مواد پر جائیں

صحیحین میں مروی شہد كی كہانی كا جائزه (1)

تحریر:علامہ شبیراحمدازہرمیرٹھی / پیش کش:ڈاکٹرمحمدغطریف شہبازندوی اردو

]’’نقطۂ نظر‘‘ کا یہ کالم مختلف اصحاب ِفکر کی نگارشات کے لیے مختص ہے۔ اس

میں شائع ہونے والے مضامین سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔[

روا یتِ عروہ

علی بن مسہر کوفی نے ہِشام بن عروہ سے اور ہِشام نے اپنے والد عروہ سے روایت کی ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ذکر کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شہد پسند تھا۔ یا یہ کہا تھا کہ آپ کو میٹھی چیز مرغوب تھی۔ اور عصر کی نماز سے فارغ ہو کر آپ سب بیویوں کے یہاں جایا کرتے تھے اور تھوڑی تھوڑی دیر ہر ایک کے پاس ٹھہرتے (رات کو اس حرم کے یہاں شب باش ہوتے جس کی باری ہوتی)۔ ایک دن حضرت حفصہ بنت عمر کے یہاں آپ کو معمول سے زیادہ دیر ہوگئی۔ مجھے رشک آیا تو میں نے اس کے سبب کا کھوج لگایا۔ مجھے معلوم ہوا کہ حفصہ رضی اللہ عنہا کی ایک رشتہ دار عورت نے شہد سے بھرا ہوا ایک چرمی ڈبّا حفصہ رضی اللہ عنہا کوہدیہ میں بھیجا ہے۔ حفصہ رضی اللہ عنہا نے اس شہد سے آپ کو پلایا ہے۔ میں نے (جی میں) کہا: ہم ایسی تدبیر کر کے رہیں گے کہ آیندہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حفصہ رضی اللہ عنہا کے یہاں شہد نہ پئیں ۔

پس میں نے سودہ بنت زَمعہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمھارے پاس آئیں گے تو کہنا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مَغافیر (عُرفُط نامی درخت کا گوند جو کچھ میٹھا ہوتا ہے) کھایا ہے؟ فرمائیں گے: نہیں؛ تم کہنا کہ پھر یہ بوکیسی ہے جو مجھے محسوس ہو رہی ہے؟ فرمائیں گے: مجھے حفصہ رضی اللہ عنہا نے شہدکا شربت پلایا ہے۔ کہنا تو جن مکھیوں کا وہ شہد ہے، انھوں نے درختِ عُرفُط کا رس چوسا ہے۔ اور جب میرے پاس آئیں گے تو میں بھی یہی کہوں گی اور اے صفیّہ، تم بھی یہی کہنا۔ حضرت عائشہ کا بیان ہے کہ (سودہ نے میری بات پر پوری طرح عمل کیا) سودہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسے ہی میرے یہاں دروازے پر آئے، جی میں آیا کہ بہ آواز کہہ دوں کہ مَغافیر کی بُو آرہی ہے۔ تمھارے ڈر کی وجہ سے، اے عائشہ، میرا یہ حال تھا۔ غرض یہ کہ سودہ رضی اللہ عنہا نے وہی کہا جو میں نے تلقین کر دیا تھا۔ جب میرے پاس تشریف لائے تو میں نے بھی وہی کہا۔ پھر جب صفیہ رضی اللہ عنہا کے یہاں گئے تو وہ بھی وہی بولیں۔

پھر جب(دوسرے دن) آپ حفصہ رضی اللہ عنہا کے یہاں گئے تو اُنھوں نے گزارش کی کہ یارسول اللہ، کیا اس شہد کا شربت آپ کو نہ پلاؤں جو آپ کو کل پلایا تھا؟ فرمایا: مجھے اس کی حاجت نہیں۔ (یہ معلوم ہو جانے کے بعد کہ آپ نے حفصہ رضی اللہ عنہا کے یہاں شہد پینے سے اِنکار فرما دیا ہے)، سودہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے محروم کر دیا۔ یعنی یہ ہم نے اچھا نہیں کیا۔ میں نے کہا: اب چپ بھی رہو۔

صحیح بخاری میں یہ حدیث، جس کی میں نے ترجمانی کی ہے، اس اِسناد و متن کے ساتھ ہے۔

حَدَّثَنَا فَرْوَۃُ بْنُ أَبِی المَغْرَاءِ، قَالَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْھِرٍ، عَنْ ھِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ أَبِیْہِ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلی اللّٰہ عَلَیہِ وَسَلَّمَ یُحِبُّ الْعَسَلَ وَالْحَلْوَاءَ، وَکَانَ إِذَا انْصَرَفَ مِنَ العَصْرِ دَخَلَ عَلٰی نِسَاءِہٖ، فَیَدْنُوْ مِنْ إِحْدَاھُنَّ، فَدَخَلَ عَلٰی حَفْصَۃَ بِنْتِ عُمَرَ، فَاحْتَبَسَ عِنْدَھَا أَکْثَرَ مَا کَانَ یَحْتَبِسُ، فَغِرْتُ، فَسَأَلْتُ عَنْ ذٰلِکَ، فَقِیْلَ لِی: أَھْدَتْ لَھَا امْرَأَۃٌ عُکَّۃً مِنْ عَسَلٍ، فَسَقَتِ النَّبِیَّ صَلی اللّٰہ عَلَیہِ وَسَلَّمَ مِنْہُ شَرْبَۃً، فَقُلْتُ: أَمَا وَاللّٰہِ لَنَحْتَالَنَّ لَہُ؛ فَقُلْتُ لِسَوْدَۃَ بِنْتِ زَمْعَۃَ: إِنَّہُ سَیَدْنُوْ مِنْکِ، فَإِذَا دَنَا مِنْکِ فَقُوْلِی: أَکَلْتَ مَغَافِیْرَ؟ فَإِنَّہُ سَیَقُوْلُ لَکِ: لاَ، فَقُوْلِی لَہٗ: مَا ھٰذِہِ الرِّیْحُ الَّتِی أَجِدُ مِنْکَ؟ فَإِنَّہٗ سَیَقُوْلُ لَکِ: سَقَتْنِی حَفْصَۃُ شَرْبَۃَ عَسَلٍ، فَقُوْلِی لَہٗ: جَرَسَتْ نَحْلُہُ الْعُرْفُطَ، وَسَأَقُوْلُ ذٰلِکَ، وَقُوْلِی أَنْتِ یَا صَفِیَّۃُ ذٰلِکَ. قَالَتْ: تَقُوْلُ سَوْدَۃُ: فَوَاللّٰہِ مَا ھُوَ إِلَّا أَنْ قَامَ عَلَی الْبَابِ، فَأَرَدْتُّ أَنْ أُنَادِیَہُ بِمَا أَمَرْتِنِی بِہٖ فَرَقًا مِنْکِ؛ فَلَمَّا دَنَا مِنْھَا، قَالَتْ لَہٗ سَوْدَۃُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، أَکَلْتَ مَغَافِیْرَ؟ قَالَ: لاَ. قَالَتْ: فَمَا ھٰذِہِ الرِّیْحُ الَّتِی أَجِدُ مِنْکَ؟ قَالَ: سَقَتْنِی حَفْصَۃُ شَرْبَۃَ عَسَلٍ، فَقَالَتْ: جَرَسَتْ نَحْلُہُ العُرْفُطَ؛ فَلَمَّا دَارَ إِلَیَّ قُلْتُ لَہٗ نَحْوَ ذٰلِکَ؛ فَلَمَّا دَارَ إِلٰی صَفِیَّۃَ، قَالَتْ لَہُ مِثْلَ ذٰلِکَ؛ فَلَمَّا دَارَ إِلٰی حَفْصَۃَ، قَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، أَلاَ أَسْقِیْکَ مِنْہُ؟ قَالَ: لاَ حَاجَۃَ لِی فِیْہِ. قَالَتْ: تَقُوْلُ سَوْدَۃُ: وَاللّٰہِ لَقَدْ حَرَمْنَاہُ، قُلْتُ لَھَا: اسْکُتِیْ.(بخاری، رقم 5268)

علی بن مُسہر کوفی کی طرح،یہ حدیث ہِشام بن عُروہ سے ابو اُسامہ (حماد بن اسامہ کوفی) نے بھی رِوایت کی ہے(بخاری، رقم 6972)۔ اس کی تخریج صحیح مسلم میں بھی ہے (مسلم، رقم 1474)۔

بے شک، عروہ بن زُبیر (یا اُن کے فرزند دِلبندہشام بن عُروہ) نے یہ بے اصل کہانی روایت کرنے کی غلطی کی تھی۔ اللہ عُروہ(یا ہشام) کی یہ غلطی معاف فرمائے۔ لیکن عُروہ نے یہ کہانی براہِ راست حضرت اُم المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نہیں سنی تھی۔ یقیناً عُروہ نے اُم المومنین رضی اللہ عنہا سے بہت سی حدیثیں سنی تھیں اور کافی علمی اِستفادہ کیا تھا، مگر متعدد روایات ہمیں ایسی بھی ملتی ہیں جنھیں عروہ نے براہِ راست سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نہیں سنا تھا، کسی اور شخص نے حضرت اُم المومنین کی طرف منسوب کر کے انھیں عروہ سے بیان کر دیا تھا۔ اعتماد و توثق کی بنا پر عروہ نے اِسناد میں اس شخص کا نام لیے بغیر حضرت اُم المومنین رضی اللہ عنہا کی طرف منسوب کر کے وہ روایات نقل کر دی تھیں۔ اس طرح کی روایات میں ہم نے غلطیاں ہی پائی ہیں۔ یہ کہانی بھی انھی روایات کی جنس سے ہے اور عروہ نے کچھ فکر و تامل سے کام لیا ہوتا تو ہر گزا سے بیان نہ کرتے۔ اس کہانی کے غلط اور بے اصل ہونے کے دلائل یہ ہیں:

1۔ روایت سے مفہوم یہ ہوتا ہے کہ اُم المومنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے یہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی بار وہ شہد کا شربت پیا تھا، دوسرے دن جب ان کے یہاں تشریف لے گئے اور انھوں نے شہد کا شربت پیش کرنے کی اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار فرما دیا، کیونکہ آپ اُم المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی کی ہوئی تدبیر سے متاثر اور اس شہد سے متنفر ہو چکے تھے۔

حالاں کہ کہانی کا تقاضا یہ ہے کہ دوسرے دن بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے یہاں شربتِ شہد نوش فرمایا ہو اور تیسرے دن اس سے انکار کیا ہو، کیونکہ اس کہانی کے مطابق جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے یہاں شربتِ شہد پینے کی وجہ سے معمول سے زیادہ دیر ہوئی، تب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو فکر لاحق ہوئی کہ اس کا سبب معلوم ہو۔کھوج لگانے سے پتا چلا، تب یہ تدبیر کی کہ اُم المومنین حضرت سَودہ و اُم المومنین حضرت صفیہ رضی اللہ عنہما کو مغافیر والی پٹّی پڑھائی۔ ظاہر ہے کہ یہ مَغافیر والی بات دوسرے دن ہی ہو سکتی تھی، تب تیسرے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس شہد کو پینے سے انکار فرماتے۔

کہانی میں یہ جھول اس بات کی دلیل ہے کہ یہ کوئی واقعہ نہیں ہے جو پیش آیا تھا،بلکہ محض گھڑی ہوئی غپ شپ ہے، جسے گھڑنے والے نے ازواجِ مطہرات اور خود حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر اِفترا پردازی کی تھی۔ اس حقیقت کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات میں شمار کرنا چاہیے کہ گھڑنے والوں نے خواہ کتنی ہی چابک دستی سے کوئی حدیث گھڑی ہو، اس کے مضمون میں ایسا جھول ضرور رہ جاتا ہے جو فکر و نظر سے کام لینے والوں کو بتا دیتا ہے کہ یہ جھوٹی حدیث ہے۔

2۔ اس کہانی سے لازم آتا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جو بعدِ عصر یکے بعد دیگرے جملہ اُمہات المومنین کے یہاں تشریف لے جاتے تھے تو حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کے یہاں حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے بعدجاتے۔ حضرت سودہ کے بعد حضرت عائشہ صدیقہ کے یہاں اور ان کے بعد حضرت صفیہ کے یہاں ––حالاں کہ واقعی ترتیب اس کے خلاف تھی۔ اس لیے کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سودہ سے نکاح فرمایا ہے۔ پھر حضرت عائشہ سے، پھر سنہ 2ھ میں غزوۂ بدر کے بعد حضرت حفصہ سے، پھر سنہ 4ھ میں حضرت اُمِ سلمہ سے، پھر غزوۂ احزاب و قریظہ کے بعد سنہ 5ھ میں حضرت زینب بنت جحش سے،پھرسنہ 6ھ میں غزوۂ بنی مصطلق کے بعد حضرت جویریہ بنتِ حارث سے، پھر حضرت اُم حبیبہ بنت اَبی سفیان سے، لیکن وہ حبشہ میں تھیں اور غزوۂ خیبرکے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر رہی تھیں۔ پھر غزوۂ خیبرکے بعد مُتّصِلاً حضرت صفیہ بنت حیی سے،پھر چند ماہ بعد اسی سال حضرت میمونہ بنت حارث سے–– رضی اللہ تعالیٰ عنہن۔

اسی ترتیب سے آپ کے عدل پر ور مزاج نے ان کی باریاں مقرر فرمائی تھیں اور اسی ترتیب کے مطابق روزانہ آپ خبر گیری اور احوالِ ضروریات معلوم کرنے کی خاطر تھوڑی تھوڑی دیر کے لیے یکے بعد دیگرے سب کے یہاں تشریف لے جاتے تھے۔ پس حضرت سودہ و حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما کے یہاں تو آ پ حضرت حفصہ سے پہلے تشریف لے جاتے تھے، یعنی شربتِ شہد پینے سے پہلے۔ یہ قطعاً اس کی دلیل ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ہرگز یہ مغافیر والی کہانی بیان نہیں کی تھی، یہ تو اس شخص کی تصنیف کردہ ہے جو ازواجِ مطہرات کی ترتیب مذکور سے واقف نہ تھا۔

3۔ اس روایت کے مطابق مغافیر والی بات حضرت عائشہ نے بس حضرت سودہ و حضرت صفیہ کو تلقین کی تھی۔ حضرت حفصہ کے یہاں شہد کا شربت پینے کے بعد آپ حضرت اُم سلمہ، حضرت زینب بنتِ جحش ، حضرت جویر یہ ، حضرت اُم حبیبہ اور حضرت میمونہ رضی اللہ عنہن کے یہاں بھی تشریف لے گئے۔ اُن میں سے کسی نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں کہا کہ آپ کے دَہنِ مبارک سے مغافیر کی بو آرہی ہے۔ پس اگر حضرت سودہ، حضرت عائشہ اور حضرت صفیہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بوے مغافیر کی بات کہی ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے ان کا وہم ہی قرار دیتے۔ کیا آپ یہ نہ سوچتے کہ چھ(6) بیویوں کی قوتِ شامہ میں فتور تو ہے نہیں۔ جو بُو چھ (6)کو محسوس نہ ہوئی،وہ ان تین(3) کو ہی کیسے آگئی؟ اور ایسا ہوا ہوتا تو آپ لازمی طور پر سمجھ جاتے کہ یہ مغافیر والا لطیفہ ان تینوں کا گھڑا ہوا ہے۔

4۔ اس روایت میں تصریح ہے کہ اُم المومنین حضرت سودہ رضی اللہ عنہا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ڈرتی تھیں۔ باور کرنا چاہیے کہ یہ قطعاً بے معنی بات ہے۔ حضرت سودہ حضرت عائشہ سے عمر میں بھی بڑی تھیں اور جسمانی ساخت اور قد و قامت میں بھی اور حضرت عائشہ سے پہلے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عقد میں آئی تھیں اور کئی سال تک وہی تنہا آپ کی رفیقہ رہی تھیں اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نہ لڑاکا تھیں، نہ بد خُلق و بد مزاج، پھر حضرت سودہ اُن سے کیوں ڈرتیں؟

5۔ جھوٹ بولنا حرام ہے، کسی اور کو جھوٹ بولنے پر آمادہ کرنا بھی گناہ ہے اور کسی بری غرض کے لیے خود جھوٹ بولنا اور دوسروں کو جھوٹ بولنے پر آمادہ کرنا تو گناہ ہونے میں ’کڑوا کریلا پھر نیم چڑھا‘ کا مصداق ہے۔ اسی طرح کسی کے سکھائے میں آکر جھوٹ بولنا گناہ ہی گناہ ہے۔ یہ روایت اُمہات المومنین حضرت عائشہ، سودہ اور صفیہ رضی اللہ عنہن کی پاکیزہ سیرت پر کتنے گناہوں کا داغ لگا رہی ہے، حالاں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بجا طور پر ازواجِ مطہرات کے لقب سے ملقّب ہیں۔ وہ اللہ کی پاکیزہ بندیاں اِن تمام اخلاقی عیوب ونقائص سے،جن کا عورتوں میں تصور کیا جا سکتا ہے، منزّہ و مبرّا اور پاک صاف تھیں اور تادمِ آخر پاک صاف رہیں۔

6۔ بہ فرضِ محال اگر اُم المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے رشک و رقابت کے اِشتعال کی وجہ سے غلط گوئی و دروغ بافی کا یہ گناہ سرزد ہو گیا تھا تو بعد میں انھیں اپنی اس غلطی پر بڑا نادمانہ افسوس ہوتا اور کبھی اس قصہ کو بیان نہ فرماتیں۔ اگر کسی انسان سے کوئی گناہ سرزد ہو جائے اور اللہ اس پر پردہ ڈال دے، کسی کواس کا پتا نہ چلے تو اس انسان پر لازم ہے کہ جب بھی اسے وہ گناہ یاد آئے، اللہ سے استغفار کرے اور اپنی زبان سے اس کا تذکرہ کرکے خود کو رسوانہ کرے۔ اور ناظرین دیکھ رہے ہیں کہ اس روایت میں کوئی لفظ ایسا نہیں ہے جس سے یہ مترشّح ہو کہ اُم المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو اپنی کی ہوئی بھاری غلطی پر کچھ افسوس تھا۔ یہ روایت تو بتا رہی ہے کہ اُنھوں نے مزے لے لے کر یہ قصہ بیان کیا تھا تو کیا وہ ایسی ہی نادان تھیں؟ ہرگز نہیں۔ واللہ، ہرگز نہیں۔ اُم المومنین عائشہ صدیقہ نے قطعاً یہ قصہ بیان نہیں کیا۔ آخراَن ہوئی بات وہ کیسے کہہ سکتی تھیں؟ نہ یہ واقعہ ہوا تھا،نہ انھوں نے اس کا ذکر کیا تھا۔ یہ سب ان کے کسی دشمن کی تصنیف کی ہوئی بکواس ہے جو اس نے عروہ بن زبیر(یا ہشام بن عُروہ) کو سنا دی تھی۔ اور عروہ (یا ہشام) نے عقل کو بالاے طاق رکھ کر اسے باور بھی کر لیا اور اس کی روایت بھی کر ڈالی۔

[باقی]