بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سورة آل عمران
(9)
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ تُطِیۡعُوا الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا یَرُدُّوۡکُمۡ عَلٰۤی اَعۡقَابِکُمۡ فَتَنۡقَلِبُوۡا خٰسِرِیۡنَ ﴿۱۴۹﴾ بَلِ اللّٰہُ مَوۡلٰىکُمۡ ۚ وَ ہُوَ خَیۡرُ النّٰصِرِیۡنَ ﴿۱۵۰﴾ سَنُلۡقِیۡ فِیۡ قُلُوۡبِ الَّذِیۡنَ کَفَرُوا الرُّعۡبَ بِمَاۤ اَشۡرَکُوۡا بِاللّٰہِ مَا لَمۡ یُنَزِّلۡ بِہٖ سُلۡطٰنًا ۚ وَ مَاۡوٰىہُمُ النَّارُ ؕ وَ بِئۡسَ مَثۡوَی الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۱۵۱﴾
وَ لَقَدۡ صَدَقَکُمُ اللّٰہُ وَعۡدَہٗۤ اِذۡ تَحُسُّوۡنَہُمۡ بِاِذۡنِہٖ ۚ حَتّٰۤی اِذَا فَشِلۡتُمۡ وَ تَنَازَعۡتُمۡ فِی الۡاَمۡرِ وَ عَصَیۡتُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ مَاۤ اَرٰىکُمۡ مَّا تُحِبُّوۡنَ ؕ مِنۡکُمۡ مَّنۡ یُّرِیۡدُ الدُّنۡیَا وَ مِنۡکُمۡ مَّنۡ یُّرِیۡدُ الۡاٰخِرَۃَ ۚ ثُمَّ صَرَفَکُمۡ عَنۡہُمۡ لِیَبۡتَلِیَکُمۡ ۚ وَ لَقَدۡ عَفَا عَنۡکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ ذُوۡ فَضۡلٍ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۵۲﴾
ایمان والو، اگر اِن منکروں کی بات مانو گے تو یہ تمھیں الٹے پیروں پھیر کر رہیں گے اور تم نامراد ہو جاؤ گے۔ یہ لوگ نہیں، بلکہ اللہ ہی تمھارا مددگار ہے اور اُسی کی مدد سب سے بہتر ہے۔ (تم دیکھو گے کہ) اِن منکروں کے دل میں اب ہم تمھارا رعب بٹھا دیں گے، اِس لیے کہ اِنھوں نے اللہ کے ساتھ اُن چیزوں کو شریک ٹھیرایا ہے جن کے حق میں اُس نے کوئی سند نہیں اتاری ہے۔ اِن کا ٹھکانا دوزخ ہے اور اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والوں کے لیے یہ کیا ہی برا ٹھکانا ہے۔ 149- 151
اللہ نے (اپنی مدد کا) جو وعدہ تم سے کیا تھا، وہ تو اُس وقت اُس نے پورا کر دیا، جب تم اللہ کے اذن
اِذۡ تُصۡعِدُوۡنَ وَ لَا تَلۡوٗنَ عَلٰۤی اَحَدٍ وَّ الرَّسُوۡلُ یَدۡعُوۡکُمۡ فِیۡۤ اُخۡرٰىکُمۡ فَاَثَابَکُمۡ غَمًّۢا بِغَمٍّ لِّکَیۡلَا تَحۡزَنُوۡا عَلٰی مَا فَاتَکُمۡ وَ لَا مَاۤ اَصَابَکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ خَبِیۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۵۳﴾
ثُمَّ اَنۡزَلَ عَلَیۡکُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ الۡغَمِّ اَمَنَۃً نُّعَاسًا یَّغۡشٰی طَآئِفَۃً مِّنۡکُمۡ ۙ وَ طَآئِفَۃٌ قَدۡ اَہَمَّتۡہُمۡ اَنۡفُسُہُمۡ یَظُنُّوۡنَ بِاللّٰہِ غَیۡرَ الۡحَقِّ ظَنَّ الۡجَاہِلِیَّۃِ ؕ یَقُوۡلُوۡنَ ہَلۡ لَّنَا مِنَ الۡاَمۡرِ مِنۡ شَیۡءٍ ؕ قُلۡ اِنَّ الۡاَمۡرَ کُلَّہٗ لِلّٰہِ ؕ یُخۡفُوۡنَ فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ مَّا لَا یُبۡدُوۡنَ لَکَ ؕ یَقُوۡلُوۡنَ لَوۡ کَانَ لَنَا مِنَ الۡاَمۡرِ شَیۡءٌ مَّا قُتِلۡنَا ہٰہُنَا ؕ قُلۡ لَّوۡ کُنۡتُمۡ فِیۡ بُیُوۡتِکُمۡ لَبَرَزَ الَّذِیۡنَ کُتِبَ عَلَیۡہِمُ الۡقَتۡلُ اِلٰی مَضَاجِعِہِمۡ ۚ وَ لِیَبۡتَلِیَ اللّٰہُ مَا فِیۡ صُدُوۡرِکُمۡ وَ لِیُمَحِّصَ مَا فِیۡ قُلُوۡبِکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴿۱۵۴﴾
سے اُن کو تہ تیغ کر رہے تھے۔ یہاں تک کہ خود تم نے کم زوری دکھائی اور حکم کی تعمیل میں ایک دوسرے سے اختلاف کیا اور (پیغمبر کی) نافرمانی کی،جب کہ اللہ نے تمھیں وہ چیز دکھا دی جس کے تم آرزومند تھے۔ (یہ حقیقت ہے کہ) تم میں کچھ دنیا کے طالب تھے اور کچھ آخرت کے۔ (چنانچہ) اللہ نے (اِس فتح کے بعد) پھر تمھارا رخ اُن سے پھیر دیا تاکہ تمھاری آزمایش کرے، (اِس لیے کہ جو لوگ دنیا کے طالب ہیں، وہ تم سے چھٹ کر الگ ہوجائیں)۔ اور حق یہ ہے کہ اُس نے پھر بھی تمھیں معاف ہی کر دیا اور اللہ مسلمانوں پر بڑی عنایت فرمانے والا ہے۔ 152
یاد کرو، جب تم بھاگے جا رہے تھے اور کسی کو مڑ کر دیکھ بھی نہیں رہے تھے اور اللہ کا پیغمبر (تمھارے پیچھے)تمھارے ہی لوگوں کی ایک دوسری جماعت میں تمھیں پکار رہا تھا(جو اُس کے ساتھ کھڑی تھی ) تو اللہ نے تم کو غم پر غم پہنچایا، اِس لیے کہ (اِس امتحان سے گزرنے کے بعد آیندہ) کسی چیز کے ہاتھ سے جانے اور کسی مصیبت کے آنے پر تم رنجیدہ خاطر نہ ہو، اور (یاد رکھو کہ) جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اُس سے باخبر ہے۔ 153
اِس غم کے بعد پھر اللہ نے تم پر اطمینان نازل فرمایا، ایک ایسی نیند کی صورت میں جو تم میں سے کچھ لوگوں پر چھارہی تھی اور کچھ وہ تھے کہ جنھیں اپنی جانوں کی پڑی تھی۔ وہ خدا کے متعلق بالکل خلاف حقیقت جاہلیت کے گمانوں میں مبتلا ہو رہے تھے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ اِن معاملات میں ہمارا بھی کوئی حصہ ہے؟ اِن سے کہہ دو کہ تمام معاملات اللہ ہی کے اختیار میں ہیں۔ وہ اپنے دلوں میں وہ کچھ چھپائے ہو ئے ہیں جو تم پر ظاہر نہیں کرتے۔ کہتے ہیں کہ اِس معاملے میں ہمارا کوئی دخل ہوتا تو ہم یہاں( اِس طرح) مارے نہ جاتے۔ کہہ دو کہ اگر تم اپنے گھروں میں ہوتے تو جن کے لیے قتل
اِنَّ الَّذِیۡنَ تَوَلَّوۡا مِنۡکُمۡ یَوۡمَ الۡتَقَی الۡجَمۡعٰنِ ۙ اِنَّمَا اسۡتَزَلَّہُمُ الشَّیۡطٰنُ بِبَعۡضِ مَا کَسَبُوۡا ۚ وَ لَقَدۡ عَفَا اللّٰہُ عَنۡہُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ حَلِیۡمٌ ﴿۱۵۵﴾
ہونا لکھا تھا، وہ اپنی قتل گاہوں تک پہنچ کر رہتے۔ (لہٰذا اِس بات کوایک مرتبہ پھر اچھی طرح سمجھ لو کہ) یہ سب محض اِس لیے ہوا کہ اللہ تمھیں الگ الگ کرے اور اِس لیے کہ تمھارے سینوں میں جو کچھ چھپا ہوا ہے، اُس کو پرکھے اور اِس لیے کہ تمھارے دلوں کے کھوٹ چھانٹ دے، اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ دلوں کی باتیں جانتا ہے۔ 154
تم میں سے جو لوگ دونوں گروہوں کی مڈبھیڑ کے دن پیٹھ پھیر گئے تھے، اُن کی اِس لغزش کا سبب یہ تھا کہ اُن کے بعض کرتوتوں کی شامت سے شیطان نے اُن کے قدم ڈگمگا دیے تھے۔ تاہم اللہ نے اُنھیں معاف کر دیا۔ بے شک، اللہ بخشنے والا ہے، وہ بڑا بردبار ہے۔ 155