مواد پر جائیں

رمضان اور تعلق باللہ

گفتگو:محمد حسن الیاس / اخذ و تدوین: شاہد رضا اردو

رمضان المبارک وہ بابرکت مہینا ہے جو ہر سال ہماری زندگیوں میں روحانی بہار بن کر آتا ہے۔ اس مہینے کی رونقیں، عبادات کا اہتمام، مساجد کی آبادیاں اور دلوں میں پیدا ہونے والا ایک خاص جذبہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ رمضان محض دنوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک عظیم موقع ہے؛ اپنے رب کے ساتھ تعلق کو ازسرِنو سمجھنے، مضبوط کرنے اور اپنی زندگی میں مثبت تبدیلیاں پیدا کرنے کا موقع۔

بہ طور انسان جب ہم شعور کی آنکھ کھولتے ہیں تو سب سے پہلے اپنے وجود اور اپنے گرد و پیش کی کائنات پر غور کرتے ہیں۔ ہر وہ شخص جو کسی خارجی تعصب کے بغیر اپنی فطرتِ سلیمہ کی روشنی میں اس وجودی حقیقت پر غور کرتا ہے تو اس پر یہ واضح ہو جاتا ہے کہ میں ایک مخلوق ہوں، اور میرا وجود اور گرد و پیش کی کائنات اس کی شہادت دیتی ہے۔ اس غور و فکر کا فطری نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہم خود بھی مخلوق ہیں اور یہ پوری کائنات بھی کسی خالق کی تخلیق ہے۔ یہ حقیقت عقل اور علم، دونوں کی روشنی میں واضح ہو جاتی ہے کہ ہم بنائے گئے ہیں، خود بخود وجود میں نہیں آئے۔ یہاں سے ایک ناگزیر سوال جنم لیتا ہے کہ اگر ہم مخلوق ہیں تو ہمارا خالق کون ہے؟

خالق کی تلاش کے اس سفر میں انسان سرگرداں ہو جاتا ہے۔ وہ جب اپنے ارد گرد نظر دوڑاتا ہے تو اُس کو مختلف جوابات ملتے ہیں؛ کچھ لوگ اس کائنات کو ہی اس تخلیق کا خالق قرار دے رہے ہوتے ہیں، کچھ لوگ اس جستجو میں سرگرداں ہونے کے بعد اپنی روحانی سفر کی معراج کی تسکین کو اس سوال کا جواب قرار دیتے ہیں اور کچھ لوگ ایک الوہی دعوت کے نتیجے میں وجود پذیر ہونے والی روایت کے علم بردار بن کر ہمیں خدا کے وجود کا تعارف کراتے ہیں۔ یعنی کوئی کائنات کو ہی خالق مان لیتا ہے، کوئی اپنے باطنی تجربات اور روحانی کیفیات کو جواب سمجھ لیتا ہے اور کچھ لوگ ایک ایسی روایت سے روشناس ہوتے ہیں جو خدا کا واضح، مربوط اور معقول تعارف پیش کرتی ہے۔ یہ تیسرا ذریعہ دراصل انبیا علیہم السلام کا ذریعہ ہے۔ یہ وہ برگزیدہ لوگ ہیں جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہمیں خدا نے منتخب کیا ہے، ہم خالق کائنات کی طرف سے انسانوں کے لیے ہدایت لے کر آئے ہیں، ہم اس کی بات تم تک پہنچانا چاہتے ہیں اور جو تمھاری فطرت کے سوالات ہیں، جو وجودی حقائق کے پلازیبل (plausible) نتائج ہیں، اُن کی پوری خبر ہم خالق سے لے کر تمھیں دے دیتے ہیں۔

انبیا علیہم السلام کی یہی خبر ہے جو ہمیں خدا کا حقیقی تعارف کراتی ہے۔ جب ہم اس خبر کو ایمان اور یقین کے ساتھ قبول کر لیتے ہیں تو اس کے نتیجے میں ہمارے وجود کی بنا پر خالق اور مخلوق کے درمیان کچھ لازمی تعلقات، رشتے اور تقاضے پیدا ہوتے ہیں۔ غور کیا جائے تو خالق کے ساتھ ایک باشعور بندے کے، مخلوق ہونے کی حیثیت سے، جو تعلقات اور تقاضے پیدا ہوتے ہیں، وہ تین ہی نوعیت کے ہیں:

ایک پرستش،

دوسرے اطاعت،

اور تیسرے نذر (قربانی)۔

پہلا تعلق پرستش کا ہے۔ جب ہم کسی کو اپنا خالق مان لیتے ہیں تو اس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ ہم اسی کی عبادت کریں، اسی کے سامنے جھکیں اور اپنی بندگی کا اظہاراسی کے لیے کریں۔ اسی کو یہ باور کرایا جائے گا کہ ہم روے زمین پر اس کے علاوہ کسی دوسری ہستی کے ساتھ اپنے اس نوعیت کے تعلق کو قائم نہیں کرتے۔ یہی وہ چیز ہے جس سے عبادات کا پورا کا پورا تصور پیدا ہوتا ہے۔ نماز اسی پرستش کی علامت ہے۔ ایک بندۂ مومن، ایک عبد اپنے معبود کے ساتھ، ایک غلام اپنے آقا کے ساتھ اپنے تعلق کا اظہار کرتا ہے۔ قیام، رکوع اور سجدہ دراصل اس بات کا علامتی اظہار ہے کہ زمین پر اللہ کے سوا کوئی ہستی ایسی نہیں جو عبادت کی مستحق ہو۔ اس کا کوئی ہم سر نہیں، اس کا کوئی ساجھی نہیں، دنیا میں اس کا ایسا کوئی شریک و سہیم نہیں ہے جو خلق میں یا تدبیر امور میں اس کا معاون ہو، وہ اکیلا ہے، وہ یگانہ ہے، وہ بے ہمتا ہے، وہ یکتا ہے۔ چنانچہ یہ پہلا تعلق ہے، جو ایک بندۂ مومن کا اپنے خالق کے ساتھ، ایک عبد کا اپنے معبود کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ یعنی اپنے خالق کی پرستش کی جائے گی۔

دوسرا تعلق اطاعت کا ہے۔ اگر وہ خالق ہے تو ظاہر بات ہے کہ وہ حی و قیوم خالق ہے۔ اس کا کچھ منشا ہوگا، کچھ خواہشات ہوں گی، کچھ احکام و ہدایات ہوں گے، اس کے حدود وقیود ہوں گے جن کے مطابق وہ اپنے بندوں کو چلانا چاہتا ہے۔ خالق کائنات یہ کہتا ہے کہ میں نے تمھیں دنیا میں امتحان کے لیے بھیجا ہے؛ امتحان کا نتیجہ اور جزا و سزا بھی مرتب ہوگی۔ اب اس جزا و سزا میں کامیابی کے لیے اس کی شریعت کے مجھ سے متعلق کچھ تقاضے ہیں؛ وہ تقاضے اس کے اوامر اور نواہی ہیں۔ اب اگر میں عبد ہوں تو اپنے معبود پر ایمان کا یہ ناگزیر تقاضا ہے کہ میں اس کی اطاعت کروں۔ یعنی اس کے احکام کے آگے سرِ تسلیم خم کر دوں، اس کی اتھارٹی اور فیصلہ کن حیثیت کو اپنی زندگی میں مانوں۔ میری فطرت میں جو روشنی موجود تھی، جو فجور وتقویٰ کی رمک موجود تھی، اس کی تفصیلات کو اگر اس نے پیغمبر اور قرآن و سنت کے ذریعے سے شریعت میں ڈھال دیا ہے تو اب اس کی اطاعت مجھ پر لازم ہے۔ اس کی طرف سے دیے گئے احکام، ہدایات اور حدود ہی ہمارے لیے معیار ہیں۔ چنانچہ ایک بندۂ مومن کے لیے ایمان کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ وہ اللہ کے احکام کے سامنے سرِ تسلیم خم کرے۔

تیسرا تعلق نذر اور قربانی کا ہے۔ اپنے وجود سے کسی چیز کی نذر اور قربانی کی جائے گی تو وہ خالص اسی ذاتِ واحد کے لیے ہو سکتی ہے، کسی دوسرے کے لیے نہیں ہو سکتی۔ کسی چیز کو صرف خدا کی نذر کیا جائے گا تو اس سے قربانی وجود پذیر ہوتی ہے؛ جو اطاعت کا جذبہ ہے، اس سے روزہ وجود پذیر ہوتا ہے اور اسی طریقے سے جو پرستش کا جذبہ ہے، اس سے نماز وجود پذیر ہوتی ہے۔ چنانچہ انسان جب اپنی کسی چیز کو خالص اللہ کے لیے پیش کرتا ہے تو یہ اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ وہ اپنی جان، مال اور خواہشات تک کو اللہ کی رضا پر قربان کرنے کے لیے تیار ہے۔ قربانی اسی جذبے کی علامت ہے، روزہ اسی اطاعت کا مظہر ہے اور نماز اسی پرستش کا عملی اظہار ہے۔

چنانچہ بندۂ مومن کی حیثیت سے یہ وہ جہات ہیں جن سے ہم خالق کے ساتھ متعلق ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بتاتا ہے کہ ان تمام عبادات کا اصل مقصد تزکیہ ہے، یعنی انسان کا پاکیزہ ہونا۔ اس پاکیزگی کی تین جہات ہیں:

1۔ علم و عمل کی پاکیزگی۔

2۔ خور و نوش کی پاکیزگی۔

3۔ بدن کی پاکیزگی۔

عبادات ہمیں اسی پاکیزگی پر قائم رہنے اور اس کے بڑھانے کی مہمیز بنتی ہیں۔ قرآن مجید واضح کرتا ہے کہ نماز انسان کو فواحش اور منکرات سے روک دیتی ہے،1 روزہ حدود آشنا بننے لیے فرض کیا گیا ہے،2 اور قربانی کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تک نہ گوشت پہنچتا ہے نہ خون، بلکہ تقویٰ اور وہ جذبہ پہنچتا ہے جو تمھارے دل کے اندر پنہاں ہے کہ اللہ کے اذن پر اگر جان قربان کرنے کا بھی موقع آتا ہے تو ہم اس سے بھی دریغ نہیں کریں گے؛3 یہ ہم علامتی طور پر ایک جانور کی جان خدا کی نذر میں پیش کر رہے ہیں۔ چنانچہ یہ جو ساری عبادات کا نظام ہے، اس کا مقصد ہمارے علم و عمل، اخلاق، رویوں، معاملات، خور و نوش اور بدن کی پاکیزگی اور تزکیہ ہے۔

مذہب ہم سے یہ پاکیزگی اس لیے چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ان بندوں کے امتحان کے نتیجے میں جو جزا و سزا کا ایک منصوبہ مرتب کیا ہے، اس میں وہ پاکیزہ لوگوں کو اپنی جنت کا ابدی شہری بنانا چاہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے ایک عظیم انعام تیار کر رکھا ہے؛ ہمیشہ کی جنت، دائمی زندگی اور اس میں خوف اور غم سے پاک وجود۔ اللہ تعالیٰ بندۂ مومن کو انعام کے طور پر اپنی بادشاہی میں شریک کرنا چاہتا ہے؛ اب خدا ہر عیب سے منزہ اور ستودہ صفات ہے، اس لیے یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ ان بندوں کو اس میں شامل کر لے کہ جن کے دلوں میں پاکیزگی کا شائبہ تک نہیں ہے۔ چنانچہ مذہب اور عبادات یہ چاہتے ہیں کہ ہم پاکیزہ بنیں۔ اگر ہم ان سب پر عمل پیرا ہیں اور وہ نتیجہ حاصل نہیں ہو رہا جو مطلوب ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ عبادات محض رسوم اور آداب بن کر رہ گئی ہیں، اور ایسی عبادات کا اللہ کی بارگاہ میں کوئی فائدہ نہیں ہے۔ ان عبادات کا اثر ہماری زندگی میں ظاہر نہ ہو تو ایسی عبادات اللہ کے ہاں بے وزن ہو جاتی ہیں۔

مذہبی اور الہامی روایت کی ماضی کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جب مذہبی ذہن دین کی اس اصل اورینٹیشن (orientation) — آخرت — کو تبدیل کر کے دنیا کے ٹینجیبل (tangible) مقاصد، یعنی نظام مصطفیٰ کے قیام، غلبۂ اسلام کی جدوجہد یا خلافت اسلامیہ کے احیا پر متوجہ کر دیتا ہے تو یہ پورا کا پورا عبادات کا نظام فکر اپنی اصل سے ہٹ کر بے روح ہو جاتا ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پھر عبادت میں دل نہیں لگتا۔ عصر حاضر میں اس پس منظر میں وجود پذیر ہونے والی پوری تحریک کے بانی کا جو نظریہ تھا، اس کو شاعر نے شعر میں اس طرح بیان کیا ہے:

میری زندگی کا مقصد تیرے دیں کی سرفرازی

میں اسی لیے مسلماں میں اسی لیے نمازی

یعنی نمازی تو مجھے ہونا تھا اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق قائم کر کے پاکیزگی حاصل کرنے کے لیے، لیکن اس عبادت کی جو اورینٹیشن تھی، وہ بالکل تبدیل ہو کر رہ گئی، یعنی میں دین کی سرفرازی میں نمازی کیوں ہوں، اس لیے کہ دین کی سرفرازی اصل مقصود ہے، نماز کا کوئی فائدہ نہیں۔ چنانچہ عبادت کا مقصود ختم ہو گیا۔ جب عبادت کا مقصود ختم ہو گیا تو ہمارے معاشرے میں لاکھوں لوگوں کے حج کرنے، قربانیاں دینے، نمازیں پڑھنے اور رمضان میں نماز تراویح پڑھنے ـــــ جب کہ رمضان میں تو پورا کا پورا عالم اسلام ایک طرح سے خدا کی بندگی کا مظہر بن جاتا ہے ـــــ کے باوجود معاشرے میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آتی۔ علم و اخلاق میں پستی ابتر ہوتی چلی جا رہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عبادت کا جو مقصود تھا، عبادت کی جو حقیقت تھی، عبادت جس منزل تک ہمیں لے جانا چاہتی تھی، اس منزل کو ہم نے تبدیل کر دیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عبادات کثرت سے ادا تو ہوتی ہیں، مگر معاشرہ اخلاقی زوال کا شکار رہتا ہے۔

ان عبادات پر ہم اس شعور کے ساتھ عمل پیرا ہوں کہ ہمارا مقصود کیا ہے تو پھر عبادات کے درمیان میں جو وقفہ ہے، اس میں اس کا ظہور ہونا شروع ہو جائے گا۔ نماز ہم نے اس لیے پڑھنی ہے کہ یہ خدا کی یاددہانی کراتی ہے۔ قرآن مجید نے ’اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکۡرِیۡ‘،’’میری یاد کے لیے نماز کا اہتمام رکھو‘‘4کہا ہے تو اس یاددہانی کا مطلب یہ ہے کہ میں جب نماز پڑھ کر نکلوں گا اور میری گاڑی غلط پارک ہوئی ہوگی تو میرے اندر یہ شرمندگی ہونی چاہیے یا میں نے چپلیں غلط جگہ پر اتاری ہیں تو میرے اندر یہ شرمندگی ہونی چاہیے کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی یاددہانی کو فراموش کر دیا ہے یا میں نے مسجد کا غسل خانہ استعمال کر کے صاف نہیں کیا تو میرے اندر یہ یاددہانی ہونی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا جو مقصود تھا، اس کو میں حاصل نہیں کر رہا۔ پھر میں دکان پر جاتا ہوں اور اگر سچ نہیں بولتا، کم تولتا ہوں؛ اگر غیبت کرتا ہوں، عیب جوئی کرتا ہوں؛ اگر میرے دل میں مسلمانوں کے بارے میں حسد، کینہ اور بغض کے جذبات ہیں؛ میں اگر اپنی بیوی سے سختی سے، تلخی سے بات کرتا ہوں، نوکیلے جملے کہتا ہوں اور میرے اوپر اگر تنقید ہو تو میں منہ پھاڑ کر لوگوں کے عیوب کو دنیا تک پہنچانے کی کوشش کرتا ہوں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ عبادت کا جو مقصود تھا، وہ مجھے حاصل نہیں ہوا۔

چنانچہ رمضان المبارک میں مسلمانوں میں ایک جذبہ ہوتا ہے، خدا کی مدد بھی ہمارے ساتھ شامل حال ہوتی ہے، شیطان کو بھی بند کر دیا جاتا ہے۔5 یہ موقع ہے کہ ہم سب اس پر غور کریں کہ عبادت کا جو مقصود ہے، کیا وہ حاصل ہو رہا ہے؟ اگر وہ حاصل نہیں ہو رہا تو یہ جو کچھ ہم کر رہے ہیں، یہ محض رسمیات ہیں، ایکشنز ہیں۔ ان کی حقیقت خدا تک نہیں پہنچتی۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روایت میں ارشاد فرمایا:

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:’’مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ وَالْجَهْلَ، فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ‘‘. (بخاری، رقم6057)

’’ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص (روزہ کی حالت میں) جھوٹی بات کرنا اور اس پر عمل کرنا اور جہالت کی باتوں کو نہ چھوڑے تو اللہ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑے۔‘‘

یعنی اگر روزہ رکھ کر بھی تم لغو گوئی کرتے ہو تو تمھارے بھوکے پیاسے رہنے سے اللہ کو کچھ فائدہ نہیں ہے۔ ہمیں جس چیز پر بہت غور و فکر کی ضرورت ہے، وہ یہ ہے کہ دین کی اورینٹیشن آخرت ہے۔ ہمارا دین ہمیں ایک مقصد تک پہنچانا چاہتا ہے؛ اس مقصد کے حصول میں سرگرداں رہ کر عبادت ہوگی تو شعوری عبادت بنے گی۔ اس میں دل بھی لگے گا اور اس کا مقصد بھی حاصل ہوگا۔

رمضان ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دین کی اصل اورینٹیشن آخرت ہے اور عبادات کا اصل مقصد تزکیۂ نفس ہے۔ اگر ہم اس شعور کے ساتھ عبادت کریں تو نہ صرف عبادت میں لذت پیدا ہوگی، بلکہ ہماری زندگی، ہمارے اخلاق اور ہمارا معاشرہ بھی بدلنا شروع ہو جائے گا۔

  1. ۔ العنکبوت29: 45۔ ’اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنۡہٰی عَنِ الۡفَحۡشَآءِ وَ الۡمُنۡکَرِ‘(کچھ شک نہیں کہ نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے)۔
  2. ۔ البقرہ2: 183۔ ’یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُتِبَ عَلَیۡکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَ‘(ایمان والو، تم پر روزہ فرض کیا گیا ہے، جس طرح تم سے پہلوں پر فرض کیا گیا تھا تاکہ تم اللہ سے ڈرنے والے بن جاؤ)۔
  3. ۔ الحج22: 37۔ ’لَنۡ یَّنَالَ اللّٰہَ لُحُوۡمُہَا وَ لَا دِمَآؤُہَا وَ لٰکِنۡ یَّنَالُہُ التَّقۡوٰی مِنۡکُمۡ ؕ کَذٰلِکَ سَخَّرَہَا لَکُمۡ لِتُکَبِّرُوا اللّٰہَ عَلٰی مَا ہَدٰىکُمۡ‘(اللہ کو نہ اِن کا گوشت پہنچتا ہے نہ اِن کا خون، بلکہ اُس کو صرف تمھارا تقویٰ پہنچتا ہے۔ اِسی طرح اللہ نے اُن کو تمھارے لیے مسخر کر دیا ہے تاکہ اللہ نے جو ہدایت تمھیں بخشی ہے، اُس پر تم اللہ کی بڑائی بیان کرو)۔
  4. ۔ طٰہٰ20: 14۔
  5. ۔ بخاری، رقم3277۔ ’قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:’’إِذَا دَخَلَ رَمَضَانُ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَهَنَّمَ وَسُلْسِلَتِ الشَّيَاطِينُ‘‘(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب رمضان کا مہینا آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے)۔