مواد پر جائیں

دینی استقامت میں میرا ہیرو

گفتگو: معز امجد / ترتیب: شاہد محمود اردو

ـــــــ ڈاکٹر شہزاد سلیم کے لیے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ کی تقریب کے موقع پر ـــــــ

آپ میں سے اکثر لوگ شہزاد کی علمی اور فکری کامیابیوں کو بخوبی جانتے ہیں۔ میرا اور اس کا ساتھ ہماری زندگی میں جاوید صاحب کی آمد سے پہلے کا ہے۔ ہم بچپن سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں، اور وہ میرے ماموں زاد ہیں۔

شہزاد سے مجھے سب سے بڑی تحریک اُس وقت ملی، جب اس نے مذہبی زندگی اختیار کی۔ اس فیصلے کے نتیجے میں اُس کی زندگی میں ایک مکمل انقلاب اور ہمہ گیر تبدیلی آ گئی۔ یہ تبدیلی ہماری فیملی کے لیے پسندیدہ نہ تھی، کیونکہ ہم زیادہ مذہبی لوگ نہیں تھے۔ ہماری دین داری بس نماز روزے تک محدود تھی، لیکن ڈاڑھی رکھ لینا، ٹوپی پہن لینا، خاص قسم کا لباس اختیار کر لینا، میل جول بدل لینا اور اُن سماجی روایات کے خلاف جانا ،جن میں ہم پلے بڑھے تھے، یہ سب ہمارے ہاں پسند نہیں کیا جاتا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ شروع کےدنوں میں اس کو کافی مایوسی کا سامنا کرنا پڑا، یوں سمجھیے کہ اس کا یہ طرزِ عمل فیملی میں زیادہ پسند نہیں کیا گیا۔ اور یہ ناپسندیدگی خاموش نہیں تھی، بلکہ کھلم کھلا ظاہر کی جاتی تھی، اور میرے سامنے بھی تھی۔

میرے لیے اس سارے معاملے میں سب سے بڑی تحریک یہ تھی کہ شہزاد کا ردِعمل اس سب پر ـــ وہ اُس وقت بہت کم عمر تھا ـــ نہایت پُر ضبط، شعوری، سوچا سمجھا اور دانش مندانہ ہوتا تھا۔ یہ چیز میرے لیے واقعی غیر معمولی تھی۔ مجھے حیرت تھی کہ آخر مذہب انسان کو اتنی قوت کیسے دیتا ہے کہ وہ سب کچھ اتنے حوصلے اور وقار کے ساتھ برداشت کر لیتا ہے؟ میرے نزدیک یہ سب سے زیادہ متاثر کن پہلو تھا اور اسی پہلو سے شہزاد میرا ہیرو ہے۔ آج بھی میری خواہش ہے کہ میں اس مقام تک پہنچ سکوں، جس پر اُس وقت وہ تھا۔

اللہ تعالیٰ اس کی زندگی میں آسانیاں پیدا کرے اور اسے اُس مقام تک پہنچائے، جس کا وہ مستحق ہے۔ ان شاء اللہ۔ اللہ تعالیٰ اس کو اپنی ابدی جنت عطا کرے اور مجھے توفیق دے کہ میں بھی وہاں پہنچ سکوں۔