ـــــــ ڈاکٹر شہزاد سلیم کے لیے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ کی تقریب کے موقع پر ـــــــ
قرآن مجید کو ایک جملے میں بیان کیا جائے تو یہ خدا کا وہ تعارف ہے جو اس نے خود کرایا ہے۔ خدا کا یہ تعارف خدا کی نہیں، انسانوں کی ضرورت ہے۔ خدا اپنی ذات میں جیسا بلند اور اپنی صفات میں جتنا اعلیٰ و ارفع ہے، کوئی انسان اس حقیقت کا زندہ شعور اپنے اندر پیدا کرلے تو وہ خود بھی اعلیٰ و ارفع ہو جاتا ہے۔ یہی وہ رفعت ہے جس کی آخری منزل فردوسِ بریں میں خداے بے مثال کی ابدی قربت ہے۔
بدقسمتی سے ہردور میں یہ سانحہ پیش آیا کہ پیغمبروں کی تعلیمات میں اضافہ وتبدیلی کر کے ان کے اصل پیغام، اس پیغام کی صحت (Precision) اور اس کے اصل زور(Emphasis) کو بدلاجاتا رہا۔ اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے ختم نبوت کے ساتھ اس چیز کو یقینی بنایا گیا کہ قرآن مجید کے متن میں کوئی تبدیلی نہیں کی جاسکے گی۔ یہی وہ خصوصی انتظام ہے جس کی بنا پر قرآن مجید آج بھی ہمارے پاس ٹھیک اسی حال میں موجود ہے جس میں خاتم الانبیا و المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم اسے امت کو دے کر گئے تھے۔
تاہم اضافوں کا راستہ بند نہیں کیا گیا کہ یہ فکر کے امتحان کے لیے ضروری تھا۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ قرآن مجید نظری طور پر دین کا بنیادی ماخذ ہونے کے باوجود غیر اہم ہو گیا۔ قرآن سے باہر پائی جانے والی غیر محفوظ چیزوں کو اس کتابِ محفوظ کے متن پر ترجیح دی جانے لگی۔اس کے جو نتائج نکلے، ان کی ایک تاریخ اور تفصیل ہے، مگر طوالت سے بچنے کے لیے ہم ان کا ذکر رہنے دیتے ہیں۔
سردست یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بیسویں صدی کے آغا ز پر اپنی مشیت سے ایک ایسی شخصیت کو پیدا کیا جس سے یہ خدمت لی گئی کہ وہ قرآن مجید کے مقام و مرتبے کو عقیدت سے بڑھ کر علم و استدلال کی بنیاد پر ثابت کرے، اس کی حفاظت کے خدائی انتظام کو واضح کرے اور اس کے فہم میں حائل خارجی رکاوٹوں کو دور کرے۔ یہ شخصیت امام فراہی کی تھی، جو بلاشبہ آیت من آیات اللہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ تاہم فراہی صاحب نے قرآن مجید کےحوالے سے جو غیر معمولی خدمات سرانجام دی تھیں، وہ کچھ متفرق مواد،منتشر اوراق اور عربی تالیفات ہی تک محدود ہوکر رہ جاتیں، اگر آخری زمانے میں انھیں امام امین احسن اصلاحی جیسا قابل اور نوجوان شاگرد میسر نہ آ جاتا۔ اصلاحی صاحب ہی وہ شخصیت ہیں جنھوں نے فراہی کی فکر قرآن کو ’’تدبر قرآن‘‘ جیسی شاہ کار تفسیر قرآن میں بدلا اور قرآن مجید پر تدبر کے اصول و مبادی واضح کرنے کے ساتھ علوم اسلامی کی متعدد شاخوں پر ان کا اطلاق کرکے غیر معمولی نتائج فکر پیدا کیے اور اپنی دیگر تصانیف میں انھیں بیان کیا۔
اصلاحی صاحب کا کام ا پنی ذات میں بہت غیرمعمولی تھا اور اس نے قرآن مجید پر تدبر کے دروازے کھول دیے تھے، مگر وہ منزل ابھی بھی دور تھی جس تک پہنچانا مشیت الہٰی کے پیش نظر تھا۔ یعنی دین کے نام پر امت میں رائج پورے ذخیرے اور نظام فکر کا جائزہ لے کر اسے اضافوں سے پاک کیا جائے اور اصل دین کو بے کم وکاست دنیا کے سامنے پیش کیا جائے۔ یہی بے آمیز دین دور شرک کے ساتھ دور الحاد کے ہر چیلنج کا جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔اس خدمت کو سرانجام دینے کے لیے خداکی مشیت نے اصلاحی صاحب کو آخری زمانے میں استاذ گرامی جاوید احمد صاحب غامدی جیسا شاگرد فراہم کیا، جس نے اس پوری فکر قرآنی کو جذب کر کے ’’میزان‘‘ جیسی غیر معمولی تصنیف لکھی۔ ’’میزان‘‘ اضافوں سے پاک اس اصل دین کا بیان ہے جسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا کو دے کر رخصت ہوئے تھے۔ غامدی صاحب اپنی زندگی میں کچھ اور نہ کرتے تب بھی تنہا ’’میزان‘‘ ہی انھیں پندرہ سو برس کی مسلم علمی روایت میں غیر معمولی مقام دلوانے کے لیے بہت ہے۔
ہم نے ابھی تک جو لکھا ہے اس کی حیثیت ایک تمہید کی ہے۔ یہ تمہید اس شخصیت کے بیان کی ہے جسے غامدی سنٹر نے اس کی خدمات پر لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہمارا اشارہ ڈاکٹر شہزاد سلیم کی طرف ہے، جو بلا مبالغہ اس ایوارڈ کے مستحق ہیں۔ ہمارے نزدیک ڈاکٹر شہزاد سلیم صاحب کی شخصیت کے کچھ پہلو ایسے ہیں جو انھیں جاوید صاحب کے تمام تلامذہ میں ممتاز کرتے ہیں۔
پہلی اور سب سے اہم چیز وہی ہے جہاں سے ہم نے اس مضمون کا آغاز کیا تھا، یعنی قرآن مجید خداے بلند و عظیم کا وہ تعارف ہے جس کا درست شعور انسان کی اپنی شخصیت کو اعلیٰ و ارفع بنادیتا ہے۔ شہزاد بھائی سے تین دہائی پر محیط اپنے ذاتی تعلق کی بنیاد پر، ہم بلاخوف تردید یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ شہزاد بھائی اپنی ذات میں ایک اعلیٰ و ارفع شخصیت کے مالک ہیں۔اس بات کی تائید میں بہت کچھ پیش کیا جاسکتا ہے ،مگر جو کچھ بھی پیش کیا جائے گا، ان کا کردار اور عمل اس سے بہت آگے ہے۔ بندے اور خدا کا تعلق بہت ذاتی ہوتا ہے اور نوافل کی سطح کی اکثر دین داری لوگوں کے سامنے نہیں آ پاتی، مگر انسانوں کے ساتھ حسن سلوک، تعاون و احسان اور حسن اخلاق کے جو نمونے ان کی شخصیت میں پائے جاتے ہیں،ہمارے جیسے لوگ ایسا بننے کی بس خواہش ہی کرسکتے ہیں، اس مقام تک پہنچنا بہت مشکل ہے۔
ان کی شخصیت کا دوسرا پہلو قرآن مجید کے حوالے سے ان کی غیر معمولی خدمات ہیں۔ قرآن مجید اپنے آپ کو میزان و فرقان کے طور پر پیش کرتا ہے۔ قرآن بتاتا ہے کہ وہ ہر دوسری مذہبی چیز پر حاکم و نگہبان ہے اوراس کی حفاظت کا اہتمام عالم کے پروردگار نے خود کیا ہے۔ لیکن قرآن مجید کے مروجہ متن کے ساتھ کچھ اور قراءتوں کو بھی قرآن مانا جاتا ہے، بلکہ اب تو عرب ملکوں میں ان قراءتوں پر مشتمل مصحف کی اشاعت اور ان قراءتوں کے ٹی وی اور سوشل میڈیا پر پھیلاؤ نے ہر معقول انسان کے ذہن میں سوالات پیدا کردیے اور ہر معترض کے ہاتھ میں ایک سیف قاطع تھما دی ہے۔ فراہی،اصلاحی اور غامدی نے اس معاملے کو اپنے اپنے طور پر واضح کیا ہے، مگر ڈاکٹر شہزاد سلیم صاحب نے برس ہا برس لگاکر مسلمہ تنقیدی اصولوں کی روشنی میں یہ حقیقت واضح کی ہے کہ قرآن مجید ایک ہی ہے اور اس کا متن قطعی اور حتمی ہے۔ ساتھ میں انھوں نے مسلمانوں میں رائج دیگر قراءتوں کی حیثیت اور فروغ کی تاریخ پر تفصیل سے روشنی ڈال کر ان کی درست نوعیت کو واضح کیا ہے۔ یہ تحقیق انگریزی زبان میں ہے اوراس پہلو سے بہت مفید ہے کہ غیر اردو دان طبقے تک فکر فراہی کے ائمہ کے نقطۂ نظر کو علمی اسلوب میں پہنچانے کا کام کرتی ہے۔
ان کی شخصیت اور خدمات کا تیسرا دائرہ استاذ گرامی اور فراہی و اصلاحی کے کام کی شرح و وضاحت اور انگریزی میں اس کا ترجمہ ہے۔ شرح و وضاحت کا یہ کام وہ نظم ونثر، تحریر و تقریر اور تعلیم و تدریس کے طریقے پر کرتے ہیں۔ انگریزی کے ساتھ وہ اردو داں طبقے کو بھی اپنا مخاطب بناتے ہیں۔ ان کاموں کے لیے وہ آن لائن اورکلاس رومز سیشن، سوشل میڈیا پر گفتگو اورکتب و جرائد، ڈائیلاگ اور سوال و جواب، غرض ہرممکن طریقہ اختیار کرتے ہیں، جو حالات و تمدن نے فراہم کر دیے ہیں۔
شہزاد صاحب کی شخصیت کا ایک اور پہلو اپنے مشن سے ان کی غیر متزلزل وابستگی،اپنے کاموں میں استقامت، تمام تر علمی مصروفیات کے باوجود لوگوں سے رابطے میں رہنے کی غیر معمولی عادت، اپنے اہداف کو متعین کر کے انھیں پایۂ تکمیل تک پہنچانے کی خصلت اور متضاد نوعیت کی ذمہ داریوں کو ایک ساتھ لے کر چلنے کی مہارت وہ چیزیں ہیں جنھوں نے مل کر ایک شخص کو اپنی ذات میں ایک ادارہ بنادیا ہے۔
یہ مضمون طویل ہو رہا ہے، وگرنہ ڈاکٹر شہزاد کے اوصاف کو بیان کرنے کے لیے بہت کچھ مواد ابھی باقی ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ اکیسویں صدی کے ربع اول میں جب فکر فراہی اپنے دورِ تحقیق سے نکل کر دور ابلاغ میں داخل ہوا توجن اہل علم کو سالار قافلہ کا منصب حاصل ہوا، ان میں ڈاکٹر شہزاد سلیم صاحب سب سے زیادہ جامع صفات اور باکمال شخصیت ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انھیں صحت و زندگی کے ساتھ لمبی عمر عطا فرمائیں اور ان کے علم و کردار سے امت کو نفع پہنچتا رہے۔ آمین۔