مواد پر جائیں

حیات ِامین

نعیم احمد بلوچ اردو

(سوانح مولانا امین احسن اصلاحی)

(29)

]صاحب ’’تدبر قرآن‘‘ کی وصیت کے مطابق

ان کے سوانح نگار نعیم احمد بلوچ کے قلم سے [

جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے کہ ابو صالح اصلاحی کی وفات کا حادثہ مولانا اصلاحی کی زندگی کا سب سے بڑا سانحہ تھا۔ لیکن اس صدمے کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ مولانا نے اسے جس انداز اور جس صبر سے برداشت کیا، وہ ان کی سیرت کا بے مثال نمونہ ہے۔ اس سے ’’تزکیۂ نفس‘‘ کے مصنف کا اپنے پروردگارسےگہرا تعلق ممثل ہو کر سامنے آتا ہے، ’’تدبر قرآن‘‘ جیسی تفسیر کے مُفسّرکا اپنے رب پر جو توکل اور بھروسا سامنے آتا ہے، وہ انھیں اپنی تفسیر ہی کی طرح علماے حق میں ممتازو ممیز کر دیتا ہے۔ اس واقعے کو سامنے رکھ کر انھوں نے اپنا جو محاسبہ کیا، وہ آخرت پر ایمان کی پر شکوہ مثال ہے۔ تصوف کو ’متوازی دین ‘ قرار دینے والے اس ناقد بے مثل کا اپنے اللہ سے رازو نیاز کا کیا انداز تھا۔

عجیب اتفاق ہے کہ ہمارے ان سے برسوں کے تعلقات اور سینکڑوں ملاقاتوں میں کبھی یہ واقعہ زیر بحث نہ آیا۔ چنانچہ تعلق خاطر کے بہت سے برسوں میں مجھے ان کی زندگی کو اس درجہ متاثر کرنے والے اس واقعے کا کوئی علم نہ ہوا۔ مجھے جب اس کے بارے میں معلوم ہوا تو اس وقت مولانا سے براہ راست بات کرنا ان کے ضعف، بیماری اور ثقل سماعت کے باعث خاصامشکل ہو چکا تھا۔ چنانچہ میں نے ان کے ’تلمیذ خاص‘ مرحوم خالد مسعود سے ایک دفعہ بہ طور خاص تذکرہ کیا تو انھوں نے بتایا کہ مولانا کو اپنے ان فرزند سے بہت زیادہ توقعات تھیں۔ حادثے پر ہم، یعنی حلقۂ تدبر قرآن سے متعلق شاگرد اس خدشے میں مبتلا ہوئے کہ مولانا محترم اس سانحۂ عظیم کو کیسے برداشت کریں گے، لیکن وہ بتاتے ہیں کہ مولانا کو ہم نے اس موقع پر صبرو استقامت کا پہاڑ پایا۔ انھوں نے بہت جلد اپنے آپ کو سنبھالا۔ وہ بس بہت زیادہ خاموش ہو گئے اور اس کے بعد وہ ان کے تذکرے پر بھی خاموش ہو جاتے۔ بہت کم لوگوں نے انھیں چشم نم کے ساتھ دیکھا۔ جناب خالد مسعود بتاتے کہ ہمیں احساس ہوا کہ وہ اب اس حادثے کو بھلانے کے لیے ابو صالح کے تذکرے کو نظر انداز کرتے ہیں۔ چنانچہ ہم نے بھی اسے ایک خاموش پیغام سمجھا اور ان کی موجودگی میں اس واقعے کا تذکرہ کرنے سے احتراز کرتے کہ کہیں ان کے زخم تازہ نہ ہو جائیں۔

یہاں ہم ان دو مضامین کے کچھ اقتباس نقل کرتے ہیں، جن سے یہ راز کھلتا ہے کہ مولانا نے اپنے ان صاحب زادے کے غم کو کیسے سہا اور ابو صالح ان کے لیے کیا تھے اور ان کی سیرت و کردار کے کیا گوشے تھے جو ان کے لیے باعثِ شکر اور سا مان ِ اطمینا ن تھے۔ ان سے ان کی زندگی کے بہت سے اہم حالات و واقعات بھی سامنے آتے ہیں۔ یہ دونوں مضامین ’’میثاق‘‘ کے جون اور جولائی 1965 ء کے شماروں میں یکے بعد دیگرے شائع ہوئے:

’’ بیس مئی 1965ء کو قاہرہ کے قریب پی آئی اے کے طیارے کو جو الم ناک حادثہ پیش آیا وہ یوں تو پورے پاکستان کا ایک المیہ ہے، ہماری پوری قوم کو اس سے صدمہ پہنچا ہے اور میں اس قوم کے ساتھ برابر کا شریک ہوں، لیکن میرے لیے یہ حادثہ دوہرے رنج وغم کا باعث ہوا ہے۔اس لیے کہ میرے جوان بیٹے ابو صالح اصلاحی نے بھی اس حادثےمیں شہادت پائی ہے۔میں گوشت پوست کا بنا ہوا ایک کم زور انسان ہوں۔عام حوادث سے بھی، جن کی خبریں اخباروں میں روز چھپتی رہتی ہیں، بہت زیادہ متاثر ہوتا ہوں پھر ایک ایسے حادثے کے اثرات سے اپنے دل کو کیسے بچا پاتا جس نے میرے پورے آشیانے کو سوخت کر کے رکھ دیا۔ میں اعتراف کرتا ہوں کہ یہ دن مجھ پر بہت سخت گزرے ہیں۔ اتنی عمر میں ایسے سخت دن مجھ پر نہیں گزرے تھے۔اگرچہ حادثے کی خبر سنتے ہی میں نے اپنے آپ کو اپنے رب کے حوالے کر دیا تھا کہ اے رب، اگر یہ تیرے غضب کا نتیجہ نہیں ہے تو میں تیرے فیصلے پر راضی ہوں۔ تو مجھے ضرور صبر و رضا کی توفیق عطا فرما، لیکن اس کے باوجود اس دوران میں میری عقل اور میرے دل میں برابر ایک جنگ برپا رہی ہے اور بارہا میں نے شب کی تنہائیوں میں یہ محسوس کیا ہے کہ میرے جذبات میری عقل پر غالب آ رہے ہیں۔ لیکن اب ان جذبات کا ذکر چھیڑ کر اپنے اور اپنے ہم دردوں کے غم میں مزید اضافہ کرنا نہیں چاہتا، بلکہ تحدیث ِنعمت کے طور پر بعض ایسی باتوں کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جو اس سلسلے میں رب کریم کی طرف سے ظہور میں آئی ہیں اور جن سے مجھے اس غم و الم کے بوجھ کو ہلکا کرنے میں بڑی مدد ملی ہے۔‘‘

’’پہلی بات تو یہ ہے کہ اس سفر میں ابو صالح مرحوم نے عمرے کی نیت کی تھی اور اس لیے وہ تمام ضروری تیاریاں کر کے گھر سے نکلے تھے۔ان کے اس ارادے کی اطلاع میرے برادر نسبتی چودھری فضل الرحمٰن محمود سلّمہ کو تو کئی ماہ پہلے سے تھی، لیکن سفر سے پہلے انھوں نے اس کی خوش خبری اپنی امی کو اور ان کی وساطت سے گویا مجھے بھی دے دی تھی۔ میں مئی کے شروع میں زمین داری کے انتظامات کے سلسلے میں اپنے رقبے پر چلا گیا تھا۔ وہاں مجھے یکے بعد دیگرے ایسے کام پیش آتے گئے کہ توقع سے زیادہ دن لگ گئے۔ میری اس غیر معمولی تاخیر سے گھبرا کر میری اہلیہ اور میری چھوٹی لڑکی بھی وہیں پہنچ گئے۔ حادثے سے ایک دن پہلے میری اہلیہ نے ذکر کیا کہ ابو صالح مشرقِ وسطیٰ کے سفر پر جا رہے ہیں۔ میں نے کہا یہ کیا نئی بات ہوئی؟ وہ تو چین ماچین، امریکہ اور انگلستان برابر جاتے رہتے ہیں۔انھوں نے کہا: نہیں، بات یہ ہے کہ اب کہ انھوں نے عمرے کی نیت کی ہے۔ میرے پاس آئے تو کہتے تھے کہ امی آپ تو مجھے دین سے بے پروا سمجھتی ہیں، لیکن میں عمرے کی نیت کیے ہوئے ہوں۔ اس سفر سے عمرہ کر کے لوٹوں گا۔ میں دن میں دفتر کے کام کرتا ہوں۔ رات کو حج کی دعائیں یاد کرتا ہوں۔ حج کے سفرنامے میں نے کئی ایک پڑھ رکھے ہیں۔ اگر کوئی ایسا سفرنامہ آپ نے پڑھا ہو جس میں حج کی روحانیت بیان ہوئی ہو تو وہ مجھے بتائیے۔ ابا جان سے بھی پوچھیے گا۔ میں نے کہا ہاں یہ خبر تو بے شک نئی خبر ہے۔ اس طرح سے مجھے فی الواقع بڑی خوشی ہوئی تھی۔‘‘

یاد رہے کہ ابوصالح کا اپنی جس والدہ کے ساتھ تعلقِ خاطرکا اظہار ہو رہا ہے، یہ ان کی سگی والدہ نہیں تھیں۔ ان کی حقیقی والدہ ان کے لڑکپن ہی میں وفات پا چکی تھیں۔

’’ابو صالح نے اس نوجوانی کی عمر میں اخبار نویسی میں جو ناموری حاصل کر لی تھی اور زندگی کی جدوجہد میں اسے جو کامیابی پر کامیابی حاصل ہو رہی تھی وہ اگر ایک طرف قابل رشک تھی تو دوسری طرف ایک خاص پہلو سے میرے لیے وجہ ِتشویش بھی تھی۔ میرا دل اندر سے ڈر رہا تھا کہ مبادا ان کامیابیوں کا نشہ اس کو آخرت سے غافل کر دے۔چنانچہ میں اس کے لیے برابر دعا کرتا تھا کہ اے رب، تو نے اس کو دنیا دی ہے تو ہی دین کی راہ بھی اسے سُجھا۔ اس کی امی برابر جب وہ ہم سے ملنے آتا نماز کی پابندی کی بحث اس سے ضرور چھیڑتی۔ میں نے بھی اس سے ایک آدھ بار کہا کہ ابو صالح تم قابل فخر بیٹے ہو اگر تم دین دار بن جاؤ تو میں تمھارے جیسے بیٹے پر اپنے رب کا شکر بھی ادا کروں۔‘‘

یاد رہے ابو صالح فرائض کی ادائیگی سے ہر گزغافل نہیں تھے، لیکن مولانا اپنے بیٹے سے جس درجے کی پابندی اور آمادگی کی توقع کرتے تھے، یہ تنبیہ اور تذکیر اسی حوالے سے ہے :

’’اس میں غفلت ضرور تھی، لیکن طبیعت بڑی نصیحت پذیر تھی۔ دین کے لیے اس میں حمیت بھی بہت تھی۔ اب میں اس کی اس غربت( یعنی وطن سے دوری) کی موت کا خیال کرتا ہوں، ان آگ کے شعلوں کا تصور کرتا ہوں جن میں اس کا جسم اور میرا دل کباب ہوا ہے، ایک حریق اور غریق مومن کے لیے اس شہادت کو یاد کرتا ہوں جس کا ذکر حدیثوں میں ہے اور پھر اس کی عمر ے کی اس نیت کا دھیان کرتا ہوں تو میرا سینہ اچھی امید سے لبریز ہو جاتا ہے کہ کیا عجب کہ رب کریم و رحیم نے اس الھڑ نوجوان کو اپنی جنت میں لے جانے کے لیے یہ مختصر راستہ ہی پسند فرمایا ہو۔ یہ امید میرے غم کو اتنا کم کر دیتی ہے کہ بعض اوقات تو میں ایسے محسوس کرنے لگتا ہوں کہ گویا کوئی حادثہ سرے سے پیش ہی نہیں آیا۔‘‘

مولانا نے ان سطور میں جس حدیث کا حوالہ دیا ہے، وہ یہ ہے:

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قال: … الشُّهَدَاءُ خَمْسَةٌ: الْمَطْعُونُ، وَالْمَبْطُونُ، وَالْغَرِيقُ، وَصَاحِبُ الْهَدْمِ، وَالشَّهِيدُ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ.

(مسلم، رقم 1914)

’’حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:…شہید پانچ ہیں:طاعون میں مرنے والا،پیٹ کی بیماری سے مرنے والا، ڈوب کر مرنے والا،ملبے کے نیچے دب کر مرنے والااور اللہ کی راہ میں شہید ہونے والا۔‘‘

’’ کتنوں نے غائبانہ نماز جنازہ پڑھی ہے اور کتنوں کے خطوط۔ان کی ملاقاتوں سے میں نے محسوس کیا ہے کہ ان کے دل اس حادثے سے مجھ سے بھی زیادہ زخمی ہیں۔ بہتوں نے اطلاع دی ہے کہ ہم اور ہمارے اہل و عیال راتوں کو اٹھ اٹھ کر رو رو کر مرحوم کے لیے دعائیں کر رہے ہیں۔ان میں سے عوام کے ساتھ ایسے علما اور صلحا بھی شامل ہیں جن کے علم و تقویٰ کی میرے دل میں بڑی عزت ہے۔ میں یہ ہمہ گیر تاثر جب دیکھتا ہوں تو اس کا اہل اپنے آپ کو پاتا ہوں نہ مرحوم ابو صالح کو۔ مجھے یہ چیز بالکل خدا ساز نظر آتی ہے۔ رب کریم و کارساز نے جب اپنے ایک بندے کو اپنی رحمت سے نوازنا چاہا تو اس کی موت کو ایسی شکل دی کہ اس کے لیے بے شمار ہاتھ دعا کے واسطے، روتی ہوئی آنکھوں،تڑپتے ہوئے دلوں کے ساتھ خود بخود اٹھ گئے۔ اب میں یہ گمان کس طرح کروں کہ دعا کے لیے جو ہاتھ اس نے خود اٹھوائے ہیں، انھیں وہ محروم لوٹائے گا! اس خیال سے میری روح مسرت سے وجد میں آجاتی ہے اور سارا غم و الم کافور ہو جاتا ہے۔

تیسری چیز یہ ہے کہ میرے بعض بزرگوں اور ہم دردوں نے اس حادثے پر مجھ سے تعزیت کے بجاے مبارک باد لکھیں۔ یہ مبارک باد دینے والے حضرات علم اور تقویٰ، دونوں میں ممتاز مقام رکھتے ہیں۔ میں یہ حسن ظن رکھتا ہوں کہ انھوں نے مجھے محض تسلی دینے کے لیے مبارک باد نہیں دی ہے، بلکہ ابو صالح کی یہ موت ان کے نزدیک فی الواقع شہادت کا درجہ رکھتی ہے۔ شہادت کا درجہ ایک بڑا درجہ ہے۔ اگر ابو صالح نے یہ درجہ حاصل کیا تو بہت بڑا درجہ حاصل کیا۔ شہادت کی موت پر ہزاروں زندگیاں قربان۔ میں تصور بھی نہیں کرتا تھا کہ میرے حقیر خاندان میں کوئی اس درجے کا سزا وار قرار پائے۔ جب میں اس کے اس درجہ کا خیال کرتا ہوں یہ یقیناً رب کریم نے محض اپنے فضل سے بخشا تو میری روح اپنے رب سے سخت شرمسا ر ہوتی ہے کہ میں نے ابو صالح کی موت کا غم کیوں منایا ؟اس پر سجدۂ شکر کیوں نہ بجا لایا۔ اللہ تعالیٰ ان تمام دوستوں اور بزرگوں کو جزاے خیر دے، جنھوں نے اس حقیقت کی طرف مجھے توجہ دلائی۔

ایک اور چیز جو سب سے زیادہ میرے غم کو دور کرنے میں مُعِین ہوئی وہ میرے ایک دیرینہ دوست کا خواب ہے۔ میں اگرچہ خواب کی باتوں کو زیادہ اہمیت نہیں دیتا، لیکن یہ ایک ایسے شخص کا خواب ہے، جس کے خوابوں کے سچا ہونے کا مجھے ذاتی تجربہ ہے۔ میں ایک زمانے میں ان کے ساتھ کم و بیش دس ماہ بورسٹل جیل اور لاہور سینٹرل جیل میں گزار چکا ہوں۔ اس زمانے میں انھوں نے پیش آنے والے معاملات سے متعلق نہایت حیرت انگیز خواب دیکھے اور ان کے سارے خواب سچے ثابت ہوئے۔ انھوں نے 30 اور 31 مئی کی درمیانی رات میں صبح تقریبا ًچار بجے خواب دیکھا جو خود ان کے الفاظ میں نقل کرتا ہوں:

’’ابو صالح اصلاحی مرحوم رات کے لباس میں ملگجے رنگ کے بو شرٹ اور پاجامے میں ملبوس، ہشاش بشاش نظرآئے۔ کہنے لگے مجھے صرف آدھ گھنٹا تکلیف رہی۔ اب میں بالکل ٹھیک ٹھاک ہوں۔ یہ بات انھوں نے دو تین دفعہ کہی۔ میں نے کہا: آپ کے والد مولانا اصلاحی صاحب اس حادثے کی وجہ سے سخت غم زدہ ہیں۔ کہنے لگے: ہاں ٹھیک ہے، انھیں سخت غم ہے۔ کیوں نہ ہو؟ اب پوری ذمہ داریاں ان کے کندھوں پر آن پڑی ہیں۔ نیز کہنے لگے آپ میرا پیغام جو اوپر نقل ہوا ہے، میرے گھر والوں کو پہنچا دیں۔ میں نے کہا… اور احساس یہ تھا کہ میں یہ خواب جو دیکھ رہا ہوں، یہ خواب کی باتیں شاید وہ مانیں یا نہ مانیں۔ میں جا کر کیا میسج دوں گا ؟ لیکن انھوں نے با اصرار دو تین دفعہ کہا کہ آپ کو اس سے کیا؟ آپ پیغام دے دیں اور وہ مانیں یا نہ مانیں، ان کی مرضی۔‘‘

خواب خاصا لمبا تھا باتوں کی ترتیب پوری طرح یاد نہیں رہی، لیکن گفتگو کے وہ حصے ذہن پر ابھی تک نقش ہیں جو اوپر لکھ دیے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی دیکھا کہ ان کے تین چار دوست ان کے قریب ادھر ادھر پھر رہے ہیں اور بغیر ڈاڑھی مونچھ کے سفید قمیض اور پتلون میں ملبوس ہیں۔ ان میں سے ایک نے ابو صالح سے پوچھا :بھائی نماز کا وقت ہو رہا ہے۔ اس وقت واقعی فجر کی نماز کا وقت ہو گیا تھا۔ اب وضو کرنا ہے، جگہ تو بتاؤ۔اس پر ابو صالح نے ایک طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ میرے میز والے کمرے کے ساتھ غسل خانہ ہے۔ وہاں وضو کر لیں۔

اس خواب کی تعبیر تو ارباب تعبیر ہی بتائیں گے، لیکن چند باتیں اس کی مجھ پر بالکل واضح ہیں اور وہی میرے لیے باعث ِ اطمینان و تسلی ہیں۔

ایک تو یہ خواب دیکھنے والے ایک ایسے صاحب ہیں، جن سے اگرچہ ایک مدت سے میرا کوئی ربط ضبط نہیں ہے، لیکن وہ واحد شخص ہیں جن کے بارے میں میرا ذاتی تجربہ ہے کہ ان کے خواب سچے ثابت ہوتے ہیں۔ اس وجہ سے ان کے واسطے سے ابو صالح مرحوم کا کوئی پیغام میرے لیے اطمینان کا پہلو رکھتا ہے۔

دوسری بات یہ کہ حادثے کے بعد دو تین دنوں کے اندر اندر میں نے غم کے تمام اسباب کا تجزیہ کر کے ان میں سے اکثر پر قابو پا لیا تھا، لیکن ایک سوال میرے لیے برابر سوہان روح رہا ہے کہ حادثے کے وقت اور حادثے کے بعد رب کریم نے ابو صالح کے ساتھ کیا معاملہ کیا؟ رات میں جب یہ سوال میرے ذہن پر مسلط ہو جاتا ہے تو نیند اچاٹ ہو جاتی ہے۔ میرے دل میں یہ خواہش بھی بارہا پیداہوئی کہ کوئی بات میرے سامنے ایسی آئے جس سے میرے دل پر یہ پہاڑ ذرا سا سرکے۔ خواب ہی میں سہی، لیکن میں خود خواب اول تو دیکھتا کم ہوں جو دیکھتا ہوں، وہ یاد نہیں رہتے، اب جب سے یہ خواب علم میں آیا ہے،خیال یہی گزرتا ہے کہ یہ میرے اسی سوال کا جواب ہے اور اگر یہ واقعی میرے سوال کا جواب ہے تو بہت ہی خوب اور نہایت ہی مبارک خواب ہے۔

بریں مژدہ گر جاں فشانم رواست‘‘

یہ سعدی شیرازی کا مصرع ہے۔ پورا شعر اورمفہوم یہ ہے :

بریں مژدہ گر جاں فشانم رواست

کہ عاشق چنین شادماں کم رواست

’’یہ خوش خبری اتنی عظیم ہے کہ اگر میں اس پر اپنی جان بھی قربان کر دوں تو بھی کم ہے، کیونکہ عاشق کو ایسی مسرت کم ہی نصیب ہوتی ہے۔‘‘

’’خواب میں ابو صالح کے لباسِ شب خوابی کا جو رنگ نمایاں ہوا ہے، گھر میں دریافت سے معلوم ہوا کہ ان کے سلیپنگ سوٹ کا رنگ فی الواقع یہی تھا۔ اس دوران میں ان کا وہ کمرا جس میں ان کے کھانے کی میز ہے، ان کے غسل خانے سے متصل ہے۔ ان چیزوں کا کوئی تصور خواب دیکھنے والے صاحب کو پہلے سے نہیں تھا۔‘‘

خواب دیکھنے والے یہ صاحب جماعت اسلامی کے امیر مرحوم میاں طفیل محمد صاحب تھے۔

[باقی]

عربی ادب قبل از اسلام 5