[ایک تحقیقی مطالعہ]
(3)
اصولِ علمِ روایت کی روشنی میں احادیثِ باب کی تحقیق وتخریج
صلاۃ التسبیح کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے بعض کتبِ حدیث وآثار میں جو کچھ نقل ہوا ہے، وہ آپ سے منسوب بعض قولی روایتیں ہیں۔ کوئی فعلی روایت، البتہ اِس باب میں آپ کی نسبت سے کہیں نقل نہیں ہوئی ہے، جس میں یہ بیان ہوا ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلاۃالتسبیح کی یہ نماز کبھی پڑھی تھی۔ اِس موضوع کی قولی روایتیں متعدد صحابہ سے نقل ہوئی ہیں۔ذیل میں اِن روایتوں کا علمِ حدیث کی روشنی میں قارئین کی خدمت میں ایک تحقیقی مطالعہ پیش کیا جا رہا ہے۔ سب سے پہلے ابو رافع قبطی رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث کی تخریج و تحقیق پیش خدمت ہے۔
1۔ حديث ابی رافع رضی اللہ عنہ
عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلی اللّٰہ عَلَیہِ وَسَلَّم لِلْعَبَّاسِ: يَا عَمِّ، أَلَا أَصِلُكَ، أَلَا أَحْبُوكَ، أَلَا أَنْفَعُكَ، قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللّٰهِ، قَالَ: ’’يَا عَمِّ، صَلِّ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ تَقْرَأُ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ بِفَاتِحَةِ الكِتَابِ وَسُورَةٍ، فَإِذَا انْقَضَتِ القِرَاءَةُ، فَقُلْ: اللّٰهُ أَكْبَرُ، وَالحَمْدُ لِلّٰهِ، وَسُبْحَانَ اللّٰهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ، خَمْسَ عَشْرَةَ مَرَّةً قَبْلَ أَنْ تَرْكَعَ، ثُمَّ ارْكَعْ فَقُلْهَا عَشْرًا، ثُمَّ ارْفَعْ رَأْسَكَ فَقُلْهَا عَشْرًا، ثُمَّ اسْجُدْ فَقُلْهَا عَشْرًا، ثُمَّ ارْفَعْ رَأْسَكَ فَقُلْهَا عَشْرًا، ثُمَّ اسْجُدْ فَقُلْهَا عَشْرًا، ثُمَّ ارْفَعْ رَأْسَكَ فَقُلْهَا عَشْرًا قَبْلَ أَنْ تَقُومَ، فَتِلْكَ خَمْسٌ وَسَبْعُونَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ وَهِيَ ثَلَاثُ مِائَةٍ فِي أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ، وَلَوْ كَانَتْ ذُنُوبُكَ مِثْلَ رَمْلِ عَالِجٍ غَفَرَهَا اللّٰهُ لَكَ‘‘، قَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ، وَمَنْ يَسْتَطِيعُ أَنْ يَقُولَهَا فِي يَوْمٍ، قَالَ: ’’إِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ أَنْ تَقُولَهَا فِي يَوْمٍ فَقُلْهَا فِي جُمْعَةٍ، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ أَنْ تَقُولَهَا فِي جُمُعَةٍ فَقُلْهَا فِي شَهْرٍ، فَلَمْ يَزَلْ يَقُولُ لَهُ، حَتَّى قَالَ: فَقُلْهَا فِي سَنَةٍ‘‘.
’’ابو رافع رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنے چچا ) عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے چچا، کیا میں آپ کے ساتھ صلۂ رحمی نہ کروں، کیا میں آپ کو ایک تحفہ دے کر آپ کونفع نہ پہنچاؤں؟ اُنھوں نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول۔ آپ نے فرمایا: چچا جان، آپ اِس طرح چار رکعت نماز پڑھیں کہ ہررکعت میں سورۂ فاتحہ اور کوئی سورت پڑھ کر فارغ ہوں تو رکوع میں جانے سے پہلے پندرہ مرتبہ کہیں:اللہ اکبر، الحمد للہ،سبحان اللہ،لا الٰہ الا اللہ۔پھر رکوع میں جائیں تو دس مرتبہ یہی کلمات رکوع میں کہیں، پھر اپنا سر اٹھائیں تو یہی کلمات دس مرتبہ رکوع سے کھڑے ہوکر کہیں۔ پھر سجدے میں جائیں تویہی کلمات دس مرتبہ کہیں، پھرسراٹھائیں تو دس مرتبہ یہی کلمات دہرائیں۔ پھر دوسرے سجدے میں جائیں تودس مرتبہ یہی کلمات کہیں، پھر سجدے سے اپنا سراٹھائیں تو کھڑے ہونے سے پہلے (بیٹھ کر) دس مرتبہ یہی کلمات دہرائیں۔ اِس طرح ہررکعت میں اِن کلمات کی تکرار75 مرتبہ ہوجائے گی اور چار رکعتوں میں یہ تعداد کل تین سو ہوگی۔ پھراگر آپ کے گناہ ریت کے ایک ٹیلے کے برابر بھی ہوئے تو (اِس نماز کے نتیجے میں) اللہ تعالیٰ آپ کو بخش دے گا۔اُنھوں نے عرض کیا: روزانہ (نماز میں) اتنے کلمات کہنے کی استطاعت کون رکھتا ہے؟آپ نے فرمایا: آپ روزانہ یہ کلمات نہیں پڑھ سکتے تو ہرجمعہ کو پڑھ لیا کریں اور اگرہرجمعہ کو بھی نہیں پڑھ سکتے تو ہرمہینے پڑھ لیں۔ آپ یہی فرماتے رہے، یہاں تک کہ آپ نے فرمایا: پھر سال میں آپ اِسے ایک مرتبہ پڑھ لیں۔‘‘
اِس روایت کا متن امام ترمذی (المتوفى: 279 ھ) کی السنن، رقم482 سے لیا گیا ہے۔
حدیث ابی رافع کے مصادر
سنن ترمذی سے ماخوذ مندرجہ بالاحدیثِ ابی رافع کے دوسرے طرق الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ جن مصادرِ اصلیہ میں نقل ہوئے ہیں، اپنی زمانی ترتیب کے لحاظ سے وہ درجِ ذیل ہیں:
1۔ السنن، ابن ماجہ (المتوفى: 273 ھ)، رقم 1386۔
2۔ المسند، رویانی(المتوفى: 307ھ)، رقم 699۔
3۔ المعجم الکبیر، طبرانی(المتوفى: 360ھ)، رقم987۔
4۔ السنن الصغریٰ، بیہقی (المتوفى: 458ھ)، رقم831۔
5۔ شعب الایمان، بیہقی (المتوفى: 458ھ)، رقم602۔
روایت کے اِن مراجع کی تاریخ پر نظر ڈالنے سے تین باتیں واضح ہوتی ہیں:
ایک یہ کہ حدیث وآثار کے اصلی مصادر میں سے صرف مندرجہ بالا چھ مراجع ہیں، جن میں حدیثِ ابی رافع کی تخریج ہوئی ہے۔یعنی باقی مراجعِ اصلیہ اِس روایت کے ذکر سے بالکل خالی ہیں۔
دوسرے یہ کہ تیسری صدی ہجری کے وسط تک ابو رافع کی یہ روایت حدیث وآثار کی کسی کتاب میں نقل نہیں ہوئی تھی۔
تیسرے یہ کہ تیسری صدی ہجری کے وسط میں ترمذی اور ابن ماجہ نے، اِسی صدی کے آخر میں رویانی نے، چوتھی صدی ہجری میں طبرانی نے اور پانچویں صدی ہجری میں صرف بیہقی نے اِس روایت کو نقل کیا ہے۔یعنی اِن تین صدیوں کے علماے حدیث میں سے صرف پانچ علما نے اِس روایت کو اپنی مدونات میں درج کرنے کے قابل سمجھا ہے۔
تحقیقِ اسانید اور روایت کا حکم
حدیث ابی رافع کے مندرجہ بالا طرق کی اسانید کے نقد و تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ ائمۂ رجال کے نزدیک حدیث ابی رافع کے اِن تمام طرق کی اسانید میں، بہ شمول ترمذی کے طریق کے،متعدد مجروح راوی موجود ہیں۔ تاہم فنِ حدیث کی رو سے اِن کی اسانید پر حکم لگانے کے لیے فیصلہ کن حیثیت جن نا قابل اعتبار راویوں کو حاصل ہے، وہ درج ذیل دو ہیں:
ایک موسىٰ بن عبيدة الربذی ہیں، جو ائمۂ محدثین کے نزدیک ’منکر الحدیث‘ اور انتہائی ضعیف راوی ہیں۔1
دوسرے سعيد بن ابی سعيد الانصاری ہیں۔ یہ علماے رجال کے نزدیک ایک ’مجہول‘، یعنی نامعلوم راوی ہیں۔2 شعب الایمان، بیہقی کے طریق کے سوا یہ نامعلوم راوی بھی اِس حدیث کے مندرجہ بالا تمام طرق کی اسانید میں موجود ہے۔
چنانچہ اِس روایت کی اسانید میں اِن دونوں راویوں کی موجودگی اور اِن کی اِس حیثیت کی بنا پر علمِ حدیث کی رو سے ائمۂ رجال کے نزدیک یہ بات متحقق ہے کہ ابو رافع رضی اللہ عنہ کی نسبت سے یہ حدیث اپنے مذکورہ بالا تمام طرق سمیت نہایت ضعیف اور ناقابل اعتبار ہے۔ لہٰذا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد سے اثبات اور دین میں اِس نماز کے استحباب کے لیے حدیثِ ابی رافع کو بہ طور دلیل قطعاً پیش نہیں کیا جاسکتا۔
2۔حدیث عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ
صلاۃ التسبیح کے بارے میں دوسری قولی حدیث عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، جو مراجعِ حدیث میں پہلی مرتبہ چوتھی صدی ہجری کے اواخر میں حاکم (المتوفى: 405ھ) نے اپنی ’’المستدرک علی الصحیحین‘‘، رقم1196 میں درج کی ہے۔ حاکم کے بعد تنہا بیہقی (المتوفى: 458 ھ) ہیں، جنھوں نےپانچویں صدی ہجری میں اپنی کتاب ’’الدعوات الکبیر‘‘، رقم445 میں اِس روایت کا ذکر کیا ہے۔ اِن دو کتابوں کے سوا باقی تمام مدوناتِ حدیث صلاۃ التسبیح کے باب میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت سے بالکل خالی ہیں۔
روایت کا متن
مستدرک حاکم، رقم1196 میں یہ روایت اِن الفاظ میں نقل ہوئی ہے:
عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: وَجَّهَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلی اللّٰہ عَلَیہِ وَسَلَّم جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ إِلَى بِلَادِ الْحَبَشَةِ، فَلَمَّا قَدِمَ اعْتَنَقَهُ وَقَبَّلَ بَيْنَ عَيْنَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: ’’أَلَا أَهَبُ لَكَ، أَلَا أُبَشِّرُكَ، أَلَا أَمْنَحُكَ، أَلَا أُتْحِفُكَ؟‘‘ قَالَ: نَعَمْ، يَا رَسُولَ اللّٰهِ. قَالَ: ’’تُصَلِّي أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ تَقْرَأُ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ بِالْحَمْدِ وَسُورَةٍ، ثُمَّ تَقُولُ بَعْدَ الْقِرَاءَةِ وَأَنْتَ قَائِمٌ قَبْلَ الرُّكُوعِ: سُبْحَانَ اللّٰهِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَاللّٰهُ أَكْبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ خَمْسَ عَشْرَةَ مَرَّةً، ثُمَّ تَرْكَعُ فَتَقُولُهُنَّ عَشْرًا تَمَامَ هَذِهِ الرَّكْعَةِ قَبْلَ أَنْ تَبْتَدِئَ بِالرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ، تَفْعَلُ فِي الثَّلَاثِ رَكَعَاتٍ كَمَا وَصَفْتُ لَكَ حَتَّى تُتِمَّ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ‘‘.
’’ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جعفر بن ابی طالب کو ملکِ حبشہ کی طرف روانہ کیا۔ اُس موقع پر جب جعفر بن ابی طالب آپ کے پاس ملنے کے لیے آئے تو آپ نے اُن سے معانقہ کیا اور اُن کی دونوں آنکھوں کے مابین بوسہ لیا۔ پھر آپ نے فرمایا: کیا میں تمھیں ایک ہدیہ، خوش خبری اورتحفہ نہ دوں؟ اُنھوں نے کہا: ضرور، اے اللہ کے رسول۔آپ نے فرمایا: تم چار رکعت نماز اِس طرح پڑھنا کہ ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ اور کوئی سورت پڑھنے کے بعد رکوع سے پہلے پندرہ مرتبہ ’سُبْحَانَ اللّٰهِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَاللّٰهُ أَكْبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ‘ کا ورد کرنا۔ پھر رکوع کر کے اُس حالت میں بھی دس مرتبہ یہی کلمات کہنا۔ دوسری رکعت شروع کرنے سے پہلے اِس پوری پہلی رکعت میں ہر موقع پر اِسی طرح یہ کلمات دہرانا۔تین رکعتوں تک اِسی طرح یہ تسبیح دہراتے رہنا، یہاں تک کہ تم چار رکعتیں (اِسی طرح) پوری کرلینا۔‘‘
تحقیقِ اسانید اور روایت کا حکم
جہاں تک اِس روایت کی سند کا تعلق ہے تو اِس کے بارے میں امام حاکم سے یہ صریح تساہل ہوا ہے کہ اُنھوں نے اِس روایت کو نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ ’هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ لَا غُبَارَ عَلَيْهِ‘، ’’یہ ایک بے غبارصحیح سند ہے‘‘، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اِس روایت کے مذکورہ بالا دونوں طرق کی اسانید میں ائمۂ محدثین کے نزدیک مندرجہ ذیل دو راوی ناقابل اعتبار ہیں:
ایک راوی اسحاق بن كامل المؤدب ہیں۔ائمۂ رجال سے اِن کی کوئی توثیق ثابت نہیں ہے، بلکہ بعض علماے رجال نے اِن کی عدمِ معرفت کی صراحت کی ہے کہ معلوم نہیں کہ اِس نام کے کسی راوی کا کوئی وجود بھی تھا یا نہیں۔ جب کہ ابو سعید بن یونس مصری کہتے ہیں کہ ’لم يتابع في حديثه مناكير ‘، ’’ یہ متفرد راوی ہیں، اِن کی تائید وتصویب میں کسی دوسرے راوی کی متابعت نہیں ملتی اور اِن کی روایت کردہ احادیث میں منکر روایتیں ہوا کرتی ہیں۔‘‘3
دوسرے راوی احمد بن داؤد عبد الغفار الحرانی ہیں۔ اِن کو متعدد ائمۂ رجال نے ’کذاب‘ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے حدیثیں گھڑنے والا راوی قرار دیا ہے۔ یہ واقعہ ہے کہ حاکم سے متقدم اور کبارِ ائمۂ حدیث، مثلاً ابو حاتم الرازی، ابن حبان اور امام دارقطنی نے اِس راوی کے بارے میں کہا ہے کہ ’يضع الحديث‘، ’’یہ حدیثیں گھڑا کرتا تھا۔‘‘4
مندرجہ بالا تفصیل کی روشنی میں صاف واضح ہے کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے منسوب اِس حدیث کے مذکورہ بالا دونوں طرق فنِ حدیث کی رو سے’موضوع‘،یعنی من گھڑت ہیں۔ صلاۃ التسبیح کی منفرد نفل نماز اِس روایت سے بھی قطعاً ثابت نہیں کی جاسکتی۔
3۔حدیث ِ جعفر بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ
صلاۃ التسبیح کے بارے میں تیسری حدیث خود جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، جو حدیث کی مندرجہ ذیل صرف دو ہی کتابوں میں نقل ہوئی ہے:
1۔دوسری صدی ہجری کے اواخر یا تیسری صدی کے آغاز میں عبد الرزاق صنعانی (المتوفى: 211ھ) کی المصنف، رقم5004 میں وارد ہوئی ہے۔
2۔ چھٹی صدی ہجری کے اواخر میں عبد الغنی مقدسی (المتوفى: 600ھ) کی اخبار الصلاۃ، رقم 81 میں درج ہے۔
روایت کا متن
جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے منسوب یہ روایت مصنف عبد الرزاق، رقم 5004 میں اِن الفاظ میں نقل ہوئی ہے:
عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلی اللّٰہ عَلَیہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: ’’أَلَا أَهَبُ لَكَ؟ أَلَا أَمْنَحُكَ؟ أَلَا أَحْذُوكَ؟ أَلَا أُوثِرُكَ؟ أَلَا؟ أَلَا؟‘‘ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيَقْطَعُ لِي مَاءَ الْبَحْرَيْنِ، قَالَ: ’’تُصَلِّي أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ تَقْرَأُ أُمَّ الْقُرْآنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ وَسُورَةً، ثُمَّ تَقُولُ: الْحَمْدُ لِلّٰهُ، وَسُبْحَانَ اللّٰهِ، وَاللّٰهُ أَكْبَرُ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ، فَعُدَّهَا وَاحِدَةً حَتَّى تعُدَّ خَمْسَ عَشْرَةَ مَرَّةً، ثُمَّ تَرْكَعُ فَتَقُولُهَا عَشْرًا وَأَنْتَ رَاكِعٌ، ثُمَّ تَرْفَعُ فَتَقُولُهَا عَشْرًا وَأَنْتَ رَافِعٌ، ثُمَّ تَسْجُدُ فَتَقُولُهَا عَشْرًا وَأَنْتَ سَاجِدٌ، ثُمَّ تَرْفَعُ فَتَقُولُهَا عَشْرًا وَأَنْتَ جَالِسٌ، ثُمَّ تَسْجُدُ فَتَقُولُهَا عَشْرًا وَأَنْتَ سَاجِدٌ، ثُمَّ تَرْفَعُ فَتَقُولُهَا عَشْرًا وَأَنْتَ جَالِسٌ، فَتِلَكَ خَمْسٌ وَسَبْعُونَ، وَفِي الثَّلَاثِ الْأَوَاخِرِ كَذَلِكَ، فَذَلِكَ ثَلَاثُ مِائَةِ مَجْمُوعَةٍ، وَإِذَا فَرَّقْتَهَا كَانَتْ أَلْفًا وَمِائَتَيْنِ، تَصْنَعُهُنَّ فِي يَوْمِكَ أَوْ لَيْلَتِكَ، أَوْ جَمْعَتِكَ، أَوْ فِي شَهْرٍ، أَوْ فِي سَنَةٍ، أَوْ فِي عُمْرِكَ، فَلَوْ كَانَتْ ذُنُوبُكَ عَدَدَ نُجُومِ السَّمَاءِ، أَوْ عَدَدَ الْقَطْرِ، أَوْ عَدَدَ رَمْلِ عَالِجٍ، أَوْ عَدَدَ أَيَّامِ الدَّهْرِ لَغَفَرَهَا اللّٰهُ لَكَ‘‘.
’’جعفر بن ابی طالب سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا:کیا میں آپ کو ایک چیز ہبہ نہ کروں؟ کیا آپ کے ساتھ بھلائی کرتے ہوئے میں آپ کو ایک تحفہ نہ دوں؟ (جعفر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:) یہاں تک کہ میں نے گمان کیا کہ آپ بحرین کا پانی میرے نام کردیں گے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا:آپ چار رکعت نماز اِس طرح پڑھیں کہ ہررکعت میں سورۂ فاتحہ اور کوئی سورت پڑھنے کے بعد آپ پندرہ مرتبہ ’الحمد للہ،سبحان اللہ،اللہ اکبر، لا الٰہ الا اللہ‘ کہیں۔پھر رکوع کریں تو اُس حالت میں یہی کلمات دس مرتبہ دہرائیں، پھر رکوع سے اپنا سر اٹھائیں تو قومہ کی حالت میں بھی یہی کلمات دس مرتبہ کہیں۔ پھر سجدے میں جائیں تو سجدے کی حالت میں بھی یہی کلمات دس مرتبہ پڑھیں، پھر سجدے سے اُٹھ کر بیٹھیں تو اُس موقع پر بھی دس مرتبہ یہی کلمات دہرائیں، پھر دوبارہ سجدہ کریں تو اُس میں بھی یہ کلمات دس مرتبہ پڑھیں، پھر سجدے سے اُٹھیں تو اُس موقع پر بھی بیٹھ کر دس مرتبہ یہی کلمات دہرائیں۔ اِس طرح (ہر رکعت میں) اِن کلمات کی تکرار75 مرتبہ ہوجائے گی۔ اِس پہلی رکعت کے بعد آخری تین رکعتوں میں بھی اِن کلمات کا اِسی طرح ورد کرنا ہے۔ اِس طرح (چارکعتوں میں) اِس ورد کی کل تعداد تین سو ہو گی۔ اور اِس ورد کے کلمات کو تم جب الگ الگ کر کے گنو گے تو یہ کُل ایک ہزار دو سو کلمات ہوں گے۔یہ چار رکعتیں تم اپنے دن یا رات کے وقت میں پڑھ لینا، یا جمعے کے دن ادا کرلینا، یا مہینے میں ایک مرتبہ، یا سال میں ایک مرتبہ یا پھر عمر بھر میں ایک مرتبہ پڑھ لینا۔ اِس کے بعد تمھارے گناہوں کی تعداد آسمان کے تاروں کے برابر ہوں، یا پانی کے قطروں کی تعداد کے برابر ہوں،یا ریت کے ٹیلے کے برابر ہوں یا زمانے کے دنوں کی تعداد کے برابر ہوں، اللہ تمھارے لیے اُن کو ضروربخش دے گا۔‘‘
تحقیقِ اسانید اور روایت کا حکم
مصنف عبد الرزاق، رقم5004 میں اِس روایت کی سند میں مندرجہ ذیل دو بڑی علل پائی جاتی ہیں:
1۔ اِس میں اسمٰعيل بن رافع الانصاری نامی ایک راوی ہے جو ائمۂ رجال کے نزدیک بالکل ناقابل اعتبارہے۔ کئی علماے رجال نے اِس کو ضعیف، جب کہ متعدد ائمۂ حدیث نے ’منکر الحدیث‘ یا ’ متروک الحدیث‘ قرار دیا ہے۔5
2۔ اِس سند میں انقطاع بھی ہے، یعنی اِس کے راویوں کی یہ سند متصل نہیں ہے، بلکہ ٹوٹی ہوئی ہے۔اِس کی تفصیل یہ ہے کہ مذکورہ بالا ’متروک الحدیث‘ راوی اسمٰعيل بن رافع الانصاری راویوں کے طبقات میں ساتویں طبقے، یعنی تبع تابعین میں سے ہے، جب کہ اِس سند میں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے براہ راست روایت کو بیان کر رہا ہے جن کی وفات ہجرتِ نبوی کےآٹھویں سال ہو چکی تھی۔چنانچہ بالبداہت واضح ہے کہ یہ سند منقطع ہے اور اسمٰعیل بن رافع کابراہ راست جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کرنا کسی طرح قابلِ قبول نہیں ہوسکتا۔
حدیثِ جعفر کا دوسرا طریق جو عبد الغنی مقدسی کی کتاب ’’اخبار الصلاۃ‘‘ میں نقل ہوا ہے، اُس کی سند ’’مصنف عبد الرزاق‘‘ کے پہلے طریق کی سند سےبھی زیادہ ضعیف اور ناقابل التفات ہے۔ اِس لیے کہ اِس میں پہلے طریق کی مندرجہ بالا دونوں علل کی موجودگی کے علاوہ ایک اور مجروح راوی بھی ہے جس کی کنیت ابو معشر اور نام نجیح بن عبد الرحمٰن السندی ہے۔ ائمۂ محدثین نے اِس کو ’ضعیف‘ اور ’منکر الحدیث‘ راوی قرار دیا ہے۔6
اِس کے علاوہ، اِس سند میں ایک اور انقطاع بھی ہے، اور وہ یہ ہے کہ صاحبِ کتاب عبد الغنی بن عبد الواحد مقدسی کی پیدایش 541ھ کی ہے، جب کہ یہ روایت وہ براہ راست سعيد بن منصور خراسانی سے نقل کر رہے رہیں، جن کی وفات 227ھ ہجری کوہوئی تھی۔ سو واضح ہوا کہ یہ سندایک نہیں، بلکہ دو جگہوں پر منقطع ہے۔چنانچہ ابتداے سند کے اِس انقطاع سے واضح ہوا کہ فنِ حدیث کی رو سے یہ روایت ’معلق‘ ہونے کی بنا پر قابل رد ہے۔
ابو جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے منسوب اِس حدیث کی مندرجہ بالا دونوں اسانید کے مطالعے سے متحقق ہوتا ہے کہ قواعدِعلمِ حدیث کی رو سےیہ روایت بھی نہایت ضعیف اور ناقابل التفات ہے۔ صلاۃ التسبیح کے ثبوت کے لیے بہ طور دلیل اِس روایت کو بھی ہر گز پیش نہیں کیا جاسکتا۔
[باقی]
- ۔ دیکھیے: تہذیب الکمال فی اسماء الرجال، مزی29/ 104-113، رقم 6989۔
- ۔ ملاحظہ کیجیے: تقريب التہذیب، ابن حجر،ص236، رقم 2320۔
- ۔ دیکھیے: لسان الميزان، ابن حجر 2/68، رقم 1056۔
- ۔ دیکھیے: لسان الميزان، ابن حجر1/454، رقم 501۔
- ۔ ملاحظہ ہو: تہذیب الکمال فی اسماء الرجال، مزی 3/85-90، رقم442؛ تہذیب التہذیب، ابن حجر 1/294 -296، رقم547۔
- ۔ ملاحظہ ہو: تہذیب الکمال فی اسماء الرجال، مزی 29/322-331، رقم6386؛ تہذیب التہذیب، ابن حجر 10/374-376، رقم759۔