مواد پر جائیں

چاہو تم اتنا ہی جتنا چاہیے

حمید الدین فراہی اردو

اس جہانِ پست میں کیا چاہیے

وہ نہیں ملتا تو چاہیں اور کیا

کب اسے دیکھیں یہی دیکھا کیے

ہے بقدر ساز و ساماں بار دل

صحبتوں سے دل مکدر ہو گیا

آج سے کل دور کچھ اتنا نہیں

کون ہے جس پر کریں ہم اعتماد

زندگی بیگار میں ساری کٹی

اور نہ چاہو کچھ تو پھر کیا چاہیے

چاہنے کو اس سے بالا چاہیے

اور جو ملتا ہے تو پھر کیا چاہیے!

آگے کیا دکھلائیں، دیکھا چاہیے

راہ رو کا بوجھ ہلکا چاہیے

یاں ہمیں اک گوشہ تنہا چاہیے

بس ابھی سے فکر فردا چاہیے

بس خدا ہی پر بھروسا چاہیے

اب تو کرنا کام اپنا چاہیے