مواد پر جائیں

علامات قیامت اور تاریخی واقعات: بائیبل اور قرآن کی روشنی میں (5) تعبیر سے متعلق سوالات حضرت تمیم داری کا دجال سے ملنا

محمد سعد سلیم اردو

ایک حدیث 1کے مطابق حضرت تمیم داری نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک واقعہ سنایا۔ انھوں نے بتایا کہ وہ کچھ لوگوں کے ساتھ سمندر کے سفر پر نکلے اور ایک طوفان کے باعث ایک جزیرے پر جا پہنچے۔ وہاں انھوں نے ایک عجیب و غریب مخلوق ’’الجساسہ‘‘ دیکھی، جس نے انھیں ایک غار میں لے جاکر ایک آدمی سے ملوایا۔ وہ آدمی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا اور اس نے ان سے کئی سوالات کیے اور پھر اپنے بارے میں بتایا کہ وہ ’’المسیح الدجال‘‘ ہے اور اس کے نکلنے کا وقت قریب ہے۔ جب حضرت تمیم داری نے یہ واقعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے سامنے اس کی تصدیق فرمائی اور فرمایا کہ ’’یہ واقعہ میرے اس بیان کے مطابق ہے جو میں تمھیں پہلے دجال کے بارے میں بتاتا رہا ہوں۔‘‘

حضرت تمیم داری کی یہ حدیث ایک رؤیا معلوم ہوتی ہے، نہ کہ دجال کے ساتھ حقیقی جسمانی ملاقات۔ اس کی تین بنیادی وجوہات ہیں:

• حضرت تمیم داری کے ساتھ سفر کرنے والے دیگر افراد کی طرف سے اس غیر معمولی واقعہ کی کوئی علیحدہ گواہی کی روایت موجود نہیں ہے، جو اس واقعے کے رؤیا ہونے کے حق میں دلیل ہے۔

• ایک اور حدیث کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’میرے زمانے میں موجود تمام لوگ سو سال کے اندر وفات پا جائیں گے۔‘‘2 اگر دجال اس وقت واقعی جسمانی طور پر موجود ہوتا تو وہ بھی ان میں شامل ہوتا۔

• جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی رؤیا میں دجال کو دیکھا تھا،3 اسی طرح حضرت تمیم داری کا یہ واقعہ بھی ایک رؤیا تھا۔

ابن صیّاد کا دجال ہونا

کچھ احادیث4 میں ابن صیاد، جو مدینہ کے نواح میں رہنے والا ایک لڑکا تھا، کے دجال ہونے کا امکان ظاہر ہوتا ہے، لیکن ایک واضح حدیث5 میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اگر دجال میرے ہوتے نکلے تو میں تمھاری طرف سے اس کا مقابلہ کروں گا۔‘‘ یہ بات واضح کرتی ہے کہ چونکہ ابن صیاد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں موجود تھا، اس لیے وہ دجال نہیں ہو سکتا۔

مزید یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دجال مکہ اور مدینہ میں داخل نہیں ہو سکے گا۔6 اس کے برخلاف، تاریخی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ابن صیاد مدینہ سے مکہ کا سفر کر چکا تھا، جو اس بات کا مزید ثبوت ہے کہ وہ دجال نہیں تھا۔7

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابۂ کرام کا دجال کو ایک انسان سمجھنا

احادیث مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابۂ کرام دجال کو ایک انسان تصور کرتے تھے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کو رؤیا میں دیکھا،8 اور چونکہ انبیا کے رؤیا وحی کی ایک قسم ہوتے ہیں، وہ ان میں کسی ذاتی تعبیر یا قیاس کو شامل کیے بغیر، جو کچھ دیکھتے ہیں، بعینہٖ اسی طرح بیان فرماتے ہیں۔

انبیا کے خوابوں کی تعبیر یا تو اللہ تعالیٰ خود اپنے نبی کو عطا فرما دیتا ہے، یا وقت کے ساتھ ساتھ اس کی حقیقت ظاہر ہو جاتی ہے۔ اس کی ایک واضح مثال حضرت یوسف علیہ السلام کا وہ خواب ہے جو انھوں نے بچپن میں دیکھا تھا—جس میں سورج، چاند اور گیارہ ستارے انھیں سجدہ کر رہے تھے۔ برسوں بعد، جب ان کا خاندان مصر میں ان کے سامنے حاضر ہوا تو حضرت یوسف نے فرمایا: ’’اے ابا جان، یہ ہے تعبیر میرے اس خواب کی جو میں نے پہلے دیکھا تھا، میرے رب نے اسے سچ کر دکھایا۔‘‘9

اسی اصول پر، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دجال کو انسان کی صورت میں رؤیا میں دیکھا،10 تو اسے اسی طرح بیان فرمایا جیسا کہ دیکھا۔ صحابۂ کرام نے بھی اس کو ایک انسان ہی سمجھا، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رؤیا کی کوئی تعبیر پیش نہیں کی۔ یہ امر اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ دجال سے متعلق روایات کی مکمل تفہیم اور ان کی تعبیرات کا علم، ان واقعات کے ظہور کے وقت ہی ممکن ہوگا۔ اس سے قبل، ان کی حقیقی نوعیت محض قیاس یا اجتہاد ہی ہو سکتی ہے۔

یاجوج اور ماجوج

یاجوج اور ماجوج بائیبل، قرآن اور احادیث میں مذکور قومیں ہیں۔ قرآن میں یاجوج اور ماجوج کی رہائی کو قیامت کی نشانی کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔

یاجوج اور ماجوج کی تاریخ

پرانے عہد نامے میں یاجوج اور ماجوج کا ذکر

کتاب پیدایش11 میں، ماجوج کو حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے یافث کی اولاد میں سے بیان کیا گیا ہے۔ یافث کی نسل کو روایتی طور پر ’’سفید قوموں‘‘ سے منسوب کیا جاتا ہے، جو مشرق وسطیٰ کے شمالی علاقوں، جیسے اناطولیہ، بحیرۂ اسود اور بحیرۂ کیسپین کے قریب کے خطے، وسطی ایشیا اور یورپ تک پھیلے ہوئے تھے۔

حضرت حزقی ایل علیہ السلام نے، جو اللہ کے نبی تھے، بابل میں جلاوطن بنی اسرائیلی کو امید کا پیغام دیا۔ یہ پیغام 586 قبل مسیح میں پہلے یہودی معبد کی تباہی کے بعد دیا گیا تھا۔ انھوں نے پیش گوئی کی کہ اللہ اسرائیلیوں کو مستقبل میں ایک کثیر النسلی فوج پر فیصلہ کن فتح عطا کرے گا، جس کی قیادت ماجوج کی زمین سے آنے والی یاجوج نامی شخصیت کرے گی۔ 12 یاجوج ’’مسک اور توبال کا سردار شہزادہ‘‘، ایک اتحاد کی قیادت کرتا ہے جو ’’دور شمال‘‘ کے علاقوں سے آتا ہے۔13 تاریخی اور جغرافیائی روایات ان علاقوں کو اکثر بحیرۂ اسود کے قریب علاقوں سے جوڑتی ہیں۔

حضرت حزقی ایل علیہ السلام کی پیش گوئی اس وقت کے واقعات سے مطابقت رکھتی ہے، جب یونانیوں کے سلوقی بادشاہ انطیوکس چہارم نے 167 قبل مسیح میں دوسرے یہودی معبد کی بے حرمتی کی۔14 یہ واقعہ یہودیوں کی مکابی بغاوت کا سبب بنا، جس کے نتیجے میں معبد کی بحالی ہوئی۔ یہ واقعات یہودیوں کے لیے عید ہنوکا کے تہوار کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں۔ اسرائیلیوں نے سلوقی افواج سے جنگی مال اور اہم قلعے و شہر واپس حاصل کیے، جو حضرت حزقی ایل علیہ السلام کے خواب میں اسرائیل کے لیے الہٰی مداخلت اور فتح کی عکاسی کرتا ہے۔

تاریخی ریکارڈز سے پتا چلتا ہے کہ وسطی ایشیا اور بحیرۂ اسود کے علاقوں سے تعلق رکھنے والے قبائل کو ان کی عمدہ گھڑسوار فوجی صلاحیتوں کی وجہ سے مختلف سلطنتوں نے کرائے کے سپاہیوں کے طور پر بھرتی کیا۔ یونانیوں کی سلوقی سلطنت، جو اپنے علاقوں، خاص طور پر اناطولیہ اور پڑوسی شمالی علاقوں سے فوجیوں کو بھرتی کرتی تھی، اسی طریقۂ کار پر عمل کیا۔ یاجوج کی قیادت میں کثیر النسلی فوج کو سلوقی سلطنت کے تحت یہودیہ میں دیکھا جا سکتا ہے۔ یاجوج کا کردار حضرت حزقی ایل علیہ السلام کے خواب میں وسطی ایشیا اور ایران کے جنگجو گروہوں کے عروج سے مطابقت رکھتا ہے، جو تیسری صدی قبل مسیح کے وسط سے سلوقی افواج کے اتحادی یا کرائے کے سپاہی بنے۔ یہ علاقے سلوقی افواج کی عسکری بنیاد بنے اور ان کی مہمات اور علاقائی غلبے میں نمایاں کردار ادا کیا۔15

قرآن میں یاجوج اور ماجوج کا ذکر

سورۂ کہف16 میں قرآن یاجوج اور ماجوج نامی ایک فساد پھیلانے والے گروہ کا ذکر کرتا ہے ۔ ان کے خلاف ذوالقرنین ایک دیوار تعمیر کرتے ہیں تاکہ ان کے فساد کو روکا جا سکے۔ ذوالقرنین کو ایران کے ہخامنشی سلطنت کے رہنما، کوروش اعظم کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے، کیونکہ حضرت دانیال علیہ السلام کے خواب میں ہخامنشی سلطنت کو دو سینگوں والے مینڈھے کے طور پر پیش کیا گیا ہے17 —یہ دو سینگ اس سلطنت میں فارسی اور مادی قوموں کی نمایندگی کرتے ہیں۔ تاریخ میں باقی دیواروں کی طرح یہ دیوار بھی ٹوٹ چکی ہے اور غالباً قفقاز کے پہاڑی سلسلے میں تعمیر کی گئی تھی18— وہی خطہ جو وسطی ایشیا کے شمالی قبائل اور مشرقِ وسطیٰ کی مہذب دنیا کے درمیان ایک قدرتی رکاوٹ کے طور پر قائم رہا۔

ذوالقرنین کا واقعہ اسرائیلی روایات میں تفصیل سے بیان ہوا ہے، تاہم ان روایات میں ذوالقرنین کو اسکندر اعظم کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے۔19 مورخین نے اس نسبت پر اعتراض کیا ہے، کیونکہ قفقاز میں تعمیر کی گئی دیواریں جن کا ذکر اسرائیلی روایات میں ملتا ہے، درحقیقت اسکندر اعظم سے پہلے ایران کی ہخامنشی سلطنت کے دور میں تعمیر ہوئی تھیں۔

پرانے عہد نامے میں ’’ماجوج کی زمین سے یاجوج‘‘ کا تصور، نئے عہد نامے اور قرآن میں ’’یاجوج اور ماجوج‘‘ کے اجتماعی ذکر میں تبدیل ہو چکا ہے۔ وقت کے ساتھ، یاجوج کا انفرادی کردار یا لقب ماجوج کی وسیع تر آبادی کے ساتھ جڑ گیا اور یوں ’’یاجوج و ماجوج‘‘ کا اطلاق ان شمال کی قوموں پر ہونے لگا جو زمین میں فساد اور جارحیت پھیلاتی تھیں۔

تاریخی ریکارڈ میں یاجوج اور ماجوج کا ذکر

پہلی صدی عیسوی کے یہودی مؤرخ جوزیفس نے ماجوج کو سکوتی قبائل کے ساتھ منسلک کیا، جو ایک خانہ بدوش گروہ تھا اور بحیرۂ اسود کے شمالی علاقوں میں آباد تھا۔20

یاجوج اور ماجوج کا خروج– یورپی نوآبادیاتی تسلط

نیا عہد نامہ میں یاجوج اور ماجوج کا خروج

کتابِ مکاشفہ21 میں یہ ذکر ملتا ہے کہ ’’صادق‘‘ اور ’’امین‘‘ کے ایک ہزار سال بعد، یاجوج و ماجوج زمین کے چاروں کونوں سے نکل کر، شیطان کے دھوکے میں آ کر جنگ کے لیے جمع ہوتے ہیں، اور زمین پر پھیلتے ہوئے ’’مقدسوں کی لشکرگاہ‘‘ اور ’’عزیز شہر‘‘ کا محاصرہ کر لیتے ہیں۔

کتاب مکاشفہ22 میں درج ’’صادق‘‘ اور ’’امین‘‘ کے القابات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عام طور پر پہچانے جانے والے نام ہیں، جو ان کے نبوت سے بھی پہلے کے القابات تھے۔ اس لحاظ سے ’’ہزار سال‘‘ کے بعد کا دور سترھویں صدی عیسوی کے زمانے سے مطابقت رکھتا ہے — وہی دور جب یورپی اقوام (خصوصاً شمالی اور مغربی یورپ) ’’زمین کے چار کونوں‘‘، یعنی امریکہ، افریقہ، چین، ہندوستان اور انڈونیشیا تک پھیل چکی تھیں۔ شیطان کا یاجوج و ماجوج کو سترھویں صدی میں دھوکا دینا اس عملی اور فکری تبدیلی کی علامت ہے، جس کے نتیجے میں یہی یورپی اقوام نئے علاقوں کی دریافت، تجارتی راستوں اور ساحلی تجارتی چوکیوں تک محدود رہنے کے بجاے باقاعدہ سامراجی حکمرانوں میں تبدیل ہو گئیں، جب یورپی اقوام کا عہدِ دریافت اختتام پذیر ہوا اور عہدِ سلطنت کا آغاز ہوا۔ شیطان کا دھوکا ان کے درمیان لالچ، غرور اور طاقت کے حصول کی دوڑ کو ظاہر کرتا ہے۔

کتاب مکاشفہ میں ’’مقدسوں کی لشکرگاہ‘‘ مدینہ منورہ کی طرف اشارہ کرتی ہے، جب کہ ’’عزیز شہر‘‘ مکہ مکرمہ کی علامت ہے۔23 تاریخی طور پر دیکھا جائے تو پہلی جنگِ عظیم کے بعد ان دونوں مقدس شہروں کے گرد واقع خطے یورپی استعمار کے زیرِ اثر آ گئے:

• برطانوی قبضہ: اردن، عراق، خلیج کے ساحلی علاقے (یو اے ای)

• برطانوی مینڈیٹ: فلسطین

• برطانوی اثر: عدن (یمن)

• فرانسیسی کنٹرول: شمالی افریقہ، شام، لبنان

شمالی اور مغربی یورپ کا نسب

شمالی اور مغربی یورپ کا نسب یامنایا ثقافت (3300–2500 قبل مسیح) سے جڑا ہے، جو بحیرۂ خزر کے قریب میدانوں سے ابھری اور ممکنہ طور پر حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے یافث کی اولاد سے تھی۔ یہ ثقافت انڈو-یورپی زبان بولنے والے گروہوں کی بنیاد بنی، جنھوں نے یورپ، وسطی ایشیا اور اناطولیہ میں اپنے جینیاتی اور ثقافتی اثرات پھیلائے۔

ان انڈو-یورپی زبان بولنے والے گروہوں میں سے، جرمن قبائل نے خاص طور پر نقل مکانی کے دور (تقریباً 300–800 عیسوی) کے دوران میں یورپ کے ثقافتی، سیاسی اور نسلی منظرنامے کو تشکیل دینے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ تاریخی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ سکوتی قوم سے تعلق رکھنے والے کچھ حصے، جیسے آلان اور سرمتی باشندے بھی جرمن قبائل کے ساتھ شامل ہوگئے۔24 نمایاں جرمن قبائل کا درج ذیل میں ذکر کیا گیا ہے:

• سیکسن، اینگل، فرینک: ان قبائل نے برطانیہ، فرانس، اور جرمنی کی ثقافت اور سیاست پر گہرا اثر ڈالا، خاص طور پر مغربی رومی سلطنت کے زوال کے بعد۔

• اوستروگوتھ: اٹلی میں سلطنت قائم کی، لیکن بازنطینی سلطنت کے ہاتھوں گوتھک جنگوں میں شکست کھائی۔

• وزیگوتھ: روم پر 410 عیسوی میں حملہ کیا اور آئبیریا میں سلطنت قائم کی، جس نے ہسپانوی ثقافت پر دیرپا اثر ڈالا۔

• وانڈلز: بحیرۂ روم کے راستے شمالی افریقہ ہجرت کی اور قرطاج میں سلطنت قائم کی، لیکن فرانس اور آئبیریا میں بھی اثرات چھوڑے۔

• وائکنگ: اسکینڈے نیویا سے نکل کر برطانیہ، مشرقی یورپ، اور نارمنز کی تشکیل میں کردار ادا کیا۔

ان جرمن قبائل نے یورپی ثقافت، سیاست اور تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کیے، جنھوں نے جدید یورپی شناخت کی بنیاد رکھی اور برطانیہ، فرانس، اسپین، جرمنی اور اسکینڈے نیویا جیسے ممالک کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کیا۔ لہٰذا شمالی اور مغربی یورپ کے جرمن قبائل کو یاجوج و ماجوج کی اولاد سے جوڑنا معقول اور قابل قبول معلوم ہوتا ہے۔

[ باقی]

  1. ۔ Sahih Muslim 2942a: https://sunnah.com/muslim:2942a
  2. ۔ Sahih Muslim 2538a: https://sunnah.com/muslim/44/310
  3. ۔ Sahih Bukhari 5902: https://sunnah.com/bukhari:5902
  4. ۔ Sahih Muslim 2930a: https://sunnah.com/muslim:2930a
  5. ۔ Sahih Muslim 2937a: https://sunnah.com/muslim:2937a
  6. ۔ Sahih Muslim 2943a: https://sunnah.com/muslim:2943a
  7. ۔ Sahih Muslim 2927a: https://sunnah.com/muslim:2927a
  8. ۔ Sahih Bukhari 5902: https://sunnah.com/bukhari:5902
  9. ۔ Quran 12:100: https://www.quran.com/12/100
  10. ۔ Sahih Bukhari 5902: https://sunnah.com/bukhari:5902
  11. ۔ Genesis 10:2:https://www.bible.com/bible/1/GEN.15.18-20.KJV
  12. ۔ Ezekiel 38:2-3:https://www.bible.com/bible/111/EZK.38.2-3.NIV
  13. ۔ Ezekiel 39:2:https://www.bible.com/bible/111/EZK.39.2.NIVEzekiel 38:15:https://www.bible.com/bible/111/EZK.38.15.NIV
  14. ۔ ’’ معبد کی مکروہ بربادی‘‘ بائیبل کی پیش گوئی سے ماخوذ ہے، خاص طور پر کتابِ دانیال میں۔ یہ اس واقعے کی طرف اشارہ کرتا ہے جب یونانی دیوتا زیوس کے لیے قربان گاہ قائم کی گئی اور یہودی ہیکلِ مقدس میں خنزیر کی قربانی دی گئی، جس نے اس مقدس مقام کو ویران اور ناپاک بنا دیا۔
  15. ۔ Rolf Strootman, ‘The Seleukid Empire’, in: R. Mairs ed., The Graeco-Bactrian and Indo-Greek World. Routledge Worlds (London and New York: Routledge, 2021) 11–37.
  16. ۔ Quran 18:93-98: https://quran.com/18/93-98
  17. ۔ Daniel 8: https://www.bible.com/bible/111/DAN.8.NIV
  18. ۔ https://en.wikipedia.org/wiki/Darial_Gorge
  19. ۔سفر یوسیپون (Sefer Josippon)، دسویں صدی عیسوی کی عبرانی تاریخ۔
  20. ۔ https://jewishencyclopedia.com/articles/10279-magog
  21. ۔ Revelation 20:7-9:https://www.bible.com/bible/111/REV.20.7-9.NIV
  22. ۔ Revelation 19:11:https://www.bible.com/bible/111/REV.19.11.NIV
  23. ۔جاوید احمد غامدی، میزان، ’’علامات قیامت‘‘۔
  24. ۔ جارج لیپوویوچ، ’’یورپ میں الان اور سرماتی اقوام‘‘: https://www.academia.edu/17774436/Alans_and_Sarmatians_in_Europe