مواد پر جائیں

علامات قیامت اور تاریخی واقعات: بائیبل اور قرآن کی روشنی میں (9)

محمد سعد سلیم اردو

]’’نقطۂ نظر‘‘ کا یہ کالم مختلف اصحاب ِفکر کی نگارشات کے لیے مختص ہے۔ اس

میں شائع ہونے والے مضامین سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔[

دجال کی تلاش – سوویت چالوں کی کھوج (1946ء سے)

حدیث میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دجّال کو تلاش کرنا1 اِس بات کی علامت ہے کہ سرد جنگ کے دوران میں امریکہ نے سرگرمی سے کمیونسٹ سرگرمیوں کی نشان دہی کرنے، اُن کے اثر و رسوخ اور کم زوریوں کا اندازہ لگانے کی کوشش کی۔ بعض مواقع پر اُس نے اِن کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے فوجی اور خفیہ طاقت کا استعمال بھی کیا۔

دجّال کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھتے ہی پگھل جانا — کیوبا میزائل بحران کے بعد سوویت یونین کی معاشی کم زوری (اکتوبر 1962ء سے آگے)

حدیث میں آتا ہے کہ دجّال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھ کر پگھل جائے گا، جیسے نمک پانی میں پگھل جاتا ہے۔2

اِس حدیث کی ایک مماثلت کیوبا میزائل بحران سے جوڑی جا سکتی ہے، جو سرد جنگ کا وہ واحد لمحہ تھا جب امریکہ اور سوویت یونین براہِ راست آمنے سامنے آئے۔

اِس ٹکراؤ کا نتیجہ سوویت فتح نہیں تھا، بلکہ اُس کی ساختی کم زوریوں کا انکشاف تھا۔ کیوبا میں ایٹمی میزائل نصب کرنے کا اقدام دراصل اِس بات کا اعتراف تھا کہ سوویت یونین کے پاس وہ طویل فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت نہیں تھی جو امریکہ کو پہلے ہی بین البرِّاعظمی میزائلوں اور اسٹریٹیجک بمبار طیاروں کے ذریعے سےحاصل تھی۔ کیوبا پر امریکی بحری ناکا بندی نے سوویت بحریہ کی کم زوری کو مزید بے نقاب کیا، جو امریکی بحری طاقت کو چیلنج کرنے کے قابل نہ تھی۔ معاشی طور پر بھی سوویت یونین کم زور تھا، کیونکہ اُس کا سخت گیر نظام طویل تنازع برداشت نہیں کر سکتا تھا، جب کہ امریکی معیشت لچک دار اور حالات کے مطابق بڑھنے کی اہل تھی۔ سیاسی طور پر، بحران کے حل نے سوویت یونین کی کم زوری کو نمایاں کر دیا۔ اگرچہ سوویت یونین نے ترکی سے امریکی میزائلوں کے انخلا کے ذریعے سے خاموشی سے ایک رعایت حاصل کی، مگر عوامی تاثر ایک پسپائی کا تھا۔ سوویت یونین کی عظیم طاقت کی برابری کا تاثر ٹوٹ گیا اور پروپیگنڈے اور حقیقت کے درمیان خلیج سب پر عیاں ہو گئی۔

اِس کے جواب میں، سوویت قیادت نے دوبارہ ایسی ذلت سے بچنے کے لیے فوجی صلاحیتوں پر بھاری سرمایہ کاری کی۔ تاہم یہ کوشش وسیع وسائل کو چوسنے کا باعث بنی اور یوں سوویت یونین بہ تدریج ’’پگھلنا‘‘ شروع ہو گیا — ایک ایسا عمل جو حدیث میں دجّال کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھتے ہی گھلنے کی علامتی تصویر سے مشابہ ہے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نیزے پر دجّال کا خون — امریکی اسلحے کے ذریعےسے افغانستان میں سوویت نقصانات (1986ء–1989ء)

حدیث کے مطابق، اگر اللہ دجّال کو اپنی حالت پر چھوڑ دیتا تو وہ آہستہ آہستہ پگھل کر فنا ہو جاتا، لیکن اللہ نے یہ طے کیا کہ دجّال کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں قتل ہونا ہے۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجّال کا خون اپنے نیزے پر لوگوں کو دکھائیں گے۔3

نیزے پر خون کا یہ منظر 1980ء کی دہائی کی افغان جنگ میں ایک واضح مماثلت پاتا ہے۔ ابتدا میں مجاہدین نے سوویت یلغار کا مقابلہ زیادہ تر قبضہ شدہ یا خفیہ طور پر فراہم کردہ سوویت اسلحے سے کیا، جو CIA کے ذریعے سے اِس طرح پہنچایا گیا کہ امریکی کردار پوشیدہ رہے۔ بعد میں امریکہ نے اپنا جدید اسلحہ فراہم کیا — سب سے مشہور ’’اسٹنگر میزائل‘‘ (Stinger missile) — جو سوویت فضائی طاقت کو چیرنے والا حقیقی ’’نیزہ‘‘ ثابت ہوا۔ اِس نیزے پر خون صرف طیاروں اور فوجیوں کے نقصان کی علامت نہ تھا، بلکہ اُس سے کہیں گہرا مطلب رکھتا تھا: سوویت یونین کے حوصلے، معیشت اور جنگی عزم کا زوال۔ سوویت ہیلی کاپٹروں کو آسمان سے گرتے دیکھنا اِس جنگ کا ٹرننگ پوائنٹ بن گیا، اور اِسی کے ساتھ سوویت ساکھ بھی بکھرنے لگی۔

تاہم، جیسا کہ حدیث خود اشارہ کرتی ہے، اگر یہ ہتھیار کبھی فراہم نہ بھی کیے جاتے تو بھی سوویت یونین اپنی داخلی کم زوریوں اور معاشی ناکامیوں کے بوجھ تلے پہلے ہی پگھل رہا تھا۔ نیزہ صرف اِس عمل کو تیز کرنے اور اُس کی قیمت کو دنیا کے سامنے ظاہر کرنے کا ذریعہ بنا اور یوں امریکی ہتھیار سوویت شکست کی علامت بن گئے۔

بابِ لُد پر دجّال کو پکڑنا اور قتل کرنا — سوویت نظام پر امریکی دباؤ اور دیوارِ برلن کے گرنے کے بعد کمیونسٹ پارٹی کی اجارہ داری کا خاتمہ(1989 ء –1990 ء)

احادیث کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجّال کو ’’لُد کے دروازے پر پکڑیں گے اور قتل کریں گے۔‘‘4

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لُد بازنطینی سلطنت کا ایک اہم تجارتی اور انتظامی مرکز تھا۔ یہ مقام تجارتی راستوں اور فوجی شاہراہوں کے سنگم پر واقع ہونے کی وجہ سے اُس خطے میں غیر معمولی اسٹریٹیجک اہمیت رکھتا تھا۔ بالکل اُسی طرح، 1989ء میں برلن — خاص طور پر دیوارِ برلن — سرد جنگ کا ایک مرکزی اور علامتی نکتہ بن چکا تھا، جہاں دو متضاد نظام آمنے سامنے کھڑے تھے۔ مغربی برلن سرمایہ دارانہ کامیابی اور آزاد معاشرے کی علامت بن گیا تھا، جب کہ مشرقی برلن، جو سوویت بلاک کے زیرِ اثر تھا، کمیونزم کی نظریاتی سرحدوں کی نمایندگی کرتا تھا۔ امریکہ اور اُس کے اتحادیوں نے مغربی برلن کو سرمایہ دارانہ ترقی کا شو کیس بنا دیا، جس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا معاشی فرق سوویت یونین کے لیے ناقابل برداشت ہوگیا۔

1989ء میں دیوارِ برلن کا گرنا نہ صرف سوویت اثر و رسوخ کے زوال کی علامت تھا، بلکہ یہ وہ لمحہ بھی تھا جب امریکہ نے موثر طور پر کمیونزم کو ’’پکڑ لیا‘‘ اور اُسے نظریاتی و سیاسی طور پر گھیر لیا۔ امریکہ نے سوویت یونین کے صدر، گورباچوف (Gorbachev) کے ساتھ سفارتی روابط کو مزید گہرا کیا اور کثیرالجماعتی جمہوریت اور معاشی اصلاحات پر زور ڈالا۔ نیٹو نے مشرقی یورپ میں اپنی سیاسی رسائی کو وسیع کیا اور سابقہ سوویت ریاستوں کو ماسکو کے اثر سے دُور لے گیا۔ اُسی وقت، امریکی مالیاتی اداروں نے معاشی اصلاحات کو فروغ دیا، جب کہ امریکی میڈیا اور ثقافتی اثر و رسوخ نے یورپ بھر میں آزادی کی لہر کو تقویت بخشی۔ خفیہ اداروں نے بھی سوویت ریاستوں کے اندر قوم پرستانہ رجحانات کو ابھارا، جس سے مرکزی کنٹرول مزید کم زور ہوا۔

1990ء تک، امریکہ کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے نتیجے میں کمیونسٹ پارٹی کی آئینی اجارہ داری کا خاتمہ ہوگیا — جو 1917ء سے سوویت اقتدار کی ریڑھ کی ہڈی تھی۔ یہ فیصلہ کن لمحہ علامتی طور پر دجّال کے ’’قتل‘‘ کی نمایندگی کرتا ہے، جیسا کہ احادیث میں پیشین گوئی کی گئی تھی۔ بالآخر 1991ء میں خود سوویت یونین ٹوٹ گیا اور کمیونزم بہ طور عالمی نظریہ تاریخ کا حصہ بن گیا۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا محفوظ شدہ قوم پر رحمت فرمانا — مغربی برلن اور متحدہ جرمنی کا اعتراف (1990ء)

حدیث کے مطابق، پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک ایسی قوم کے پاس جائیں گے جو دجّال کے فتنہ سے محفوظ رہی ہوگی۔ آپ اُن پر شفقت فرمائیں گے، اُن کے چہروں پر دستِ رحمت رکھیں گے اور اُنھیں جنت میں اُن کے مراتب سے آگاہ کریں گے۔5

یہ منظر مغربی برلن کی قسمت سے مماثلت رکھتا ہے۔ کئی دہائیوں تک اُس کی عوام نے دباؤ، تنہائی اور سوویت بلاک کی طرف سے مسلسل خطرات کو جھیلا، مگر وہ ثابت قدم رہے۔ مغربی برلن استقامت کی ایک زندہ مثال بنا رہا، جو دیوارِ برلن کے حصار کے باوجود کمیونزم کی لپیٹ میں آنے سے محفوظ رہا۔

جب 1989ء میں دیوارِ برلن گر گئی تو جرمن اتحاد کو ہر طرف سے یکساں پذیرائی نہ ملی۔ برطانیہ اور فرانس نے ہچکچاہٹ ظاہر کی، اُنھیں خدشہ تھا کہ کہیں یورپ میں دوبارہ جرمن غلبہ نہ ابھر آئے۔ اُس کے برعکس، امریکہ نے اتحاد کی بھرپور اور غیر مبہم حمایت کی۔ اُس نے اپنے اتحادیوں کو یقین دہانی کرائی، سفارتی دباؤ ڈالا، اور اِس بات پر زور دیا کہ جرمنی نیٹو ( NATO) اور یورپی برادری میں ضم رہے گا۔ یوں امریکہ نے مغربی برلن کی دہائیوں پر محیط ثابت قدمی کو ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ کامیابی میں بدل دیا۔ اِسی اعتبار سے، حدیث میں ایک محفوظ شدہ قوم پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شفقت کی جو تصویر پیش کی گئی ہے، وہ جرمنی پر امریکی اعتراف اور تائید کی صورت میں جھلکتی ہے، جب وہ ایک نئے دور میں داخل ہوا، جس کی بنیاد اتحاد اور خوش حالی پر تھی۔

دجال کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پیچھے کعبہ کا طواف کرنا —

سرد جنگ میں عالمی برتری کی کوشش (1946ء–1991ء)

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خانہ کعبہ کا طواف کرتے ہوئے دیکھا، جب کہ دجال اُن کے پیچھے چل رہا تھا۔6

اِس خواب میں علامتی طور پر امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان سرد جنگ کا خلاصہ بیان ہوا ہے۔ یہاں کعبہ عالمی طاقت کے مرکز کی نمایندگی کرتا ہے، بالکل اُسی طرح، جیسے اسلامی روایت میں یہ خدا کے گھر کے طور پر مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ جس طرح مسلمان خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کعبہ کا طواف کرتے ہیں، اُسی طرح اِس خواب میں طاقت کے اِس علامتی مرکز کا طواف عالمی غلبے کی جستجو کو ظاہر کرتا ہے۔

اِس حدیث کی علامتی تعبیر سرد جنگ کے دوران میں امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان عالمی طاقت کے مقابلے کی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام امریکہ کی نمایندگی کرتے ہیں، جو عالمی قیادت سنبھالے ہوئے تھا، جب کہ دجّال سوویت یونین کی علامت ہے، جو ہمیشہ امریکہ کے پیچھے رہ کر برتری حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہا، لیکن ناکام رہا۔ کعبہ کا طواف امریکہ اور سوویت یونین کے عالمی اثر و رسوخ کی علامت ہے، جہاں امریکہ نے اپنی برتری قائم رکھی۔

یہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور دجّال کا طواف کے دوران میں براہِ راست ایک دوسرے سے نہ لڑنا اِس حقیقت کی علامت ہے کہ سرد جنگ کے دوران میں امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان جتنی بھی جھڑپیں یا معرکے ہوئے، وہ سب بالواسطہ تھے، براہِ راست جنگ کبھی نہ ہوئی۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دو آدمیوں کے کندھوں پر سہارا لے کر طواف کرنا سرد جنگ کے دوران میں امریکہ کے اہم اتحادیوں، یعنی برطانیہ اور مغربی جرمنی، کی حکمتِ عملی کے تحت صف بندی اور فیصلہ کن سیاسی حمایت کی علامت ہے۔

[ باقی]

  1. ۔ مسلم، رقم 2937۔
  2. ۔ مسلم، رقم 2897۔
  3. ۔ مسلم، رقم 2897۔
  4. ۔ مسلم، رقم 297۔
  5. ۔ مسلم، رقم 2937۔
  6. ۔ بخاری، رقم 5902۔