ــــــ 1 ــــــ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اُس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں محمد کی جان ہے،اِس امت کا کوئی فرد ہو یا کوئی یہودی اور نصرانی، اِن میں سے جو شخص بھی میرے بارے میں سن لیتا ہے،پھر اُس چیز پر ایمان نہیں لاتا جس کے ساتھ مجھے اُس کی طرف بھیجا گیا ہے اور دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے،وہ دوزخ والوں میں ہوگا۔
(صحیفہ ہمام بن منبہ، رقم91)
ــــــ 2 ــــــ
احنف بن قیس کی روایت ہے کہ میں رسول اللہ کے چچا کے بیٹے کی مدد کرنے نکلا تو راستے میں مجھے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ مل گئے۔ اُنھوں نے پوچھا : کہاں کا ارادہ ہے؟ میں نے کہا :رسول اللہ کے عم زاد کی مدد کرنے جارہا ہوں۔ اُنھوں نے کہا : لوٹ جاؤ،اِس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب دو مسلمان اپنی تلواروں کے ساتھ ایک دوسرے کے مقابل ہو جائیں اور دونوں ایک دوسرے کو قتل کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں تو دونوں دوزخ کے کنارے پہنچ جاتے ہیں۔ پھر جب اُن میں سے ایک دوسرے کو قتل کر دیتا ہے تو قاتل اور مقتول، دونوں دوزخ کی آگ میں جا پڑتے ہیں۔ اِس پر میں نے عرض کیا :یا رسول اللہ، یہ قاتل تو ٹھیک ہے، لیکن مقتول کس وجہ سے؟ آپ نے فرمایا :اِس لیے کہ وہ بھی اپنے حریف کو قتل کرنے کے لیے بے تاب تھا۔ (بخاری، رقم6583)
ــــــ 3 ــــــ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پیر اور جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ پھر ہر اُس شخص کو بخش دیا جاتا ہے جو اللہ کے ساتھ کسی کوشریک نہ ٹھیراتا ہو،اُس شخص کے سوا جس کے اور اُس کے بھائی کے درمیان عداوت ہو۔اُن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اِن دونوں کو اُس وقت تک مہلت دو، جب تک یہ آپس میں صلح کے لیے راضی نہ ہوجائیں۔(مسلم،رقم4658)