(ڈاکٹر عمار خان ناصر کے ایک تبصرے کے جواب میں)
]’’نقطۂ نظر‘‘ کا یہ کالم مختلف اصحاب ِفکر کی نگارشات کے لیے مختص ہے۔ اس
میں شائع ہونے والے مضامین سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔[
زمانۂ قبل از اسلام سے قریش کی سیاسی اور مذہبی سیادت بنو عبد مناف کے پاس تھی۔ سیاسی قیادت بنو عبد شمس کے ہاتھ میں تھی، یہ پھر عبد شمس کے بیٹے امیہ کی اولاد میں رہی، جب کہ مذہبی امور کے ذمہ دار بنو ہاشم تھے۔ یہ دونوں قبیلے، بنو عبد مناف کی مشترکہ عصبیت کے تحت ایک دوسرے کے حلیف اور اپنے مخالفین کے مقابلے میں ایک اکائی تصور کیے جاتے تھے۔ آپس میں پے در پے نکاحوں کی وجہ سے دونوں قبائل ایک دوسرے کے سسرالی، ننھیالی اور ددھیالی رشتہ دار تھے۔ ان کے سردار اکثر ایک دوسرے کے ندیم، یعنی گہرے دوست، ضامن اور محافظ ہوتے تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنو ہاشم سے تھے، ان کی ذات میں مذہبی اور سیاسی قیادت کا اجتماع ہو گیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بنو عبد مناف کی خواہش تھی کہ اقتدار پہلے کی طرح انھیں ہی حاصل رہے۔ خاص طور پر بنو ہاشم میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ پہلی بار اقتدار ان کے خاندان میں آیا تھا تو اس کا تسلسل انھی میں جاری رہے، مگر مسئلہ یہ تھا کہ بنو ہاشم کے پاس ایسا کوئی شخص نہ تھا جو خلافت کے قابل قبول امیدوار کے طور پر پیش کیا جا سکتا۔ واحد دستیاب امید وارِ خلافت حضرت علی تھے، جو اس وقت تیس برس کے نوجوان تھے اور ان کا کوئی سیاسی کیرئیر نہ تھا۔تاہم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے نسبی اور صہری تعلق کی بنا پر وہ خلافت کے امیدوار کی حیثیت سے پیش کیے جا سکتے تھے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تیار کردہ جماعت میں قیادت کے روایتی معیار میں ایک بڑی تبدیلی آ گئی تھی، جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کے مشن میں اپنی دیرینہ رفاقت، قربانیوں اور مسلمانوں کے اجتماعی معاملات کی نگرانی میں نمایاں ہونے والے افراد اس جماعت کی قیادت کے لیے فطری طور پر زیادہ اہل سمجھے گئے۔ ان میں نمایاں ترین حضرت ابو بکر تھے، جو بنو تیم سے اور حضرت عمر تھے، جو بنو عدی سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ قریش کے نسبتاً کم زور قبیلے تھے۔
بنو ہاشم اور بنو امیہ کی قیادت اور ان کے نمایاں لوگوں نے اسلام کی مخالفت کی تھی اور اسے قبول کرنے میں تاخیر سے کام لیا تھا۔ اس بنا پر مسلمانوں کی اس نئی جماعت کے لیے وہ لوگ بہ طور قائد قابل قبول نہ تھے۔ چنانچہ بنوہاشم کے سردار حضرت عباس، بنو امیہ کے سردار ابو سفیان اور ان کے حلیف، بنو اسد میں سے حضرت زبیر بن عوام، جن کی والدہ حضرت صفیہ بنت عبد المطلب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سگی پھوپھی تھیں، نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے فوراً بعد بنو ہاشم میں سے حضرت علی جیسے نوجوان کو خلیفہ بنانے کی کوشش کی، کیونکہ ان کے پاس سب سے بہتر دستیاب امیدوار وہی تھے۔ بنو امیہ کے حضرت عثمان جو عمر میں سینئر صحابہ کے قریب اور اپنی مالی خدمات کی بنا پر لوگوں میں بہت محبوب تھے، بنو عبد مناف کے لیے ایک زیادہ موزوں امیدوار خلافت ہو سکتے تھے، مگر وہ خلافت کے امیدوار ہی نہیں تھے اور نہ مسلمان انھیں حضرت ابو بکر و حضرت عمر کے مقابلے میں خلافت کے لیے منتخب کر سکتے تھے، مگر حضرت علی اپنی کم عمری اور کم سیاسی حیثیت کے باوجود امیدوار خلافت بن کر سامنے آئے۔
تیسرے خلیفہ کے انتخاب کے وقت اتفاق راے سے حضرت عثمان کا انتخاب عمل میں آیا تو قریش اور ان کے ماتحت مسلمانوں کی قیادت دوبارہ بنو عبد مناف میں آگئی۔ تاہم بنو ہاشم کو اب بھی خلافت نہ مل سکی۔ اگلے مرحلے میں جب بنو ہاشم سے حضرت علی بالآخر خلافت کی مسند پر بیٹھے تو قریش نے ان کی خلافت کو تسلیم نہیں کیا۔
قریش کے اس گریز کی وجوہات دیگر تھیں، وہ حضرت علی کی طرف سے قصاص عثمان میں تاخیر اور باغیوں کی طرف ان کے جھکاؤ کی وجہ سے ان کی بیعت سے گریزاں ہوئے، مگر یہ تاثر پیدا کیا گیا کہ قریش ابتدا ہی سے بنو ہاشم کو خلافت سے دور رکھنے میں ملوث تھے۔ اس تاثر کو تقویت ان آثار سے ملتی ہے جن میں حضرت علی اور حضرت عمر نے اس بات کا ذکر کیا ہے اور اس واقعہ کو بھی اس کے ثبوت میں پیش کیا جاتا ہے جس میں پہلے خلیفہ کے انتخاب کے دوران میں بنو عبدمناف کے اجلاس کو حضرت عمر نے مداخلت کر کے سبوتاژ کر دیا تھا، جس میں حضرت علی کو خلیفہ منتخب کرنے کی بابت مشاورت جاری تھی۔
بنو ہاشم کے خلاف قریش کے مذکورہ رویے سے متعلق حضرت علی سے منقول اثر درج ذیل ہے:
فَتَقُولُ: إِنْ وُلِّيَ عَلَيْكُمْ بَنُو هَاشِمٍ لَمْا تَخْرُجْ مِنْهُمْ أَبَدًا، وَمَا كَانَتْ فِي غَيْرِهِمْ مِنْ قُرَيْشٍ تَدَاوَلْتُمُوهَا بَيْنَكُمْ. (تاريخ الطبری4/ 233)
’’تم کہتے ہو کہ بنو ہاشم کو تم پر حکمرانی دے دی گئی تو حکومت ان سے کبھی نہ نکلے گی۔ اور اگر قریش کے کسی دوسرے قبیلے میں ہو تو وہ تمھارے درمیان گردش کرتی رہے گی۔‘‘
حضرت عمر سے مروی اثر درج ذیل ہے:
’’عبداللہ بن عباس سے مروی ہے کہ میں حضرت عمر کے ساتھ سفر میں نکلا۔ راستے میں انھوں نے پوچھا: کیا تم جانتے ہو کہ خلافت کے معاملے میں تمھاری قوم نے تمھیں (بنو ہاشم کو)کیوں الگ رکھا؟ میں نے لا علمی کا ظہار کیا تو انھوں نے کہا: مجھے معلوم ہے۔ وہ اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ تمھارے خاندان میں نبوت اور خلافت، دونوں جمع ہو جائیں۔‘‘
(انساب الاشراف،بلاذری 10/ 378)
ان آثار کی بنا پر ڈاکٹر عمار خان ناصر صاحب نے بھی یہ قرار دیا ہے کہ حضرت ابو بکر و عمر جیسی بزرگ اور بلند مرتبہ شخصیات کے ہوتے ہوئے حضرت علی کا بہ طور خلیفہ منتخب ہونا تو ممکن نہ تھا، لیکن بنو ہاشم میں اگر کوئی شخص ان بزرگ صحابہ کے پائے کا ہوتا تو بھی قریش اس کو خلیفہ منتخب کرنے سے گریز کرتے (دیکھیے: ویڈیو سیریز، تفہیم الآثار، قسط 56)۔
یہ مفروضہ کہ بنو ہاشم میں کوئی شخص حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کے پائے کا ہوتا تو بھی اسے خلافت سے دور رکھنے کی کوشش کی جاتی، یہ محض مفروضہ ہی نہیں، ایک بڑا الزام بھی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بنو ہاشم میں خلافت کے لیے موزوں امیدوار تھا ہی نہیں کہ قریش کو اسے خلافت سے دور رکھنے کے لیے کوئی سازش رچانی پڑتی۔ یہی وجہ ہے کہ خلافت کے پہلے دو انتخابات میں بنو ہاشم نفیاً یا اثباتاً کہیں زیر بحث ہی نہیں آئے۔
قریش کے بارے میں یہ تاثر قبول کر لیا جائے کہ وہ بنو ہاشم کو خلافت سے دور رکھنے کی شعوری کوشش میں ملوث تھے تو قریش کی اس وقت کی قیادت جن اکابر صحابہ کے پاس تھی، ان کی امانت و دیانت پر سوال کھڑے ہو جاتے ہیں۔ تاہم، حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ بالا پس منظر سامنے رہے تو قریش کے بارے میں اس تاثر کی نفی تو ہو ہی جاتی ہے، بلکہ آیندہ پیش کیے جانے والے حقائق سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ خلفا کی کوششوں ہی سے حضرت علی اس قابل ہوئے کہ خلیفہ کے انتخاب میں زیر غور آ سکے، ورنہ ان کے طبعی اور علمی رجحانات ان کی سیاسی قدآوری میں مانع تھے۔ وہ جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں سیاسی منظر نامے پر غیر نمایاں رہے، اسی طرح خلفا کے دور میں بھی سیاست کے میدان میں سامنے نہ آسکتے تھے۔
اس کی تفصیل درج ذیل ہے:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں حضرت علی کبھی کسی سرکاری عہدے پر فائز رہے اور نہ، ایک آدھ بار کے سوا، کوئی سرکاری ذمہ داری انھیں تفویض کی گئی۔ مدینے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غیر موجودگی میں ان کی نیابت کے لیے بھی ان کو کبھی مقرر نہیں کیا گیا تھا۔ غزوۂ تبوک کے موقع پر انھیں بنو ہاشم کی دیکھ بھال کی ذمہ داری سونپی گئی تھی، جب کہ مدینے پر محمد بن مسلمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نائب کی حیثیت سے مقرر تھے۔1
عہد رسالت کے آخری دور تک وہ خود کو ایک ناتجربہ کار نوجوان سمجھتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اس تاثر کی نفی نہیں کی تھی۔
اس حوالے سےدرج ذیل روایت پیش کی جاتی ہے:
عن علي، قال: بعثني رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم إلى اليمن قاضيًا، فقلت: يا رسول اللّٰه، ترسلني وانا حديث السن، ولا علم لي بالقضاء، فقال: ’’إن اللّٰه سيهدي قلبك، ويثبت لسانك، فإذا جلس بين يديك الخصمان فلا تقضين حتى تسمع من الآخر كما سمعت من الاول فإنه احرى ان يتبين لك القضاء‘‘، قال: فما زلت قاضيًا او ما شككت في قضاء بعد.
(ابو داؤد، رقم 3582)
’’حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کا قاضی بنا کر بھیجا تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول، آپ مجھے قاضی بنا کر بھیج رہے ہیں، جب کہ میں کم عمر ہوں اور قضا (فیصلہ کرنے) کا علم بھی مجھے نہیں ہے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمھارے دل کی رہنمائی کرے گا اور تمھاری زبان کو ثابت رکھے گا۔ جب تم فیصلہ کرنے بیٹھو اور تمھارے سامنے دونوں فریق موجود ہوں تو جب تک تم دوسرے کا بیان اسی طرح نہ سن لو، جس طرح پہلے کا سنا ہے، فیصلہ نہ کرو، کیونکہ اس سے معاملے کی حقیقت واشگاف ہو کر سامنے آ جائے گی۔ حضرت علی کہتے ہیں: میں برابر فیصلہ دیتا رہا، یا ان کے الفاظ یہ تھے: پھر مجھے اس کے بعد کسی فیصلے میں شک نہ ہوا۔‘‘
یہاں ان کے فیصلہ کی صلاحیت کا مطلب عدالتی معاملات میں فیصلہ کرنے کی صلاحیت ہے۔ امور مملکت کی سمجھ بوجھ جو تجربہ چاہتی ہے، اس کا موقع انھوں نے خلیفہ بننے سے پہلے کبھی حاصل نہیں کیا تھا۔
تلوار بازی ان کا ہنر تھا، مگر وہ کبھی کسی جنگ کے سپہ سالار بھی مقرر نہیں کیے گئے۔ خیبر میں ایک بڑے قلعے، کتیبیہ کے ایک ذیلی قلعے، قموص کو انھوں نے فتح کیا تھا۔2 خیبر کی فتح میں ان کا حصہ بس یہی تھا۔
یہ وجوہات تھیں کہ پہلے دو خلفا کے انتخاب کے وقت عام مسلمانوں کے اجتماع میں کسی نے بھی حضرت علی کا ذکر بھی نہیں کیا تھا۔
خلفا کے دور میں بھی حضرت علی نے کوئی سرکاری عہدہ لیا اور نہ کسی بیرونی مہم کا حصہ بنے۔ چہار طرف ہونے والی فتوحات میں حضرت علی نے کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ اس کے باوجود سیاسی منظر نامے میں ان کا نمایاں ہوتا قد تمام تر خلفا کے دست شفقت کا مرہون منت تھا۔
یہ بات درج ذیل حقائق سے واضح ہوگی:
حضرت ابو بکر نے حضرت علی کو مدینہ کی حفاظت میں ایک دستے کا امیر بھی مقرر کیا اور پہلی بار انھیں اجتماعی امور کی مشاورت میں شریک کیا۔
حضرت عمر کو خانوادۂ رسول سے خصوصی تعلق تھا۔ وہ ہر معاملے میں انھیں ترجیح دیتے تھے۔ انھوں نے وظائف میں حضرت علی اور ان کے بیٹوں کا حصہ بزرگ صحابہ کے برابر رکھا (کتاب الخراج 43-44)۔
بنو نضیر اور فدک کے مال فے کی آمدنی میں سے ذو القربیٰ کا حصہ بھی حسب دستور انھیں ملتا تھا۔ اس مال کی تقسیم کی ذمہ داری حضرت علی کے سپرد تھی (کتاب الخراج 30)۔ حضرت عمر نے حضرت علی کو ینبع اور دیگر جاگیریں دے کر مالی لحاظ سے مزید مضبوط کیا (الخراج، یحیی ٰ بن آدم، 73)۔
حضرت عثمان کے عہد میں مال و دولت کی بہتات ہوئی تو حضرت علی کو دوسروں کی نسبت عطایا میں سے زیادہ حصہ دیا جاتا تھا (الطبقات الكبرىٰ 5/ 46-47)۔
اس مال و دولت سے حضرت علی نے لوگوں پر خرچ کیا تو ان میں حضرت علی کی مقبولیت اور حمایت میں اضافہ ہوا۔
حضرت عمر نے سیاسی امور کی مشاورت میں حضرت علی کو بہ طور خاص شریک رکھا۔ وہ جب بھی مدینہ سے باہر جاتے تو حضرت علی کو اپنا نائب مقرر کرتے۔ یوں انھوں نے حضرت علی کی سیاسی تربیت کرنے اور لوگوں میں ان کا سیاسی قد بلند کرنے میں سب سے اہم کردار ادا کیا۔ چنانچہ خلیفۂ سوم کے انتخاب کے لیے مقررہ کمیٹی میں آپ بھی بہ طور امیدوارِ خلافت شامل کر لیے گئے۔
حضرت عمر نے اس خواہش کا اظہار بھی کیا کہ ان کے بعد خلافت حضرت علی کو منتقل ہو،3 مگر انھیں خدشہ تھا کہ ایسا نہ ہوگا۔ اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ قریش حضرت علی کو خلیفہ منتخب نہ کرنا چاہتے تھے، بلکہ یہ تھی کہ دیگر بزرگ صحابہ، جن کی دینی، اجتماعی اور سیاسی خدمات زیادہ نمایاں تھیں، ان کے ہوتے ہوئے حضرت علی کا انتخاب اب بھی مشکل تھا۔ یہ نمایاں اصحاب مجلس انتخاب کا حصہ تھے۔ تاہم، ان میں سے تین حضرات اپنے حق خلافت سے دست بردار ہو گئے تو باقی حضرت عثمان اور حضرت علی رہ گئے۔ چنانچہ حضرت عثمان منتخب ہوئے جو عمر اور خدمات میں زیادہ نمایاں تھے۔ ان دست بردار ہونے والے صحابہ میں سے بھی دو حضرات، حضرت طلحہ (بنو تیم) اور حضرت زبیر (بنو اسد) حضرت علی کے حق میں دست بردار ہوئے، یعنی انھوں نے اپنا ووٹ حضرت علی کو دیا۔ حضرت عمر پہلے ہی حضرت علی کے حق میں تھے۔ یوں قریش کے سرداروں میں ایک بڑی تعداد حضرت علی کے حق میں تھی۔
خلاصہ یہ ہے کہ بنو ہاشم کے پاس خلافت کے لیے کوئی موزوں امیدوار نہیں تھا۔ اس کے باوجود پہلے خلیفہ کے انتخاب کے وقت قریش کے سب سے طاقت ور قبیلے، بنو امیہ اور ان کے حلیف، بنواسد نے بنو ہاشم کے ایک فرد حضرت علی کو خلیفہ منتخب کرنا چاہا۔ پھر خلفا کے دور میں کسی سرکاری عہدے اور سرکاری خدمات کے بغیر حضرت علی کے سیاسی قد کو مسلسل پروان چڑھایا گیا یہاں تک کہ خلیفۂ سوم کے انتخاب کے وقت حضرت عمر، حضرت زبیر اور حضرت طلحہ جیسے سردارانِ قریش حضرت علی کی حمایت میں تھے۔
بنو ہاشم کے خلاف قریش پر لگائے گئے مذکورہ الزام کے ثبوت میں خود قریش کا کوئی اعترافی بیان موجود نہیں ۔خلفا کے انتخاب کے کسی موقع پر ہونے والے بحث و مباحثے میں اس بات کا ذکر نہیں آیا کہ بنو ہاشم کو خلافت سے باہر رکھا جائے۔ ایسا کرنے کی انھیں ضرورت نہیں تھی، کیونکہ بنو ہاشم کے پاس میرٹ پر کوئی امیدوار نہیں تھا، بلکہ بنو امیہ سے بھی میرٹ پر کوئی موجود نہ تھا۔ حضرت عثمان اپنی تمام تر وجاہت کے باوجود اس مقابلے سےباہر تھے تو بنو ہاشم میں سے کسے زیر غور لائے جانے کا امکان پیدا ہو سکتا تھا کہ اسے خلافت سے باہر رکھنے کے لیے کوئی اہتمام کرنا پڑتا یا کوئی سازش رچانی پڑتی۔
قریش سے متعلق اس تاثر کے بارے میں حضرت عمر کا تبصرہ ان کی ذاتی راے ہے، جو خانوادۂ رسول کے ساتھ ان کےخصوصی تعلق کی وجہ سے ان کے شدت احساس پر محمول کی جا سکتی ہے۔ تاہم، قریش سے متعلق مذکورہ الزام اگر کسی پر لگ سکتا ہے تو وہ خود حضرت عمر ہیں، جنھوں نے پہلے خلیفہ کے انتخاب کے وقت بنو عبد مناف کے اجلاس کو حضرت علی کے انتخاب سے روک دیا تھا۔ مگر حضرت عمر خود کو اس الزام کا مصداق نہیں سمجھتے تھے، اور یہ بجا تھا، کیونکہ انھوں نے نہ صرف بنو عبد مناف، بلکہ انصار کو بھی پوری جماعت صحابہ کے اجتماعی مشورے کے بغیر اپنے طور پر خلیفہ منتخب کرنےسے روکا تھا۔ ان کا مقصد اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ مسلمانوں کی نوزائیدہ کمیونٹی پہلے ہی مرحلے پر سیاسی خلفشار کا شکار نہ ہو جائے۔
بنو ہاشم کو خلافت سے باہر رکھنے کا الزام بنو امیہ پر ڈالا جا سکتا تھا، جن کے ساتھ بعد میں بنو علی کے جھگڑے ہوئے، مگر وہ بنو عبد مناف کی عصبیت کے تحت حضرت علی کو پہلے مرحلے پر ہی خلیفہ بنانے کی کوشش میں شامل تھے۔
قریش میں ایسا کوئی خیال پایا بھی جاتا ہو کہ خلافت بنو ہاشم میں چلی گئی تو اس پر ان کی اجارہ داری قائم ہو جائے گی، اس لیے انھیں خلافت میں شامل نہ ہونے دیا تو ان کے عمائدین کا طرز عمل اس کے برعکس تھا۔ ان کی مسلسل کاوشوں اور حمایت کی بدولت ہی حضرت علی، بغیر نمایاں سیاسی خدمات کے، خلافت کے امیدوار بننے کے لائق ہوئے۔
قریش کے بارے میں یہ بد گمانی کہ وہ بنو ہاشم کو خلافت سے باہر رکھنا چاہتے تھے، تب متحقق ہوتی جب بنو ہاشم میں حضرت ابو بکر و حضرت عمر کے پائے کا کوئی شخص ہوتا اور اسے نظر انداز کر دیا جاتا۔
اگر حضرت ابو بکر و حضرت عمر جیسے حضرات، جو قریش کے کم زور قبیلوں سے تعلق رکھتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنی غیر معمولی دینی اور سیاسی خدمات کی بدولت مسلمانوں کے خلیفہ منتخب ہوگئے تھے تو بنو ہاشم میں کوئی اس پائے کی شخصیت ہوتی تو کیسے ممکن تھا کہ اسے نظر انداز کر دیا جاتا، جب کہ بنو عبد مناف کی طاقت ور سیاسی عصبیت بھی اسے حاصل ہوتی اور بنو عبد مناف کی قیادت کی روایت بھی اس کے حق میں کھڑی ہوتی۔
- ۔ البدایۃ والنہایۃ11/ 162 ۔
- ۔ سیرت حلبیہ 3/ 48، تحت حصون کتیبیہ، سیرت سیدنا علی مرتضی، مولانا محمد نافع، دار الکتاب جنوری 2007، اردو بازار، لاہور، ص 78۔
- چنانچہ ایک موقع پر حضرت عمر نے اپنی خواہش کا اظہار یوں کیا:فلمّا خرجوا من عند عمر قال عمر: لو وَلّوْها الأجْلَحَ سَلَكَ بهم الطريق، فقال له ابن عمر: فما يمنعك يا أمير المؤمنين؟ قال: أكْرَهُ أنْ أتَحَمّلَهَا حيًّا ومَيّتًا. (الطبقات الكبریٰ 3/ 317)’’جب لوگ سیدنا عمر کے پس سے نکلے تو انھوں نے کہا: اگر یہ اس بے بالوں کے سر والے کو یہ ذمہ داری دے دیں تو وہ انھیں سیدھے راستے پر قائم رکھے گا۔ اس پر ابن عمر نے کہا کہ اے امیر المومنین، آپ کے لیے (علی کو خلیفہ مقرر کرنے میں) کیا مانع ہے؟ حضرت عمر نے کہا کہ مجھے یہ پسند نہیں کہ میں زندگی میں بھی اس ذمہ داری کو اٹھائے رکھوں اور مرنے کےبعد بھی۔ یعنی ان کو مقرر کرنے سے ان کے اعمال کا مواخذہ بھی حضرت عمر سے لیا جائےگا۔‘‘