّۃًۢ بَعۡضُہَا مِنۡۢ بَعۡضٍ ؕ وَ اللّٰہُ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿ۚ۳۴﴾
اِذۡ قَالَتِ امۡرَاَتُ عِمۡرٰنَ رَبِّ اِنِّیۡ نَذَرۡتُ لَکَ مَا فِیۡ بَطۡنِیۡ مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلۡ مِنِّیۡ ۚ اِنَّکَ اَنۡتَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۳۵﴾ فَلَمَّا وَضَعَتۡہَا قَالَتۡ رَبِّ اِنِّیۡ وَضَعۡتُہَاۤ اُنۡثٰی ؕ وَ اللّٰہُ اَعۡلَمُ بِمَا وَضَعَتۡ ؕ وَ لَیۡسَ الذَّکَرُ کَالۡاُنۡثٰی ۚ وَ اِنِّیۡ سَمَّیۡتُہَا مَرۡیَمَ وَ اِنِّیۡۤ اُعِیۡذُہَا بِکَ وَ ذُرِّیَّتَہَا مِنَ الشَّیۡطٰنِ الرَّجِیۡمِ ﴿۳۶﴾ فَتَقَبَّلَہَا رَبُّہَا بِقَبُوۡلٍ حَسَنٍ وَّ اَنۡۢبَتَہَا نَبَاتًا حَسَنًا ۙ وَّ کَفَّلَہَا زَکَرِیَّا ۚؕ کُلَّمَا دَخَلَ عَلَیۡہَا زَکَرِیَّا الۡمِحۡرَابَ ۙ وَجَدَ عِنۡدَہَا رِزۡقًا ۚ قَالَ یٰمَرۡیَمُ اَنّٰی لَکِ ہٰذَا ؕ قَالَتۡ ہُوَ مِنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یَرۡزُقُ مَنۡ یَّشَآءُ بِغَیۡرِ حِسَابٍ ﴿۳۷﴾
(یہ اہلِ کتاب تم سے بحث کرنا چاہتے ہیں )۔ اِ س میں شبہ نہیں کہ اللہ نے آدم اور نوح کو، اور ابراہیم اور عمران کے خاندان کو تمام دنیا والوں پر ترجیح دے کر (اُن کی رہنمائی کے لیے) منتخب فرمایا۔
ہُنَالِکَ دَعَا زَکَرِیَّا رَبَّہٗ ۚ قَالَ رَبِّ ہَبۡ لِیۡ مِنۡ لَّدُنۡکَ ذُرِّیَّۃً طَیِّبَۃً ۚ اِنَّکَ سَمِیۡعُ الدُّعَآءِ ﴿۳۸﴾ فَنَادَتۡہُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ وَ ہُوَ قَآئِمٌ یُّصَلِّیۡ فِی الۡمِحۡرَابِ ۙ اَنَّ اللّٰہَ یُبَشِّرُکَ بِیَحۡیٰی مُصَدِّقًۢا بِکَلِمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ وَ سَیِّدًا وَّ حَصُوۡرًا وَّ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۳۹﴾ قَالَ رَبِّ اَنّٰی یَکُوۡنُ لِیۡ غُلٰمٌ وَّ قَدۡ بَلَغَنِیَ الۡکِبَرُ وَ امۡرَاَتِیۡ عَاقِرٌ ؕ قَالَ کَذٰلِکَ اللّٰہُ یَفۡعَلُ مَا یَشَآءُ ﴿۴۰﴾ قَالَ رَبِّ اجۡعَلۡ لِّیۡۤ اٰیَۃً ؕ قَالَ اٰیَتُکَ اَلَّا تُکَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَۃَ اَیَّامٍ اِلَّا رَمۡزًا ؕ وَ اذۡکُرۡ رَّبَّکَ کَثِیۡرًا وَّ سَبِّحۡ بِالۡعَشِیِّ وَ الۡاِبۡکَارِ ﴿۴۱﴾
یہ ایک دوسرے کی اولاد ہیں اور(جو کچھ کہتے اور کرتے رہے ہیں، اللہ اُس سے واقف ہے، اِس لیے کہ )اللہ سمیع وعلیم ہے۔33- 34
اِنھیں یاددلاؤ وہ واقعہ جب عمران کی بیوی نے دعا کی کہ پروردگار، یہ میرے پیٹ میں جو بچہ ہے، اُس کو میں نے ہرذمہ داری سے آزاد کرکے تیری نذر کردیا ہے۔سوتو میری طرف سے اِس کو قبول فرما، بے شک تو ہی سمیع و علیم ہے۔ پھر جب اُس نے اُس کو جنا تو بولی کہ پروردگار، یہ تو میں نے لڑکی جن دی ہے ـــــ اور جو کچھ اُس نے جنا تھا، اللہ کو اُس کا خوب پتا تھا ــــــ اور (بولی کہ ) وہ لڑکا اِس لڑکی کی طرح نہ ہوتا۔ (خیر اب یہی ہے ) اور میں نے اِس کا نام مریم رکھ دیا ہے اوراِس کو اور اِس کی اولاد کو میں شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔ (اُس کے احساسات یہی تھے)، تاہم اُس کے پروردگارنے اُس لڑکی کو بڑی خوشی کے ساتھ قبول فرمایا اور نہایت عمدہ طریقے سے پروان چڑھایا اور زکریا کو اُس کا سرپرست بنادیا۔ (چنانچہ) جب کبھی زکریا محراب میں اُس کے پاس جاتا تو وہاں(اللہ کی) عنایت دیکھتا تھا۔ (اِسی طرح کے ایک موقع پر ) اُس نے پوچھا: مریم، یہ کہاں سے پاتی ہو؟ اُس نے جواب دیا: یہ اللہ کے پاس سے ہے۔ (اُس لڑکی پریہ تمھارے پروردگار کا کرم تھا)، اِس میں شبہ نہیں کہ اللہ جس کو چاہتا ہے، بے حساب دیتا ہے۔35- 37
یہی موقع تھا کہ زکریا نے اپنے رب کو پکارا۔ اُس نے دعا کی کہ پروردگار، تو مجھے بھی اپنی جناب سے (ایسی ہی) پاکیزہ اولاد عطا فرما۔ یقیناً تو (اپنے بندوں کی) دعائیں سننے والا ہے۔ اِس کے جواب میں فرشتوں نے اُس کو ندادی، جب کہ وہ محراب میں کھڑا نماز پڑھ رہا تھا کہ اللہ تجھے یحییٰ کی خوش خبری دیتا ہے جو اللہ کے ایک کلمہ کی تصدیق کرنے والا، سردار اور دنیا کی لذتوں سے کنارہ کش اور (خدا کے) نیک بندوں میں سے ایک نبی ہوگا۔ اُس نے تعجب سے پوچھا: پروردگار، میرے ہاں لڑکا کہاں سے ہوگا، میں تو بوڑھا ہو چکا اور میری بیوی بھی بانجھ ہے ؟ فرمایا: اللہ اِسی طرح جو چاہے،
وَ اِذۡ قَالَتِ الۡمَلٰٓئِکَۃُ یٰمَرۡیَمُ اِنَّ اللّٰہَ اصۡطَفٰکِ وَ طَہَّرَکِ وَ اصۡطَفٰکِ عَلٰی نِسَآءِ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۴۲﴾ یٰمَرۡیَمُ اقۡنُتِیۡ لِرَبِّکِ وَ اسۡجُدِیۡ وَ ارۡکَعِیۡ مَعَ الرّٰکِعِیۡنَ ﴿۴۳﴾
ذٰلِکَ مِنۡ اَنۡۢبَآءِ الۡغَیۡبِ نُوۡحِیۡہِ اِلَیۡکَ ؕ وَ مَا کُنۡتَ لَدَیۡہِمۡ اِذۡ یُلۡقُوۡنَ اَقۡلَامَہُمۡ اَیُّہُمۡ یَکۡفُلُ مَرۡیَمَ ۪ وَ مَا کُنۡتَ لَدَیۡہِمۡ اِذۡ یَخۡتَصِمُوۡنَ ﴿۴۴﴾
اِذۡ قَالَتِ الۡمَلٰٓئِکَۃُ یٰمَرۡیَمُ اِنَّ اللّٰہَ یُبَشِّرُکِ بِکَلِمَۃٍ مِّنۡہُ ٭ۖ اسۡمُہُ الۡمَسِیۡحُ عِیۡسَی ابۡنُ مَرۡیَمَ وَجِیۡہًا فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ وَ مِنَ الۡمُقَرَّبِیۡنَ ﴿ۙ۴۵﴾ وَ یُکَلِّمُ النَّاسَ فِی الۡمَہۡدِ وَ کَہۡلًا وَّ مِنَ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۴۶﴾ قَالَتۡ رَبِّ اَنّٰی یَکُوۡنُ لِیۡ وَلَدٌ وَّ لَمۡ یَمۡسَسۡنِیۡ بَشَرٌ ؕ قَالَ کَذٰلِکِ اللّٰہُ یَخۡلُقُ مَا یَشَآءُ ؕ اِذَا قَضٰۤی اَمۡرًا فَاِنَّمَا یَقُوۡلُ لَہٗ کُنۡ فَیَکُوۡنُ ﴿۴۷﴾ وَ یُعَلِّمُہُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ وَ التَّوۡرٰىۃَ وَ الۡاِنۡجِیۡلَ ﴿ۚ۴۸﴾ وَ رَسُوۡلًا اِلٰی بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ ۬ۙ اَنِّیۡ قَدۡ جِئۡتُکُمۡ بِاٰیَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ ۙ اَنِّیۡۤ اَخۡلُقُ لَکُمۡ مِّنَ الطِّیۡنِ کَہَیۡـَٔۃِ الطَّیۡرِ فَاَنۡفُخُ فِیۡہِ فَیَکُوۡنُ طَیۡرًۢا بِاِذۡنِ اللّٰہِ ۚ وَ اُبۡرِیُٔ الۡاَکۡمَہَ وَ الۡاَبۡرَصَ وَ اُحۡیِ الۡمَوۡتٰی بِاِذۡنِ اللّٰہِ ۚ وَ اُنَبِّئُکُمۡ بِمَا تَاۡکُلُوۡنَ وَ مَا تَدَّخِرُوۡنَ ۙ فِیۡ بُیُوۡتِکُمۡ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿ۚ۴۹﴾ وَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیۡنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوۡرٰىۃِ وَ لِاُحِلَّ لَکُمۡ بَعۡضَ الَّذِیۡ حُرِّمَ عَلَیۡکُمۡ وَ جِئۡتُکُمۡ بِاٰیَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ ۟ فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوۡنِ ﴿۵۰﴾ اِنَّ اللّٰہَ رَبِّیۡ وَ رَبُّکُمۡ فَاعۡبُدُوۡہُ ؕ ہٰذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِیۡمٌ ﴿۵۱﴾
کرتا ہے۔ اُس نے عرض کیا: پر وردگار، پھر میرے لیے کوئی نشانی ٹھیرا دیں۔ فرمایا: تمھارے لیے نشانی یہ ہے کہ تین دن تک تم لوگوں سے اشارے کے سوا کوئی بات نہ کرسکو گے۔ (ہاں، تسبیح وتہلیل، البتہ کر سکو گے، لہٰذا یہ دن اِسی طرح گزارنا) اور (اِس دوران میں) اپنے پروردگار کو بہت یاد کرنا اور صبح وشام اُس کی تسبیح کرتے رہنا۔ 38- 41
اور وہ واقعہ بھی اِنھیں یاد دلاؤ، جب فرشتوں نے مریم سے کہا: اے مریم، اللہ نے تجھے برگزیدہ کیاہے اور پاکیزگی عطا فرمائی ہے اور دنیا کی تمام عورتوں پر ترجیح دے کر (اپنی ایک عظیم نشانی کے ظہور کے لیے)تم کو منتخب کر لیا ہے۔ (اِس لیے)، اے مریم، اب اپنے پروردگار کی فرماں برداری میں لگی رہو اور اُس کے حضور میں جھکنے والوں کے ساتھ رکوع وسجود کرتی رہو۔42- 43
یہ غیب کی باتیں ہیں، (اے پیغمبر)،جو ہم تمھیں وحی کررہے ہیں، اور حقیقت یہ ہے کہ جب ہیکل کے خدام یہ فیصلہ کرنے کے لیے کہ اُن میں سے کون مریم کی سرپرستی کرے گا، اپنے اپنے قرعے ڈال رہے تھے تو تم اُس وقت اُن کے پاس موجود نہ تھے، اور نہ اُس وقت اُن کے پاس موجود
فَلَمَّاۤ اَحَسَّ عِیۡسٰی مِنۡہُمُ الۡکُفۡرَ قَالَ مَنۡ اَنۡصَارِیۡۤ اِلَی اللّٰہِ ؕ قَالَ الۡحَوَارِیُّوۡنَ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰہِ ۚ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ ۚ وَ اشۡہَدۡ بِاَنَّا مُسۡلِمُوۡنَ ﴿۵۲﴾ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا بِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ وَ اتَّبَعۡنَا الرَّسُوۡلَ فَاکۡتُبۡنَا مَعَ الشّٰہِدِیۡنَ ﴿۵۳﴾
وَ مَکَرُوۡا وَ مَکَرَ اللّٰہُ ؕ وَ اللّٰہُ خَیۡرُ الۡمٰکِرِیۡنَ ﴿۵۴﴾ اِذۡ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیۡسٰۤی اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ وَ رَافِعُکَ اِلَیَّ وَ مُطَہِّرُکَ مِنَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ جَاعِلُ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡکَ فَوۡقَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرۡجِعُکُمۡ فَاَحۡکُمُ بَیۡنَکُمۡ فِیۡمَا کُنۡتُمۡ فِیۡہِ تَخۡتَلِفُوۡنَ ﴿۵۵﴾ فَاَمَّا الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا فَاُعَذِّبُہُمۡ عَذَابًا شَدِیۡدًا فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ ۫ وَ مَا لَہُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِیۡنَ ﴿۵۶﴾ وَ اَمَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُوَفِّیۡہِمۡ اُجُوۡرَہُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۵۷﴾
تھے، جب وہ اِس معاملے میں ایک دوسرے سے جھگڑرہے تھے۔44
اِنھیں یاد دلاؤ، جب فرشتوں نے کہا: اے مریم، اللہ تجھے اپنے ایک کلمہ کی بشارت دیتا ہے۔ اُس کا نام مسیح عیسیٰ ابن مریم ہوگا۔ وہ دنیا اور آخرت، دونوں میں صاحب وجاہت اور مقربین میں سے ہو گا۔ لوگوں سے گہوار ے میں بھی (اپنی نبوت کا) کلام کرے گا اوربڑی عمر کو پہنچ کر بھی اور صالحین میں شمار کیا جائے گا۔ وہ بولی: پروردگار، میرے ہاں بچہ کہاں سے ہوگا، مجھے تو کسی مرد نے چھوا تک نہیں۔ فرمایا: اِسی طرح اللہ جو چاہے ،پیدا کرتا ہے۔ وہ جب کسی معاملے کا فیصلہ کر لیتا ہے تو اُس کو اتنا ہی کہتاہے کہ ہوجا، پھر وہ ہوجاتا ہے۔ (لہٰذا اِسی طرح ہوگا)اور اللہ اُسے قانون اورحکمت سکھائے گا، یعنی تورات وانجیل کی تعلیم دے گا۔ اوراُس کو بنی اسرائیل کی طرف رسول بنا کر بھیجے گا۔ (چنانچہ یہی ہوا اوراُس نے بنی اسرائیل کو دعوت دی کہ (میں تمھارے پروردگار کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں۔ میں تمھارے لیے مٹی سے پرندے کی ایک صورت بناتا ہوں، پھر میں اُس میں پھونکتا ہوں تو اللہ کے حکم سے وہ فی الواقع پرندہ بن جاتی ہے؛ اور مادر زاداندھے اورکوڑھی کو اچھا کرتا ہوں؛ اوراللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ کردیتا ہوں؛ اورمیں تمھیں بتا سکتا ہوں جو کچھ تم کھا کر آتے ہواورجو اپنے گھروں میں جمع کر رکھتے ہو۔ اِس میں تمھارے لیے یقیناً ایک بڑی نشانی ہے، اگرتم ماننے والے ہو۔ اور میں تورات کی تصدیق کرنے والا بن کر آیا ہوں جو مجھ سے پہلے آچکی ہے اور اِس لیے آیا ہوں کہ تمھارے لیے بعض اُن چیزوں کو حلال ٹھیراؤں جو تم پر حرام کردی گئی ہیں، اور (دیکھو) میں تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے پاس نشانی لے
ذٰلِکَ نَتۡلُوۡہُ عَلَیۡکَ مِنَ الۡاٰیٰتِ وَ الذِّکۡرِ الۡحَکِیۡمِ ﴿۵۸﴾ اِنَّ مَثَلَ عِیۡسٰی عِنۡدَ اللّٰہِ کَمَثَلِ اٰدَمَ ؕ خَلَقَہٗ مِنۡ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَہٗ کُنۡ فَیَکُوۡنُ ﴿۵۹﴾ اَلۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّکَ فَلَا تَکُنۡ مِّنَ الۡمُمۡتَرِیۡنَ ﴿۶۰﴾ فَمَنۡ حَآجَّکَ فِیۡہِ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَکَ مِنَ الۡعِلۡمِ فَقُلۡ تَعَالَوۡا نَدۡعُ اَبۡنَآءَنَا وَ اَبۡنَآءَکُمۡ وَ نِسَآءَنَا وَ نِسَآءَکُمۡ وَ اَنۡفُسَنَا وَ اَنۡفُسَکُمۡ ۟ ثُمَّ نَبۡتَہِلۡ فَنَجۡعَلۡ لَّعۡنَتَ اللّٰہِ عَلَی الۡکٰذِبِیۡنَ ﴿۶۱﴾ اِنَّ ہٰذَا لَہُوَ الۡقَصَصُ الۡحَقُّ ۚ وَ مَا مِنۡ اِلٰہٍ اِلَّا اللّٰہُ ؕ وَ اِنَّ اللّٰہَ لَہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۶۲﴾ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَاِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌۢ بِالۡمُفۡسِدِیۡنَ ﴿۶۳﴾
کر آیا ہوں۔ سو اللہ سے ڈرو اور میری بات مانو۔ یقیناً اللہ ہی میرا بھی رب ہے اور تمھارا بھی، لہٰذاتم اُسی کی بندگی کرو۔ یہی سیدھی راہ ہے۔ 45- 51
پھر جب عیسیٰ نے محسوس کیا کہ یہ لوگ انکار ہی کریں گے تو اُس نے (حواریوں سے) کہا: کون اللہ کی راہ میں میرا مددگار ہوتا ہے؟ حواریوں نے جواب دیا: ہم ہیں اللہ کے مددگار، ہم اللہ پر ایمان لائے ہیں اورآپ گواہ رہیے کہ ہم نے سرتسلیم خم کردیا ہے۔ پروردگار، ہم نے اُسے مان لیا ہے جو آپ نے نازل کیا ہے اور (اُس کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ) رسول کی پیروی اختیار کرلی ہے۔ سو آپ ہمیں اُس کی گواہی دینے والوں میں لکھ لیں۔ 52- 53
(یہ ہوا) اور بنی اسرائیل نے (اُس کے خلاف ) خفیہ تدبیریں کرنا شروع کیں، اور اللہ نے بھی (اِس کے جواب میں ) خفیہ تدبیر کی اور ایسی تدبیروں میں اللہ سب سے بڑھ کر ہے۔ اُس وقت، جب اللہ نے کہا: اے عیسیٰ ، میں نے فیصلہ کیا ہے کہ تجھے وفات دوں گااور اپنی طرف اٹھا لوں گا اور تیرے اِن منکروں سے تجھے پاک کروں گا اورتیری پیروی کرنے والوں کو قیامت کے دن تک اِن منکروں پر غالب رکھوں گا۔ پھر تم سب کو بالآخر میرے پاس آنا ہے تو اُس وقت میں تمھارے درمیان اُن چیزوں کا فیصلہ کردوں گا جن میں تم اختلاف کرتے رہے ہو۔ سو یہی منکرین ہیں جن کو میں دنیا اور آخرت ، دونوں میں سخت سزا دیتا ہوں اور وہ اپنے لیے کوئی مددگار نہیں پاتے۔ اورجنھوں نے مانا اوراچھے عمل کیے تو اُن کو اللہ اُن کا پورا اجر عطا فرماتا ہے، اورحقیقت یہ ہے کہ اِس طرح کے ظالموں کو اللہ ہرگز دوست نہیں رکھتا۔54- 57
یہ ہماری آیتیں اور بڑی پر حکمت یاددہانی ہے جو ہم تمھیں سنا رہے ہیں۔ اللہ کے نزدیک عیسیٰ کی مثال آدم کی سی ہے۔ اللہ نے اُسے مٹی سے بنایا، پھراُس کو حکم دیا کہ ہو جا تو وہ ہوجاتا ہے۔ تمھارے پروردگار کی طرف سے یہی حق ہے، لہٰذا تم کسی شبہے میں نہ رہو۔ پھریہ علم تمھارے پاس آجانے کے بعد بھی جواِس معاملے میں تم سے جھگڑیں تو کہہ دو کہ آؤ ہم بھی اپنے بچوں کو بلائیں اورتم بھی اپنے بچوں کو لے آؤ ، اورہم بھی اپنی عورتوں کو بلائیں اورتم بھی اپنی عورتوں کو لے آؤ اورہم اورتم خود بھی آجائیں، پھر دعا کریں اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت بھیجیں۔ اِس میں شبہ نہیں کہ یہی سچابیان ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اوراللہ ہی عزیز و حکیم ہے۔ پھر وہ اعراض کریں تو اللہ تو اِن فساد کرنے والوں سے واقف ہی ہے۔ 58- 63