مواد پر جائیں

داستانِ حیات: ڈاکٹر شہزاد سلیم محمد حسن الیاس صاحب کی ڈاکٹر شہزاد سلیم صاحب سے ایک گفتگو (1)

ترتیب: شاہد محمود اردو

حسن الیاس: بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ غامدی سینٹر سے طالب علم حاضر خدمت ہے۔ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہمارے مدرسۂ فکر کے ایک بڑے عالم جناب ڈاکٹر شہزاد سلیم ہماری درخواست پر امریکہ تشریف لائے ہیں۔ ان کی زندگی بھر کی خدمات کے اعتراف میں ہمارے ادارے کی طرف سے ان کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیا گیا ہے۔ یہ تقریب سوشل میڈیا پر نشر ہوئی ہے اور لوگوں نے بڑے پیمانے پر اس کی پذیرائی کی ہے۔ آج کی نشست میں میری خواہش ہے کہ ڈاکٹر صاحب سے ان کی زندگی کے بارے میں کچھ بے تکلف گفتگو کی جائے، اور وہ باتیں جو بالعموم علمی مجالس میں سامنے نہیں آتیں، انھیں ان سے براہ راست سنا جائے۔آغاز کرتے ہیں۔ شہزاد بھائی ، السلام علیکم، خیرو عافیت سے ہیں؟

شہزاد سلیم :جی، وعلیکم السلام۔ الحمدللہ جی۔

حسن الیاس: بہت شکریہ شہزاد بھائی، آپ نے وقت نکالا۔ علمی و فکری موضوعات اس وقت پیش نظر لانا مقصود نہیں ہیں ۔میں چاہوں گا کہ ذرابے تکلف انداز سے آپ کی زندگی کے سفر کے بارے میں تبادلۂ خیال کیا جائے۔ سب سے پہلے یہ بتائیے کہ آپ کا خاندانی پس منظر کیا ہے، مذہبیات کی دنیا کی طرف التفات کیسے ہوا، غامدی صاحب سے پہلی ملاقات کا محرک کیا بنا اور یہ ملاقات کب ہوئی ؟

شہزاد سلیم: اصل میں میری زندگی کا ٹرننگ پوائنٹ (turning point)سن 1981ء تھا، جب میرے والد کا انتقال ہوا ۔ اس وقت میری عمرچودہ برس تھی اور میں اُس عمر کے لحاظ سے ایک کھلنڈرا، ليكن پڑهاكو لڑکا تھا۔ والد کے ساتھ بہت دوستی تھی، بہت محبت کا تعلق تھا ۔ ان کا اچانک دنیا سے چلے جانا میرے لیے بہت بڑا واقعہ تھا ۔ـــــ it was something that really changed my lifeـــــ اُس حادثے نے مجھے بالکل بدل کر رکھ دیا ۔

ہوا یوں کہ اس کے نتیجے میں زندگی سے متعلق بنیادی سوالات ذہن میں پیدا ہونے شروع ہو گئے۔ ہم کون ہیں؟ کہاں سے آئے ہیں ؟ ہمارے آنے کاکیا مقصد ہے؟ زندگی کیا ہے؟ موت کیا ہے؟ ان سوالوں نے بہت شدت کے ساتھ دل و دماغ کا احاطہ کر لیا۔انھی کے جواب تلاش کرتے ہوئے فلسفہ پڑھنا شروع کر دیا ، لیکن محسوس ہوا کہ اُن سوالوں کے جواب تو کیا ملتے، کچھ مزید سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔

چنانچہ میں نے دین کی باقاعدہ تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اُس زمانے میں انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی، اسلام آباد اپنے آغاز کے قریب تھی۔والد کے ساتھ تو ہم پنڈی اسلام آباد ہی میں رہتے تھے، مگر اُن کی وفات کے بعد ہمیں لاہور میں منتقل ہونا پڑا۔ گھر میں بہنیں چھوٹی تھیں، اس لیے اسلامک یونیورسٹی، اسلام آباد میں داخلے کا قدم نہیں اٹھایا جا سکا۔ انجینئرنگ یونیورسٹی، لاہور میں الیکٹریکل انجینئرنگ میں داخلہ لے لیا، مگر دل دینی تعلیم ہی کا خواہش مند رہا۔ یہی تمنا ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کے پاس لے گئی، مگر اُن کا ادارہ علم سے زیادہ عمل کے رخ پر تھا۔ یعنی دعوتی اور اصلاحی اہداف کو اصل کی حیثیت حاصل تھی۔ اُن کا اپنا مزاج بھی یہی تھا۔ وہاں ایک سالہ اور دو سالہ اکیڈیمک کورسز (academic courses)کا کچھ اہتمام ضرور تھا، مگر میرا احساس تھا کہ اس سے میری پیاس نہیں بجھے گی۔ میں بہت ڈیپ (deep)جانا چاہتا تھا، بہت گہرائی سے علم حاصل کرنا چاہتا تھا۔

اسی دوران میں معلوم ہوا کہ مولانا امین احسن اصلاحی ایک بڑی علمی شخصیت ہیں اور لاہور ہی میں درس دیتے ہیں۔ چنانچہ اُن کے درس میں شریک ہو گیا ۔ وہ اُس زمانے میں ثقل سماعت کا شکار تھے۔ درس کے بعد سوال و جواب کی نشست ہوتی تھی۔ سوال لکھ کر اُن کے سامنے پیش کر دیا جاتا تھا، جس کا وہ جواب دے دیتے تھے۔ میں نے بھی کوشش کی، مگرظاہر ہے کہ اس طرح مکالمہ نہیں ہو سکتا تھا۔ اتفاق سے ہمارے ادارے کے قدیم رفیق انیس مفتی صاحب وہاں موجود تھے ـــــ اب وہ دنیا میں نہیں رہے ، اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے۔ ــــــ انھوں نے کہا کہ بھئی، آپ کومولانا سے سوال کرنے میں مشکل پیش آ رہی ہے، بہتر یہ ہے کہ آپ جاوید احمد صاحب کے پاس چلے جائیں، وہ اصلاحی صاحب ہی کے شاگرد ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ وہ یہاں (فیروز پور روڈ)سے قریب ہی ماڈل ٹاؤن میں رہتے ہیں ۔

حسن الیاس: اچھا تو آپ کا پہلا تعارف اصلاحی صاحب سے پہلے ہوا۔

شہزاد سلیم: جی بالکل۔

حسن الیاس: آپ کے والد صاحب کیا کرتے تھے، پاکستان ہی میں رہتے تھے یا ہندوستان سے ہجرت کر کے آئے تھے؟

شہزاد سلیم: میرے والد صاحب چارٹڈ اکاؤنٹنٹ (chartered accountant)تھے۔وہ ادھر پنجاب ہی سے تعلق رکھتے تھے۔ والدہ ميرٹھ سے تھیں، مگر اُن کا خاندان 1945ء میں ہجرت کر کے پاکستان والے حصے میں آ گیا تھا۔ اس کاسبب یہ ہوا کہ میرے نانا ڈاکٹر قاضی سعید الدین کو 1945ء میں یہ آفر (offer)ہوئی تھی کہ وہ پنجاب یونیورسٹی میں جیوگرافی ڈیپارٹمنٹ قائم کریں۔ لہٰذا انھوں نے پنجاب یونیورسٹی میں جغرافیے کا شعبہ قائم کیا اور اُس کے پہلے سربراہ مقرر ہوئے۔

حسن الیاس : اس کا مطلب ہے کہ وہ کوئی معروف پڑھی لکھی شخصیت تھے۔

شہزاد سلیم : جی، اُنھوں نے لندن یونیورسٹی کالج سے پی ایچ ڈی کی تھی اور یہ پی ایچ ڈی مشہور جیو گرافر Dudley Stamp کے تحت کی تھی۔

حسن الیاس : اچھا ، اب سلسلے کوآگے بڑھاتے ہیں۔ یہ بتائیے کہ وہ کیا محرک تھا، جو ڈاکٹر اسرار صاحب کی طرف متوجہ ہونے کا باعث بنا؟

شہزاد سلیم : ڈاکٹر اسرار احمدصاحب کے ذکر سے پہلے میں ایک اور شخصیت کا بھی ذکر کر دوں، جنھوں نے مجھے قرآنِ مجید کی طرف متوجہ کیا۔ یہ پروفیسر محمد عظمت صاحب ہیں، ماشاء اللہ حیات ہیں ۔ اُس زمانے میں یہ گورنمنٹ کالج، لاہورکے استاد تھے۔ اصل میں ہم راولپنڈی سے لاہور میں اپنے نانا کی حویلی میں منتقل ہو گئے تھے۔ یہ حویلی جس محلے میں تھی، اُسی میں پروفیسر عظمت صاحب بھی رہتے تھے۔ ان کا قرآنِ مجید سے بہت شغف تھا۔ تلاوت بھی بہت اچھی کرتے تھے۔ محلے کی مسجد میں جمعہ کی نماز پڑھاتے تھے۔ انھوں نے بہت محبت اور شفقت سے میرے اندر قرآن پڑھنے کے شوق کی آبیاری کی۔

اب جہاں تک ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کی بات ہے ، تو یہ غالباً 85-1984ءکی بات ہے کہ میں نے باغ جناح میں مسجددارالسلام میں انھیں سننے کے لیے جانا شروع کیا۔ میں اس زمانے میں انجینئرنگ یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھا۔ محسوس ہوا کہ ان کی گفتگولوجیکل (logical) ہوتی ہے، جدید انداز میں بات کرتے ہیں، انگریزی بھی اچھی بول لیتے ہیں۔ پھرجلد ہی ماڈل ٹاؤن میں واقع ان کے ادارے ’’قرآن اکیڈمی‘‘ میں بھی باقاعدگی سے جانے لگا۔ یہ بھی پتا چلا کہ میرے ماموں اور ڈاکٹر اسرار صاحب کنگ ایڈورڈ کالج میں کلاس فیلو تھے۔بہرحال ڈاکٹراسرار صاحب کو سننے کا سلسلہ جاری رہا، مگر بات سننے سنانے سے آگے نہیں بڑھ سکی ۔ وہ چاہتے تھے کہ میں اُن کے بیعت کے نظام سے وابستہ ہو جاؤں۔ لیکن مجھے چونکہ اپنے تعلیمی پس منظر کے باعث جديديت كی ہوا لگ چکی تھی، اس لیے ذہن یہ بات قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھا کہ ہم کسی شخص کے ساتھ سمع و طاعت کی بیعت کریں۔ چنانچہ میں ان کے دروس میں بھی جاتا رہا، ان کی تدریس قرآن کی نشستوں میں بھی شریک رہا، مگر اُن کی بیعت کی طرف کبھی طبیعت آمادہ نہیں ہو سکی۔ اس دوران میں ’’ طلبہ تنظیم اسلامی‘‘ کی بنیاد ڈالی گئی ۔ انجینئرنگ یونیورسٹی میں یہ تنظیم بہت فعال ہو گئی اور طلبہ کا ایک بڑا حلقہ وجودمیں آ گیا۔ ڈاکٹر صاحب کی بھی اس سے بہت توقعات وابستہ ہو گئیں۔ انجینئرنگ یونیورسٹی میں اس تنظیم کی فعالیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب اس کے لیے لاہور کا ناظم مقرر کرنے کا موقع آیا تو انجینئرنگ یونیورسٹی ہی سے میرے ایک کلاس فیلو کو اس ذمہ داری پر فائز کیاگیا۔

اسی دوران میں میری اصلاحی صاحب اور غامدی صاحب سے ملاقات بھی ہو چکی تھی۔ غامدی صاحب سے جو سوال میں نے ابتدائی نشستوں میں کیے، اُن میں ایک اہم سوال یہی بیعتِ سمع و طاعت کا تھا۔ اسی موقع پر وہ دل چسپ واقعہ بھی ہوا کہ غامدی صاحب نے میری زبانی ڈاکٹر اسرار صاحب کا موقف سن کر کہا کہ یہ بات میری سمجھ میں نہیں آئی۔ یہ، ظاہر ہے کہ ایک تنقیدی جملہ تھا، مگر میں نے اسے اس پر محمول کیا کہ غامدی صاحب ڈاکٹر اسرار صاحب کا موقف سمجھ نہیں سکے۔ بہرحال اگلی نشستوں میں انھوں نے سمجھایا کہ ’أنا آمرکم بخمس اللّٰہ أمرنی بہن: بالجماعۃ والسمع والطاعۃ والہجرۃ والجہاد فی سبیل اللّٰہ ‘ (میں تمھیں پانچ باتوں کا حکم دیتا ہوں، مجھے ان کا حکم اللہ نے دیا ہے: التزام جماعت، سمع و طاعت، ہجرت اور جہاد فی سبیل اللہ)کی جس روایت کی بنا پر ڈاکٹر اسرار صاحب بیعت سمع و طاعت کا مطالبہ کر رہے ہیں، اس کا تعلق تو حکومت اور ریاست سے ہے۔ اس کے نتیجے میں ان کے فکر کا سارا قصرٹوٹ گیا۔ اس کا ایک نتیجہ یہ بھی نکلا کہ یونیورسٹی میں ’’طلبہ تنظیم اسلامی‘‘ کا حلقہ بکھر گیا اور نتیجتاً وہ تنظیم جس کو قائم ہوئے ابھی آٹھ نو ماہ ہی ہوئے تھے ، ختم ہو گئی۔ یہ، ظاہر ہے کہ ڈاکٹر صاحب کے کام کے لیے ایک بڑا نقصان تھا، کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ یہ تنظیم نوجوانوں میں بہت موثر ہو جائے گی۔

حسن الیاس: ٹھیک ہے، بات واضح ہو گئی ہے۔ اب بات آگے بڑھاتے ہیں۔یہ بتائیے کہ عام طور پر جب لوگوں میں مذہبی تبدیلی آتی ہے تو سب سے پہلے اس کا اثر اُن کی بودوباش، رنگ ڈھنگ ، وضع قطع اور لباس وغیرہ پر ہوتا ہے۔ آپ ایک ماڈرن فیملی بیک گراؤنڈ (modern family background)سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کے ہاں جب مذہبی تبدیلی آئی تو کیا اس نوعیت کے کوئی اثرات مرتب ہوئے؟

شہزاد سلیم: جس زمانے میں مذہبی تبدیلی آئی، اس زمانے میں ابھی چہرےپر بال نہیں آئے تھے، پھر 87-86ء میں کچھ تھوڑے بال نکلنے شروع ہو گئے تو میں نے ڈاڑھی رکھنے کا فیصلہ کیا ۔ مجھے یاد ہے کہ یہ فیصلہ اُس وقت کیا، جب ڈاکٹرا سرار صاحب نے اپنے درس میں ڈاڑھی کے موضوع پر گفتگو کی۔ میں اس سے اتنا متاثر ہوا کہ یہ طے کر لیا کہ آیندہ شیو (shave) نہیں کروں گا۔ پھر جب میں نے فیملی کو اس سے آگاہ کیا تو گھر میں ایک کہرام سا مچ گیا تھا ۔میری والدہ تو پہلے ہی بہت خلاف تھیں ۔ وہ دیکھ رہی تھیں کہ میرا ٹریک ریکارڈ (track record) چار پانچ سال سے آہستہ آہستہ سرک رہا ہے، لیکن کم سے کم حلیہ تبدیل نہیں ہوا تھا۔ اب جب یہ فیصلہ ان کے سامنے آیا تو وہ بہت فکر مند ہو گئیں۔ میرے چہرے پر بال ذرا کم تھے، اس لیے جب ڈاڑھی نمایاں ہوئی تو وہ بہت ہی بے ہنگم تھی۔

اسی طرح کا کچھ معاملہ لباس کے ساتھ ہوا۔ میں پتلون ہی پہنتا تھا، جس کے پائنچے ٹخنوں سے اوپر رکھنا دشوار ہوتا تھا۔ اس مشکل سے نجات کے لیے میں نے والدہ سے کہا کہ میرے لیے پتلون سلواتے ہوئے درزی سے کہیں کہ پائنچے اونچے رکھے۔ والدہ نے کہا کہ اس طرح تو یہ خراب ہو جائے گی اور بری لگے گی۔ پھر میں نے اس کا ایک حل خود نکال لیا اور وہ یہ کہ پائنچوں کو اوپر کی طرف فولڈ (fold) کر کے انھیں سٹیپلر (stapler) سے سٹیپل (staple) کر دیا۔ اسی طرح ایک اور ایڈیشن (addition) یہ کی کہ سر پر جناح کیپ پہننی شروع کر دی ۔ آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ والدہ اور فیملی کے کیا تاثرات ہوں گے۔ نیچے تہ در تہ فولڈ (fold) کر کے سٹیپل (staple) کی گئی پتلون ہے، سر پر جناح کیپ ہے اور چہرے پر بے ہنگم ڈاڑھی ہے۔ میں نے اس وضع قطع کو دین کا ایک بہت اہم تقاضا سمجھ کر اختیار کیا تھا۔

حسن: آپ نے فرمایا کہ ڈاڑھی کے بال کم تھے ، مجھے لگتا ہے کہ ہمارے مدرسۂ فکر کے اکثر اکابرین کو اللہ نے ڈاڑھی کے بال کم ہی دیے ہیں۔ شاید اس میں بھی کوئی حکمت مخفی ہے۔ خیر، آگے بڑھتے ہیں۔ یہ بتائیے کہ جب آج سے کم و بیش چالیس سال پہلے غامدی صاحب سے آپ کی ابتدائی ملاقات ہوئی تو وہ کیسے ہوئی، کہاں ہوئی اور غامدی صاحب کیسے تھے اس وقت؟

شہزاد سلیم: اس وقت وہ 51- ای بلاک ، ماڈل ٹاؤن میں رہتے تھے ۔

حسن صاحب: ٹائم لیا آپ نے ملنے سے پہلے؟

شہزاد سلیم: نہیں ، کوئی ٹائم نہیں لیا۔ جس وقت اصلاحی صاحب کے درس میں مجھے پتا چلا کہ وہ قریب میں ہی رہتے ہیں تو میں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ ، فوراً ملنے کا فیصلہ کر لیا۔لہٰذا میں نے گھر واپس جانے کے بجاے سیدھا ماڈل ٹاؤن جانے کا فیصلہ کر لیا۔

میں اور میرا کزن موٹر سائیکل پر بیٹھے اور کچھ دیر میں غامدی صاحب کے گھر پہنچ گئے۔ دروازے پرپہنچ کر ابھی میں گھنٹی بجانے ہی لگا تھا کہ میری نظر سڑك پر پڑی۔ سامنے ایک صاحب بڑے نپے تلے قدموں سے چلتے ہوئے نظر آئے۔ سر پر کپڑے کی جالی والی ٹوپی پہنی ہوئی تھی۔ نگاہیں نیچے کی طرف تھیں۔ میں نے سوچا شاید یہی غامدی صاحب ہوں گے۔ انھوں نے دیکھ کر دروازہ کھولا۔ بہت شفقت سے بٹھایا۔ میں نے بتایا کہ میں آپ کے استاذ کا درس سن کر آ رہا ہوں۔ بہت خوش ہوئے۔ پھر انھوں نے بہت اچھے طریقے سے میری باتوں کو سنا۔ کئی چیزیں مجھ سے پوچھیں۔ بس پھر وہ دن تھا اور آج کا دن ہے۔ یوں سمجھ لیجیے کہ جیسے شیکسپیئر نے کہا ہے:

There is a tide in the affairs of men,

Which, taken at the flood, leads on to fortune.

’’انسان کی زندگی کے مد وجزر میں کسی وقت ایک ایسی لہر اٹھتی ہے، جواپنے بہاؤ سے اُسے بہت بڑی خوش نصیبی کے دھارےپر ڈال دیتی ہے۔‘‘

میرے لیے وہ دن اللہ کی طرف سے خوش نصیبی کا ایسا ہی ایک موقع تھا۔

[باقی]