مواد پر جائیں

حضرت ابوبکر اور حضرت عمر سے متعلق سیدنا علی کے آثار (12) (7)

ڈاکٹر عمار خان ناصر اردو

عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ: كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰہ عَلَیہِ وَسَلَّمَ، فَأَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَقَالَ: ’’هَذَانِ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ إِلَّا النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ، لَا تُخْبِرْهُمَا يَا عَلِيُّ‘‘. (مسند البزار، رقم 490)

’’حضرت جابر بن عبد اللہ روایت کرتے ہیں کہ سیدناعلی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما آتے ہوئے دکھائی دیے۔ آپ نے فرمایا: یہ دونوں، انبیا اور رسولوں کو چھوڑ کر ، جنت میں جانے والے تمام اگلے اور پچھلے پختہ عمر لوگوں کے سردار ہوں گے۔ (پھر آپ نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ) اے علی، ان دونوں کو یہ بات مت بتانا۔“

لغوی تشریح

’كُهُول‘، ’کھل‘ کی جمع ہے۔ تیس سے پچاس سال کے درمیان پختہ عمر کے مردوں کو کہا جاتا ہے۔ یہاں جوانی کی عمر گزار کر بڑھاپے تک پہنچ جانے والے تمام لوگ مراد ہیں۔

شرح ووضاحت

شارحین کے سامنے یہاں یہ سوال ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ بات سیدنا ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کو بتانے سے منع کیوں کیا؟ بعض شارحین کی راے میں آپ کا منشا یہ تھا کہ اس سے کہیں ان کے عمل میں کوتاہی نہ آ جائے یا دل میں عجب نہ پیدا ہو جائے۔ بعض دیگر شارحین کے خیال میں آپ یہ بات ان کو کسی موقع پر خود بتانا چاہ رہے تھے، اس لیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اس سے منع فرمایا (خطیب البغدادی، شرف اصحاب الحدیث 1/90۔ ملا علی القاری، مرقاۃ المفاتیح 9/3913)۔ یہ دونوں توجیہات بہ ظاہر قرین قیاس نہیں لگتیں۔ غالباً‌ مقصود یہ تھا کہ روز قیامت دونوں کو ملنے والا یہ شرف دنیا میں ان سے مخفی رہے اور کسی توقع کے بغیر اعزاز ملنے سے انسان کو جو خوشی حاصل ہوتی ہے، اس سے وہ محروم نہ رہیں۔

تخریج اور اختلاف طرق

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ مکالمہ صحابہ میں سے جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ عبد اللہ بن عمر اور انس بن مالک رضی اللہ عنہما نے بھی نقل کیا ہے (تاریخ دمشق، ابن عساکر 44/173)۔ اس کے علاوہ، متعدد تابعین نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی روایت سے اسے نقل کیا ہے، جس کی تفصیل حسب ذیل ہے:

1۔ حارث اعور کے طریق سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی یہ روایت درج ذیل مصادر میں نقل ہوئی ہے:

ترمذی، رقم 3757۔ ابن ماجہ، رقم 94۔ المعجم الاوسط، طبرانی، رقم 1359۔ فضائل الصحابۃ، ابن حنبل، رقم 87، 183، 274۔ الشریعۃ، آجری، رقم 1283۔ تاریخ دمشق، ابن عساکر 44/169۔

آجری کے طریق کے آخر میں یہ اضافہ ہے:

قال: فما ذكرت ذلك لهما حتى هلكا. (الشریعۃ، رقم 1283)

’’ سیدناعلی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے ان کو یہ بات نہیں بتائی، یہاں تک کہ دونوں کی وفات ہو گئی۔“

حارث اعور سے یہ روایت شعبی نے نقل کی ہے، اس لیے بعض طرق میں حارث کا واسطہ حذف کر کے اسے شعبی کی نسبت سے بھی بیان کیا گیا ہے (مسند ابی یعلیٰ، رقم 94) ۔

2۔ علی بن الحسین زین العابدین کے طریق سے یہ درج ذیل مصادر میں منقول ہے:

ترمذی، رقم 3756۔ فضائل الصحابۃ، ابن حنبل، رقم 231۔ الشریعۃ، آجری، رقم 1752۔ تاریخ دمشق، ابن عساکر 44/168۔

3۔ حسن بن زید بن حسن کی روایت سے یہ درج ذیل مصادر میں آیا ہے:

مسند احمد، رقم 593۔ فضائل الصحابۃ، ابن حنبل، رقم 133۔ الشریعۃ، آجری، رقم 1751۔

آجری کے طریق میں اس کا پس منظر یوں بیان ہوا ہے:

عن الحسن بن زيد بن الحسن قال: جاءه نفر من أهل العراق فقالوا: يا أبا محمد، حديث بلغنا أنك تحدثه عن علي بن أبي طالب رضي اللّٰه عنه في أبي بكر وعمر رحمهما اللّٰه، فقال: نعم… .

(الشریعۃ، رقم 1751)

’’حسن بن زید بن حسن سے روایت ہے کہ اہل عراق میں سے کچھ لو گ ان کے پاس آئے اور کہا کہ اے ابو محمد، ہمیں آپ کے متعلق اطلاع پہنچی ہے کہ آپ ابوبکر اور عمر رحمہما اللہ کے متعلق علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث نقل کرتے ہیں۔ حسن بن زید نے کہا کہ ہاں…۔“

امام احمد کے نقل کردہ طریق میں اس کے آخر میں ’وشبابها‘ کا اضافہ ہے:

يا علي، هذان سيدا كهول أهل الجنة وشبابها بعد النبيين والمرسلين.(مسند احمد، رقم 593)

’’اے علی، یہ دونوں نبیوں اور رسولوں کے بعد اہل جنت کے پختہ عمر لوگوں کے بھی سردار ہیں اور جوانوں کے بھی۔“

یہ اضافہ بہ ظاہر شاذ معلوم ہوتا ہے، کیونکہ روایت کے دیگر طرق میں یہ موجود نہیں۔ نیز یہ ان احادیث سے بھی متعارض ہے جن میں اہل جنت کے نوجوانوں کا سردار سیدنا حسن اور سیدنا حسین کو قرار دیا گیا ہے (ترمذی، رقم 3859۔ ابن ماجہ، رقم 117۔ مسند احمد، رقم 10785) ۔

4۔ زر بن حبیش کے طریق سے یہ روایت درج ذیل مصادر میں منقول ہے:

الکنیٰ والاسماء، لدولابی، رقم 1683۔ حدیث ابی الفضل الزہری، رقم 486۔ تاریخ دمشق ، ابن عساکر 30/172۔

اس کے آخر میں الفاظ یہ ہیں:

قال: فما أخبرتهما ولو كانا حيين ما حدثت بهذا.

(تاریخ دمشق 30/177)

’’سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے یہ بات ان دونوں کو نہیں بتائی اور اگر وہ دونوں اس وقت زندہ ہوتے تو میں یہ حدیث بھی بیان نہ کرتا۔“

5۔ زید بن یثیع کے طریق سے یہ اثر آجری اور طحاوی نے نقل کیا ہے (الشریعۃ، آجری، رقم 1578۔ مشکل الآثار، طحاوی، رقم 1679) ۔

آجری کے طریق میں یہ اضافہ بھی شامل ہے، جو بہ ظاہر راوی کا تصرف معلوم ہوتا ہے :

يا علي، وحسن وحسين سيدا شباب أهل الجنة.

(الشریعۃ، رقم 1578)

’’اے علی، حسن اور حسین اہل جنت کے جوانوں کے سردار ہوں گے۔“

6۔ ابو خطاب الواسطی کی روایت ابن ابی شیبہ اور ابن عساکر نے نقل کی ہے (مصنف ابن ابی شیبہ، رقم 31302۔ تاریخ دمشق، ابن عساکر 44/172)۔

7۔ ابو مطر کی ایک روایت میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے یہ نقل کیا گیا ہے کہ وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے مرض وفات میں ان کی عیادت کے لیے گئے تو انھیں آخرت میں اپنے ٹھکانے سے متعلق فکرمند پا کر انھیں اس بشارت کی اطلاع دے دی :

فقلت له: أبشر بالجنة، فإني سمعت رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ وسلم ما لا أحصيه يقول: ’’سيدا كهول أهل الجنة أبو بكر وعمر‘‘.

(تاریخ دمشق، ابن عساکر 44/168۔ المحتضرین، ابن ابی الدنیا، رقم 223)

’’ میں نے کہا: آپ کو جنت کی بشارت ہو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بارہا یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جنت کے بزرگوں کے سردار ابوبکر اور عمر ہوں گے ۔“

یہ روایت مذکورہ تمام روایات کے معارض ہونے کی وجہ سے بہ ظاہر درست معلوم نہیں ہوتی، جن میں سیدنا علی نے تصریح کی ہے کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے دونوں حضرات کی وفات تک ان کو اس کی اطلاع نہیں دی تھی۔

(8)

عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: وُضِعَ عُمَرُ عَلَى سَرِيرِهِ فَتَكَنَّفَهُ النَّاسُ يَدْعُونَ وَيُصَلُّونَ قَبْلَ أَنْ يُرْفَعَ وَأَنَا فِيهِمْ، فَلَمْ يَرُعْنِي إِلَّا رَجُلٌ آخِذٌ مَنْكِبِي، فَإِذَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، فَتَرَحَّمَ عَلَى عُمَرَ وَقَالَ: مَا خَلَّفْتَ أَحَدًا أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أَلْقَى اللّٰهَ بِمِثْلِ عَمَلِهِ مِنْكَ، وَايْمُ اللّٰهِ إِنْ كُنْتُ لَأَظُنُّ أَنْ يَجْعَلَكَ اللّٰهُ مَعَ صَاحِبَيْكَ، وَحَسِبْتُ إِنِّي كُنْتُ كَثِيرًا أَسْمَعُ النَّبِيَّ صَلّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ يَقُولُ: ذَهَبْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، وَدَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، وَخَرَجْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ.

(صحیح بخاری، رقم 3515)

’’ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ انھوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: جب سیدنا عمر کو ان کی چارپائی پر رکھا گیا تو میت اٹھائے جانے سے پہلے لوگ ان کے گرد جمع ہو کر دعا کرنے اور ان پر رحمت بھیجنے لگے اور میں بھی اُن میں شامل تھا۔ اچانک مجھے کسی نے میرے کندھے سے پکڑا، میں نے دیکھا تو وہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھے۔ انھوں نے سیدنا عمر کے لیے دعاے رحمت کی اور کہا: (اے عمر)، آپ نے اپنے بعد کوئی ایسا شخص نہیں چھوڑا جس کا اعمال نامہ لے کر مجھے اللہ سے ملاقات کرنا محبوب ہو۔ اللہ کی قسم، مجھے یہی گمان رہتا تھا کہ اللہ آپ کو آپ کے دونوں ساتھیوں (نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ) کے ساتھ ہی رکھے گا۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اکثر یہ فرماتے ہوئے سنتا تھا کہ: میں اور ابوبکر اور عمر گئے، میں اور ابوبکر اور عمر داخل ہوئے، میں اور ابوبکر اور عمر باہر نکلے۔“

شرح ووضاحت

’يَجْعَلَكَ اللّٰهُ مَعَ صَاحِبَيْكَ‘ سے مراد یہ ہے کہ آپ کو تدفین کے لیے جگہ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر کے ساتھ ہی ملے گی۔ دونوں حضرات کی قبریں سیدہ عائشہ کے حجرے میں تھیں۔ روایات کے مطابق سیدنا عمر نے ان کے ساتھ دفن ہونے کی اجازت خصوصی طور پر سیدہ عائشہ سے طلب کی تھی۔ سیدہ نے یہ جگہ اپنی قبر کے لیے رکھی ہوئی تھی، لیکن انھوں نے سیدنا عمر کو خود پر ترجیح دیتے ہوئے قبر کی جگہ ان کے لیے چھوڑ دی (بخاری، رقم 3530)۔

تخریج اور اختلاف طرق

ابن ابی ملیکہ کے طریق سے ابن عباس رضی اللہ عنہ کا یہ اثر درج ذیل مصادر میں بھی مروی ہے:

صحیح مسلم، رقم 4507۔ ابن ماجہ، رقم 97۔ مسند احمد، رقم 884۔ السنن الکبریٰ، نسائی، رقم 7850۔ المستدرک علی الصحیحین، رقم 4401۔ مسند عبد اللہ بن المبارک، رقم 255۔ فضائل الصحابۃ، ابن حنبل، رقم 307۔

روایت میں سیدنا علی کے کلمات کا پہلا ٹکڑا : ’ما خلفت احدًا أحب إلي أن ألقى اللّٰه بمثل عمله منك‘الفاظ کے کسی قدر فرق کے ساتھ مختلف دوسرے راویوں نے بھی نقل کیا ہے۔ مثلاً‌ ابو جحیفہ وہب بن عبد اللہ کی روایت میں ہے:

كنت عند عمر، وهو مسجى بثوبه قد قضى نحبه، فجاء علي فكشف الثوب عن وجهه، ثم قال: رحمة اللّٰه عليك ابا حفص، فواللّٰه ما بقي بعد رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم أحد أحب إلي أن ألقى اللّٰه تعالى بصحيفته منك.

(مسند احمد، رقم 853)

’’ جب وفات کے بعد سیدنا عمر کو کفن میں لپیٹ دیا گیا تو میں وہاں موجود تھا۔ سیدنا علی آئے اور ان کے چہرے سے کپڑا ہٹایا، پھر کہا: اے ابو حفص، آپ پر اللہ کی رحمت ہو۔ اللہ کی قسم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی شخص ایسا نہیں رہا جس کے نامۂ اعمال کے ساتھ اللہ سے ملاقات کرنا مجھے آپ سے زیادہ محبوب ہو۔“

ابو جحیفہ کا یہ اثر درج ذیل مصادر میں بھی منقول ہے:

الطبقات الکبریٰ، ابن سعد، رقم 3905۔ فضائل الصحابۃ، ابن حنبل، رقم 326۔ تاریخ المدینۃ، ابن شبۃ، رقم 1493۔

ان کے علاوہ ، یہ جملہ جابر بن عبد اللہ (المستدرک علی الصحیحین، رقم ۴۴۹۸۔ الطبقات الکبریٰ، ابن سعد، رقم 3898) اور امام محمد الباقر (مصنف ابن ابی شیبہ، رقم 31378۔ الآثار، ابی یوسف، رقم 945۔ فضائل الصحابۃ، ابن حنبل، رقم 324) کے طرق سے بھی مروی ہے، اور عبد اللہ بن ابی الہذیل نے اسے بنو اسد کے ایک شخص کے واسطے سے بھی نقل کیا ہے (مسند احمد، رقم 848)۔ ابن سعد کے ہاں یہ ٹکڑا زید بن علی ، ایوب، عمرو بن دینار اور ابوجہضم سے بھی مروی ہے (الطبقات الکبریٰ، ابن سعد، رقم 3906، 3907)۔

آجری نے یہ واقعہ کچھ مزید کلمات کے اضافے کے ساتھ ابو عبد الرحمٰن السلمی سے نقل کیا ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں:

اخبرني ابو عبد الرحمن قال: دخل علي بن ابي طالب رضي اللّٰه عنه على عمر رضي اللّٰه عنه وقد سجي بثوبه فقال: ما احد احب الي ان القى اللّٰه عز وجل بصحيفته من هذا المسجى بينكم، ثم قال: رحمك اللّٰه ابن الخطاب! ان كنت بذات اللّٰه لعليما، وان كان اللّٰه في صدرك لعظيما، وان كنت لتخشى اللّٰه في الناس ولا تخشى الناس في اللّٰه عز وجل، كنت جوادا بالحق بخيلا بالباطل، خميصا من الدنيا بطينا من الآخرة، لم تكن عيابا ولا مداحا. (الشریعۃ، رقم 1185)

’’ابو عبدالرحمٰن کہتے ہیں: جب سیدنا عمر کو کفن دیا جا چکا تھا تو علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ وہاں آئے اور کہا: یہ شخص جو کفن میں ملبوس ہے، مجھے اس سے بڑھ کر کسی شخص جیسا اعمال نامہ لے کر اللہ کے حضور پیش ہونا پسند نہیں۔ پھر کہا: اے ابن الخطاب، اللہ آپ پر رحم کرے۔ آپ اللہ کے بارے میں جاننے والے تھے، آپ کا سینہ اللہ کی عظمت سے معمور تھا، آپ لوگوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرتے تھے، مگر اللہ کے معاملے میں لوگوں سے نہیں ڈرتے تھے، آپ حق کی پیروی میں سخی اور باطل کی پیروی میں بخیل تھے، آپ دنیا سے بہت کم حصہ اور آخرت سے بھرپور حصہ پانے والے تھے، آپ نہ تو عیب جوئی کرنے والے تھے اور نہ جھوٹی تعریفیں کرنے والے۔“

[باقی]