ـــــــ ڈاکٹر شہزاد سلیم کے لیے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ کی تقریب کے موقع پر ـــــــ
موجودہ دورمیں درس نظامی اورندوۃ العلماء یاسلفی مدارس کے منہاجِ درس کے پہلوبہ پہلو ایک اورتجربہ مختلف اوقات میں اورمختلف پیرایوں میں مسلمانوں نے کیا، جواگرچہ بڑے چھوٹے پیمانہ پر ہوا،مگراس کے نتائج حیرت انگیزطورپر بڑے مثبت نکلے ہیں۔ وہ یہ ہے کہ ابتدا میں عصری تعلیم دینے کے بعد ذہین طلبہ و نوجوانوں کودین کی اعلیٰ تعلیم دی جائے،عربی زبان کی بنیادی تعلیم اورقرآن وحدیث وفقہ وغیرہ کی تحقیقی تعلیم۔ اس میدان میں کہیں تو بعض اداروں اور جماعتوں نے یہ تجربہ کیا اورکہیں پر بعض طلبہ و نوجوان خوداپنے شوق سے اس تجربہ سے گزرے۔ اس تجربہ سے گزرکرجن لوگوں نے خدمت ِدین کواپنا مطمح نظربنایا، وہ روایتی فارغین مدارس کے مقابلے میں زیادہ کارگرثابت ہوئے اورعصرحاضرکے تقاضوں کے پیش نظر انھوں نے کہیں زیادہ بہتر طور پر دین کی خدمت انجام دی ہے۔ اس تجربہ سے بڑے اچھے رجال کار پیداہوئے اورمسلمانوں کے مختلف مکاتب فکرمیں اس کی بہت سی مثالیں موجودہیں۔اس میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی، ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی، ڈاکٹر عبدالحق انصاری، استاد جاوید احمد غامدی، مولانا طارق جمیل، ڈاکٹر اسرار احمد، جناب خالد مسعود مرحوم وغیرہم کی مثالیں پیش کی جاسکتیں ہیں۔ ہمارے ممدوح ڈاکٹر شہزاد سلیم بھی اسی طبقۂ جدیدہ سے تعلق رکھتے ہیں۔
’’المورد‘‘،ادارۂ علم وتحقیق کے محققین اور اساتذہ میں جن حضرات سے راقم کا ربط ضبط ہوا، ان میں ڈاکٹر شہزاد سلیم ایک خصوصیت رکھتے ہیں۔ تلاش ِ بسیارکے باوجود اور ڈاکٹر شہزاد صاحب کی منکسر المزاجی کے باعث ان کے خاندانی حالات،نشوونما اورسوانحی کوائف تو راقم کوزیادہ میسر نہیں آ سکے، بہرحال جومعلومات ملیں ان کی روشنی میں چندسطوران کے علمی کارناموں کے سلسلہ میں قارئین کے سامنے پیش کی جارہی ہیں۔
ڈاکٹر شہزاد سلیم 1966ء میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک اسلامی محقق ہیں۔ انھوں نے پاکستان کی یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اینڈانجینئرنگ، لاہور سے الیکٹریکل انجینئرنگ میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی اور یو کے کی یونیورسٹی آف ویلز سے قرآن کی تاریخ میں ڈاکٹریٹ کی ہے۔ ڈاکٹر شہزاد سلیم نے استاد جاوید احمد غامدی کی نگرانی میں مذہب کی تعلیم حاصل کی۔ وہ 1992ء سے 2008ء تک پاکستان میں اسلامی تحقیق اور تعلیم کے لیے اپنی نوعیت کے ایک منفردادارے ’’المورد‘‘ کے ایسوسی ایٹ فیلو رہے اور 2008ء سے آج تک اسی ادارے میں فیلو ہیں۔
شہزادسلیم کے تعلیمی سنگِ میل
ڈاکٹریٹ
ڈاکٹر شہزاد سلیم نے یونیورسٹی آف ویلز، یوکے سے’’قرآن کی تاریخ‘‘پر اپنی پی ایچ ڈی کی ہے۔ ان کے تحقیقی مقالے کا تعلق قرآن کی جمع و ترتیب،مختلف قراء ات، نسخی غلطیاں اور مختلف نسخہ جات کے مطالعے سے ہے۔ یہ پروجیکٹ آٹھ سال میں مکمل ہوا اور انگریزی میں ہے۔ ضرورت ہے کہ اس کا اردواورعربی ترجمہ بھی کیا جائے۔ اسی احساس کے پیش نظرحال ہی میں ہم نے ’’اشراق‘‘ عربی میں اس کے منتخب ابواب کوعربی میں ترجمہ کرکے پیش کرناشروع کیاہے۔
اہم تراجم
انھوں نے اسلام کے ماضی قریب اورحال کے دوبڑے عالموں کے اہم کاموں کا انگریزی میں ترجمہ کیا۔
ڈاکٹرشہزادسلیم ترجمہ کے مردِمیدا ن ہیں۔ چنانچہ مولانااصلاحی کی تفسیر ’’تدبر قرآن‘‘ جو فکر فراہی کی نمایندہ تفسیرہے، کی جلدچہارم،پنجم،ششم،ہفتم اورہشتم کا انگریزی میں ترجمہ وتلخیص كی ہے۔ اس کے علاوہ، استاذ جاویداحمدغامدی کی تفسیر ’’البيان‘‘ اوراسلامیات پر ان کی شاہ کارکتاب ’’میزان‘‘، نیز اسلام کامختصروجامع تعارف ’’الاسلام‘‘ سب کے انھوں نے انگریزی ترجمے کیے ہیں۔
تحقیق اور تدریس
شہزادسلیم صاحب نے ایک ماڈیولر نصابی کتابچہ بھی ترتیب دیا، جو قرآنی مطالعات کے کورس کے طور پر 1999ء–2001ء میں گریجویٹ طلبہ کو پڑھایا گیا۔اس کے علاوہ، ڈاکٹرصاحب ’’البیان‘‘ کا درس انگریزی میں دیتے ہیں، نیز مختلف تربیتی موضوعات پر باضابطہ لیکچرزدیتے ہیں۔
شہزادسلیم صاحب تفسیری میدان میں مہارت رکھتے ہیں۔یونیورسٹی آف ویلز سے قرآنی تحقیق کی چوٹی پر پہنچنا کوئی چھوٹی بات نہیں! انھوں نے جدیداصول تحقیق وتنقیدکواستعمال کرکے نہ صرف قرآن کی تاریخ کو نیا زاویہ دیا، بلکہ انگریزی میں قرآن سے متعلق عظیم اسلامی علمی ورثے کو دنیا کے سامنے پیش کیا۔
ڈاکٹرشہزادسلیم کے تربیتی اورتعمیرِشخصیت کے موضوعات اکثریہ ہوتے ہیں:
خیرات، غرور اور تکبر کی نفی،اللہ کی یاد،شہری ذمہ داری، والدین کے ساتھ مہربانی، شکریہ، معافی، اخلاقی جرأت، سچائی، دکھاوا، عاجزی، ہم دردی، گناہ آلود گفتگو سے اجتناب، ایمان داری، انصاف اوروفاداری وغیرہ۔
ڈاکٹرشہزادسلیم کی انگریزی کتابیں
ڈاکٹرشہزادسلیم نے انگریزی میں اسلامیات پر بہت لکھا ہے۔ ان کی تحریریں قرآن،حدیث کی تعلیمات،اسلام کے تعارف، سیرت ِرسول، اسلام کے بارے میں مختلف اعتراضات کا جواب، قرآن کی تدوینی تاریخ،ازدواجی زندگی سے متعلق اسلامی تعلیمات،اسلام کی سیاسی تعلیمات، طلاق اسلام میں،بین المذاہب ڈائیلاگ،خواتین کے بارے میں اعتراضات،بنیادی اخلاقیات، جہادکے بارے میں غلط فہمیاں، غیرمتوازن تصورمذہب، بچوں کی تربیت اوروالدین، نوجوانوں کے سوالات، غور و فکرکی آزادی اورناقدانہ سوچ،مسلمان عسکریت پسندکے ذہن میں کیا ہے۔ کتاب مقدس(بائیبل) کی منتخب تعلیمات جیسے عنوانات کوکوَرکرتی ہیں اوربالترتیب یوں ہیں:
1. Critical History of the Quran
2. Misconceptions about Women in Islam
3. Interfaith dialogue
4. Selected Biblical Verses
5. Question on the Quran by Serious Students
6. Misconceptions about Islam
7. Muhammad (sws): The Misunderstood Prophet of Islam Marriage and Married Life
8. Basic Morality
9. Islam and Islamic Welfare State
10. Misconceptions about Divorce in Islam
11. Misconceptions regarding Jihad of the Companions of the Prophet (sws)
12. Imbalanced Religious Attitudes
13. Intellectual Freedom and Critical Thinking
14. Parenting
15. Challenges faced by the Youth of Today
16. The Mind of a Muslim Militant
اندازگفتگو
ڈاکٹرشہزادسلیم ایک نرم روخطیب ہیں اوربہترین مدرس،وہ جوزبان بولتے ہیں اس کو اہل زبان کے لہجے میں بولتے ہیں۔ مثلاًفارسی کا لہجہ وہی ہوگاجوایرانی لوگوں کا ہوتاہے، انگریزی روانی سے بولتے ہیں اورانگریزی میں ’’میزان‘‘ کے علاوہ، ’’البیان‘‘ کے دروس دیتے، نیززندگی کے عملی مسائل اورشخصی ارتقا،بچوں کی تربیت وغیرہ جیسے ضروری موضوعا ت پر بھی ان کے لیکچرز موجود ہیں۔
آن لائن محاضرے اورکورسز
ڈاکٹرشہزادسلیم نے 2003ء میں ایک اسلامی سوالات کی سروس(آئی كيوايس) قائم کی، یہ ایک ای میل پر مبنی خدمت تھی، جس کا مقصد اسلام سے متعلق سوالات کے جواب دینا تھا۔ 2003ء تک، اس سروس نے 3000 سے زائد سوالات کے جوابات دیے تھے۔1998ء میں ڈاکٹر شہزاد سلیم نے ’’المورد‘‘ کے لیے ایک جامع فاصلاتی تعلیم کا پروگرام شروع کیا۔ یہ اس دور میں کافی مقبول ہوا جب آن لائن مذہبی تعلیم زیادہ عام نہیں تھی۔انھوں نے 2003ء میں ’’اسلام کا مطالعہ‘‘ نام كیwww.studying-islam.org ویب سائٹ بھی لانچ کی، جو کہ انگریزی اور اردو میں اسلام پر آن لائن کورسز پیش کرتی ہے۔ فی الحال، اس میں دنیا بھر سے پندرہ ہزار سے زائد رجسٹرڈ طلبہ موجود ہیں۔ اور اسلام پر انگلش اور اردو میں تقریباً 50 کورسز کے بارے میں بتاياجاتا ہے۔
انھوں نے قرآن کے علم برداروں ـــــ علامہ حمید الدین فراہی اور مولانا امین احسن اصلاحی ـــــ کی زندگی اور کاموں کے بارے میں بھی ویب سائٹس قائم کیں، جن کے نام یہ ہیں:
www.hamid -uddin-farahi.org
www.amin-ahsan-islahi.org
ايك ويب سائٹ ڈاکٹر شہزاد سلیم نے 2013ء میں مولانا امین احسن اصلاحی (1904ء-1997ء) کی تفسیر ’’تدبر قرآن‘‘ کے حوالے www.tadabbur-i-quran.org متعارف کرائی۔
اسی طرح انھوں نے 2014ء میں بائیبل کے عالم عبد الستار غوری مرحوم (1935ء-2014ء) پر بھی ایک ویب سائٹ قائم کیwww.abdus-sattar-ghauri.org۔
رینی ساں
ڈاکٹر شہزاد سلیم ماہنامہ اسلامی جریدہ ’’رینی ساں‘‘ کے بانی ایڈیٹر ہیں، جس کا آغاز 1991ء میں ہوا۔ 1999ء میں اس کی ویب سائٹ ww.monthl-renaissance.com لانچ کی گئی۔ باقاعدہ شماروں کے علاوہ، اسلام اور غیر مسلم: ایک نیا نقطۂ نظر، اسلام اور خواتین، اسلامی سیاسی رہنمائی اسلامی اقتصادی ہدایات، اسلامی سزاؤں کی تفہیم اور قرآن کی تعلیمات جیسے خاص شمارے بھی شائع کیے گئے ہیں۔ ’’رینی ساں‘‘ ان کی ادارت میں آن لائن پینتیس سالوں سے شائع ہو رہا ہے۔ اس میں چند مضامین ہوتے ہیں اور بہت آسان زبان میں اداریہ، قرآن پاک کا درس، تفسیر اور ایک یا دو علمی مقالوں پر مشتمل ہوتاہے۔اس کا معیاربہت اونچاہے اور زبان بہت معیاری، آسان اور سادہ۔
ڈاکٹرشہزادسلیم کا تخصص انگریزی زبان ہے۔اس زبان کی اپنی مہارت کوانھوں نے فکرغامدی کی روشنی میں دینِ حق کی روشنی کوعام کرنے میں لگا دیا ہے۔ خاص طور پر نوجوان نسل کی تعلیم و تربیت کے میدان میں۔ قرآن پاک کی نئے زاویے سے خدمت کے ساتھ ہی انھوں نے حدیث سے بھی شغف رکھاہے۔ اور اس سلسلہ میں نہ صرف روایتی محدثین کوپڑھاہے، بلکہ حدیث کے ان غیرروایتی علما،محققین اوراسکالرزکی تحقیقات سے بھی استفادہ کیاہے، جن سے عام علمامختلف مختلف وجوہ کی بنا پر اجتناب برتتے رہے ہیں۔ شہزاد سلیم صاحب مولاناتمناعمادی،ترمذی کے شارح مفتی عبداللطیف رحمانی اورفن حدیث کے جید اسکالر،صحیحین کے ناقد اورمفسرِ قرآن علامہ شبیر احمد ازہر میرٹھی اور ان جیسے دیگر علما کی تحقیقات سے خوشہ چینی بھی کرتے ہیں۔ان کی گفتگومدلل ہوتی اورنئی نسل کے ذہن کواپیل کرتی ہے۔
ان کی انگریزی دانی پرتوکوئی اہل زبان ہی بہترتبصرہ کرسکتاہے، بس یہ ہے کہ انگریزی پر گرفت ایسی ہے کہ اس زبان میں شاعری کرتے ہیں اورشاعری بھی بہت پاکیزہ اورتعمیری ۔ تفسیرکایااس کی تلخیص کا انگریزی میں شائع ہوجانا بہت بڑی بات ہے، کیونکہ انگریزی اس وقت عالمی رابطہ کی زبان ہے اوراس زبان میں چھپنے کا معنی یہ ہے کہ آپ کوساری دنیامیں پڑھا جاسکتا اوراستفادہ کیا جاسکتا ہے۔ کل ملاکرکہا جاسکتا ہے کہ ڈاکٹرشہزادسلیم نے اکیلے وہ کام کردیاہے جوبڑی بڑی اکیڈمیوں اوراداروں کے کرنے کا ہے۔
غامدی صاحب نے اپنی بعض کتابوں کے مقدموں میں اپنے جن احباب وتلامذہ کا خصوصی تذکرہ کر کے ان کا شکریہ اداکیاہے اور ان کے لیے کلمات ِتحسین اداکیے ہیں، ان میں شہزادسلیم صاحب بھی شامل ہیں۔ انھوں نے غامدی صاحب کی فکراورعام فکراسلامی کی جوگراں قدر خدمات انجام دی ہیں، ان پر ڈاکٹرصاحب کا حق بنتاہے کہ ان کی خدمات کی تحسین کی جائے اور ان کا اعتراف کیا جائے۔ اس ضمن میں ادارہ ’’المورد‘‘ نے ان کوجولائف ٹائم اچیومنٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے، وہ بروقت اور اچھا فیصلہ ہے۔ اور اسی کی مناسبت سے ’’اشراق‘‘ اردو امریکہ نے ایک خصوصی اشاعت ان کے نام کرکے ایک اچھی روایت کا آغاز کیاہے۔