ـــــــ ڈاکٹر شہزاد سلیم کے لیے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ کی تقریب کے موقع پر ـــــــ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
شہزاد کی تعریف میں علمی حوالے سے کروں یا عملی حوالے سے کروں، بہرحال دونوں حوالے سے ان کی شخصیت بھرپور ہے ۔ انھوں نے اللہ کے حقوق کے ساتھ ساتھ ہر انسان کے حق کا بھی خیال رکھا ہے۔ میں اگر کبھی ان سے خفا بھی ہوتی ہوں تو دل میں ان کی تعریف ہی کرتی ہوں کہ بہرحال حق بات کہتے ہیں۔ سوسائٹی کے اندر ان کو پتا چلے کہ میں کہیں بھی کسی کے بھی کام آ سکتا ہوں تو دوسرے بندے کو پتا بھی نہیں چلتا۔
جب میری ان سے شادی ہوئی تو اتنا لکھنا پڑھنا کرتے تھے کہ ہمارے درمیان شاید ہی کوئی بات ہوتی ہو۔ علمی لحاظ سے ان جیسی محنت میں نے کسی کو نہیں کرتے دیکھا ؛ ماشاءاللہ، بہت زیادہ محنت کرتے تھے۔ گھنٹوں ایک ہی پوزیشن میں بیٹھ کر اپنا کام کرتے رہتے ہیں۔ اب تو میں اس کی بہت عادی ہوگئی ہوں۔ آپ کو ایک واقعہ سناتی ہوں کہ ہم لوگ اپنے بیٹے ابراہیم کو لینے جاتے تھے ایچی سن کالج (Aitchison College) سے۔ جب یہ گاڑی میں کاغذ پکڑ کر پروف ریڈنگ کرتے تھے تو ابراہیم کہتا کہ مجھے شرم آتی ہے دوستوں سے، وہ کہتے ہیں کہ تمھارے ابا تو ہر وقت پڑھتے ہی رہتے ہیں۔
میں اگر اپنے بارے میں بھی بات کروں تو میں چھوٹا موٹا جو بھی کام کرتی ہوں دین کے حوالے سے، وہ سارا کا سارا شہزاد کے تعاون کی وجہ سے ہے۔ میرا نہیں خیال کہ کسی خاتون کو اتنا ٹائم مل سکتا ہے کہ وہ اپنے گھر کے کاموں کے ساتھ ساتھ اپنے علمی کام بھی کر سکے۔ مجھے یاد ہے کہ رات کو ہماری سحری کی ٹرانسمیشن ہوتی تھی، انھوں نے مجھے کبھی نہیں روکا تھا کہ نہیں، اس ٹائم نہیں جانا، رات کو نہیں جانا؛ جب بھی مجھے کال آئی ہے تو شہزاد نے میرے ساتھ بھرپور تعاون کیا ہے۔ اس لحاظ سے میں ان کی بہت زیادہ شکر گزار ہوں کہ میں جو کچھ بھی ہوں اس وقت اپنے فادر، اپنے ٹیچر اور اپنے میاں کی وجہ سے ہوں ۔ زندگی میں انھوں نے میرے ساتھ بھرپور تعاون کیا اور اپنے کام بھی انھوں نے پوری کمٹمنٹ کے ساتھ کیے۔
اب آج کل میں ان کے اندر ایک اور چیز دیکھ رہی ہوں، غالباً ان کو یہ چیز بری لگے گی کہ اب یہ بالکل درویشی کی طرف آ رہے ہیں، اور درویشی میں بالکل معمولی کھانا کھاتے ہیں، دو چار کپڑے رکھے ہوئے ہیں؛ اتنی درویشی کی طرف آ رہے ہیں کہ مجھے لگتا ہے کہ جیسے دنیا سے بالکل بے نیاز ہو رہے ہیں ۔
میری دعا ہے، اور آپ لوگوں کی دعاؤں کے ساتھ مل کر یقیناً میری دعا میں بھی اللہ اثر پیدا کرے کہ یہ صحت و تندرستی کے ساتھ علمی میدان میں اور آگے بڑھیں اور اللہ تعالیٰ ان کو ہمیشہ اپنی خوشیوں کے ساتھ، اپنے بیٹے کے ساتھ، اپنے دوستوں کے ساتھ اور آخر میں میرے ساتھ بھی سلامت رکھے۔
- * اہلیہ ڈاکٹر شہزاد سلیم ۔