(سوانح مولانا امین احسن اصلاحی)
(28)
]صاحب ’’تدبر قرآن‘‘ کی وصیت کے مطابق
ان کے سوانح نگار نعیم احمد بلوچ کے قلم سے [
حج سے واپسی کے بعد مولانا اصلاحی کی ساری مصروفیات حلقۂ تدبر قرآن میں تدریس، تفسیر قرآن مجید ’’تدبر قرآن‘‘ کی تسوید اور ماہنامہ ’’میثاق‘‘ کے گرد گھومتی تھیں۔ وہ اپنی ان مصروفیات سے بہت مطمئن تھے۔ خاص طور پر حلقۂ تدبر قرآن میں طلبہ کی استعداد اور ان پر کی جانی والی محنت سے بہت خوش تھے۔ انھوں نے ’’میثاق‘‘ میں اس پر بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی۔
اس مضمون سے پتا چلتا ہے کہ انھوں نے طلبہ کو عربی کی تدریس امام فراہی کے مختصر رسالے ’’اسباق النحو ‘‘سے کی۔ اس کے بعد مولانا حمید الدین فراہی کی تیار کی ہوئی ایک کتاب ابتدائی ریڈر کے طور پر انھیں پڑھائی۔اس میں زبان کے ساتھ ساتھ نحوی مسائل کے اطلاق کی مشق کرائی۔ قرآن مجید کا درس روز اول سے برابر ہوتا رہا، جس میں زبان کے مسائل،نظمِ کلام اور تاویلِ آیات پر بحث ہوتی۔ اس ریڈر کے بعد ادب میں مزید ترقی کے لیے ان کو ’’کلیلہ و دمنہ ‘‘ پڑھائی گئی، اور اس کے بعد انھیں ’’مقدمہ ابن خلدون‘‘ شروع کرا دیا گیا۔ مقدمے کو جب طالب علموں نے اچھی طرح سمجھنا اور روانی سے پڑھنا شروع کر دیا تو انھوں نے مقدمہ چھوڑ کر انھیں ’’حماسہ ابو تمام‘‘ پورا پڑھا دیا۔ مزید ریڈر اور حدیث دونوں کے لیے انھوں نے امام مسلم کی صحیح مسلم پڑھائی۔ فقہ کے لیے ابن رشد کی ’’بدایۃ المجتہد‘‘ پڑھائی۔ یوں طلبہ ایک فقہ کے بجاے تمام معروف اور غیر معروف فقہی راے سے آگاہ ہو جاتے اور ان کا استدلال بھی ان کے سامنے آ جاتا۔ اس کے بعد شاہ ولی اللہ کی ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ پڑھائی۔ یہ نصاب پڑھانے کے بعد ان کی توقعات اور اہداف کیاتھے، اس کے بارے میں وہ لکھتے ہیں :
’’اس کے بعد میرا اندازہ یہ ہے کہ انھیں کسی چیز کے سبقاً سبقاًپڑھانے کی ضرورت نہیں رہے گی،بلکہ یہ ہر چیز کا مطالعہ خود کر سکیں گے۔ اور اس سے اخذ و استنباط کی راہیں خود کھول لیں گے اور یہی میرا مقصود ہے۔‘‘( مقالات اصلاحی1/ 324)
یہ طلبہ چونکہ جدید پڑھے لکھے لوگ تھے، اس لیے انھوں نے ان کے بارے میں لکھا:
’’یہ طلبہ اسلامی ذہن و فکر رکھنے کے ساتھ ساتھ عملاً اور صورتًا بھی خدا کے فضل سے مسلمان ہیں۔ میں نے یہ نئی قسم کے ’’ملّا‘‘ تیار کیے ہیں جو ان شاءاللہ ملّا کہے جانے سے کسی شرمندگی کا احساس نہیں کریں گے، بلکہ خوش ہوں گے۔ ان میں سے ہر ایک نئی تعلیم کے تمام اسلحے سے بھی مسلح ہے۔ خدا نے چاہا تو یہ اسلام کی حمایت اور الحاد و بے دینی کے خلاف جہاد کے لیے دو دھاری تلوار ثابت ہوں گے۔‘‘( مقالات اصلاحی1/ 321 – 323)
مولانا کا ہدف یہ تھا کہ اسی اصول پر وہ تین سال کی مدت میں جدید پڑھے لکھے لوگوں کو دین سیکھنے اور سکھانے کے لیے تیار کریں گے اور یہ لوگ مختلف شہروں میں اسی طرح کے حلقے قائم کر کے دین سیکھنے اور سکھانے کی ایک تحریک پیدا کریں گے۔
یہ سلسلہ 1965ء تک جاری رہا۔ پھر اسی برس مولا نا کو اپنی زندگی کے سب سے بڑے حادثے سے دوچار ہونا پڑا۔ اس حادثے نے ان زندگی کے معمولات کو ہلا کر رکھ دیا۔
ابوصالح اصلاحی کی شہادت
ان صفحات میں بتایا جا چکا ہے کہ مولانا کے تین بیٹوں میں سب سے بڑے ابو صالح اصلاحی تھے۔ مولانا کو ان سے خصوصی لگاؤ تھا۔ اپنے اس بیٹے سے انھیں بہت سی توقعات وابستہ تھیں۔ انھوں نے صحافت کے میدان کا انتخاب کیا اوراب ان کا شمار ملک کے سرکردہ صحافیوں میں ہوتا تھا۔ وہ اپنے وقت کے سب سے مشہور اخبار روزنامہ ’’مشرق‘‘ کے ایڈیٹر تھے۔ وہ20 ؍مئی 1965ء میں پی آئی اے کی پرواز سے عمرے کے لیے روانہ ہوئے۔ یہ جہاز مصر کے شہر قاہرہ میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔اس میں 124 افراد لقمۂ اجل بنے۔ جہاز میں بائیس صحافی بھی تھے، جن میں ایک ابو صالح تھے۔ ان کے سانحۂ ارتحال پر اور ان کے قریبی دوست اور اس دور کے نام ور صحافی آغا شورش کاشمیری نے جو تعزیتی مضمون لکھا، اس سے بہتر شاید ہی کوئی ابو صالح کے بارے میں لکھ سکے۔ اس سے قارئین ان کے بارے میں پوری تفصیلات جان لیں گے۔یہ مضمون شورش کاشمیری کی کتاب ’’نو رتن‘‘ میں موجود ہے۔ ہم یہ مضمون یہاں پیش کرتے ہیں :
’’عبدالمجید قریشی نے کہا: شورش صاحب، ان سے ملیے، یہ ہیں ابو صالح اصلاحی۔ انھی کے مقالے پر آپ نے ادارتی نوٹ لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر فکر و نظر کی راہیں کھول رکھی ہیں۔ زیرِ نظر مقالہ ان کے وسیع مشاہدے، عمیق مطالعے اور طویل تجزیے کا نتیجہ ہے!
ابو صالح اصلاحی––؟
میں نے مصافحہ تو گرم جوشی سے کیا، بلکہ دائیں بازو سے ان کی گردن پر قوس بناتے ہوئے معانقہ بھی کیا، مگر مجھے یقین نہ آیا کہ یہی ابو صالح اصلاحی ہیں۔ اول تو ان کے نام کی رعایت سے ایک معمر انسان کا تصور بندھا تھا، دوم جو کچھ ان کے قلم سے نکلا، سوادِ خط کی پختگی سے لے کر خیالات کی گھلاوٹ تک، یہ تسلیم کرتے ہوئے جھجک محسوس ہوئی کہ بالی عمر کا یہ نوجوان ہی ابو صالح اصلاحی ہے۔ اس وقت یہی کوئی بیس اکیس برس کے پیٹے میں تھے، لیکن چہرے مہرے سے سولہ سترہ برس کے نظر آ رہے تھے۔ نازک سا جسم تھا، آنکھیں متحرک بھی تھیں اور شوخ بھی، رنگ صاف تھا، چہرہ گول مٹول، زبان قینچی، چال ڈھال میں موجِ خرامِ یار کی آمیزش—اور یہ تھا ان سے دوستی کا آغاز۔
زمانہ گزرتا گیا، دوستی گہری ہوتی گئی۔ اخبار نویسی ابو صالح نے( روزنامہ )’’تسنیم‘‘ سے شروع کی، ’’چٹان‘‘ میں چار پانچ برس لکھتے رہے۔ ’’قلم قتلے ‘‘ ان کا خاص کالم تھا۔ انھی کے ذہن کی اختراع۔ ہلکی پھلکی طنز کرتے، افراد و اشخاص کو شاذ ہی چھیڑتے، خبروں کا پوسٹ مارٹم کرتے، یا ایسے نظریوں کو مطائبات(مزاح ) کی سان پر کستے جو ان کے نزدیک مضحک ہوتے۔ وہ کبھی اوچھا وار نہ کرتے؛ جو کچھ لکھتے صاف ستھرا لکھتے۔ انھیں مطائبات کے مزاج کا تمام و کمال اندازہ تھا۔ خوب سمجھتے تھے کہ قلم کہاں زخم بنتا ہے اور کہاں پھول کھلاتا ہے۔ ’’قلم قتلے‘‘سے نہ صرف ان کے قلم کا حسن بڑھا، بلکہ ایک اسلوب بن گیا۔
’’کوہستان‘‘ نکلا تو اس کے ایڈیٹر ہو کر راولپنڈی چلے گئے۔ ’’قلم قتلے‘‘ کی جگہ ’’آج کی باتیں‘‘ لکھنا شروع کیں۔ ’’مشرق‘‘ میں آ گئے تو عنوان ساتھ لے آئے۔ غرض یہ کہ روزناموں میں ان کا جوہر مکمل ہوتا گیا، حتیٰ کہ مکمل ایڈیٹر ہو گئے۔ جس پر چوٹ کرتے، وہ خود محسوس کرتا کہ لطائف الادب سے کوئی چیز ہو گئی ہے۔ مزاح دشنام نہیں اور نہ مسخرہ پن۔ مزاح کی خوبی یہ ہوتی ہے کہ جس شخص پر آپ چٹکی لے رہے ہوں، وہ خود بھی لطف اندوز ہو۔ تلخی یا ترشی اتنی ہونی چاہیے جتنی ہلکے ہلکے بخار کا سرور ہوتا ہے۔ ابو صالح اصلاحی ان نزاکتوں اور اداؤں سے بخوبی واقف تھے۔ ان کی تربیت ہی اس طرح ہوئی تھی کہ تحریر میں درشتی کے عادی نہ تھے۔ گفتگو کے انداز میں لکھتے، قلم برداشتہ لکھتے اور جو لکھتے ناپ تول کر لکھتے۔ الفاظ کے اسراف اور فکر کی تبذیر سے ان کی تحریریں بچ کر نکلتی تھیں۔
میرا ان کا ساتھ 1948ء کے اواخر سے تھا۔ تمام گاڑھی چھنتی رہی۔ ’’کوہستان‘‘ کے زمانے میں راولپنڈی چلے گئے تو صبح شام کی یکجائی میں فرق آ گیا، ورنہ اس سے پہلے ان کا معمول تھا کہ گھر سے ناشتہ کر کے صبح ہی دفتر چٹان میں چلے آتے اور شام سات آٹھ بجے تک ساتھ رہتے۔ ہمارا کھانا پینا ان دنوں اکٹھا ہی تھا۔ دوپہر کو نظامی صاحب (حمید نظامی)کے ساتھ کافی ہاؤس میں ایک ڈیڑھ گھنٹا گزارتے۔ شام کو لارینگ میٹرو یا کیسو میں۔ حمید نظامی کے اس حلقۂ احباب میں تین آدمی باتونی تھے: شیخ خورشید احمد (سابق وزیرِ قانون، حکومتِ پاکستان)، شورش کاشمیری؛ اور ابو صالح اصلاحی۔ شیخ صاحب چونچیں لڑانے میں یکتا تھے، ابو صالح عموماً سیاسیات پر بحث کرتے، کبھی ہلکا پھلکا مزاح بھی۔
جب وہ مستقل طور پر راولپنڈی میں رہنے لگے تو قدرتاً لاہور سے روزمرہ کا تعلق چھوٹ گیا، لیکن جب کبھی دوسرے تیسرے مہینے لاہور آتے تو چوپال لگتی۔ نہ وہ ملے بغیر جا سکتے، نہ ہم ان سے ملے بغیر راولپنڈی جا کر واپس آتے۔ تعلقات ان کے اور لوگوں کے ساتھ بھی تھے، لیکن یار باش ہمارے ہی تھے۔ عیب ان کا ہمارے نزدیک ایک ہی تھا کہ پان کھاتے تھے۔ دھبہ ان کے دامن پر کوئی نہ تھا۔ سونا کھرا تھے، صاف ستھری جوانی، چمکتا دمکتا شباب۔ نفس کی سرکشی سے نفور، دل آئینہ؛ جو کچھ دیکھتے یا پڑھتے،اسی پر سوچتے۔ ہم لوگ ہر کوچہ سے ہو آئے تھے اور کسی قدر ہم میں عشق کا تیکھا پن بھی تھا۔ ابو صالح صرف کتابوں کے شیدائی تھے۔ ان کے نزدیک حسن و عشق کے معاملات صرف غزل کے مضامین تھے؛ وہ انھیں شاید انسانوں کے برتنے کی چیز ہی نہ سمجھتے تھے۔ تحریروں میں ان کی حسن پایا جاتا تھا، لیکن چال ڈھال میں بالکل ہی کورے تھے۔ انھیں قطعی احساسِ حسن نہ تھا اور نہ ان کے اندر شاعرانہ قسم کا کوئی ولولہ تھا۔ ’’جوانی چنانچہ افتاد دانی‘‘ کا اطلاق ان پر ہوتا ہی نہیں تھا۔
شہید سہروردی( وزیر اعظم متحدہ پاکستان) ایک زمانے میں دن کا بڑا حصہ دفتر چٹان میں گزارتے تھے۔انھیں چونکہ رامش و رنگ کا شوق تھا، لہٰذا ’’اس بازار‘‘ میں جاتے ہوئے بھی ہچکچاتے نہ تھے۔ دن بھر کی دماغی مشغولیتوں کے بعد سیر و تفریح ضرور کرتے، لیکن ابو صالح ہم میں رچ بس کر بھی اس کوچے میں ہمارے ساتھ نہ رہے۔ مطلب یہ کہ انھیں رامش و رنگ اور غنا و سماع سے کوئی دل چسپی نہ تھی۔ ’’اس بازار میں‘‘( بازارِ حسن پر شورش کی معرکہ آرا کتاب ) کی تالیف کے دور میں دو چار دفعہ ساتھ گئے، لیکن اس سے زیادہ نہیں—کہ دوستانہ سفر میں انھیں اس ایک موڑ سے بھی گزرنا پڑتا۔ہجر و وصال قسم کی چیزوں سے نا آشنا تھے۔
امریکہ سے واپسی پر دو چار روز کے لیے جرمنی میں قیام کیا۔ ہم لوگ وہاں انٹرنیشنل پریس انسٹی ٹیوٹ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے پہلے سے موجود تھے۔ ان ملکوں میں انسان کے برہنہ ہونے میں کیا دیر لگتی ہے، لیکن ان کے لیے کسی رخ سے کوئی اٹکاؤ نہ تھا۔ وہ ہر چیز پر تبصرہ کرتے—پانوں کی ڈھولی سے لے کر کینیڈی کی گولی تک—لیکن بے تکلف دوستوں میں بھی بے تکلف موضوعوں کو نہیں چھیڑتے تھے۔
لاہور سے مشرق نکلا تو اس کے ایڈیٹر ہو گئے، لیکن اب وہ بے تکلف صحبتیں نہ رہی تھیں۔ نظامی اللہ کو پیارے ہو چکے تھے، میں اپنے اشغال میں ڈوب رہا تھا، اور انھیں روزنامے کی ادارتی ذمہ داریوں سے فراغت نہ تھی۔ ’’مشرق‘‘ نے اخبارات کو ایک نیا رنگ و روغن دیا، اور وہ صبح شام کی ریاضت کے بغیر محال تھا۔ تاہم ملاقات ہر روز ہوتی—کبھی وہ دفتر ’’چٹان‘‘ میں آ جاتے، کبھی میں ’’مشرق‘‘ کے دفتر میں چلا جاتا۔ کون سا موضوع تھا جس پر ہم نے طبع آزمائی نہ کی ہو۔ نظامی کی طرح وہ بھی گرد و پیش کی گھٹن کو محسوس کرتے اور ہنسی خوشی میں بہت کچھ کہہ جاتے، لیکن ان کا خیال تھا کہ اسلامی حکومت اسی ڈھب کی ہوتی ہے۔ مطمئن تو وہ ہمیشہ ہی رہے، لیکن اپنی شادی کے بعد بہت مطمئن ہو گئے تھے۔ ان پر ہر طرح کا زمانہ آیا، لیکن ان کی بعض عادتیں منجھی ہوئی تھیں کہ انھیں قناعت سے بسر کرنے کا ڈھنگ آ گیا تھا۔
ایک نام ور باپ کے ہونہار بیٹے تھے۔ اپنے والد، مولانا امین احسن اصلاحی سے انھوں نے دو چیزیں ورثے میں پائیں: ایک تمکنت، جس میں غرور کا شائبہ نہ تھا؛ دوسری قناعت، جو بڑے بڑوں میں نہیں ہوتی۔ وہ چھوٹی سی عمر میں اس دولت سے بہرہ ور ہو گئے تھے۔ مدرسۃ الاصلاح سرائے میر سے پڑھ کر نکلے تو ہندوستان تقسیم ہو رہا تھا۔ پاکستان چلے آئے۔ والد جماعتِ اسلامی کے نائب صدر تھے؛ خود بھی جماعت ہی کے ہو گئے، لیکن والد سے بہت پہلے جماعت چھوڑ دی۔ ذہن ہمیشہ اسلامی رہا—اس کی وجہ ابتدائی تعلیم و تربیت کے علاوہ والد کا اثر اور گھر کا ماحول تھا۔ اپنے والد کی بے پناہ عزت کرتے تھے۔ اکثر جرنلسٹوں میں جو چھچھورا پن ہوتا ہے، وہ ان میں مطلقاً نہ تھا، بلکہ چھوا تک نہیں تھا۔
عربی، فارسی اور اردو انھوں نے مدرسے میں پڑھیں؛ انگریزی خود سیکھی۔ حتیٰ کہ پیچیدہ سے پیچیدہ کتابوں پر بھی قادر ہو گئے۔ لکھنا والد سے سیکھا، اور برس دو برس میں مشّاق ہو گئے۔ ان کے ہاں مشکل الفاظ کا گزر ہی نہ تھا۔ سیدھے سادے الفاظ میں ما فی الضمیر ادا کرتے، اور جو کچھ ہوتا اس خوبی سے بیان کرتے کہ سام یا قاری کے دل پر نقش ہو جاتا۔ وہ اپنی کھیپ کے غالباً آخری نوجوان ایڈیٹر تھے جنھیں اردو، فارسی اور عربی کا بنیادی علم حاصل تھا۔ ان زبانوں کے کلاسیکی لٹریچر سے کما حقہ آگاہ تھے۔ مشرقیت ان کے رگ و ریشے میں رچی ہوئی تھی۔ ایک لمحے کے لیے بھی اپنے آپ کو انگریزی تہذیب کے حوالے نہ کیا، بلکہ انگریزی تہذیب کو اپنے حوالے کر لیا تھا۔
’’قاہرہ‘‘ جانے کا انھیں کوئی شوق نہ تھا۔ عمرہ کرنا چاہتے تھے اور اسی شوق میں تیار ہو گئے۔ اسٹیٹ بینک والوں نے آخری وقت تک زرِ مبادلہ کے انتظار میں رکھا۔ جس روز انھیں موت کے سفر پر روانہ ہونا تھا، اس سے ایک دن پہلے دفتر ’’چٹان‘‘ میں تشریف لائے اور دیر تک گپ بازی کرتے رہے۔ میں نے کہا:صبح ہوائی اڈے پر حاضر ہوں گا۔
کہنے لگے: آغا صاحب، اس تکلف کی کیا ضرورت ہے؟ تیسرے روز تو واپس آ رہا ہوں۔
میری عادت ہے کہ بہت کم لوگوں کو ہوائی اڈے یا ریلوے اسٹیشن پر لینے یا چھوڑنے جاتا ہوں؛ شاید زندگی میں ایک آدھ ہی ایسا ہوا ہو۔ لیکن اس روز میرا دل بار بار آمادہ کرتا رہا کہ ضرور جاؤں۔ چنانچہ گرمی کی شدت کے باوجود وقت پر ہوائی اڈے پہنچا۔ وہ پابہ رکاب تھے۔ دیکھتے ہی معانقہ کیا۔
’’آغا صاحب آپ نے واقعی تکلف کیا۔ ‘‘
’’نہیں بھائی، تکلف کیسا! طبیعت چاہ رہی تھی۔ ‘‘
’’ترسوں تو واپس آ رہا ہوں۔ ‘‘
’’ میاں! اس اڑن کھٹولے کا اعتبار ہی کیا ہے۔‘‘ معانقہ کیا اور جہاز پر سوار ہونے کے لیے پسنجر روم میں چلے گئے۔
الفاظ منہ سے نکل گئے، لیکن اس وقت سان گمان میں بھی نہ تھا کہ یہ جہاز عزرائیل کے پر لے کر اڑ رہا ہے؛ نہ اس کی تقدیر میں واپسی ہے، نہ اس کے مسافروں کی۔ اگلے دن صبح گیارہ بجے کے لگ بھگ مجید نظامی نے فون کیا کہ پی آئی اے کا وہ طیارہ جو صحافیوں کو لے کر قاہرہ گیا تھا، آج قاہرہ کے نزدیک گر کر تباہ ہو گیا ہے—سبھی لقمۂ اجل ہو گئے۔
ان کی تصویریں آنکھوں میں گھومنے لگیں۔ ابو صالح اصلاحی سے جو آخری معانقہ کیا تھا، منظر نگاہوں میں پھر گیا۔ ایک تصویر سامنے آ گئی—ان کی آخری تصویر۔ ہاں، وہ خوب رو، گندمی رنگ، موٹی موٹی آنکھیں، کٹار سی ناک، کھلا ماتھا؛ پہلے اچکن پہنتے تھے، اب سوٹ پہننے لگے تھے۔ قامت میانہ سے کچھ کم ہی تھی، البتہ بدن کی ضخامت بڑھ گئی تھی۔ افسوس، یہ دن ان کی موت کے نہ تھے، لیکن دیکھتے ہی دیکھتے ہو گئے۔
حمید نظامی صاحب کا انتقال ہوا تو راولپنڈی سے لاہور پہنچے۔ جنازہ جا رہا تھا، راستے بھر زار و قطار روتے رہے۔ بڑی دیر میں دل سنبھلا۔ طبیعت کئی روز مضمحل رہی۔ چونکہ تمام دوستوں میں کم عمر تھے، اس لیے ہم انھیں عموماً چھیڑا کرتے۔ کہتے: میاں! ہم لوگ اللہ کو پیارے ہو جائیں تو ہمارے محاسن و محامد پر مقالہ ضرور لکھنا، تصویر ضرور چھاپ دینا—بس، میں ہو تو نمبر بھی نکالنا! وہ ہنس دیتے۔ کہتے: غضب کرتے ہو بھائی! آپ لوگ ابھی کہاں مرتے ہیں—ابھی تو ہم نے زندگی کا سفر شروع کیا ہے۔
لیکن انھیں یہ بھی معلوم نہ تھا کہ جس سفر پر جا رہے ہیں، وہ آخری سفر ہے۔ وہ ’’قاہرہ‘‘ نہیں، عدم آباد جا رہے تھے، اور ان کی جواں مرگی کا ماتم ہمارے ہی مقدر کا نوشتہ تھا۔
ہائے او موت! تجھے موت ہی آئی ہوتی‘‘(165-173)