بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سورة آل عمران
(6)
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ تُطِیۡعُوۡا فَرِیۡقًا مِّنَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ یَرُدُّوۡکُمۡ بَعۡدَ اِیۡمَانِکُمۡ کٰفِرِیۡنَ﴿۱۰۰﴾ وَ کَیۡفَ تَکۡفُرُوۡنَ وَ اَنۡتُمۡ تُتۡلٰی عَلَیۡکُمۡ اٰیٰتُ اللّٰہِ وَ فِیۡکُمۡ رَسُوۡلُہٗ ؕ وَ مَنۡ یَّعۡتَصِمۡ بِاللّٰہِ فَقَدۡ ہُدِیَ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿۱۰۱﴾
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ وَ لَا تَمُوۡتُنَّ اِلَّا وَ اَنۡتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ﴿۱۰۲﴾ وَ اعۡتَصِمُوۡا بِحَبۡلِ اللّٰہِ جَمِیۡعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوۡا ۪ وَ اذۡکُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰہِ عَلَیۡکُمۡ اِذۡ کُنۡتُمۡ اَعۡدَآءً فَاَلَّفَ بَیۡنَ قُلُوۡبِکُمۡ فَاَصۡبَحۡتُمۡ
ایمان والو، تم اِن اہل کتاب کے ایک گروہ کی بات مان لو گے تو تمھارے ایمان کے بعد یہ پھر تمھیں کفر کی طرف پھیر لے جائیں گے۔ (اِس پر متنبہ رہو )اور (غور کرو کہ) تمھارا کفر میں پڑنا کس طرح جائز ہو سکتا ہے، جب کہ تمھیں اللہ کی آیتیں سنائی جارہی ہیں اور اُس کا رسول تمھارے اندر موجود ہے۔ (لہٰذا اللہ کو مضبوطی سے پکڑے رہو )اور (یاد رکھو کہ ) جو اللہ کو مضبوطی سے پکڑے گا تو (سمجھ لو کہ ) اُس نے سیدھی راہ کو پا لیا ہے۔100- 101
ایمان والو، اللہ سے ڈرو، جیسا کہ اُس سے ڈرنے کا حق ہے، اور دنیا سے رخصت ہوتو ہر حال میں اسلام پر رخصت ہو۔ اور اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے پکڑو اور تفرقہ میں نہ پڑو، اور اپنے
بِنِعۡمَتِہٖۤ اِخۡوَانًا ۚ وَ کُنۡتُمۡ عَلٰی شَفَا حُفۡرَۃٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنۡقَذَکُمۡ مِّنۡہَا ؕ کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمۡ اٰیٰتِہٖ لَعَلَّکُمۡ تَہۡتَدُوۡنَ ﴿۱۰۳﴾ وَلۡتَکُنۡ مِّنۡکُمۡ اُمَّۃٌ یَّدۡعُوۡنَ اِلَی الۡخَیۡرِ وَ یَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ یَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ ؕ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴿۱۰۴﴾
وَ لَا تَکُوۡنُوۡا کَالَّذِیۡنَ تَفَرَّقُوۡا وَ اخۡتَلَفُوۡا مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَہُمُ الۡبَیِّنٰتُ ؕ وَ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ﴿۱۰۵﴾ۙ یَّوۡمَ تَبۡیَضُّ وُجُوۡہٌ وَّ تَسۡوَدُّ وُجُوۡہٌ ۚ فَاَمَّا الَّذِیۡنَ اسۡوَدَّتۡ وُجُوۡہُہُمۡ ۟ اَکَفَرۡتُمۡ بَعۡدَ اِیۡمَانِکُمۡ فَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ بِمَا کُنۡتُمۡ تَکۡفُرُوۡنَ ﴿۱۰۶﴾ وَ اَمَّا الَّذِیۡنَ ابۡیَضَّتۡ وُجُوۡہُہُمۡ فَفِیۡ رَحۡمَۃِ اللّٰہِ ؕ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۱۰۷﴾ تِلۡکَ اٰیٰتُ اللّٰہِ نَتۡلُوۡہَا عَلَیۡکَ بِالۡحَقِّ ؕ وَ مَا اللّٰہُ یُرِیۡدُ ظُلۡمًا لِّلۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۰۸﴾ وَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ وَ اِلَی اللّٰہِ تُرۡجَعُ الۡاُمُوۡرُ ﴿۱۰۹﴾
اوپر اللہ کی اِس عنایت کو یاد رکھو کہ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اُس نے تمھارے دل جوڑ دیے اور اُس کے فضل و کرم سے تم بھائی بھائی بن گئے، اور یاد رکھو کہ تم آگ کے ایک گڑھے کے بالکل کنارے پر کھڑے تھے، پھر اُس نے تم کو اُس سے بچا لیا۔ اللہ اِسی طرح اپنی آیتیں تمھارے لیے واضح کرتا ہے تاکہ تم ہدایت پر رہو۔ اور چاہیے کہ تمھارے اندر سے کچھ لوگ مقرر ہوں جو نیکی کی دعوت دیں، بھلائی کی تلقین کریں اور برائی سے روکتے رہیں۔ (تم یہ اہتمام کرو) اور (یاد رکھو کہ ) جو یہ کریں گے، وہی فلاح پائیں گے۔ 102- 104
(تم یہ کرو ) اور اُن لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جو فرقوں میں بٹ گئے اور جنھوں نے نہایت واضح ہدایات اپنے پاس آجانے کے بعد اختلاف کیا اور (اب) وہی ہیں کہ جن کے لیے بڑی ہول ناک سزا ہے۔ اُس دن جب کچھ چہرے روشن ہوں گے اور کچھ چہروں پر تاریکی چھا رہی ہو گی۔ سو جن کے چہروں پر تاریکی چھا رہی ہو گی، اُن سے پوچھا جائے گا: کیا تم ایمان کی نعمت سے بہرہ یاب ہونے کے بعد پھر کافر ہو گئے؟ تو اپنے اِس کفر کی پاداش میں اب چکھو عذاب کا مزہ۔ رہے وہ جن کے چہرے روشن ہوں گے تو وہ اللہ کی رحمت کے سایوں میں ہوں گے، وہ اُن میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہ اللہ کی آیتیں ہیں جو ہم تمھیں ٹھیک ٹھیک سنا رہے ہیں، اور اِس لیے سنا رہے ہیں کہ اللہ نہیں چاہتا کہ وہ دنیا والوں پر کوئی ظلم کرے۔ (لہٰذا اِن اہل کتاب کی طرح جھوٹی امیدوں میں نہ رہو ) اور (یاد رکھو کہ) زمین اورآسمانوں میں جو کچھ ہے، سب اللہ ہی کا ہے اور تمام معاملات اللہ ہی کے حضور میں پیش کیے جاتے ہیں۔ 105- 109
کُنۡتُمۡ خَیۡرَ اُمَّۃٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ تَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ تَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ وَ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ ؕ وَ لَوۡ اٰمَنَ اَہۡلُ الۡکِتٰبِ لَکَانَ خَیۡرًا لَّہُمۡ ؕ مِنۡہُمُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ وَ اَکۡثَرُہُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ ﴿۱۱۰﴾ لَنۡ یَّضُرُّوۡکُمۡ اِلَّاۤ اَذًی ؕ وَ اِنۡ یُّقَاتِلُوۡکُمۡ یُوَلُّوۡکُمُ الۡاَدۡبَارَ ۟ ثُمَّ لَا یُنۡصَرُوۡنَ ﴿۱۱۱﴾ ضُرِبَتۡ عَلَیۡہِمُ الذِّلَّۃُ اَیۡنَ مَا ثُقِفُوۡۤا اِلَّا بِحَبۡلٍ مِّنَ اللّٰہِ وَ حَبۡلٍ مِّنَ النَّاسِ وَ بَآءُوۡ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰہِ وَ ضُرِبَتۡ عَلَیۡہِمُ الۡمَسۡکَنَۃُ ؕ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ کَانُوۡا یَکۡفُرُوۡنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَ یَقۡتُلُوۡنَ الۡاَنۡۢبِیَآءَ بِغَیۡرِ حَقٍّ ؕ ذٰلِکَ بِمَا عَصَوۡا وَّ کَانُوۡا یَعۡتَدُوۡنَ ﴿۱۱۲﴾
لَیۡسُوۡا سَوَآءً ؕ مِنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ اُمَّۃٌ قَآئِمَۃٌ یَّتۡلُوۡنَ اٰیٰتِ اللّٰہِ اٰنَآءَ الَّیۡلِ وَ ہُمۡ یَسۡجُدُوۡنَ ﴿۱۱۳﴾ یُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ یَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ یَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ وَ یُسَارِعُوۡنَ فِی الۡخَیۡرٰتِ ؕ وَ اُولٰٓئِکَ مِنَ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۱۱۴﴾ وَ مَا یَفۡعَلُوۡا مِنۡ خَیۡرٍ فَلَنۡ یُّکۡفَرُوۡہُ ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌۢ بِالۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۱۱۵﴾
(ایمان والو، اِس وقت تو اللہ کی عنایت سے) تم ایک بہترین جماعت ہو جو لوگوں پر حق کی شہادت کے لیے برپا کی گئی ہے۔ تم بھلائی کی تلقین کرتے ہو، برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر سچا ایمان رکھتے ہو۔ اور یہ اہل کتاب بھی (قرآن پر) ایمان لاتے تو اِن کے لیے بہتر ہوتا۔ (اِس میں شبہ نہیں کہ) اِن میں ماننے والے بھی ہیں، لیکن (افسوس کہ) اِن میں زیادہ نافرمان ہی ہیں۔ یہ تمھیں کچھ اذیت دے سکتے ہیں، اِس کے سوا یہ تم کو ہر گز کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ اور (مطمئن رہو کہ) اگر یہ تم سے لڑیں گے تو لازماً پیٹھ دکھائیں گے۔ پھر اِن کو کہیں سے کوئی مدد نہ ملے گی۔ اِنھیں جہاں دیکھیے، اِن پر ذلت کی مار ہے،الاّ یہ کہ اللہ کی رسی تھام لیں اور (اُن) لوگوں کی رسی تھام لیں (جنھوں نے اللہ کی رسی تھام لی ہے)۔ یہ اللہ کا غضب لے کر لوٹے ہیں اور اِن پر پست ہمتی تھوپ دی گئی ہے۔ یہ اِ س لیے کہ یہ اللہ کی آیتوں کے منکر رہے ہیں اور اُس کے پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے رہے ہیں۔ یہ اِس لیے کہ اِنھوں نے نافرمانی کی اور یہ ہمیشہ حد سے بڑھتے رہے ہیں۔110- 112
(یہ بات، البتہ واضح رہے کہ ) سب اہل کتاب یکساں نہیں ہیں۔ اِن میں ایک گروہ اپنے عہد پر قائم ہے۔ وہ راتوں کو اللہ کی آیتیں تلاوت کرتے اور (اُس کے سامنے) سجدہ ریز رہتے ہیں۔ اللہ پر اور قیامت کے دن پر سچا ایمان رکھتے ہیں، نیکی کی تلقین کرتے اور برائی سے روکتے ہیں، بھلائی کے کاموں میں سبقت کرتے ہیں اور وہ خدا کے نیک بندوں میں سے ہیں۔ (اِس میں شبہ نہیں کہ وہ حق کے سچے طالب ہیں) اور (اپنے اِس رویے کے صلے میں) جو نیکی بھی کریں گے، اُس کے اجر سے محروم نہ ہوں گے اور اللہ اِن پرہیز گاروں سے خوب واقف ہے۔ 113- 115
اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَنۡ تُغۡنِیَ عَنۡہُمۡ اَمۡوَالُہُمۡ وَ لَاۤ اَوۡلَادُہُمۡ مِّنَ اللّٰہِ شَیۡـًٔا ؕ وَ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ النَّارِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۱۱۶﴾ مَثَلُ مَا یُنۡفِقُوۡنَ فِیۡ ہٰذِہِ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا کَمَثَلِ رِیۡحٍ فِیۡہَا صِرٌّ اَصَابَتۡ حَرۡثَ قَوۡمٍ ظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ فَاَہۡلَکَتۡہُ ؕ وَ مَا ظَلَمَہُمُ اللّٰہُ وَ لٰکِنۡ اَنۡفُسَہُمۡ یَظۡلِمُوۡنَ ﴿۱۱۷﴾
اِس کے بر خلاف جن لوگوں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ منکرہی رہیں گے، اُن کے مال و اولاد اللہ کے مقابل میں اُن کے کچھ بھی کام نہ آئیں گے اور وہ دوزخ کے لوگ ہیں، اُس میں ہمیشہ رہیں گے۔ اِس دنیا کی زندگی میں جو کچھ وہ (بہ ظاہر اللہ کی راہ میں ) خرچ کرتے ہیں، اُس کی تمثیل ایسی ہے کہ پالے کی ہوا ہو جو اُن لوگوں کی کھیتی پر چل جائے جنھوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہو اور اُسے برباد کر دے۔ (یہ اِسی کے سزاوار ہیں) اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے اِن پر کوئی ظلم نہیں کیا، بلکہ یہ آپ ہی اپنے اوپر ظلم کرتے رہے ہیں۔ 116-117