(سوانح مولانا امین احسن اصلاحی)
(26)
]صاحب ’’تدبر قرآن‘‘ کی وصیت کے مطابق
ان کے سوانح نگار نعیم احمد بلوچ کے قلم سے [
جماعت اسلامی سے علیحدگی کے واقعے کو سمیٹتے ہوئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مولانا اصلاحی کا وہ خط بھی یہاں درج کر دیا جائے جو انھوں نے مولانا مودودی کو لکھا تھا :
’’مجھے جما عت کی مو جو دہ پا لیسی، اس کے موجودہ نظام اور اس کے مو جو دہ دستور سے اتفاق نہیں ہے اور بدقسمتی سے آپ پر بھی آپ کے بعض اقداما ت کے سبب سے مجھے اعتما د با قی نہیں رہا ہے۔ جما عت کے کچھ مخلصین جو اصلا ح ِاحوال کی کو شش کر رہے تھے اب وہ بھی اپنی کوششوں میں نا کا م ہو کر مجھے اپنی ما یو سی کی اطلاع دے چکے ہیں۔اس وجہ سے نہا یت افسو س کے سا تھ اب میں جما عت کی رکنیت سے استعفادیتا ہو ں۔
اس مو قع پر میں یہ ظا ہر کر نے میں اطمینان اور خوشی محسوس کرتا ہوں کہ مجھے اس جماعت سے جو محبت رہی ہے ان شا ء اللہ بہ حیثیت ِمجموعی وہ اب بھی قا ئم رہے گی۔اس جما عت کے اندر میرے بہترین احبا ب ہیں جن کے دینی جذبا ت وا حسا سا ت کی میرے دل میں بڑی قدرو عزت ہے۔
آپ سے مجھے کو ئی ذا تی رنجش یا شکا یت نہیں ہے اور اگر ہے تو میں اس کو صدقِ دل سے معاف کر تا ہوں۔ چو دہ پندرہ سا ل کے تعلق کے دوران میں آپ کو مجھ سے بہت سی تکلیفیں پہنچی ہو ں گی میں ان سب کے لیے نہایت ادب سے معا فی ما نگتا ہوں اور اپنے لیے دعا کی درخواست کرتا ہوں۔ مر کز یا جما عت کے کسی اور رفیق کے لیے میر ی کو ئی با ت وجہ شکا یت بنی ہو تو میں آپ کے واسطے سے ان سے بھی معا فی کی درخواست کر تا ہوں۔‘‘ (سہ ماہی تدبر، جولائی 1998ء)
نئی مصروفیات
حج کے سفر پر جانے سے پہلے ہی جنوری 1958ء میں محترم خالد مسعود اپنے ایک دوست محبوب سبحانی صاحب کے ساتھ مولانا امین احسن اصلاحی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور درخواست کی کہ اپنے اوقات میں سے کچھ فارغ وقت ان کے لیے نکالیں۔ وہ ان سے ان کے خاص طریقۂ کار سے قرآن مجید پڑھنا چاہتے ہیں۔
جناب خالد مسعود اس وقت ایک نوجوان سائنس گریجویٹ تھے اور خاندانی پس منظر کی وجہ سے دین سے گہرا شغف رکھتے تھے۔ مولانا اصلاحی کے فہمِ قرآن سے بہ طور خاص متاثر تھے۔ وہ میرے سسر تھے۔چنانچہ اس موضوع پر ان سے کئی دفعہ گفتگو ہوئی۔ ایک دفعہ میرے استفسار پر انھوں نے فرمایا کہ ان کے ذہن میں قرآن کے حوالے سے یہ سوال رہتا کہ عام سے عام کتاب بھی ایک مربوط اسلوب ِبیان رکھتی ہے، لیکن قرآن مجید میں بہت سارے مقامات ایسے ہیں کہ وہ اقوال کا منتشر مجموعہ لگتا ہے۔ اس کے کلام میں کوئی ربط ضبط نہیں۔ عام طور پر جو ربط بیان کیا جاتا تھا، اس پر ان کا ذہن مطمئن نہیں ہو تا تھا۔ البتہ مولانا اصلاحی کے دروس سننے اور ان کے تفسیری مضامین پڑھنے کے بعد انھیں یہ خوش گوار احساس ہو اکہ قرآن مجید تو ایک مربوط اور منضبط کلام ہے۔ اس وجہ سے وہ مولانا اصلاحی سے بہت زیادہ متاثر تھے۔
محبوب سبحانی صاحب ایک صحافی اور ہومیو پیتھک معالج تھے۔ اُس وقت وہ روزنامہ ’’مشرق‘‘ سے وابستہ تھے۔ جماعت اسلامی سے تعلق کی وجہ سے دینی مزاج بھی رکھتے تھے۔ جناب خالد مسعود صاحب بتاتے تھے کہ کیسے پہلے دن وہ سبحانی صاحب کے دفتر پہنچے اور دونوں مل کر مولانا اصلاحی کے پاس یہ درخواست لے کر گئے۔
مولانا دروس میں ان کی شرکت کی وجہ سے ان سے شناسائی رکھتے تھے۔ پھر ان کا شوق دیکھ کر انکار نہ کرسکے۔مولانا نے ان دونوں حضرات کو نماز عصر کے بعد کا وقت دیا۔ دونوں حضرات روزانہ قرآن مجید لے کر آتےاور نماز ِ مغرب تک موجود رہتے۔ اس دوران میں ادھر ادھر کی باتیں ہوتی رہتیں، مگر قرآن پڑھنے کی نوبت نہ آ تی۔ اسی دوران میں مولانا حج پر تشریف لے گئے اور واپسی پر یہ دونوں حضرات ایک بار پھر ان کی چوکھٹ پر آن موجود ہوئے۔ کم و بیش تین ماہ تک یہی صورت حال رہی۔یہ درحقیقت ان دونوں حضرات کی آزمایش تھی۔ان کی استقامت اور لگن دیکھ کر آخر ایک دن مولانا فر مانے لگے :
’’تم لوگ بڑے سخت جان ہو۔میراخیال تھا کہ بس ایسے ہی شوق میں پڑھنے کی وقتی خواہش ہے، چند روز میں یہ جوش ختم ہو جائے گا۔میراپہلا تجربہ لوگوں کے ساتھ یہی تھا،لیکن اب میں محسوس کرتا ہوں کہ آپ پڑھنے میں سنجیدہ ہیں، چلیں کام شروع کرتے ہیں۔‘‘
جناب خالد مسعود نے بتایا کہ یوں باقا عدہ تدریس شروع ہوئی۔تعلقات آگے بڑھے۔ ان دو حضرات کے ساتھ ان کے کچھ اور دوست بھی شامل ہو گئے۔ ان میں کچھ طالب علموں کے نام یہ ہیں :
جناب خالد مسعو د، جناب محبوب سبحانی، جناب سعید احمد، جناب سلیم کیانی، جناب محمود لودھی، جناب محمد داؤد، جناب محمد اسحاق، جناب عبداللہ غلام احمد، جناب ماجد خاور۔ یہ تدریس کا ابتدائی دور تھا۔
ماہنامہ ’’میثاق‘‘ کا اجرا
مولانا اصلاحی اس دوران میں ’’ المنبر‘‘ فیصل آباد اور بعض دیگر رسائل و جرائد میں لکھتے رہے اور ان کی زیر ِتصنیف تفسیر ’’تدبر قرآن‘‘ کے حصے شائع ہوتے رہے۔ وہ اس کی ضرورت محسوس کرتے تھے کہ ان کی نگارشات کے لیے کوئی باقاعدہ جریدہ ہونا چاہیے، لیکن ان کے پاس افراد ِکار کی کمی تھی۔ ان نوجوانوں کی آمد کے بعد ان کا حوصلہ بڑھا۔ خاص طور پر انھیں ان شاگردوں میں سے جناب خالد مسعود کی صلاحیتوں پر بہ طور خاص اطمینان تھا۔ چنانچہ انھوں نے اپنے پرچے کے اجرا کا فیصلہ کیا۔ اس کے نتیجے میں ماہنامہ ’’میثاق‘‘ کا پہلا شمارہ جون 1959ء میں منظرِ عام پر آیا۔
اس کے ابتدائی شمارے میں شامل مضمون ’’تذکیر و تذکرہ و تبصرہ‘‘ میں مولانا اصلاحی نے رسالے کی وجۂ تسمیہ اور مقاصد کی وضاحت کی۔ وہ لکھتے ہیں:
’’رسالے کا نام میثاق محض اتفاقاً نہیں رکھا گیا، بلکہ سوچ سمجھ کر منتخب کیا گیا ہے۔ یہ نام بڑی حد تک اس مقصد کی ترجمانی کرتا ہے جس کے پیشِ نظر یہ رسالہ جاری کیا جا رہا ہے۔‘‘
(ماہنامہ میثاق، جون 1959ء)
مولانا اصلاحی نے لفظ ’میثاق‘ کے لغوی اور معنوی پہلوؤں پر قرآن و حدیث کی روشنی میں بحث کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس سے مراد وہ عہد و پیمان ہے جو خدا اور اس کے بندوں کے درمیان طے پایا۔ مولانا لکھتے ہیں:
’’یہ رسالہ اسی میثاق کی تذکیر اور یاددہانی کے لیے جاری کیا گیا ہے، اور اسی نسبت سے اس کا نام میثاق رکھا گیا ہے۔‘‘
آگے چل کر وہ فرماتے ہیں:
’’ان شاء اللہ ہر باب میں اس کا اندازِ بحث علمی اور تحقیقی ہوگا۔ اس میں نقل کے ساتھ ساتھ عقل کو بھی وہی اہمیت دی جائے گی جس کی وہ مستحق ہے، تاکہ وہ لوگ بھی ان مباحث سے پورا فائدہ اٹھا سکیں جو جدید نظریات کے فریب میں مبتلا ہیں۔ ایسے اہلِ فکر کے لیے یہ رسالہ ان شاء اللہ روح پرور اور صحت بخش غذا ثابت ہوگا۔ ہمارے کالجوں اور دینی مدرسوں میں بھی بہت سے اہلِ صلاحیت و ذی فہم لوگ موجود ہیں جو خدا کی شریعت کو اس دور کے تقاضوں کے مطابق سمجھنا چاہتے ہیں، لیکن ان کی فکری تشنگی بجھانے کا سامان کہیں نہیں ملتا۔ مجھے امید ہے کہ اس رسالے کے مضامین ان کے لیے قیمتی فکری مواد فراہم کریں گے۔‘‘
’’میثاق‘‘ کے ضمنی مقاصد میں یہ بھی شامل تھا کہ مولانا اصلاحی اپنے استاذ مولانا حمید الدین فراہی کے علمی و فکری ورثے کو عام لوگوں تک پہنچائیں، اور اپنی تصنیفات کی اشاعت اسی رسالے کے ذریعے سے کریں۔ ’’میثاق‘‘ کے نام میں اس طرف بھی ایک لطیف اشارہ تھا۔
جب لاہور سے ماہنامہ ’’ میثاق‘‘ کے اجرا کی خبر عام ہوئی تو بعض حلقوں میں یہ گمان کیا جانے لگا کہ شاید ’’میثاق‘‘، مولانا اصلاحی نے مولانا مودودی کی مخالفت میں نکالا ہے۔ اس کی وضاحت مولانا اصلاحی نے یوں فرمائی:
’’اس رسالے کے متعلق کسی کو یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ یہ کسی کی مخالفت کے لیے نکالا گیا ہے۔ اگر خدانخواستہ ایسا ذلیل مقصد پیشِ نظر ہوتا تو میری دعا ہے کہ یہ ایک دن بھی جاری نہ رہے۔ ہماری مخالفت اگر ہوگی تو صرف غلط نظریات اور باطل عقائد سے ہوگی، خواہ وہ کسی کی طرف سے ظاہر ہوں۔ اگر وہ اسلام پر غلط اثر ڈالنے والے محسوس ہوئے تو ان پر ضرور تنقید کی جائے گی۔‘‘
’’میثاق‘‘ میں مولانا اصلاحی کی تفسیر ’’تدبرِ قرآن‘‘ کے اجزا باقاعدگی سے ’’تدبرِ قرآن‘‘ کے عنوان سے شائع ہوتے تھے۔ اس کے علاوہ مطالعۂ حدیث اور متعلقہ علمی مقالات بھی مستقل سلسلے کے طور پر شائع کیے جاتے۔
کتب پر تبصرے ’’تقریظ و تنقید‘‘ کے عنوان سے شامل کیے جاتے تھے۔ اسی کے ساتھ مولانا اصلاحی کی مختلف تصانیف کے اجزا بھی انھی کے مخصوص عناوین کے تحت ’’میثاق‘‘ میں چھپتے رہے۔ مولانا اصلاحی کا سفرنامہ’’سفرِ حج‘‘ جو پہلے ’’المنبر‘‘ میں شائع ہوتا تھا،اب وہ بھی اسی رسالے میں قسط وار شائع ہوا۔کبھی کبھار وہ مختصر علمی تحریریں ’’ اشارات‘‘ کے عنوان سے بھی دیتے۔یہ زیادہ تر ملکی حالات و واقعات پر تبصرہ ہوتا تھا، جب کہ ’’مراسلات و مذاکرہ‘‘ کے حصے میں علمی سوالات کے جوابات خود مولانا اصلاحی دیا کرتے تھے۔ ’’میثاق‘‘ کے زیادہ تر مضامین مولانا ہی کے قلم سے نکلے۔دیگر مستقل لکھنے والوں میں خالد مسعود، ڈاکٹر سعید رمضان، مولانا عبدالغفار حسن، مولانا سید جلال الدین انصر عمری اور مولانا ضیاء الدین انصاری کے نام شامل ہیں۔
مولانا اصلاحی کے وہ مضامین جو خاص طور پر ’’میثاق‘‘ کے لیے لکھے گئے، بعد میں ’’مقالاتِ اصلاحی‘‘ (جلد اوّل و دوم) میں شامل کیے گئے۔
’’میثاق‘‘ کے مستقل حصے ’’تذکرہ و تبصرہ‘‘ میں علمی مباحث، وفات پانے والی شخصیات کے تذکرے، ملکی سیاست اور حالاتِ حاضرہ پر تبصرے شامل ہوتے تھے۔ مولانا مودودی کے مضمون ’’دین میں حکمتِ عملی کا مقام‘‘ پر مولانا اصلاحی کی تنقیدی تحریر بھی اسی حصے میں شائع ہوئی۔ یہ ایک سنجیدہ علمی بحث تھی، جس میں نثر کا انداز بھی نہایت متوازن اور تحقیقی تھا۔اس کا ایک تعارف ہم اوپر کے صفحات میں کرا چکے ہیں۔ مولانا اصلاحی نے مولانا مودودی کے پیش کردہ نظریات پر ایک ایک کرکے علمی تنقید کی اور قرآن و سنت کی روشنی میں اپنا موقف واضح کیا۔ یہ سلسلہ جولائی 1959ء سے اکتوبر 1959ء تک جاری رہا۔ اسی حصے میں مولانا اصلاحی نے ملکی سیاست، سماجی حالات اور جماعتی سرگرمیوں پر بھی اظہارِ خیال کیا۔1964ء کے صدارتی انتخابات پر ان کا تبصرہ ان کے سیاسی نظریات کا مظہر ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مولانا ان حالات میں سیاسی رہنماؤں کے اخلاص اور سیاسی بصیرت سے کوئی زیادہ پر امید نہیں تھے، اسی لیے انھوں نے صدارتی انتخابات میں محترمہ فاطمہ جناح کی قیادت میں بننے والے اتحاد کے بجاے جنرل ایوب خاں کی حمایت کی۔
صدارتی انتخابات اور مولانا اصلاحی
اس معاملے کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اس دور کے سیاسی حالات کا ایک اجمالی جائزہ پیش کریں۔
اکتوبر 1958ء میں ملک میں شدید سیاسی عدم استحکام تھا۔اصل میں ا سکندر مرزا آئینی طریقۂ کار سے خود صدر بننا چاہتے تھے، لیکن کابینہ اور پورا حکومتی نظم انھیں شدید ناپسند کرتا تھا۔انھوں نے اپنی حمایت حاصل کرنے کے لیے متعدد وزراے اعظم کو اقتدار بخشا، مگر کوئی بھی ان کا رانجھا راضی نہ کر سکا۔ آخر کار انھوں نے فوجی سپہ سالار جنرل ایوب خاں کے ساتھ مل کر پاکستان کی تاریخ کا پہلا مارشل لا نافذ کیا، مگر چند ہی ہفتوں کے بعد جنرل محمد ایوب خان نے ان سے اقتدار سنبھال لیا اور آئین کو معطل کر دیا اور تمام سیاسی جماعتوں پر پابندی لگا دی۔ اس طرح براہِ راست نظمِ حکومت اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ 1956ء میں بننے والے متفقہ آئین کو ختم کرکے 1962ء میں اپنی پسند کا ایک نیا آئین بنا دیا۔ اس اقدام کے بعد ایوب خان نے ملک میں سیاسی ڈھانچے کو ازسرِنو منظم کرنے کی کوشش کی اور ’’بنیادی جمہوریت‘‘ کے نام سے ایک نیا نظام متعارف کرایا۔ اس نظام کے تحت مقامی سطح پر منتخب نمایندے نہ صرف بلدیاتی نوعیت کے معاملات میں کردار ادا کرتے تھے، بلکہ وہی صدر کے انتخاب کے لیے ووٹ دینے کے مجاز بھی قرار پائے۔ جنوری 1965ء میں اسی نظام کے تحت ایوب خان نے صدارتی انتخاب کا اعلان کیا۔سیاسی جماعتیں بحال کر دی گئیں۔ اپوزیشن جماعتوں نے اس موقع پر مشترکہ طور پر محترمہ فاطمہ جناح کو اپنا امیدوار نام زد کیا، جس سے انتخاب کو غیر معمولی سیاسی اہمیت حاصل ہوئی۔ جماعت اسلامی بھی اپوزیشن کے ساتھ تھی۔ جماعت اسلامی کے علاوہ جماعت اسلامی کا مستقلاً اور اصولاً موقف یہ ہے کہ سیاست دانوں ہی کو ملک کی باگ ڈو ر سنبھالنی چاہیے اور فوج کا اس میں کوئی کردار نہیں ہو نا چاہیے، اس لیے اگرچہ اسلامی شریعت میں عورت کسی بھی منصب کے لیے نااہل ہے اور اس کا اصل میدان صرف گھر ہے، سیاسی امور میں اس کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے، لیکن اس وقت ایک اضطراری اور ہنگامی صورت حال ہے، اس لیے وقتی طور پر اس ’’حرام ‘‘ کو حلال بنانے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔
عورت کے معاشرے میں کردار کے حوالے سے مولانا سید ابو الاعلیٰ صاحب مودودی جو راے رکھتے ہیں، اس کا ایک نمونہ ’’تفہیم القرآن‘‘ میں دیکھا جا سکتا ہے۔ سورۂ احزاب کی آیات 32 اور 33 کے مطالب بیان کرنے کے بعد وہ لکھتے ہیں :
’’قران مجید کے اس صاف اور صریح حکم کی موجودگی میں اس بات کی آخر کیا گنجائش ہے کہ مسلمان عورتیں کونسلوں اور پارلیمنٹوں کی ممبر بنیں، بیرون خانہ کی سوشل سرگرمیوں میں دوڑتی پھریں،سرکاری دفتروں میں مردوں کے ساتھ کام کریں،کالجوں میں لڑکوں کے ساتھ تعلیم پائیں،مردانہ ہسپتالوں میں نرسنگ کی خدمات انجام دیں، ہوائی جہازوں اور ریل گاڑیوں میں مسافر نوازی کے لیے استعمال کی جائیں اور تعلیم و تربیت کے لیے امریکہ اور انگلستان بھیجی جائیں۔‘‘(تفہیم القران 4/ 90)
مولانا اصلاحی فوجی یا کسی طبقے کی آمریت کو ہر گز درست نہیں سمجھتے تھے، لیکن انھیں جماعت اسلامی سمیت تمام سیاست دانوں کی اہلیت پر شدید تحفظات تھے۔اس کے علاوہ، ان کااصل اعتراض یہ تھا کہ یہ کیسا اسلام ہے کہ جسے ’’نافذ‘‘ کرنے کے لیے پہلے اسی کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے، کیونکہ ملک کی تمام مذہبی جماعتیں اصولاً عورت کی سیاسی ہی نہیں ہر قسم کی سربراہی کو شرعی طور پر مطلقاًحرام سمجھتی تھیں، مگر اب محض اقتدار کی خاطر انھوں نے اپنے ہی موقف پر سمجھوتا کر لیا تھا۔ ان کی تنقید کا ہدف خاص طور پر جماعت اسلامی تھی، کیونکہ اسے وہ اپنی جماعت سمجھتے تھے اور اس کی خلافِ شریعت پالیسیوں اور اقدام پر بہت دکھ اور غصے کا بھی اظہار کرتے۔ اس موقع پر انھوں نے اپنے جریدے ’’میثاق‘‘ میں’’عورت کی امارت اور جماعت اسلامی کا اضطرار‘‘ کے نام سے ایک شاہ کار مضمون لکھا۔ اس مضمون کی کاٹ اور طنز میں اصلاً گہرا دکھ اور افسوس جھلکتا ہے۔ ہم اس کے بعض حصے یہاں نقل کرتے ہیں :
’’اس وقت ہمارے سامنے جماعت اسلامی کا وہ دو ورقہ ہے جس میں اس نے اس اضطراراور مجبوری کی وضاحت کی ہے جس کے تحت اس کو عورت کی امارت و صدارت از روے شریعت حرام سمجھنے کے باوجود مس فاطمہ جنا ح کو صدارت کی حمایت میں تن من دھن، تینوں کے ساتھ میدان جہاد میں خود اترنے اور قوم کو اتارنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ جماعت کے فقہاے کرام کے فتوے کے اصل الفاظ ملاحظہ ہوں:
’’جب صدارت کے لیے حزب اختلاف کی طرف سے ایک متفقہ علیہ امیدوار کے انتخاب کا مرحلہ آیا تو ہم اس پیچیدہ صورت ِحال سے دوچار ہو گئے کہ چار جماعتوں نے محترمہ فاطمہ جناح کو منتخب کرنے پر اتفاق کر دیا جسے قبول کرنا ان شرعی احکام کی موجودگی میں ہمارے لیے مشکل تھا جن کی رو سے کوئی عورت مسلمانوں کی امیر نہیں ہو سکتی۔ ( متفق علیہ کی جگہ ’متفقہ علیہ‘ بشکل تانیث محترمہ مس فاطمہ جناح کی رعایت سے ہے۔ البتہ ’علیہ‘ کی جگہ’علیہا‘ ہونا تھا، یہ غالبا ً سہو ِ کتابت ہے۔) اسی بنا پر ہم نے صدارت کے مسئلے میں حزبِ اختلاف کے ساتھ اتفاق یا ان سے علیحدگی کا کوئی اعلان نہیں کیا تاکہ مسئلے کے تمام پہلوؤں کا اچھی طرح جائزہ لینے اور اہل علم سے مشورہ کرنے کے بعد کوئی فیصلہ کیا جا سکے۔ اب کافی غور اور مشورے کے بعد جماعت جس نتیجے پر پہنچی، وہ یہ ہے کہ شریعت میں جو چیزیں حرام ٹھہرائی گئی ہیں ان میں سے بعض کی حرمت تو ابدی اور قطعی ہے جو کسی حالت میں علت سے تبدیل نہیں ہو سکتی اور بعض کی حرمت ایسی ہے جو شدید ضرورت کے موقع پر ضرورت کی حد تک جواز میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ اب یہ واضح ہے کہ عورت کو امیر بنانے کی حرمت ان حرمتوں میں سے نہیں ہے جو ابدی اور قطعی ہیں، بلکہ دوسری ہی قسم کی حرمتوں میں اس کا شمار ہو سکتا ہے۔‘‘
اس فتوے پر تو ہمیں کچھ کہنا نہیں ہے ہمیں جو کچھ کہنا تھا ہم بہت پہلے ہی کہہ چکے ہیں پھر ہم اس وقت اہل ِفتویٰ میں سے ہیں بھی نہیں، البتہ ادب کے ساتھ اتنی گزارش ہم ضرور ان حضرات سے کریں گے کہ جماعت کی طرف سے جو لٹریچر برس ہا برس سے اس ملک میں فروخت ہو رہا ہے، اس میں سے شاید ہی کوئی چیز ایسی ہو جس میں کسی چیز کی حلت یا حرمت پورے زور و قوت کے ساتھ زیر بحث نہ آئی ہو، لیکن کسی کتاب پر بھی یہ ہدایت درج نہیں ہوئی ہے کہ اس میں بیان کردہ حلت و حرمت ابدی ہے یا عارضی اور وقتی۔ اس ابہام کے سبب سے لوگوں کو الجھنیں پیش آتی ہیں۔ ابھی کل ہی ایک صاحب ہم سے ملے۔ انھوں نے ہمیں جماعت کے امیر صاحب کی تصنیف کردہ ایک کتاب دکھائی جس میں اس مسئلے پر بحث کی گئی ہے جس میں اس وقت جماعت کو کافی غور و بحث اور مشورے کے بعد ایک نتیجے پر پہنچنا پڑا ہے اس میں عورت کی امارت و صدارت کو قرآن و حدیث کی روشنی میں حرام ٹھہرایا گیا ہے۔ یہاں تک کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکے اس اقدام پر بھی تنقید کی گئی ہے جو طلبِ صدارت و خلافت کے لیے نہیں، بلکہ صرف قاتلین ِعثمان سے قصاص کے لیے تھا۔ ہم نے اس دوست کو بہتیرہ سمجھانے کی کوشش کی کہ ہو سکتا ہے کہ یہ ان حرمتوں میں سے ہو جو ابدی اور قطعی نہ ہو، مگر ہمارے جواب سے ان کا کسی طرح اطمینان نہ ہوا۔ اس قسم کی الجھن دوسروں کو بھی پیش آ سکتی ہے۔ اس وجہ سے اگر ہمارا کوئی مشورہ یہ حضرات در خور ِاعتناسمجھیں تو یہ کریں کہ اپنی تمام کتابوں پر سرخ رنگ سے یہ ہدایات لکھوا دیں کہ فلاں کتاب کس تاریخ تک قابل استناد ہے یا قابل ِ استناد رہے گی اور کس تاریخ کے بعد منسوخ سمجھی جائے گی۔ باہر کے ملکوں سے جو دوائیں اور کھانے پینے کی چیزیں شیشیوں اور بند ڈبوں میں آتی ہیں ان پر اس قسم کی ہدایات درج ہوتی ہیں جن سے لوگوں کی بڑی رہنمائی ہوتی ہے۔ اگر جماعت نے اس طریقے کو اپنا لیا تو اس سے لوگ غلط فہمیوں سے بھی محفوظ رہیں گے اور یہ اپنی ندرت اور طُرفگی کے اعتبار سے بھی لٹریچر خصوصاً مذہبی لٹریچر کی تاریخ میں ایسی چیز ہوگی کہ ہماری آیندہ نسلیں اس کو جماعت کی اوّلیات میں شمار کریں گی۔اب دیکھیے نا،جماعت کے لٹریچر میں’’پردہ‘‘ نامی ایک کتاب بھی ہے جس کو آج بھی جماعت کے سادہ لوح ارکان پڑھتے اور سر دھنتے ہوں گے حالاں کہ مس فاطمہ جنا ح کی صدارت کے بعد وہ خاصی زائد المیعاد ہو چکی ہے۔ اسی طرح کی اور بھی چیزیں ہوں گی جن سے بلا وجہ لوگ الجھنوں میں پڑیں گے اور جماعت کو روز روز ان کے اعتراضات سے سابقہ پیش آئے گا۔‘‘( مقالات 1/ 119-121)