[ایک تحقیقی مطالعہ]
(6)
9۔ حدیثِ عبد اللہ بن عباس
صلاۃ التسبیح کے باب میں آخری روایت سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی نسبت سے حدیث کے چند مصادر میں نقل ہوئی ہے۔یہ روایت اپنی زمانی ترتیب کے ساتھ درجِ ذیل مراجعِ حدیث میں دیکھی جا سکتی ہے:
1۔ القراءة خلف الامام، بخاری، (المتوفى: 256ھ)، رقم 149۔
2۔ سنن ابن ماجہ، (المتوفى: 273 ھ)، رقم 1387۔
3۔ سنن ابی داؤد، (المتوفى: 275 ھ)، رقم 1297۔
4۔ صحيح ابن خزيمہ، (المتوفى: 311 ھ)، رقم 1216۔
5۔ المعجم الاوسط،طبرانی، (المتوفى: 360 ھ)، رقم 2318، 2879۔
6۔ المعجم الكبير، طبرانی، (المتوفى: 360 ھ)، 11365، 11622۔
7۔ مستدرك علی الصحیحین، حاكم، (المتوفى: 405 ھ)، رقم 1192، 1193، 1195۔
8۔ حلیۃ الاولياء وطبقات الاصفياء، ابو نعيم، (المتوفى: 430 ھ)، 1/25۔
9۔ الدعوات الكبير،بیہقی، (المتوفى: 458 ھ)، رقم 444۔
10۔ السنن الكبرىٰ، بیہقی، (المتوفى: 458 ھ)، رقم 4916، 4917، 4918۔
11۔ شعب الايمان، بیہقی، (المتوفى: 458 ھ)، رقم 2816، 2817۔
12۔ ذكر صلاة التسبیح، خطیب بغدادی، (المتوفى: 463 ھ)، رقم 5، 8، 10، 11۔
دقتِ نظر سے دیکھیے تو مندرجہ بالا حوالوں سے واضح ہے کہ یہ تیسری، چوتھی اور پانچویں صدی ہجری کے 9 علماے حدیث ہیں،جن کی 12 کتابوں میں سیدنا ابن عباس سے منسوب حدیث اپنے متعدد طرق کے ساتھ کل 22 روایتوں کی صورت میں نقل ہوئی ہے۔
تحقیق اسانید
حدیثِ ابن عباس کے مذکورہ بالا 22 روایتوں کی اسانید کا دقتِ نظر سے جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ اِن میں سیدنا ابن عباس تک پہنچنے والی راویوں کی مختلف سندیں کل سات ہیں۔ علمِ رجال کی روشنی میں اُن ساتوں طرق واسانید کی تحقیق اور قواعدِ علم روایت کی رو سے اُن کا درجۂ حکم ذیل میں ہم قارئین کی خدمت میں الگ الگ پیش کریں گے:
پہلا طریق
حدیثِ ابن عباس کی اسانید کا ایک طریق یہ ہے: عن موسى بن عبد العزيز، عن الحكم بن أبان، عن عكرمة، عن ابن عباس، عن رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔ یہاں یہ جاننا چاہیے کہ صلاۃ التسبیح کے باب میں حدیثِ ابن عباس کا یہی طریق ہے جس کو اِس کے قائلین کی طرف سے اِس نماز کے اثبات کے لیے سب سے زیادہ اعتماد کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔
یہ سند اوپر بیان ہونے والے 12 مصادر میں سے جن کتابوں کی روایتوں میں نقل ہوئی ہے، وہ یہ ہیں: القراءة خلف الامام، بخاری، رقم 149۔ سنن ابن ماجہ، رقم 1387۔سنن ابی داؤد، رقم 1297۔ صحيح ابن خزيمہ، رقم 1216۔ المعجم الكبير، طبرانی، رقم 11622۔ المستدرك على الصحيحين، حاكم، رقم 1192۔ الدعوات الكبير، بیہقی، رقم 444۔ السنن الكبرىٰ، بیہقی، رقم 4916، 4917۔ صلاة التسبیح، خطیب بغدادی، رقم 8۔
موسیٰ بن عبد العزیز ائمۂ رجال کی نظر میں
اِس سند کا پہلا مجروح راوی موسیٰ بن عبد العزیز القنباری ہے، جس کی وفات 175ھ میں ہوئی ہے۔ اِس کے بارے میں بنیادی طور پر یہ جاننا چاہیے کہ یہ ایک قلیل الروایہ راوی ہے۔پورے ذخیرۂ حدیث میں کل 13 احادیث کی اسانید ہیں جن میں موسیٰ بن عبد العزیز وارد ہوا ہے۔مذکورہ بالا 9 مصادرِ حدیث میں سے بیہقی کی ’’شعب الایمان‘‘ اور طبرانی کی ’’المعجم الکبیر‘‘ کے سوا باقی ساتوں کتابوں میں موسیٰ بن عبد العزیز کا ذکر صرف زیرِ بحث حدیثِ ابن عباس ہی میں آیا ہے۔ یہ واقعہ ہے کہ اِن ساتوں محدثین نے موسیٰ بن عبد العزیز کی کوئی اور روایت اپنی اِن کتبِ حدیث میں نقل نہیں کی ہے۔
امام بیہقی اور امام ابن جوزی نے موسیٰ بن عبد العزیز کو ’مجہول‘ راوی بتایا ہے۔ امام ذہبی نے کہا ہے: ’ما هو بالحجة‘، ’’یہ راوی قابلِ حجت نہیں ہے‘‘۔ امام ذہبی نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’حديثه من المنكرات‘، ’’اِس راوی کی روایت کا شمار منکر احادیث میں ہوتا ہے‘‘۔ امام علی بن المدینی نے اِس کو ’ضعیف‘ اور ’منکر الحدیث‘ قرار دیا ہے۔ امام احمد بن علی السلیمانی (المتوفی 404ھ) نے بھی اِس پر ’منکر الحدیث‘ ہونے کا حکم لگایا ہے۔ عصر حاضر میں ڈاکٹر بشار عواد معروف اور شیخ شعیب ارنؤوط نے بھی اِس کو ’ضعیف‘ قرار دیا ہے۔1
حکم بن ابان عدنی کے بارے میں ائمۂ محدثین کی آرا
جہاں تک اِس سند میں موسیٰ بن عبد العزیز کے شیخ حکم بن ابان عدنی کا تعلق ہے تو اِس کے بارے میں امام ابن خزیمہ نے کہا ہے کہ اِس کی روایت سے استدلال کرنے پر علماے حدیث نے کلام کیا ہے۔ امام محمد بن عبد اللہ بن مبارک المخرِّمی نے اِس کو اُن راویوں میں شمار کیا ہے جن کو اُنھوں نے ضعف کی بنا پر بالکلیہ رد کر دینے کی تلقین کی ہے۔ امام ابن عدی نے بھی اِس کو ’ضعیف‘ کہا ہے۔ امام ابو جعفر عقیلی نے بھی اِس کو اپنی کتاب ’’الضعفاء الكبير‘‘ میں ذکر کر کے ’ضعیف‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اِس شخص کی روایتوں کی کوئی متابعت بھی ملتی ہے تو وہ صرف ضعیف اسانید ہی میں ملتی ہے۔امام ذہبی نے بھی اِس کو اپنی کتاب ’’المغنی فی الضعفاء‘ ‘ میں ذکر کیا ہے۔2
پہلے طریق کی حیثیت اور درجۂ حکم
مندرجہ بالا تحقیق سے ثابت ہوا کہ اوپر بیان کردہ 9 مصادرِ حدیث میں نقل ہونے والا حدیثِ ابن عباس کا پہلا طریق ضعیف اور ناقابل اعتبار ہے۔ معاصر علماے محققین میں سے ڈاکٹر بشار عواد معروف اور شیخ شعیب ارنؤوط نے بھی اِس کو ’منکر‘ روایت قرار دیا ہے۔3 چنانچہ واضح ہوا کہ صلاۃ التسبیح کی نماز حدیثِ ابن عباس کے اِس طریق کی بنیاد پر بھی قطعاً ثابت نہیں کی جاسکتی۔
دوسرے طریق کی حیثیت اور درجۂ حکم
مستدرک حاکم، رقم 1193میں حدیثِ ابن عباس کا ایک طریق ایسا روایت ہوا ہے جس میں پہلے طریق کے دونوں ’ضعیف‘ اور’ منکر‘ راوی تو موجود ہی ہیں، اُن کے علاوہ امام حاکم خود اِس سند میں محمد بن ہارون الحضرمی نامی جس راوی سے روایت کو نقل کر رہے ہیں، اُس سے خود علماے رجال بھی واقف نہیں ہیں کہ یہ کون راوی ہے۔ اِس نامعلوم و’مجہول‘ راوی کی بنا پریہ سند ’منقطع‘ بھی ہے۔ چنانچہ بالبداہت واضح ہے کہ یہ ایک نہایت ضعیف طریق ہے۔ ’’مستدرک حاکم‘‘ میں یہ سند اِس طرح نقل ہوئی ہے: حدثناه محمد بن هارون بن سليمان الحضرمِي، ثنا إسحاق بن أبي إسرائيل، ثنا موسى بن عبد العزيز أبو شعيب القنباري ثنا الحكم بن أبان، حدثني عكرمة، عن ابن عباس عن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم.
تیسرے طریق کی حیثیت اور درجۂ حکم
حدیثِ ابن عباس کا ایک طریق طبرانی نے اپنی المعجم الكبير، رقم 11365 میں روایت کیا ہے، جس کی سند اِس طرح آئی ہے: حدثنا إبراهيم بن نائلة، ثنا شيبان، ثنا نافع أبو هرمز، عن عطاء، عن ابن عباس، عن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم.
اِس سند میں اصل علت ابوہرمز نافع بن ہرمز السلمی نامی راوی کی موجودگی ہے۔ اِس کو امام بخاری نے ’منکر الحدیث‘ کہا ہے۔ کئی محدثین نے ’متروک الحدیث‘ اور ’ذاہب الحدیث‘ قرار دیا ہے، امام یحییٰ بن معین نے اِس کو’کذاب‘ کہا ہے۔ امام ابن حبان کہتے ہیں کہ اِس شخص نے عطاء، ابن عباس اور سیدہ عائشہ سے روایتوں کا ایک خود ساختہ مجموعہ روایت کیا ہے۔ اِس کو قابلِ حجت سمجھنا جائز ہے نہ اِس کی حدیث کو لکھنا جائز ہے، الّا یہ کہ اہل علم، تحقیق ومطالعےکے دوران میں تنبہ کے لیے ایسے شخص کی روایت کو بھی زیرِ نظر رکھیں۔4
چنانچہ واضح ہوا کہ حدیثِ ابن عباس کا یہ طریق فنِ حدیث کی رو سے ’متروک‘ و’موضوع‘ ہے۔اِس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
چوتھے طریق کی حیثیت اور درجۂ حکم
خطیب بغدادی نے ’’ذکر صلاۃ التسبیح‘‘، رقم 5 میں حدیثِ ابن عباس کا ایک منفرد طریق حماد بن عمرو النصیبی نامی راوی سے بھی نقل کیا ہے، جس کی سند اِس طرح بیان ہوئی ہے : حدثنا حماد بن عمرو النصيبي، عن أبي رافع، عن محمد بن المكندر، عن عبد اللّٰه بن عباس، عن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم.
حماد بن عمرو النصیبی کو بعض ائمۂ رجال نے ’منکر الحدیث‘، بعض نے ’ضعیف جدًا‘ اور بعض نے ’متروک الحدیث‘ قرار دیا ہے۔ بعض علمانے کہا ہے کہ اِس راوی کی کوئی حیثیت نہیں ہے، جب کہ متعدد ائمہ محدثین نے اِس کے ’وضاع‘ اور ’کذاب‘ ہونے کی صراحت کی ہے کہ یہ حدیثیں گھڑا کرتا اور ثقہ لوگوں کا نام لے کر لوگوں کو جھوٹی حدیثیں بیان کیا کرتا تھا۔5
علاوہ ازیں، اِس سند میں حماد بن عمرو جس شخص سے روایت کر رہا ہے، وہ اسماعيل بن رافع بن عويمر ابو رافع ہے، جو علماے محدثین کے نزدیک ایک قصہ گو آدمی تھا۔بعض ائمۂ رجال نے اِس کو ’ضعیف‘، بعض نے ’منکر الحدیث‘ اورکئی علما نے اِس کو ’متروک الحدیث‘ قرار دیا ہے۔متعدد ائمہ نے اِس کے بارے میں یہ بھی کہا ہے کہ اِس راوی کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔6
لہٰذا اُصول روایت کی روشنی میں متحقق ہوا کہ حدیث ابن عباس کا یہ طریق بھی حماد بن عمرو النصیبی کی وجہ سے ’موضوع‘، یعنی من گھڑت ہے۔لہٰذا روایت کی یہ حیثیت بیان کیے بغیر لوگوں میں اِس کو حدیثِ نبوی کے طور پر بیان کرنا بھی محدثین کے نزدیک جائز نہیں ہے۔
پانچویں طریق کی حیثیت اور درجۂ حکم
حدیثِ ابن عباس کا پانچواں طریق تین مصادر میں نقل ہوا ہے اور وہ حسبِ ذیل ہیں:
1۔ المستدرك على الصحیحین، حاكم، رقم 1195۔
2۔ السنن الكبرى ٰ، بیہقی، رقم 4918۔
3۔ شعب الايمان، بیہقی، رقم 2816، 2817۔
اِس طریق کی سند اِس طرح نقل ہوئی ہے : ثنا إسحاق بن إبراهيم الحنظلِي، أنبأ إبراهيم بن الحكم بن أبان، عن أبيه، عن عكرمة، عن بن عباس، عن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم.
اِس سند میں دو مجروح راوی پائے جاتے ہیں: ایک ابراہیم بن حکم عدنی اور دوسرے اُس کا والد حکم بن ابان عدنی، جو حدیثِ ابن عباس کے پہلے طریق میں بھی موجود تھا۔ حکم بن ابان کے بارے میں ائمۂ حدیث کی آرا کیا تھیں، قارئین کی یاد دہانی کے لیے اُنھیں ذیل میں ہم ایک مرتبہ پھر دہرائے دیتے ہیں۔
حکم بن ابان عدنی کے بارے میں ائمۂ محدثین کی آرا
امام ابن خزیمہ نے اِس کے بارے میں کہا ہے کہ اِس کی روایت سے استدلال کرنے پر علماے حدیث نے کلام کیا ہے۔ امام محمد بن عبد اللہ بن المبارک المخرّمی نے اِس کو اُن راویوں میں شمار کیا ہے جن کو اُنھوں نے ضعف کی بنا پر بالکلیہ رد کردینے کی تلقین کی ہے۔ امام ابن عدی نے بھی اِس کو ’ضعیف‘ کہا ہے۔ امام ابو جعفر عقیلی نے بھی اِس کو اپنی کتاب ’’الضعفاء الكبير‘‘ میں ذکر کر کے ’ضعیف‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اِس شخص کی روایتوں کی کوئی متابعت بھی ملتی ہے تو وہ صرف ضعیف اسانید ہی میں ملتی ہے۔امام ذہبی نے بھی اِس کو اپنی کتاب ’’المغنی فی الضعفاء‘ ‘ میں ذکر کیا ہے۔7
ابراہیم بن حکم عدنی کے بارے میں علماے رجال کے اقوال
ابراہیم بن حکم عدنی کو امام ابو زرعہ رازی اور امام دار قطنی نے ’ضعیف‘ کہا ہے۔امام یعقوب بن سفیان الفسوی نے لکھا ہے کہ اِس کے ’ضعیف‘ ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ امام ابو داؤد نے کہا ہے کہ’لا أحدث عنه‘، ’’میں اِس شخص سے کوئی حدیث بیان نہیں کرتا‘‘۔بعض کبارِ ائمہ نے اِس پر زیادہ سخت حکم لگایا ہے۔ امام یحییٰ بن سعید قطان،امام یحییٰ بن معین اور امام ابو جعفر عقیلی کہتے ہیں کہ ’ليس بشئ‘، ’’احادیث کی روایت میں اِس راوی کی کوئی حیثیت نہیں ہے‘‘۔ امام ابراہیم بن یعقوب الجوزجانی نے اِس کو ’ساقط‘ کہا ہے۔ امام نسائی نے ’ متروک الحدیث‘ قرار دیا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ اِس کی حدیث کولکھا بھی نہیں جائے گا، جب کہ امام ابو الفتح الازدی نے اِس پر ’متروک الحدیث ساقط‘ کے الفاظ سے حکم لگایا ہے۔امام ذہبی نے بھی اِس کو ’متروک‘ ہی کہا ہے۔8
اِس سند کی تحقیق سے صاف واضح ہے کہ فنِ حدیث کی رو سے حدیثِ ابن عباس کا یہ طریق بھی نہایت ضعیف ہے، جو صلاۃ التسبیح کے اثبات کے لیے قطعاً قابلِ استدلال نہیں ہوسکتا۔
چھٹے طریق کی حیثیت اور درجۂ حکم
حدیثِ ابن عباس کا چھٹا طریق تین مراجع میں نقل ہوا ہے اور وہ درجِ ذیل ہیں:
1۔ المعجم الاوسط، طبرانی، رقم 2318۔
2۔ حليۃ الاولياء وطبقات الاصفياء، ابو نعيم 1/25۔
3۔ ذكر صلاة التسبیح، خطيب بغدادی، رقم 10۔
اِس طریق کی سند اِس طرح نقل ہوئی ہے : حدثنا هشام بن إبراهيم أبو الوليد المخزومي، حدثنا موسى بن جعفر بن أبي كثير، عن عبد القدوس بن حبيب، عن مجاهد، عن ابن عباس، عن رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ وسلم.
اِس سند میں تین راویوں پر کلام ہے: ایک ہشام بن ابراہیم ہے، جس کی سیرت وتعارف سے علم رجال کے مراجع خالی ہیں۔ تنہا ابن حبان ہیں، جنھوں نے اِس کو ثقہ راویوں میں ذکر کیا ہے، تاہم یہ واقعہ ہے کہ اِس فن کے ائمۂ کبار نے نہ ابن حبان سے پہلے اِس راوی کا کہیں کوئی ذکر کیا ہے اور نہ اِن کے بعد اِس کی جرح یا تعدیل میں کچھ کہا ہے۔ یعنی ابن حبان کے سوا یہ ائمۂ رجال کے نزدیک کوئی معلوم ومعروف راوی نہیں ہے، بلکہ ایک مجہول ونا معلوم ہے۔ اہلِ علم جانتے ہیں کہ جس راوی کے بارے میں تنہا ابن حبان کی طرف سے توثیق ہو اور باقی محدثین کے ہاں وہ معلوم نہ ہو تو علماے حدیث کے نزدیک صرف ابن حبان کی توثیق سے وہ مقبول وثقہ راوی کے درجے کو نہیں پہنچتا۔
دوسرا مجروح راوی موسىٰ بن جعفر بن ابی كثير الانصاری ہے۔ امام ابو جعفر العقیلی اِس کے بارے میں کہتے ہیں: ’مجهول بالنقل ولا يتابع على حديثه ولا يصح إسناده‘، ’’یہ اپنی روایت میں ایک مجہول راوی ہے، اِس کی حدیث نہ ثابت ہوتی ہے اور نہ دوسرے راویوں سے اُس کی متابعت ہی ملتی ہے ‘‘۔ امام عقیلی نے یہ بھی کہا ہے کہ اِس نے ایک من گھڑت حدیث روایت کی ہے۔ اِس کے بارے میں حافظ ابن حجر نے کہا ہے: ’ما رأيت له ذكرًا‘، ’’میں نے اِس راوی کا کہیں کوئی ذکر نہیں دیکھا‘‘۔امام ذہبی نے کہا ہے: ’مجهول، وخبره ساقط‘، ’’یہ مجہول راوی ہے اور اِس کی روایت ساقط ہے‘‘۔ امام ذہبی نے ’’دیوان الضعفاء‘‘ میں لکھا ہے: ’حديثه موضوع ‘، ’’اِس کی حدیث من گھڑت ہوتی ہے‘‘۔9
اِس سند میں تیسرا مجروح راوی عبد القدوس بن حبيب الوحاظی ہے۔ امام ابن عدی اِس کے بارے میں کہتے ہیں کہ اِس کی روایتیں سند ومتن، دونوں اعتبارات سے ’منکَر‘ہیں۔ امام دارقطنی نے بھی اِس کو ’منکر الحدیث‘ قرار دیا ہے۔ امام بخاری کہتے ہیں کہ یہ ’منکَر الحدیث‘ ہے؛ علما نے اِس کو ترک کردیا ہے۔ امام احمد کے نزدیک یہ نہایت ضعیف راوی ہے۔ امام ابو حاتم رازی اور امام نسائی نے اِس کو ’متروک الحدیث‘ کہا ہے۔امام عمرو بن علی الفلاس کہتے ہیں : ’أجمع أهل العلم على ترك حديثه ‘، ’’اِس کی حدیث کے ترک کرنےپر علما کا اتفاق ہے‘‘۔ امام یحییٰ بن معین نے اِس پر ’مطروح الحديث‘ کے الفاظ سے حکم لگایا ہے۔ امام مسلم اور امام محمد بن عبد اللہ الموصلی نے اِس کو ’ذاهب الحديث‘ کہا ہے۔ امام ابو داؤد کہتے ہیں کہ اِس راوی کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔امام ابو السمعانی نے کہا ہے : ’يضع الحديث على الثقات‘، ’’یہ ثقہ راویوں کے نام لے کر حدیثیں گھڑتا ہے‘‘۔ امام محمد بن عبد اللہ المخرمی نے اِس کو ’كذاب‘ قرار دیا ہے۔امام ابن حبان کہتے ہیں: ’كان يضع الحديث على الثقات، لا يحل كتابۃ حديثه، ولا الرواية عنه ‘، ’’یہ ثقہ راویوں کے نام لے کر حدیثیں گھڑا کرتا ہے، اِس کی حدیث کو لکھنا جائز ہے نہ اِس شخص کی نسبت سے کوئی روایت نقل کرنا ‘‘۔اسماعیل بن عیاش العنسی نے کہا ہے : ’لا أشهد على أحد بالكذب إلا على عبد القدوس بن حبيب‘، ’’میں عبد القدوس بن حبیب کے سوا کسی شخص کے خلاف جھوٹا ہونے کی گواہی نہیں دیتا‘‘۔10
چنانچہ قواعدِ علم حدیث کی روشنی میں متحقق ہوا کہ حدیث ابن عباس کا یہ طریق عبد القدوس بن حبيب کی وجہ سے ’موضوع‘، یعنی من گھڑت ہے۔ لہٰذا روایت کی یہ حیثیت بیان کیے بغیر لوگوں میں اِس کو حدیثِ نبوی کے طور پر بیان کرنا بھی محدثین کے نزدیک جائز نہیں ہے۔
ساتویں طریق کی حیثیت اور درجۂ حکم
حدیثِ ابن عباس کا ساتواں اور آخری طریق صرف دو مصادر میں نقل ہوا ہے اور وہ درجِ ذیل ہیں:
1۔ المعجم الاوسط، طبرانی، رقم 2879۔
2۔ ذكر صلاة التسبیح، خطيب بغدادی، رقم 11۔
اِس طریق کی سند اِس طرح نقل ہوئی ہے : حدثنا يحيى بن عقبة بن أبي العيزار، عن محمد بن جحادة، عن أبي الجوزاء، قال: قال ابن عباس عن رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ وسلم.
اِس سند میں درجِ ذیل تین علتیں پائی جاتی ہیں :
1۔ اِس میں ایک مجروح راوی يحيٰ بن عقبۃ بن ابی العيزار الكوفی ہے۔امام ابن عدی اِس کے بارے میں کہتے ہیں کہ بالعموم اِس کی روایتوں کی دوسرے راویوں سے متابعت نہیں ملتی۔کئی ائمۂ رجال نے اِس کو ’ضعیف‘ قرار دیا ہے۔امام بخاری اور امام صالح بن جزرہ نے اِس کو ’منکَر الحدیث‘ کہا ہے۔ حافظ ابن حجر نے ’متروک الحدیث‘ بتایا ہے۔امام ابو داؤد اور بعض دوسرے ائمہ نے کہا ہے کہ ’ليس بشيء‘، ’’ اِس راوی کی کوئی حیثیت نہیں ہے‘‘۔ امام ابن طاہر کہتے ہیں کہ یہ شخص ثقہ لوگوں کے نام لے کر خود ساختہ روایتیں بیان کرنے والوں میں سے تھا اور حدیث کی روایت میں اِس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔امام یحییٰ بن معین نے کہا ہے :’كذاب خبيث عدو اللّٰه، كان يُسخَر به، ليس ممن يكتب حديثه‘۔امام ابو حاتم الرازی کہتے ہیں: ’متروك، كان يفتعل الحديث‘، ’’یہ متروک راوی ہے، حدیث گھڑتا اور اُس میں جھوٹی باتیں ملاتا تھا‘‘۔ امام ابو حفص ابن شاہین نے بھی اِس کو جھوٹا راوی بتایا ہے۔ حافط ابن جوزی نے بھی اِس کو جھوٹ سے متہم کیا ہے۔ امام ابن حبان کہتے ہیں: ’كان ممن يروي الموضوعات عن أقوام أثبات، لا يجوز الاحتجاج به بحال من الْأحوال ‘، ’’یہ اُن راویوں میں سے تھا جو ثقہ و ثبت لوگوں کا نام لے کر خود ساختہ روایتیں بیان کرتا تھا، اِس کو حجت کے طور پر پیش کرنا کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے‘‘۔11
2۔ اِس سند میں دوسرا مجروح راوی ابو الجوزاء اوس بن عبد الله الربعی ہے، جس کو امام ابو جعفر العقیلی نے ’ضعیف‘ راویوں میں شمار کیا ہے۔امام بخاری کہتے ہیں: ’في اسناده نظر ‘، ’’اِس کی سند محلِ نظر ہے ‘۔حافظ ابن حجر نے لکھا ہے کہ یہ صحابی کا نام لیے بغیر بہ کثرت ’مرسَل‘ روایتیں بیان کرتا ہے،اِس پہلو سے بھی علماے رجال نے اِس پر کلام کیا ہے۔ امام ابن عدی اپنے شیخ یحییٰ بن محمد بن صاعد سے بیان کرتے ہیں کہ ’’ در اصل ابو الجوزاء کے بارے میں یہ بات پایۂ ثبوت کو نہیں پہنچی کہ ابن عباس اور دوسرے صحابہ سے اِس نے خود احادیث سنی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امام بخاری نے کہا ہے کہ اِس کی سند محلِ نظر ہے، بہرحال یہ امام بخاری کےنزدیک ’ضعیف‘ راوی ہے‘‘۔12
3۔ اِس سند میں تیسرا مجروح راوی محمد بن جحادة الاودی ہے، جسے امام ابو جعفر العقیلی نے ’ضعیف‘ راویوں میں شمار کیا ہے اور اِس کے بارے میں امام ابو عوانہ الوضاح کا یہ قول بھی نقل کیا ہے کہ یہ تشیع میں غلو کیا کرتا تھا۔13
چنانچہ اُصولِ علمِ روایت کی روشنی میں تحقیقِ سند سے ثابت ہوا کہ حدیث ابن عباس کا یہ آخری طریق بھی سند میں موجود راوی يحيٰ بن عقبۃ بن ابی العيزار الكوفی کی وجہ سے ’موضوع‘، یعنی من گھڑت ہے۔صلاۃ التسبیح کے اثبات کے لیے اِس طریق کو بھی دلیل کے طور پر قطعاً پیش نہیں کیا جا سکتا۔
حدیثِ ابن عباس— متون کے اضطرابات
حدیثِ ابن عباس کے تمام طرق کے سنداً عدم ثبوت کے علاوہ اِس کے متون میں بھی درجِ ذیل کئی اضطرابات وتضادات پائے جاتے ہیں:
1۔ ایک طرف اِس کے اکثر طرق کے مطابق ابن عباس رضی اللہ عنہ نے یہ خبر دی ہے کہ صلاۃ التسبیح کی نماز نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِن کے والد سیدنا عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کو تحفے کے طور پر عطا کی تھی۔دوسری طرف بعض روایتوں، مثلاً المعجم الاوسط، طبرانی، رقم2318 میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اِس نماز کی صورت میں یہ تحفہ آپ کی طرف سے خود اُنھی کو دیا گیا تھا، نہ کہ اُن کے والد کو۔ علاوہ ازیں، بعض متون، مثلاً المعجم الاوسط، طبرانی، رقم 2879 میں دونوں میں سے کسی کو بھی اِس نماز کے بہ طور تحفہ دیےجانے کا ذکر ہی نہیں ہے، بلکہ اِس میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کی نسبت سے صلاۃ التسبیح کے بارے میں آپ کا صرف ارشاد نقل کیا گیا ہے۔
2۔ المعجم الكبير، طبرانی، رقم 11365 میں بیان ہوا ہے کہ سیدنا عباس بن عبد المطلب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک غیرمتوقع وقت پر تشریف لائے اور آپ سے اپنی ایک مشکل اور بے چینی کا ذکر کیا۔ اُس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کو یہ نماز تحفے کے طور پر عنایت فرمائی۔ اِس کے برخلاف، ذکر صلاة التسبیح، خطیب بغدادی، رقم 5 میں بیان ہوا ہے کہ سیدنا عباس کہتے ہیں کہ ایک موقع پر رسول صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے تو اُس وقت آپ نے مجھے یہ نماز عطیے کے طور پر دی تھی۔
3۔ بعض طرق، مثلاً المعجم الكبير، طبرانی، رقم 11622 میں گناہوں کی معافی کا عمومی بیان ہے، جب کہ اکثر متون میں اگلے، پچھلے، صغیرہ اور کبیرہ تمام گناہوں کی معافی کی پیشین گوئی مذکور ہے۔
4۔ حدیثِ ابن عباس کے بعض متون، مثلاً ذکرصلاة التسبیح، خطیب بغدادی، رقم 10 میں اِس نماز کے قعدے میں تشہد کے بعد متعین الفاظ میں ایک دعا کرنے کا حکم بھی آیا ہے، جو اِس روایت کے باقی اکثر متون میں موجود نہیں ہے اور دوسرے صحابہ کی نسبت سے مروی تمام شواہدِ باب میں بھی اِس موقع کے لیے ایسی کوئی متعین دعا کہیں نقل نہیں ہوئی ہے۔
5۔ حدیثِ ابن عباس کے اکثر متون میں اِس نماز کو روزانہ، ہفتہ وار، ماہانہ، سالانہ یا عمر بھر میں ایک مرتبہ پڑھنے کی تلقین اُسی طرح بیان ہوئی ہے، جس طرح باقی اکثر شواہد میں مذکور ہے، جب کہ ذکر صلاة التسبیح، خطیب بغدادی، رقم 5 میں ہر مہینے اور سال کے نصف پر بھی یہ نماز پڑھنے کی تلقین آئی ہے اور عمر بھر میں اِس نماز کو ایک مرتبہ پڑھنے کے الفاظ موجود نہیں ہیں۔
اِس تفصیل سے واضح ہوا کہ حدیثِ ابن عباس اپنی اسانید کے علاوہ متون کے اعتبار سے بھی ایک ’مضطرب‘ و’منکَر‘ روایت ہے، جسے کسی طرح مستند قرار نہیں دیا جاسکتا۔
[باقی]
- ۔ التکمیل فی الجرح والتعديل ومعرفۃ الثقات والضعفاء والمجاہيل، اسماعيل بن عمر بن كثير القرشی 1/ 256-257، رقم 396۔ميزان الاعتدال فی نقد الرجال، شمس الدين محمد بن احمد الذہبی 2/ 212 -213، رقم 8893۔ تہذيب التہذيب، ابن حجر العسقلانی 10/ 356، رقم635۔ تحرير تقريب التہذيب للحافظ احمد بن علی بن حجر العسقلانی، الدكتور بشار عواد معروف، شيخ شعيب الارنؤوط3/435، رقم 6988۔
- ۔ الكامل فی ضعفاء الرجال، ابو احمد عبد الله بن عدی 2/355، رقم487۔ الضعفاء الكبير، ابو جعفر العقيلی 1/255، رقم310۔ المغنی فی الضعفاء، شمس الدين محمد بن احمد الذہبی 1/ 182، رقم 1647۔ تہذيب التہذيب، ابن حجر العسقلانی، ج2، ص423-424، رقم736۔
- ۔ تحرير تقريب التہذيب للحافظ احمد بن علی بن حجر العسقلانی، الدكتور بشار عواد معروف، شيخ شعيب الارنؤوط 3/ 435، رقم 6988۔
- ۔ الكامل فی ضعفاء الرجال، ابو احمد عبد الله بن عدی10/209-213، رقم1987۔ المجروحين من المحدثين والضعفاء والمتروكين، محمد بن حبان التميمی البُستی 3/59، رقم 1123۔
- ۔ الكامل فی ضعفاء الرجال، ابو احمد عبد الله بن عدی 3/10، رقم415۔ الضعفاء والمتروكون، ابن الجوزی 1/ 234، رقم 1000۔ المغنی فی الضعفاء، شمس الدين محمد بن احمد الذہبی 1/ 189، رقم 1720۔ ميزان الاعتدال فی نقد الرجال، شمس الدين محمد بن احمد الذہبی 1/598، رقم 2262۔
- ۔ تہذيب الكمال، المزی 3/ 85-90، رقم 442۔ تہذيب التہذيب، ابن حجر العسقلانی 1/ 294-296، رقم547۔
- ۔ الكامل فی ضعفاء الرجال، ابو احمد عبد الله بن عدی 2/ 355، رقم487۔ الضعفاء الكبير، ابو جعفر العقيلی 1/255، رقم310۔ المغنی فی الضعفاء، شمس الدين محمد بن احمد الذہبی 1/ 182، رقم 1647۔ تہذيب التہذيب، ابن حجر العسقلانی 2/ 423-424، رقم736۔
- ۔ تہذيب الكمال، المزی 2/ 74-76، رقم 164۔تہذيب التہذيب، ابن حجر العسقلانی 1/ 115-116، رقم205۔ الضعفاء والمتروكون، ابو عبد الرحمٰن احمد بن شعيب النسائی، ص 12، رقم 12۔ ديوان الضعفاء والمتروكين وخلق من المجهولين وثقات فيهم لين، شمس الدين محمد بن احمد الذہبی، ص 15، رقم 172۔
- ۔ الضعفاء الكبير، ابو جعفر العقيلی4 /155، رقم1724۔ المغنی فی الضعفاء، شمس الدين محمد بن احمد الذہبی 2/ 682، رقم 6483۔ ديوان الضعفاء والمتروكين وخلق من المجهولين وثقات فيهم لين، شمس الدين محمد بن احمد الذہبی، ص 401، رقم 4273۔ ميزان الاعتدال فی نقد الرجال، الذہبی 4/ 396، رقم 8354۔ لسان الميزان، ابن حجر العسقلانی 6/ 113-114، رقم 396۔
- ۔ الكامل فی ضعفاء الرجال، ابو احمد عبد الله بن عدی 10/209-213، رقم1987۔ المجروحين من المحدثين والضعفاء والمتروكين، محمد بن حبان التميمی البُستی 2/131، رقم 728۔ الضعفاء والمتروكون، ابن الجوزی 2/113، رقم 1969۔ سير اعلام النبلاء، شمس الدين محمد بن احمد الذہبی 8/135-136، رقم 12۔ لسان الميزان، ابن حجر العسقلانی 5/233-235، رقم 4864۔
- ۔ المجروحين من المحدثين والضعفاء والمتروكين، محمد بن حبان التميمی البُستی 3/117، رقم 1205۔ تاريخ اسماء الضعفاء والكذابين، ابن شاہين عمر بن احمد البغدادی 196، 690۔ الضعفاء والمتروكون، ابن الجوزی3/ 200، رقم 3742۔لسان الميزان، ابن حجر العسقلانی 8/464، رقم 8502۔ تذكرة الحفاظ، ابن القيسرانی محمد بن طاہر المقدسی الشيبانی، ص 47، رقم 91۔ جامعۃ الرجال والعلل، موسوعۃ اقوال یحییٰ بن معين – واحمد بن حنبل-وابی الحسن الدارقطنی-فی رجال الحديث وعللہ، السيدابو المعاطی النوری 8 / 753، رقم 7484۔
- ۔ الضعفاء الكبير، ابو جعفر العقيلی1/124، رقم148۔ تہذيب الكمال، المزی3/392-394، رقم 580۔ الكامل فی ضعفاء الرجال، ابو احمد عبد الله بن عدی 2/ 107-109، رقم225۔تہذيب التہذيب، ابن حجر العسقلانی 1/383-384، رقم702۔تقريب التہذيب، ابن حجر 155۔فتح الباری شرح صحيح البخاری، ابن حجر العسقلانی 1/461۔
- ۔ الضعفاء الكبير، ابو جعفر العقيلی 4/ 43، رقم1592۔