مواد پر جائیں

’عَبَسَ وَ تَوَلّٰی‘ کا فاعل کون؟ (ایک نئی تفسیری تحقیق کی روشنی میں)

تحریر:علامہ شبیراحمدازہرمیرٹھی / پیش کش:ڈاکٹرمحمدغطریف شہبازندوی اردو

]’’نقطۂ نظر‘‘ کا یہ کالم مختلف اصحاب ِفکر کی نگارشات کے لیے مختص ہے۔ اس

میں شائع ہونے والے مضامین سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔[

سورۂ عبس کے آغاز میں تمام مفسرین ’عَبَسَ وَ تَوَلّٰی‘کا فاعل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قرار دیتے ہیں۔ متاخرین میں، البتہ ایک محدث علامہ داؤدی نے اس کا فاعل کافر کو قرار دیا ہے۔ یہ غالباً شیخ ابوالحسن عبدالرحمٰن بن مظفرالداؤدی ہیں۔ان کا یہ قول علامہ ابن حجرنے ’’فتح الباری‘‘ میں نقل کیاہے۔ ابن حجر جابجا امام داؤدی کا تذکرہ ’’فتح الباری‘‘ میں کرتے ہیں۔ کہیں ان کی تشریح قبول کرتے ہیں اورکہیں اس کا رد کرتے ہیں اور کہیں پر ’وقداغرب الداؤدی وقال‘ (یعنی داؤدی نے سب سے الگ یہ بات کہی ہے) کہہ کرگزر جاتے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتاہے کہ وہ کوئی پائے کے محدث اورعالم تھے۔ موجودہ زمانہ میں یہی تفسیری راے علامہ شبیر احمد ازہر میرٹھی نے بھی اختیارکی ہے۔ان کی تفسیرسے اس کا متعلقہ اقتباس باذوق قارئین کے لیے نقل کیاجاتاہے۔ وہ فرماتے ہیں:

یہ سورت بھی مکیہ ہے۔اس کے لفظ اول کو ہی اس کا نام قرار دےدیا گیا ہے۔ غالباً سورۂ نازعات کے بعد نازل ہوئی تھی۔ اس کا موضوع بھی وہی ہے جو سورۂ نازعات کا ہے اور مضامین کی نوعیت بھی تقریباً وہی ہے۔ سورۂ نازعات میں ایک گذشتہ سرکش، یعنی فرعون کا تذکرہ فرمایا ہے اور بتایا ہے کہ سرکشی کا انجام جہنم ہے اور اِس سورہ کے آغاز میں مکہ کے سرکشوں میں سے ایک مغرور سرکش کا ذکر ہے۔

پس منظر: حضرت ابن اُمّ مکتوم ایک جلیل القدر و قدیم الاسلام نابینا صحابی تھے۔ ان کی ماں جن کا لقب اُم مکتوم پڑ گیا تھا اور اصل نام عاتکہ بنت عبداللہ تھا، قبیلۂ بنی مخزوم میں سے تھیں اور حضرت خدیجہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خالہ تھیں۔ ام مکتوم کے شوہرکا نام کسی نے عمرو بتایا ہے، کسی نے عبداللہ (تفسیر خازن)، اغلب یہ ہے کہ خالہ زاد ہونے کی وجہ سے حضرت خدیجہ نے اس صالح و نابینا نوجوان کو اسلام کی ترغیب دی تھی۔ مشرف بہ اسلام ہو جانے کے بعد اکثر خدمتِ نبوی میں حاضر ہوتے اور قرآن یاد کرنے اور پڑھنے میں مصروف رہتے اور ملنے جلنے والوں اور اعزہ و اقربا میں تبلیغ کے لیے بھی نکل جاتے تھے۔ ایک روز کفار مکہ میں سے ایک شخص سے ملنے کے لیے گئے، وہ مال داروں سے میل جول رکھنے والا آدمی تھا اور داعی حق کی نصیحت کو خاطر میں نہ لاتا تھا۔ ابن ام مکتوم غالباً بہ غرض تبلیغ ہی اس کے پاس گئے تھے۔ اس نے نابینا ہونے کی وجہ سے ان کے آنے پر بڑی ناک بھوں چڑھائی۔ سیدھے منہ بات نہ کی اور پشت پھیر کر چلا گیا۔ اس طرز عمل پر اللہ نے اُس مغرور کی مذمت کی اور اس کی بے بصیرتی واضح کی اور اس کی خوے تملق و دولت پرستی پر ملامت فرمائی ہے۔ وہ مغرور شخص کیا نام رکھتا تھا؟ اس کا ذکر نہ قرآن میں ہے، نہ کسی صحیح حدیث میں۔ اور اس کا نام ذکر کرنے کی ضرورت بھی نہ تھی، نہ ہمیں اس کے نام کی کھوج لگانے کی حاجت ہے۔ قرآنِ کریم ہدایت و اصلاح کی کتاب ہے۔ جن اشخاص کا نام قرآن میں ذکر ہوا ہے، اسی غرض کے تحت ہے۔ اور جن اشخاص کے ناموں سے یہ غرض تعلق نہیں رکھتی، ان کے نام ذکر نہیں فرمائے گئے۔ صرف اُن کے اچھے اوصاف ذکر فرما کر مدح یا برے اوصاف ذکر کر کے مذمت کی گئی ہے۔ پس ارشاد ہوا:

عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤی. اَنۡ جَآءَہُ الۡاَعۡمٰی. وَ مَا یُدۡرِیۡکَ لَعَلَّہٗ یَزَّکّٰۤی. اَوۡ یَذَّکَّرُ فَتَنۡفَعَہُ الذِّکۡرٰی. اَمَّا مَنِ اسۡتَغۡنٰی. فَاَنۡتَ لَہٗ تَصَدّٰی. وَ مَا عَلَیۡکَ اَلَّا یَزَّکّٰی. وَ اَمَّا مَنۡ جَآءَکَ یَسۡعٰی. وَ ہُوَ یَخۡشٰی. فَاَنۡتَ عَنۡہُ تَلَہّٰی. کَلَّاۤ اِنَّہَا تَذۡکِرَۃٌ. فَمَنۡ شَآءَ ذَکَرَہٗ.

(عبس 80: 1-12)

’’ترش رو ہوا اور پشت پھیر کر چلا گیا، اس وجہ سے کہ اس کے پاس اندھا آ گیا۔ اور تو کیا جانے شاید کہ وہ خوش فعال بن رہا ہے۔ یا نصیحت مانتا ہے تو نصیحت اسے نفع دے۔ رہا وہ شخص جو مال دار ہو گیا ہے (اور دولت مندی کی وجہ سے وہ تجھ سے ملنے کے لیے نہیں آتا تو تُو اس کے درپے رہتا ہے۔ حال یہ ہے کہ تجھ پر کوئی غم نہیں ہے اس سے کہ وہ خوب سیرت نہ ہو۔ اور رہا وہ شخص جو خود تیرے پاس آیا حال یہ ہے کہ (تیری بھلائی کی) کوشش کر رہا ہے اور وہ (اللہ سے) ڈرتا ہے تو تُو اس سے تغافل برتتا ہے۔(ہرگز ایسا نہ کرنا چاہیے۔)بے شک، وہ آیات (جنھیں وہ دیدہ ور نابینا اُس بے بصیرت مغرور کو سنانے کے لیے گیا تھا) اہم نصیحت ہیں۔ پس جو شخص چاہے، اسے ذہن نشین کر لے۔‘‘

ذیل کی سطورمیں ان آیات کی تفسیرملاحظہ کریں:

اَنۡ جَآءَہُ الۡاَعۡمٰی.

چونکہ ’الۡاَعۡمٰی‘ فرمایا ہے تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک خاص نابینا کا ذکر ہے اور مہاجرین صحابہ میں ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے سوا کوئی اور نابینا نہ تھا، اس لیے مفسرین نے اس آیت میں انھیں ہی مراد سمجھا ہے۔

ملنے کے لیے آنے والا تو مہمان ہوا کرتا ہے۔ اس کے ساتھ یہ رویہ برتنا بڑی بدتمیزی ہے، آنے والا کوئی ایسا شخص ہوتا جس سے کوئی نقصان پہنچا تھا یا اب نقصان پہنچنے کا اندیشہ تھا تو اس بدخلقی کی گنجایش تھی۔ اُس مغرور نے تو محض آنے والے کے نابینا ہونے کی وجہ سے یہ شرم ناک کمینگی کی تھی۔ انسان کو چاہیے کہ آنے والے کو شرافت کے ساتھ بٹھائے، آنے کا باعث دریافت کرے خصوصاً، جب کہ وہ اس سے جان پہچان بھی رکھتا ہو اور اس کی بات سنے، ہو سکتا ہے کہ اس کے بیٹھنے سے کچھ فیض اور اس کی بات سننے سے کچھ نفع حاصل ہو۔ چنانچہ اس مغرور کو خطاب کر کے فرمایا:

وَ مَا یُدۡرِیۡکَ لَعَلَّہٗ یَزَّکّٰۤی . اَوۡ یَذَّکَّرُ فَتَنۡفَعَہُ الذِّکۡرٰی.

’’اور تو کیا جانے شاید کہ وہ خوش فعال بن رہا ہے یا نصیحت مانتا ہے تو نصیحت اسے نفع دے۔‘‘

یعنی جب وہ قصداً تجھ سے ملنے کے لیے آیا تو تجھے شرافت کے ساتھ اسے بٹھانا اور انسانیت کے ساتھ اس سے گفتگو کرنا لازم تھا۔ تجھے سوچنا چاہیے تھا کہ ممکن ہے یہ شخص خوب سیرت و خوش فعال ہو تو اس کا تیرے پاس بیٹھنا تجھے فائدہ پہنچاتا۔ اچھے آدمی کی صحبت بڑی اکسیر ہوتی ہے یا ممکن ہے کہ وہ نصیحت ماننے اور اچھی بات بہ گوشِ قبول سننے کی صلاحیت رکھتا ہو تو قرابت کے تعلق کی وجہ سے تو اُسے کوئی مفیدبات بتاتا تو اُسے تیری بات سے فائدہ پہنچتا۔ الغرض اس کے ساتھ بات چیت کرنے سے تجھے پتا چل جاتا کہ یہ شخص مفید و نافع ہے یا مستفید و منتفع ہے۔ مگر تو نے اندھا دیکھ کر اُس غریب سے بے رخی برتی۔ اپنے افسوس ناک طرزِ عمل پر غور کر۔ مال دار آدمی سے تو تُو ملاقات کرنے کے درپے رہتا ہے، اس کے پاس جاتا ہے اور اس کی بدسیرت و بدخوئی کا تجھے کچھ غم نہیں ہوتا اور جو نیک سیرت اللہ سے ڈرنے والا شخص تیری خیر خواہی کے لیے تجھ سے ملنے کے لیے آئے اس سے تو تغافل برتے! چنانچہ فرمایا:

اَمَّا مَنِ اسۡتَغۡنٰی. فَاَنۡتَ لَہٗ تَصَدّٰی.

’’رہا وہ شخص جو مال دار ہو گیا ہے (اور دولت مندی کی وجہ سے وہ تجھ سے ملنے کے لیے نہیں آتا) توتُو اس کے درپے رہتا ہے۔‘‘

اس کے در دولت پر حاضری دیتا ہے۔ بازار میں کسی محفل میں کسی تقریب سے اس کی زیارت کر لینے کی فکر و شوق رکھتا ہے اور اس کا شیدائی بنا رہتا ہے۔

وَ مَا عَلَیۡکَ اَلَّا یَزَّکّٰی.

حال یہ ہے کہ تجھ پر کوئی غم نہیں ہے، اس سے کہ وہ خوب سیرت نہ ہو۔اس کی دولت تجھے اس کے عیوب کی طرف دھیان نہیں دینے دیتی۔

وَ اَمَّا مَنۡ جَآءَکَ یَسۡعٰی. وَ ہُوَ یَخۡشٰی. فَاَنۡتَ عَنۡہُ تَلَہّٰی.

اور رہا وہ شخص جو خود تیرے پاس آیا حال یہ ہے کہ (تیری بھلائی کی) کوشش کر رہا ہے اور وہ (اللہ سے) ڈرتا ہے تو تُو اس سے تغافل برتتا ہے۔ اس سے روگرداں ہو کر دوسرے کام میں مشغول ہو جاتا ہے!

کَلَّاۤ اِنَّہَا تَذۡکِرَۃٌ. فَمَنۡ شَآءَ ذَکَرَہٗ.

’’ہرگز ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ بے شک، وہ آیات (جنھیں وہ دیدہ ور نابینا اُس بے بصیرت مغرور کو سنانے کے لیے گیا تھا) اہم نصیحت ہیں۔ پس جو شخص چاہے، اسے ذہن نشین کر لے۔‘‘

یعنی اللہ نے قرآن تمام بندوں کے لیے نازل فرمایا ہے؛ امیر و غریب، معذور و غیر معذور، مرد و عورت، جوان و بوڑھے اور عربی و عجمی کی کوئی تخصیص نہیں۔ رب العٰلمین کا یہ کلام سب کے لیے ہے۔ جو اسے ذہن نشین کر کے اس پر عمل کرے گا، اللہ کی رحمت کامستحق ہو گا۔

تنبیہ: 1۔ ’لَعَلَّہٗ یَزَّکّٰی اَوْ یَذَّکَّرُ‘ میں ’اَوْ‘ منع خلو کے لیے ہے۔ کیونکہ کوئی شخص تم سے ملنے کے لیے آئے تو اس کے تین حال ہو سکتے ہیں:1۔ تمھیں اس سے اخلاقی فائدہ پہنچے؛ یہ اس صورت میں ہو گا کہ وہ خوش خصال و پاکیزہ خو ہو اور نیک و صالح آدمی کی صحبت بڑی مفید ہوتی ہے۔ 2۔ تم سے اُسے اخلاقی فائدہ پہنچے، جب کہ وہ نصیحت پذیر ہو۔ اچھی بات کو بہ گوشِ قبول سننے والا ہو۔ 3۔ اُس سے اخلاقی نقصان پہنچے، جب کہ وہ بد خصال و شیطان صفت ہو۔ وہ شخص جانتا تھا کہ یہ نابینا تیسری قسم کا آدمی نہیں ہے، پہلی یا دوسری قسم کا ہے۔ اس لیے مقتضاے عقل یہی تھا کہ شرافت کے ساتھ اسے بٹھاتا اور اس سے بات چیت کرتا۔

2۔ ’اِنَّہَا‘کی ضمیر مونث اور ’ذَکَرَہٗ ‘ کی ضمیر منصوب مذکر، دونوں قرآن کی طرف راجع ہیں۔ ’اِنَّہَا‘ ضمیر مونث کے ساتھ، اس لیے کہا ہے کہ اس سے مراد آیات قرآن ہیں۔ وعظ و نصیحت کے موقع پر پورا قرآن نہیں، بلکہ حسب موقع کچھ آیات سنائی جاتی ہیں اور ’ذَکَرَہٗ ‘ ضمیر مذکر کے ساتھ اس لیے فرمایا ہے کہ مراد کل قرآن ہے۔ پورے قرآن کو ہی ذہن نشین کرنے کی ضرورت ہے۔

3۔ جمہور مفسرین متقدمین و متاخرین نے ’عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤی‘ کا فاعل اور بعد میں آنے والی خطاب کی ضمیروں کا مخاطب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سمجھا ہے۔ اس کی بنیاد ایک غلط کہانی پر ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قریش کے چند معزز لوگ بیٹھے ہوئے تھے اور آپ انھیں تبلیغ حق فرما رہے تھے کہ نابینا صحابی ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آ گئے اور بولے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، مجھے کچھ سکھا دیجیے (عَلِّمْنی مما علمک اللّٰہ. اوقال اَرْشِدْنی)، آپ نے ابن ام مکتوم کو کوئی جواب نہ دیا اور ان لوگوں سے بات کرتے رہے، تب ابن ام مکتوم نے پھر کہا۔ آپ نے جواب نہ دیا اور اُنھی لوگوں سے بات کرتے رہے تو ابن ام مکتوم نے پھر عرض کیا۔ آپ کو ان کا یہ بیچ میں بولنا اور اصرار کرنا برا لگا، ناگواری کا اثر چہرۂ انور پر بھی پڑا۔ اس پر یہ سورہ نازل ہوئی۔ اس میں ’عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤی‘ سے ’کَلَّاۤ اِنَّہَا تَذۡکِرَۃٌ ‘ تک اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر عتاب فرمایا ہے کہ آپ کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ اشرافِ قریش سے بات قطع کر کے ابن ام مکتوم کی تشفی فرمانی چاہیے تھی کہ وہ طالب صادق تھے۔ اللہ سے ڈرنے والے، آپ نے ان پرسردارانِ قریش کو کیوں ترجیح دی۔ کہتے ہیں کہ اس کے بعد جب ابن ام مکتوم آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو آپ ان کا اکرام فرماتے اور کہتے: مَرَحَبًا بمن عاتبنی فیہ ربی…

لیکن یہ کہانی بالکل غلط ہے۔ بخاری و مسلم تو کیا ابو داؤد، نسائی اور ابن ماجہ نے بھی اس کی تخریج نہیں کی،صرف ترمذی نے اسے نقل کیا ہے اور بتا دیا ہے کہ اس کی اسناد میں اختلاف و اضطراب ہے۔ بعض راویوں نے اسے عروہ بن زبیر تابعی کا قول بتایا ہے اور بعض نے حضرت ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا۔ ترمذی نے اس کی تخریج بہ ایں لفظ کی ہے:

عن عائشۃ قالت: انزل عبس وتولی فی ابن ام مکتوم الاعمی. اتی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فجعل یقول: یا رسول اللّٰہ، ارْشِدْنی و عند رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم رجل من عظماء المشرکین فجعل رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یُعرض عنہ و یقبل علی الاٰخر و یقول: اتری بما أقول بأسا؟ فیقول: لا. ففی ھذا انزل… هذاحدیث حسن غریب و روی بعضھم ھذا الحدیث عن ھشام بن عروۃ عن ابیہ قال انزل عبس و تولی فی ابن ام مکتوم و لم یذکر فیہ عن عائشۃ.

(ترمذی، ابواب التفسیر، سورۂ عبس)

’’حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سورۂ عبس و تولی ابنِ اُمِّ مکتوم نابینا کے بارے میں نازل ہوئی۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے:یا رسول اللہ، میری رہنمائی فرمائیے۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قریش کے ایک بڑے مشرک سردار بیٹھے ہوئے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ابنِ اُمِّ مکتوم کی طرف سے توجہ ہٹانے اور اس سردار کی طرف متوجہ ہو جانے کے لیے اس سے فرمانے لگے: کیا تمھیں میری بات میں کوئی قباحت نظر آتی ہے؟تو وہ کہتا: نہیں۔ اسی واقعے کے بارے میں یہ آیات نازل ہوئیں۔ اور ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ اور بعض راویوں نے یہ حدیث ہشام بن عروہ سے اور انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ سورۂ عبس و تولی ابنِ اُمِّ مکتوم کے بارے میں نازل ہوئی۔ اور اس روایت میں حضرت عائشہ کا ذکر نہیں ہے۔‘‘

جیسا کہ ناظرین دیکھ رہے ہیں، اس روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دولت مند و ذی اثر مشرکین میں سے ایک شخص کا ہونا اور آپ کا اس سے مصروف کلام ہونا مذکور ہے اور یہ بھی تصریح ہے کہ وہ مشرک آپ کی پند و موعظت سے متاثر ہو رہا تھا۔

اب ذرا سوچیے تو سہی اگر یہ واقعہ ہوا ہوتا تو عتاب اور زجر و تو بیخ کے مستحق تو ابن ام مکتوم ہوتے۔ ناظرین دیکھ رہے ہیں کہ ’عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤی. اَنۡ جَآءَہُ الۡاَعۡمٰی‘ فرما کر اللہ تعالیٰ نے ایک شخص کا ذکر کیا ہے، جس نے نابینا کے اپنے پاس آ جانے کی وجہ سے منہ بنایا تھا اور رخ پھیرا تھا۔ پھر ’وَ مَا یُدۡرِیۡکَ لَعَلَّہٗ یَزَّکّٰۤی . اَوۡ یَذَّکَّرُ فَتَنۡفَعَہُ الذِّکۡرٰی‘فرما کر اس منہ بنانے والے رخ پھیرنے والے کو خطاب کر کے اس کی بے بصیرتی پر روشنی ڈالی ہے۔ پھر مال داروں کی چاپلوسی کرنے اور دعوت حق لے کر آنے والے خیر خواہوں کے درمیانِ کلام میں بولنا کھلی ہو ئی بدتمیزی ہے، جب کہ آپ وعظ و تبلیغ میں مصروف تھے۔ ابن ام مکتوم پر لازم تھا کہ صبر کرتے اور فارغ ہونے کے بعد آپ سے تعلیم و ارشاد کی درخواست کرتے اور ترمذی کی روایت میں تو بس ایک مرد مشرک کا آپ کے پاس ہونا اور آپ کا اس کو سمجھانے بجھانے میں مصروف ہونا مذکور ہے، مگر کچھ لوگوں نے اس پر یہ اضافہ کر دیا کہ ایک نہیں متعدد اشرافِ قریش تھے۔ ابوجہل، عقبہ بن ربیعہ، ابی بن خلف، بعض نے اس مجلس میں آپ کے چچا حضرت عباس بن عبدالمطلب کا نام بھی شامل کر دیا ہے۔ چنانچہ ابن جریر طبری رحمہ اللہ نے یہ قصہ اس اسناد کے ساتھ لکھا ہے: حدثنی محمد بن سعد قال: ثنی ابی قال: ثنی عمی قال: ثنی ابی عن ابیہ عن ابن عباس (تفسیر طبری، سورۂ عبس)، مگر اہل علم کے لیے یہ اسناد ہمیشہ ناقابل حل معما رہی ہے۔ ابن جریر نے بہت سی روایات اس سلسلۂ اسناد کے ساتھ نقل کی ہیں اور اہل علم اسے ”اسناد مظلم“ کے سوا کچھ نہ کہہ سکے۔

امام ابوبکر ابن العربی کی معروف کتاب ’’العواصم من القواصم‘‘ کے محقق محب الدین الخطیب لکھتے ہیں:

اسناد:حدثنی محمدبن سعدر قال: ثنی عمی قال: ثنی ابی عن ابیہ عن ابن عباس، یجہل علماء الجرح والتعدیل اسماء اکثرہم فضلاعن ان یعرفوا شیئا من احوالہم۔ یعنی اس اسنادکے اکثرناموں کوہی جرح وتعدیل کے ائمہ نہیں جانتے۔ ان کے حالات کا تو ذکر ہی کیا (العواصم من القواصم، تحقیق: محب الدین الخطیب، المطبعۃ السلفیہ القاہرہ، 1371ہجری)۔

میں نے اپنے زمانہ کے متعدد اصحاب علم و نظر سے اس کے متعلق استفسار کیا ہے، کسی کے پاس اس معمے کا حل نہ تھا۔ مفسرین نے یہی بے سروپا روایت لے کر دادِ تفسیر دے دی ہے۔ سچ ہے:

حقیقت خرافات میں کھو گئی

یہ امت روایات میں کھو گئی

4۔ ’صُحُفٍ مُّکَرَّمَۃٍ‘ اور ’بِاَیۡدِیۡ سَفَرَۃٍ. کِرَامٍۭ بَرَرَۃٍ ‘ کا مطلب بھی ان حضرات نے عجیب و غریب بیان کیا ہے۔ سب سے زیادہ غلط اور بے تکی بات مولانا مودودی نے لکھی ہے کہ ’سَفَرَۃٍ‘ سے مراد وہ فرشتے ہیں، جو قرآن کے ان صحیفوں کو اللہ تعالیٰ کی براہِ راست ہدایت کے مطابق لکھ رہے تھے۔ ان کی حفاظت کر رہے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک انھیں جوں کا توں پہنچا رہے تھے(تفہیم القرآن، سورۂ عبس، جلدششم،ادارۂ ترجمان القرآن، لاہور)۔

کوئی بتائے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر صحیفوں میں لکھا ہوا قرآن نازل ہوتا تھا؟ تو پھر وہ فرشتوں کے لکھے ہوئے صحیفے جو انھوں نے آپ کو لا کر دیے تھے کیا ہوئے؟ کہاں گئے؟ آپ نے تو کبھی بھی کسی کو کوئی صحیفہ نہیں دکھایا۔

قرآن کی یہ تاثیر مشاہدے میں آ رہی ہے کہ جو بندہ اس پر ایمان لے آیا، وہ گناہوں سے پاک صاف غلط فکری و بد عقیدگی سے مبرا اور نیکو کار بن گیا۔ نفرت کرنے اور تغافل برتنے پر اسے ملامت فرمائی ہے۔ پس یہ کیسے درست ہو سکتا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کامصداق مانا جائے، حقیقت یہ ہے کہ اگر یہ روایت نہ ہوتی، جس کی ترمذی و طبری نے تخریج کی ہے تو کسی شخص کا ذہن اس غلطی کی طرف جا ہی نہیں سکتاتھا۔ یہ روایت ہی ان آیات کا صحیح مطلب سمجھنے سے مانع ہوئی ہے۔

5۔ فعل ’عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤی‘ کا فاعل میں نے ایک کافر شخص سمجھا ہے۔ مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ مجھ سے صدیوں پہلے گزرے ہوئے ایک مشہور عالم نے شرح صحیح بخاری میں یہی لکھا۔ حافظ ابن حجر عسقلانی نے ’’فتح الباری‘‘ میں لکھاہے: لم یختلف السلف فی ان فاعل عَبَس ھو النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم واغرب الداودی فقال: ھو الکافر (9/521)۔ کاش! ابن حجر نے علامہ داؤدی کی پوری بات نقل کی ہوتی!