]’’نقطۂ نظر‘‘ کا یہ کالم مختلف اصحاب ِفکر کی نگارشات کے لیے مختص ہے۔ اس
میں شائع ہونے والے مضامین سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔[
احادیث میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور دجّال کے واقعات
اِس مضمون میں دجّال کے لیے ایک علیحدہ باب مختص کیا گیا ہے؛ چنانچہ اِس حصّے میں دجّال کی صرف وہی تفصیلات شامل کی گئی ہیں جو سابقہ باب میں بیان نہیں ہوئیں۔ درج ذیل میں بیان کردہ احادیث میں واقعات کو ترتیب وار پیش کیا گیا ہے، اور آخری حدیث میں دجّال اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مقابلے — یعنی سوویت یونین اور امریکہ کے مابین سرد جنگ — کا خلاصہ اختصار کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
دجّال کا نمودار ہونا، لوگوں کا اس پر ایمان لانا، نہ ماننے والوں پر قحط مسلط کرنا اور زمین سے خزانے نکالنا (1922ء – 1937ء)
دجّال کے باب میں اُس کے ظہور سے لے کر زمین کے خزانوں کے ظاہر ہونے تک کے واقعات پر تفصیلی بحث کی گئی ہے، جسے وہاں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ واقعات سوویت یونین کے قیام (1922ء) سے لے کر دوسرے پانچ سالہ منصوبے (1933ء–1937ء) تک کے دورانیے سے گہری مطابقت رکھتے ہیں۔
دجّال کا نوجوان کو قتل کرنا اور حضرت عیسیٰ کا مشرقی دمشق کے مینار پر نزول — یوگوسلاویہ میں کمیونسٹ قبضہ اور نوآبادیاتی مسلم خطّوں میں امریکی داخلہ (نومبر 1942ء)
حدیث کے مطابق دجّال ایک نوجوان کو قتل اور پھر زندہ کرے گا، اور وہ خوشی سے ہنستا ہوا واپس آئے گا، اور اُسی وقت اللہ عیسیٰ علیہ السلام کو مشرقی دمشق میں سفید مینار پر نازل کرے گا۔1
جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا، دجّال کا لوگوں کو قتل کرنا اور پھر اُنھیں دوبارہ زندہ کرنا درحقیقت کمیونسٹ انقلابات کی علامت ہے، جہاں طاقت کے ذریعے سےسابقہ حکومتوں کا تختہ الٹایا جاتا ہے اور اُن کی جگہ نئی حکومتیں قائم کی جاتی ہیں۔ یہ نوجوان یوگوسلاویہ کی نمایندگی کرتا ہے، جو 1918ء میں قائم ہوا اور 1929ء میں سلطنتِ یوگوسلاویہ کے طور پر جانا گیا۔ دوسری جنگِ عظیم کے دوران میں یوگوسلاویہ میں جرمن حملے کے بعد کمیونسٹ تحریک نے زور پکڑا۔ نومبر 1942ء میں، کمیونسٹوں نے یوگوسلاویہ کی آزادی کی تحریک کو منظم کرنے کے لیے اینٹی فاشسٹ کونسل برائے قومی آزادی (AVNOJ) کی بنیاد رکھی، جس نے اُس وقت یوگوسلاویہ کے کچھ علاقوں پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔ قابلِ ذکر ہے کہ یوگوسلاویہ کے کئی علاقوں نے نئے کمیونسٹ اقتدار کو رضاکارانہ طور پر قبول کیا، جو اُس نوجوان کی خوشی سے واپسی کے مانند ہے، جسے ’’قتل‘‘ کیا گیا اور پھر ’’زندہ‘‘ کیا گیا۔
اِسی دوران میں نومبر 1942ء میں، امریکہ نے اتحادی افواج کے ساتھ مل کر اپنا پہلا بڑا زمینی آپریشن — آپریشن ٹارچ (Operation Torch) — شروع کیا۔ حدیث میں مذکور ’’مینار‘‘ عام طور پر کسی خطّے میں مسلم آبادی اور اسلامی شناخت کی علامت سمجھا جاتا ہے اور ’’سفید مینار پر نزول‘‘ کو علامتی طور پر امریکہ کے اُن مسلم اکثریتی علاقوں — جیسے الجزائر اور مراکش — میں داخل ہونے سے تعبیر کیا گیا ہے، جہاں یہ فوجی کارروائی انجام دی گئی۔ یہ علاقے اُس وقت عیسائی نوآبادیاتی قوّتوں کے زیرِ تسلّط تھے، اور یورپی جنگی محاذوں کے بعد یہ خطّے ایک اہم عسکری میدان بن چکے تھے۔ اِسی لیے حدیث میں مسجد کو دمشق میں دکھایا گیا ہے، بالکل ویسے ہی، جیسے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں دمشق بازنطینی عیسائی سلطنت کے زیرِ حکومت ایک اہم عسکری مرکز تھا۔
دمشق کا مشرقی حصّہ تاریخی طور پر صحرا کی جانب کھلتا تھا، جہاں سے بازنطینی دور میں اکثر عرب قبائل یا ایرانی افواج حملہ آور ہوا کرتی تھیں۔ بعینہٖ دوسری جنگِ عظیم میں امریکہ نے بھی بحیرۂ روم کے راستے شمالی افریقہ میں داخل ہو کر اپنی پہلی بڑی زمینی فوجی کارروائی اُسی سمت سے کی — اُس طرف سے جہاں سے تاریخ میں بارہا بیرونی حملہ آور گزر چکے تھے۔
نزولِ مسیح کا منظر — دوسری جنگِ عظیم میں امریکہ کی شمولیت اور عالمی کردار کا آغاز (1942ء سے آگے)
حدیث میں بیان ہوا ہے کہ نبی عیسیٰ علیہ السلام زعفرانی لباس میں ملبوس، اپنے ہاتھ دو فرشتوں کے پروں پر رکھے ہوئے زمین پر اتریں گے۔ جب وہ اپنا سر جھکائیں گے تو اُس سے شبنم کے مانند قطرے ٹپکیں گے اور جب سر اُٹھائیں گے تو اُن سے موتیوں کی طرح شبنم کے قطرے جھڑیں گے۔2
یہاں فرشتوں کے پروں پر ہاتھ رکھ کر نزول اُن عوامل کی علامت ہے جو امریکہ کو دوسری جنگِ عظیم میں لے آئے — جن میں جاپان کا امریکہ پر حملہ اور جرمنی و اٹلی کی جانب سے اعلانِ جنگ شامل ہیں۔ اِن واقعات کے بعد امریکہ نے اپنی تنہائی پسندانہ پالیسی ترک کرتے ہوئے عالمی سطح پر عملی کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔ اِسی طرح، نبی عیسیٰ علیہ السلام کے سر جھکانے اور پھر اُٹھانے کے ساتھ پسینے کا موتیوں کی طرح بکھرنے کا منظر، دوسری جنگِ عظیم میں امریکہ کی باوقار شمولیت کی علامت ہے، جب کہ زعفرانی لباس امریکہ کی اقتصادی عظمت اور بے پایاں وسائل کا استعارہ ہے۔
حضرت عیسیٰ کے سانس کی خوشبو اور کفّار کی موت — دوسری جنگِ عظیم میں اخلاقی بیانیہ اور مخالفین کی شکست (1942ء–1945ء)
حدیث میں بیان ہوا ہے کہ جو بھی کافر نبی عیسیٰ علیہ السلام کے سانس کی خوشبو پائے گا، زندہ نہ رہ سکے گا، بلکہ ہلاک ہو جائے گا، اور نبی عیسیٰ علیہ السلام کا سانس وہاں تک پہنچے گا جہاں تک اُن کی نگاہ جا سکتی ہو۔3
یہ بیان صحیح مسلم کی جس حدیث4 میں آیا ہے، اُس میں دجّال کے ظہور اور انجام کو یاجوج و ماجوج کے واقعات سے پہلے بیان کیا گیا ہے۔ چونکہ سوویت یونین (دجّال) کا ظہور نازی جرمنی (یاجوج و ماجوج) سے پہلے ہوا، اِس لیے حدیث میں اُس کا تذکرہ اور خاتمہ بھی پہلے آیا۔ یہ ترتیب متوازی بیانیے کی اُس روایتی ساخت کی عکاس ہے جس میں ایک موضوع کو مکمل بیان کر کے دوسرے متوازی موضوع کی طرف منتقل ہوا جاتا ہے — خواہ دونوں واقعات تاریخی طور پر ایک ہی دور میں واقع ہوئے ہوں۔ دجّال سے متعلق دوسری جنگِ عظیم کے اہم واقعات کو اختصار کے ساتھ ’’حضرت عیسیٰ کے سانس کی خوشبو اور کفّار کی ہلاکت‘‘ جیسے علامتی بیان میں سمیٹ دیا گیا، اور حدیث کا بیانیہ دجّال کی ہلاکت پر مکمل ہوا۔ اِس کے بعد حدیث میں یاجوج و ماجوج کے واقعات کو الگ تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا، جو اُسی دور کے متوازی، مگر جداگانہ تاریخی پہلو کی نمایندگی کرتے ہیں۔
اِس سیاق میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ’’سانس کی خوشبو‘‘ علامتی طور پر اُس اخلاقی بیانیے کی نمایندگی کرتی ہے جو نسل پرستی، جارحیت اور فسطائیت کے خلاف تھا، اور جسے امریکہ نے دوسری جنگِ عظیم میں اختیار کیا۔ یہاں ’’کافر‘‘ سے مراد وہ مخالف محور طاقتیں ہیں — یعنی جرمنی، اٹلی اور جاپان — جو اِس بیانیے کی منکر تھیں۔ اُن کا ہلاک ہونا نہ صرف جنگ میں اُن کی فیصلہ کن شکست کا علامتی اظہار ہے، بلکہ اِس ’’سانس‘‘ کے دور رس اثرات کی بھی نمایندگی کرتا ہے، جو اُس اخلاقی بیانیے کی کامیابی کا ثبوت ہے، جس نے جنگ کے بعد اقوامِ متحدہ(United Nations)، انسانی حقوق اور عالمی امن جیسے نظریات کی صورت میں ایک نئے عالمی اتفاقِ راے کی بنیاد رکھی۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام، مسلمان اور دجّال کے خلاف جدوجہد
احادیث میں اُن مسلمانوں کے بارے میں دو بہ ظاہر متضاد روایات ملتی ہیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ مل کر دجّال کے مقابلے میں کھڑے ہوں گے۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ آپ خود نماز کی امامت کریں گے، جب کہ دوسری میں ذکر ہے کہ آپ امامت کی پیشکش کو قبول نہیں کریں گے۔ بہ ظاہر یہ دونوں روایات ایک دوسرے سے متصادم دکھائی دیتی ہیں، لیکن تاریخی پس منظر میں اِن کا مطالعہ کیا جائے تو یہ دراصل دو الگ الگ سیاسی حقائق کی ترجمانی کرتی ہیں جو سرد جنگ کے دوران میں مسلم ریاستوں کے تجربات سے نہایت قریب ہیں۔
یہ اُس روش کے برعکس ہے جس کا ذکر حدیث میں اُن لوگوں کے بارے میں کیا گیا ہے جو مدینہ میں تین بڑے زلزلوں کے بعد دجّال کی طرف لپکیں گے۔5
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی امامت — نیٹو ( NATO)میں شمولیت کے ذریعے سےترکی کی امریکی بلاک کے ساتھ وابستگی (1952ء سے آگے)
ایک حدیث میں آیا ہے کہ جب نماز کا وقت ہو گا تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے اور امامت کریں گے۔6
اِس روایت میں ترک مسلمانوں کے تاریخی حوالہ جات موجود ہیں: رومیوں کے خلاف معرکہ ’’العَماق‘‘71453ء میں سلطنتِ عثمانیہ کے ہاتھوں قسطنطنیہ کی فتح اور آخر میں ’’تلواریں لٹکا دینا‘‘، جو 1918ء میں عثمانیوں کے ہتھیار ڈالنے کی یاد دلاتا ہے۔ اِن حوالوں کو یکجا دیکھا جائے تو یہ حدیث ترک مسلمانوں کے تجربے کی طرف واضح اشارہ کرتی ہے۔8
یہاں ’’نماز کا وقت‘‘ اُس فیصلہ کن لمحے کی نمایندگی کرتا ہے جب قومیں ایک ہی قیادت کے پیچھے صفوں میں ترتیب سے کھڑی ہوتی ہیں، جب کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول سے مراد دوسری عالمی جنگ کے دوران میں ریاست ہاے متحدہ امریکہ کا عالمی منظرنامے پر داخل ہونا ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد ترکی نے فیصلہ کن طور پر امریکہ کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کیا—پہلے 1947ء میں ٹرومین ڈاکٹرائن(Truman Doctrine) کے تحت، اور پھر 1952ء میں نیٹو میں شمولیت کے ساتھ۔ اِس طرح ترکی نے عملاً اور علامتی طور پر اپنی جگہ اُس جماعت میں بنا لی جو امریکہ کی قیادت کے پیچھے صف بستہ کھڑی تھی۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا امامت سے انکار — امریکہ کا بغداد پیکٹ کی قیادت کرنے سے اجتناب (1955ء–1959ء)
ایک اور حدیث کے مطابق مسلمانوں کا امیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو امامت کی دعوت دے گا، لیکن آپ انکار کرتے ہوئے ارشاد فرمائیں گے: ’’تم میں سے بعض دوسروں پر حاکم ہیں‘‘۔9 ایک اور روایت میں ہے: ’’تمھارا امام تم ہی میں سے ہوگا‘‘۔10
اِن احادیث کو سرد جنگ کے ابتدائی دور کے تناظر میں سمجھنا زیادہ مناسب ہے۔ اُس وقت امریکہ نے جان بوجھ کر مسلم ممالک کی قیادت اپنے ہاتھ میں لینے سے احتراز کیا اور اُنھیں یہ ترغیب دی کہ وہ خود سوویت یونین کے مقابلے میں قائدانہ کردار ادا کریں۔ اِس حدیث کے اندر موجود علامتی معانی کی تعبیر یوں کی جا سکتی ہے:
جماعت کی نماز: یہاں جماعت کی نماز ایک ایسے منظم ادارے یا اجتماع کی علامت ہے جس میں ایک متعیّن قائد کے پیچھے کھڑا ہوا جاتا ہے۔ جس طرح مسلمان نماز میں امام کے پیچھے منظم صفوں میں کھڑے ہو کر اطاعت کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں، اُسی طرح یہ حدیث اجتماعی نظم، اتحاد اور قیادت کے تحت صف بندی کا استعارہ پیش کرتی ہے۔
مسلمانوں کا امیر: اِس پس منظر میں یہ امیر پاکستان ہے۔ آزادی (1947ء) کے بعد پاکستان نے شعوری طور پر خود کو مسلم دنیا کی پیش رو اور صفِ اوّل کی ریاست کے طور پر متعارف کرایا۔ پاکستان کے بانی، محمد علی جناح اور اُن کے بعد میں آنے والے حکمرانوں نے ریاست کے اسلامی اور اسٹریٹجک کردار کو اجاگر کیا۔ پاکستان نے ابتدائی ’’اسلامی کانفرنسوں‘‘ کے انعقاد اور عرب ریاستوں سے تعلقات کے فروغ کے ذریعے سے اپنی قیادتی سوچ کو عملی جامہ پہنایا۔ اِسی طرح امریکی پالیسی سازوں نے بھی پاکستان کو جنوبی ایشیا میں ایک وسیع تر مسلم بلاک کے لیے ’’مرکزِ ثقل‘‘ (Center of Gravity)کے طور پر دیکھا۔11
امامت کی دعوت: 1950ء کی دہائی کے اوائل میں پاکستان نے امریکہ کے ساتھ اتحاد کیا، SEATO (1954ء) اور بغداد پیکٹ (1955ء، بعد میں CENTO) میں شمولیت اختیار کی، اور اپنے آپ کو کمیونزم کے خلاف فطری مسلم اتحادی کے طور پر پیش کیا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو امامت کی دعوت دینا دراصل پاکستان کی اِس اپیل کی علامت ہے کہ امریکہ بغداد پیکٹ کی قیادت سنبھالے — ایک ایسا اتحاد جس میں ترکی، ایران، عراق، پاکستان اور برطانیہ شامل تھے۔12 پاکستان نے اِس معاہدے کو نیٹو کے نمونے پر تصور کیا جہاں امریکہ نے قیادت سنبھالی، افواج کو مربوط کیا اور ایٹمی چھتری فراہم کی۔
امامت سے انکار: اِس انکار کا مطلب یہ تھا کہ امریکہ نے پاکستان کی بارہا اپیلوں کے باوجود بغداد پیکٹ کا باقاعدہ رکن بننے سے اجتناب کیا۔ نیٹو میں اپنے فعال اور فیصلہ کن کردار کے برعکس، امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں ایسی ذمہ داری لینے سے گریز کیا۔
[ باقی]
- ۔ مسلم، رقم 2937۔
- ۔ مسلم، رقم 2937۔
- ۔مسلم، رقم 2937۔
- ۔مسلم، رقم 2937۔
- ۔ اُن کے تفصیلی ذکر کے لیے باب دجّال ملاحظہ کریں۔
- ۔ مسلم، رقم 2897۔
- ۔اس کا تعلق پہلی صلیبی جنگ کے دوران میں انطاکیہ کی لڑائی سے ہے، جس میں سلجوق ترک مسلمان شامل تھے۔
- ۔ دجّال کے باب میں اُن واقعات کا ذکر ملاحظہ کریں جو اُس کی آمد سے پہلے ہوں گے۔
- ۔مسلم، رقم 156۔
- ۔بخاری، رقم 3449۔
- ۔ U.S. Department of State. 1950. Foreign Relations of the United States, 1950, The Near East, South Asia, and Africa, Volume V. Document 837. Washington, DC: United States Government Printing Office. Accessed August 24, 2025.https://history.state.gov/historicaldocuments/frus1950v05/d837.
- ۔ U.S. Department of State. 1955-1957. Foreign Relations of the United States, 1955-1957, Near East Region; Iran; Iraq, Volume XII. Document 137. Washington, DC: United States Government Printing Office. Accessed September 2, 2025. https://history.state.gov/historicaldocuments/frus1955-57v12/d137.U.S. Department of State. 1955–1957. Foreign Relations of the United States, 1955–1957, Near East Region; Iran; Iraq, Volume XII. Document 145. Washington, DC: United States Government Printing Office. Accessed September 2, 2025. https://history.state.gov/historicaldocuments/frus1955-57v12/d145.U.S. Department of State. 1955–1957. Foreign Relations of the United States, 1955–1957, South Asia, Volume VIII. Document 219. Washington, DC: United States Government Printing Office. Accessed September 2, 2025. https://history.state.gov/historicaldocuments/frus1955-57v08/d219.