مواد پر جائیں

قرآن کی محفوظیت

ڈاکٹر عرفان شہزاد اردو

]’’نقطۂ نظر‘‘ کا یہ کالم مختلف اصحاب ِفکر کی نگارشات کے لیے مختص ہے۔ اس

میں شائع ہونے والے مضامین سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔[

20؍جولائی 1969ء کو انسان نے چاند پر پہلا قدم رکھا۔ یہ واقعہ پوری دنیا میں رپورٹ ہوا۔ ماہرین نے اِس کے وقوع پر اتفاق کیا۔ اس اتفاقِ راے کو علمی زبان میں ’اجماع‘ کہتے ہیں۔ یہ اتنے زیادہ لوگوں کا اجماع تھا کہ اُن سب کا مل کر ایک جھوٹ گھڑنے پر اتفاق کر لینا ممکن نہیں ہو سکتا تھا۔ جمِّ غفیر کے اِس اتفاق کو علمی زبان میں ’تواتر‘ کہتے ہیں۔ پھر یہ واقعہ ہر دور کے اجماع و تواتر کے ساتھ ایک نسل سے دوسری نسل کو مسلسل رپورٹ ہوتا ہوا ہم تک پہنچا۔ چنانچہ اِس کے وقوع پر آج بھی اجماع ہے۔ یہ ماضی کے اجماع و تواتر کے بغیر ممکن نہیں۔ آج ایک فرد کے لیے اس کے وقوع پر یقین موجودہ اجماع سے پیدا ہوتا ہے۔ چنانچہ اِس کی تفتیش میں پڑنے سے پہلے اِس کو سچا مانا جاتا ہے، پھر تحقیقِ مزید یا تفصیلات معلوم کرنے کے لیے ڈاکیومنٹڈ (Documented) ثبوت بھی دیکھ لیے جاتے ہیں، جو اگر دستیاب نہ بھی ہو سکیں، تب بھی اِس کے وقوع پر شک نہیں کیا جاتا۔ تاریخ کا ہر اجماعی اور متواتر واقعہ اِسی طرح نقل ہوتا اور اپنا یقین پیدا کرتا ہے۔

اب تصویر کا دوسرا رخ دیکھیے۔ اِس واقعے سے متعلق کچھ اختلافی روایات بھی تاریخ نے نقل کی ہیں۔ اُن کے مطابق، یہ ایک جعل سازی تھی۔ اِس کے ثبوت میں کچھ تجزیے بھی پیش کیے جاتے ہیں، جن کی کوئی علمی حیثیت تسلیم نہیں کی جاتی، اِس کے باوجود کچھ لوگ اِن تجزیوں کی بنا پر اِس واقعے کو مشکوک مانتے ہیں۔

اب قرآن مجید کا معاملہ دیکھیے۔ اِس کے ایک متن اور ایک قراءت پر ساری دنیا کے مسلمانوں کا اجماع ہے۔ اُن کا یہ اجماع ماضی کے اجماع اور تواتر کے بغیر ممکن نہیں۔ چنانچہ قرآن کے ایک متن اور ایک قراءت کی محفوظیت پر اعتماد مسلمانوں کے آج کے اجماع و تواتر سے پیدا ہوتا ہے۔ اِس کے ثبوت کے لیے سند یا ڈاکیومنٹڈ (Documented) شواہد طلب نہیں کیے جاتے، البتہ تحقیقِ مزید کے لیے ماضی میں اِس پر اجماع و تواتر کے شواہد دیکھے جاتے ہیں۔

کسی واقعے پر اجماع و تواتر حالات کے تابع ہوتا ہے۔ واقعے کے صدور کے وقت یہ پیدا نہ ہو تو آیندہ کبھی پیدا نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ کوئی غیر اجماعی واقعہ کسی دور میں مشہور ہو جائے تو اہل علم و تحقیق جانتے ہیں کہ وہ اجماعی اور متواتر نہیں تھا۔ قرآن مجید کے ایک متن اور ایک قراءت پر اتفاق مسلمانوں کی پہلی کمیونٹی میں نہ ہوگیا ہوتا تو یہ بعد میں کبھی نہیں ہو سکتا تھا۔ چنانچہ جن واقعات پر صحابہ کا اجماع نہیں ہوا، وہ آج بھی اختلافی ہیں۔

مسلمانوں کے اِس اتفاق یا اجماع و تواتر کے مقابل میں چند انفرادی روایات ہیں، جو بتاتی ہیں کہ قرآن کی پہلی تدوین ناقص تھی۔ کچھ آیات اس میں شامل ہونے سے رہ گئیں تھیں۔ کچھ حفاظ ایک جنگ میں شہید ہو گئے تھے۔ قرآن کا کچھ حصہ جو اُنھیں یاد تھا، وہ قرآن میں شامل نہ ہو سکا تھا، وغیرہ۔ یہ سب بھی تاریخ میں موجود ہے، مگر انفرادی روایات کی صورت میں، جو صحابہ کے اِس اجماع کے خلاف ہے کہ عرضۂ اخیرہ کی قراءت اُن سب کے پاس محفوظ تھی، جس میں سے کچھ بھی ضائع نہیں ہوا اور اُنھوں نے اُسے اگلی نسل کو منتقل کر دیا۔ تب سے اب تک یہ متواتر نقل ہوتا ہوا ہم تک پہنچا ہے۔

پہلی مسلم کمیونٹی کو اگر وہ تردد لاحق ہوتے جو اِن روایات میں بیان ہوئے ہیں تو بعد والے ایسا قرآن وصول پاتے جس پر اتفاق نہ ہوتا، مگر حقیقتِ واقعہ یہ نہیں ہے۔ عرضۂ اخیرہ کی قراءت پر صحابہ کا اتفاق تھا۔ پھر خلیفۂ سوم، حضرت عثمان نے اِس کو سرکاری اہتمام سے شائع کرانے اور نج کے نسخوں کو تلف کرنے کا حکم دیا۔ حضرت عثمان نے لوگوں کو ایک قرآن پر جمع نہیں کیا، بلکہ جس قراءت پر وہ پہلے سے جمع تھے، اُسی کو سرکاری اہتمام سے شائع کرایا۔ اِس قراءت کو قراءتِ عامہ کہتے ہیں۔

جماعتِ صحابہ میں سے کچھ لوگوں کے پاس عرضۂ اخیرہ سے پہلے کی کچھ قراءتیں بھی موجود تھیں، جو منسوخ ہو گئی تھیں، وہ بھی انفرادی روایات کی صورت میں اُن سے منقول ہوئیں۔ اُن کے کچھ تفسیری اقوال تھے، جو بے احتیاطی سے متنِ قرآن سمجھ لیے گئے۔ یہ بھی تفسیری روایات میں نقل ہوئے، لیکن اصل متنِ قرآن کا حصہ کبھی نہیں بنائے گئے۔ وہ علما اور قراء کی دل چسپی کی چیزیں تھیں اور اُنھی کے حلقوں میں رہیں۔

بعد میں کچھ علاقوں میں قراءتِ عامہ سے مختلف قراءتیں رائج ہوئیں، جیسے افریقہ کے بعض ممالک میں۔ اہل علم و تحقیق جانتے ہیں کہ وہ قراءتِ عامہ نہیں تھیں۔ مثلاً تیسری صدی ہجری کے آخر میں قیروان کے قاضی، عبداللہ بن طالب نے قراءتِ عامہ کی جگہ نافع کی قراءت جاری کرنے کا حکم دیا۔1 تب سے وہاں کے لوگ اُسے پڑھتے ہیں۔ اِس حکم کا باعث غالباً یہ ہوا کہ یہ لوگ فقہ مالکی کے پیرو تھے اور امام مالک قراءت میں نافع کے اختیار کو ترجیح دیتے تھے۔ لیکن قراءتِ عامہ سے متعلق کوئی سراغ نہیں کہ مسلمانوں میں یہ قراءت کس نے رائج کی، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ کسی نے رائج نہیں کرائی، ہمیشہ سے عوام و خواص میں رائج چلی آتی تھی۔

قرآن مجید کے متن کی محفوظیت کے معاملے میں سب سے زیادہ متہم اہل تشیع ہیں، مگر دیکھا جا سکتا ہے کہ اُن کے ہاں بھی یہی قرآن اپنے ایک ہی متن و قراءت کے ساتھ حفظ و تلاوت اور علمی اشتغال کا مرجع ہے۔

امت اگر مختلف اوقات میں مختلف متون یا قراءتوں سے قرآن پڑھتی رہی تھی اور قرآن کے ایک متن و قراءت پر اتفاق بعد میں پیدا ہوا تو تاریخ سے اِس کے ثبوت پیش کرنے ہوں گے، جس میں دکھایا جائے کہ ایک سے زائد متون کہاں کہاں رائج تھے؟ ایک علاقے کے لوگ دوسرے علاقے کے لوگوں سے ملتے تو اختلاف قراءات کے باعث اُن کے درمیان کیا مسائل پیش آتے؟ علما قرآن کے مختلف متون کی وجہ سے آیات کے حوالے دیتے ہوئے کیا رعایات ملحوظ رکھتے؟ پھر یہ دکھانا ہو گا کہ مسلمانوں کی اکثریت نے کب اور کیسے مختلف متون کو چھوڑ کر ایک متن و قراءت پر اتفاق کیا؟ یہ ہمہ گیر تبدیلی کیسے وقوع پذیر ہوئی؟

قرآن کی ترویج و اشاعت سے متعلق جو بات بھی کہی جائے، اُسے امت کی پوری تاریخ سے جوڑ کر دکھانا ہوگا، کیونکہ قرآن چند افراد یا چند حلقوں کے مطالعے کی کتاب نہیں تھی، بلکہ یہ پوری امت کے ہاں رائج تھی۔ چنانچہ اِس میں ایک حرف کی تبدیلی بھی ہوتی تو یہ پوری امت کا مسئلہ بن جاتا، چہ جائیکہ یہ سمجھا جائے کہ امت میں کبھی ایک قراءت رائج رہی، کبھی دوسری یا ایک عرصے تک امت کا قرآن کی قراءت پر اتفاق نہ تھا۔ ایسا ہوتا تو یہ عدم اتفاق بھی متواتراً نقل ہوتا، لیکن مسلمانوں کی تاریخ ایسے کسی واقعے کے ذکر سے خالی ہے۔

درست علمی رویہ یہ ہے کہ انفرادی روایات اگر حقیقتِ واقعہ کے خلاف ہوں تو روایات کو رد کر دیا جاتا ہے، حقائق کو مشکوک نہیں مانا جاتا۔

قرآن کے حفظ و تلاوت اور اس کے ساتھ مسلمانوں کا علمی اشتغال ہر روز لاکھوں بار پیش آنے والا واقعہ ہے۔ گویا قرآن کے ایک متن و قراءت پر امت کے اجماع و تواتر کا اعادہ ہر روز ہوتا چلا آ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اِس کے متن و قراءت میں کوئی غلطی اور کوئی اختلاف بار نہیں پا سکتا۔ قرآن کے کسی نسخے میں کاتب یا چھاپے کی غلطی رہ جائے تو وہ غلطی ہی سمجھی جاتی ہے، وہ امت میں رائج نہیں ہوتی۔

قرآن کی محفوظیت ہی کے سبب اس کے پرانے نسخے محفوظ کرنے کا اہتمام نہیں کیا گیا۔ یہ زحمت اُن کتابوں کے لیے کی جاتی ہے جو نادر ہوتی ہیں۔

قرآن کا اولین نسخہ یا اولین دور کے نسخے اگر آج بھی دستیاب ہوتے تو اُن کی قدامت کا ثبوت اجماع و تواتر کی گواہی ہی ہوتی، جو پہلے ہی قرآن کے ایک متن و قراءت پر اجماع کی صورت میں میسر ہے۔ اس اجماع و تواتر کی تاریخ قرآن کے حفظ و ناظرہ کی روایت، اس کی تفاسیر و تراجم اور فقہی کتب میں اس کے حوالوں کی صورت میں الگ سے محفوظ ہے۔

یہ حقیقت ملحوظ رہنی چاہیے کہ زبان کی قراءت اپنے رسم الخط پر منحصر نہیں ہوتی۔ بعض الفاظ جیسے لکھے جاتے ہیں، ویسے پڑھے نہیں جاتے۔ اہل زبان کو اعراب یا فونیٹکس (Phonetics) کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہی معاملہ عربی زبان اور قرآن مجید کی قراءت کا ہے۔ نہ عربی زبان رسم الخط پر منحصر تھی، نہ قرآن کی قراءت۔ عرب عام طور پر لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے، اُن کی بڑی تعداد نے زبانی طور پر قرآن پڑھا اور یاد کیا تھا، تاہم لکھا ہوا قرآن بھی ہمیشہ موجود رہتا تھا۔ عربی کے رسم الخط میں ارتقا ہوتا رہا اور اب تک ہو رہا ہے، مگر اِس سے قراءت پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ قرآن کو کسی بھی زبان کے حروف تہجی میں لکھ دیا جائے، اُس کی قراءت وہی رہے گی، جو چلی آ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کے متن میں کتابت کے چند مسائل جو شروع میں درج ہوگئے اور روایت کے احترام میں برقرار رکھے گئے ہیں، اُن کے درست تلفظ میں بھی امت کبھی متردد نہیں ہوئی۔ چنانچہ آج بھی جب بچوں کو قرآن پڑھایا جاتا ہے تو بتایا جاتا ہے کہ اُن الفاظ کو اُس طرح نہیں پڑھنا، جس طرح لکھے ہیں، بلکہ ویسے پڑھنا ہے، جیسے قراءت کی روایت بتاتی ہے۔ مثلاً:

’بِأَييِّكُمُ الْمَفْتُونُ‘(القلم 68: 6) میں ’ بِأَييِّكُمُ ‘میں ایک ’ی‘زائد ہے۔

’وَلَئِن مُّتُّمْ أَوْ قُتِلْتُمْ لَاإِلَى اللّٰهِ تُحْشَرُونَ ‘‎(آل عمران 3: 158)،’ لَاإِلَى اللّٰهِ ‘میں ’ل‘ کے بعد ایک الف زائد ہے۔ رسم الخط کے مطابق پڑھا جائے تو جملے کے معنی الٹ ہو جاتے ہیں۔

’لَاأَذْبَحَنَّهُ ‘(النمل 27: 21)، یہاں بھی ’ل ‘کے بعد ایک الف زائد ہے۔ رسم الخط کی پیروی کی جائے تو جملے کے معنی الٹ ہو جاتے ہیں۔

قرآن کی قراءت کی محفوظیت کا یہ بڑا ثبوت ہے۔

قراءتِ عامہ بعد میں قراءتِ عاصم یا قراءتِ حفص بھی کہلائی۔ اس کی وجہ یہ ہوئی کہ جس وقت مختلف قراءتیں اپنے قاریوں کے ناموں سے مشہور رہی تھیں، امام حفص، جو قراءت عامہ ہی پڑھاتے تھے، اُسے قراءت حفص کہا جانے لگا۔ یہ نام، ظاہر ہے کہ اُن کی تعلیمِ قرآن کے کچھ مدت بعد یا اُن کی وفات کے بعد مشہور ہوا ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ امام حفص کے معاصرین قراءتِ عامہ کو قراءت حفص نہیں کہتے تھے، قراءت عامہ ہی کہتے ہیں۔ اُن میں سے چند اہل علم کے نام یہ ہیں:

خلیل ابن احمد (100- 170ھ)، سیبویہ (148-180ھ)، ان کے شاگرد اخوش (وفات: 210 ھ)، الفرا (144- 207 ھ)، بلکہ حفص کے بعد بھی امام بخاری (256 ھ) قراءت عامہ کو قراءت عامہ ہی کہتے تھے۔2

امام حفص (وفات: 180 ھ) کی پیدایش سے پہلے یا اُن کے پچپن میں، یعنی پہلی صدی ہجری کے آخر میں تابعین جب ہندوستان اور مشرقِ بعید کے دوسرے علاقوں میں آئے تو اُس وقت بھی ان کے ہاتھوں میں یہی قرآن تھا، جو آج ہمارے پاس میں ہے۔

حفص کی قراءت کی سند سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ وہ قراءتِ عامہ ہی پڑھاتے تھے۔ اُن کے استاد عاصم بن ابی النجود نے یہ قراءت ابو عبدالرحمٰن سلمی ( وفات: 73ھ) سے سیکھی تھی، جنھوں نے حضرت عثمان کے دور میں کوفہ کی جامع مسجد میں قرآن مجید کی تعلیم دینا شروع کی اور متواتر چالیس سال تک قرآن کی تعلیم دیتے رہے۔3 کوفہ میں اُنھوں نے حضرت علی سے قرآن پڑھا اور سیدنا حسن اور سیدنا حسین کو پورا قرآن پڑھایا۔ پھر وہ زید بن ثابت سے بھی ملے اور ان سے پورا قرآن پڑھا اور اُنھوں نے پایا کہ حضرت زید اور حضرت علی کی قراءت میں ایک حرف کا بھی فرق  نہ تھا۔4

اِس سلسلے میں ابوعبد الرحمٰن السلمی کا اپنا بیان بھی نقل ہوا ہے:

کانت قراءة أبي بکر وعمر وعثمان وزید بن ثابت والمھاجرین والأنصار واحدة، کانوا یقرؤن القراءة العامة، وھي القراءة التي قرأھا رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم علٰی جبریل مرتین في العام الذي قبض فیه، وکان زید قد شھد العرضة الأخیرة، وکان یقرئ الناس بھا حتی مات.

(البرہان، الزرکشی 1/ 331)

’’ابوبکر و عمر، عثمان، زید بن ثابت اور تمام مہاجرین و انصار کی قراءت ایک ہی تھی۔ وہ قراءت عامہ کے مطابق قرآن کی تلاوت کرتے تھے۔ یہ وہی قراءت ہے جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات کے سال جبریل امین کو دو مرتبہ قرآن سنایا۔ عرضۂ اخیرہ کی اِس قراءت میں زید بن ثابت بھی موجود تھے۔ دنیا سے رخصت ہونے تک وہ لوگوں کو اِسی کے مطابق قرآن پڑھاتے رہے۔‘‘

عبد الرحمٰن سلمی سے عاصم بن ابی النجود نے یہ قراءت سیکھی۔ عاصم کو ’أقرأ الناس لقراءة زيد‘، یعنی زید کی قراءت کا سب سے بڑا قاری کہا جاتا تھا۔5 حفص اِنھی عاصم کے شاگرد تھے، چنانچہ ابن سوار البغدادی نے اِس ضمن میں امام حفص کا بیان نقل کیا ہے:

قرأت هذه القراءة على عاصم حرفًا حرفًا ولم أخالف عاصمًا في حرف من كتاب اللّٰه تعالى. وأخبرني عاصم أنه قرأ على أبِي عبد الرحمٰن السلمى وهي قراءة أبي عبد الرحمٰن التي أخذها عن أصحاب رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم: عثمان وعلي وزيد بن ثابت وعامتها عن علي بن ابى طالب رضوان اللّٰه عليهم. قال حفص: فصححت القراءة على عاصم حتى لم أشك في حرف منها.(المستنیر فی القراءات العشر 236-237)

’’میں نے اس قراءت کا ایک ایک حرف عاصم سے سیکھا ہے اور کتاب اللہ کے کسی ایک حرف میں بھی عاصم سے اختلاف نہیں کیا۔ عاصم نے مجھے بتایا کہ انھوں نے یہ قراءت ابو عبد الرحمٰن السلمی سے سیکھی اور یہ ابو عبد الرحمٰن کی وہی قراءت ہے جو انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ، یعنی عثمان، علی اور زید بن ثابت سے سیکھی اور اس کا بیش تر حصہ انھوں نے علی بن ابی طالب سے سیکھا۔ حفص کہتے ہیں کہ میں نے عاصم سے اپنی قراءت کی اس طرح تصحیح کی کہ مجھے اس کے کسی ایک حرف میں بھی شک نہیں رہا۔“

اِسی بنیاد پر بہت سے اہلِ علم عاصم کی قراءت کو صحتِ سند کے اعتبار سے باقی تمام قراءات کے مقابلے میں مستند ترین قرار دیتے تھے۔ چنانچہ امام طحاوی نے یحییٰ بن اکثم سے نقل کیا ہے:

إن كانت القراءة توخذ بصحة المخرج فما نعلم لقراءة من صحة المخرج ما صح لقراءة عاصم.

(شرح مشکل الآثار 1 / 263)

’’اگر قراءت کا انتخاب صحت سند کے اعتبار سے کیا جائے تو ہمارے علم کے مطابق کسی قراءت کو اس درجے کی صحت سند حاصل نہیں جو عاصم کی قراءت کو حاصل ہے۔‘‘6

  1. ۔ ترتیب المدارک، قاضی عیاض بن موسیٰ 1/ 483۔
  2. ۔ History of Quran، ڈاکٹر شہزاد سلیم 1155- 1156۔
  3. ۔ المستغفری، فضائل القرآن 1/ 347۔ ابن مجاہد، السبعۃ فی القراءات 68۔
  4. ۔ شرح مشکل الآثار 1 /263۔
  5. ۔المستغفری، فضائل القرآن 1/ 347۔
  6. ۔ ماخوذ از’’میزان: توضیحی مطالعہ: اصول و مبادی (4)‘‘، اشراق، نومبر، 2025ء۔