مواد پر جائیں

مطالعۂ مسندِ احمد

ڈاکٹر عمار خان ناصر/ ڈاکٹر سید مطیع الرحمٰن اردو

(مسندِ احمد کی احادیث سے متعلق استفسارات اور ان کا جواب)

(6)

مطیع سید: اشعث بن قیس، حضرت عمر کے گھر میں مہمان بنے۔وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر نے اپنی اہلیہ کو مارا اور اشعث سے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ کسی شخص سے تین باتوں کے متعلق سوال نہ کرنا۔ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ کسی سے یہ نہ پوچھنا کہ اس نے اپنی اہلیہ کو کیوں مارا ہے ؟(رقم122)۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بات کا کیا محل ہے کہ آدمی سے اس کے متعلق نہ پوچھا جائے؟ کیا اس سے یہ تاثر نہیں ملتا کہ شوہر، بیوی کے معاملے میں کسی کو جواب دہ نہیں ہے، اور اس پر کلی اختیار رکھتا ہے؟

عمار ناصر: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کا مقصد تو یہ ہے کہ کسی کے گھریلو معاملے میں باہر کے آدمی کو دخل نہیں دینا چاہیے۔ میاں بیوی کے مابین جو معاملات ہوتے ہیں، ان کی وضاحت بعض دفعہ باہر کے آدمی کے سامنے ممکن بھی نہیں ہوتی اور صاحب خانہ بھی اس کو اپنے نجی معاملے میں دخل اندازی تصور کرتا ہے۔ البتہ یہ مطلب نہیں ہے کہ بیوی کی مارپیٹ کے معاملے میں آدمی سرے سے جواب دہ ہی نہیں ہے۔ اگر اس نے حد سے تجاوز کیا ہے تو وہ جواب دہ ہے، لیکن جواب طلبی یا حاکم کر سکتا ہے یا بیوی اگر شوہر کے خلاف شکایت لے کر جائے تو اس پر اس سے پوچھ گچھ کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح فقہا یہ لکھتے ہیں کہ اگر شوہر تشدد پسند مزاج رکھتا ہو تو حاکم محلے کے لوگوں کو اس پر نظر رکھنے کی ذمہ داری دے سکتا ہے۔ ایسی صورت میں محلے دار یا پڑوسی بھی شکایت حاکم تک پہنچا سکتے ہیں۔ تو کوئی ایسی صورت پیدا ہوجائے جس میں شکایت کی ضرورت پیش آئے تو پھر داد رسی کی جائے گی۔شکایت کا موقع پیداہوتا تو خواتین نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھی شکایتیں لے کر آجاتی تھیں اور آپ کبھی شوہروں کو اور کبھی بیویوں کو موقع کے لحاظ سے متنبہ کرتے تھے۔ لیکن عام حالا ت میں یہ ہدایت کی گئی کہ کسی آدمی کو اپنے گھر میں نظم قائم رکھنے کے لیے یا اپنے گھر کے ماحول کو درست رکھنے کے لیے یہ اختیار استعمال کرنا پڑتا ہے تو دوسرے لوگ اس میں دخل نہ دیں۔وہ اس پر دباؤ نہ ڈالیں، کیونکہ ہو سکتاہے، اس سے دوسرے فریق کو شہ ملے؛ شہ ملے گی تو وہ معاملہ خراب ہوگا اوراس کے اثرات پھیلیں گے۔

مطیع سید: پھر بھی ہمیں آج کے دور میں تو یہ بہت عجیب بات لگتی ہے۔

عمار ناصر: جی، ہمارے کلچر میں بہت فر ق واقع ہو گیا ہے۔ خاص طور پر خواتین کی حیثیت اور ان کے حقوق کے بارے میں جو خاص حساسیت ہے، اس میں اس طرح کی چیزوں کو سمجھنا کافی مشکل ہو گیا ہے۔ قرآن نے یہ ہدایت بنیادی طورپر معاشرت کے نظم کومستحکم رکھنے کے لیے، اور اس میں اگر کہیں خلل آسکتاہے اور ایک غیر ذمہ دارانہ رویہ پیداہوسکتا ہے تو اس کی پیش بندی کے لیے دی ہے۔ اصل میں یہ ایک قبائلی تمدن ہے اور اس میں سارا معاشرتی ڈھانچا اور خاندان اور گھر کی ذمہ داری مکمل طور پر مرد پر ہے۔مرد کی اتھارٹی اگر گھر میں چیلنج ہوتی ہے تو اس کی پوری زندگی اور اس پر ڈالی گئی ذمہ داریوں کا پورا نظم متاثر ہوتا ہے۔ قبائلی تمدن میں فرد کا حق یا انفرادی حقوق، ان کی بنیادی اہمیت نہیں ہوتی۔بنیادی اہمیت اس کی ہوتی ہے کہ معاشرت جن اساسات پر قائم ہے اور اس میں ذمہ داریوں اور حقوق کی جو تقسیم وجود میں لائی گئی ہے، وہ مجروح نہ ہو۔وہ مجروح ہو گی تو بے شمار مسائل پیداہوں گے۔ خواتین میں اگر اس طرح کا رجحان موجود ہے اور وہ اس کا اظہار کرتی ہیں تو گھر کا پورا نظم متاثر ہوگا۔ آپ دیکھیں کہ قرآن مجید اس کے لیے بیوی کی تادیب کو ایک ممکنہ طریقے کےطور پرتجویزکررہا ہے۔ وہ یہ نہیں کہہ رہا کہ اگر کسی نے بیوی کو مارا ہے تو ’لاجناح علیکم‘، کوئی گناہ نہیں ہوگا، بلکہ وہ تجویزکررہاہے کہ اصلاح کے لیے ایسا کرسکتے ہو۔ معاشرے میں جو ایک نظم بنا ہوا ہے، اس میں خلل نہیں آنا چاہیے،اس تناظر میں یہ اختیار دیا گیا ہے۔

مطیع سید: ڈاکٹر فضل الرحمٰن نے قوامیت کے حوالےسے لکھا ہے کہ اب وہ دو ر نہیں رہا اور اسی بنیاد پر وہ کہتے ہیں کہ اس کو معاشرتی تغیرکے تناظرمیں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ وراثت کے حصوں کے بارے میں بھی ان کی اسی طرح کی راے ہے۔ کیا آپ بھی ان چیزوں کو ایسے ہی دیکھتے ہیں ؟

عمارناصر:معاشرت میں مختلف اصول بہ یک وقت کام کر رہے ہوتے ہیں۔ جیسے شریعت میں قوامیت کا اصول ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ انفرادی حقوق کا یا انفراد ی عزتِ نفس کا اصول بھی بتایا گیا ہے۔ ایک اچھی اور متوازن معاشرت میں ان دونوں کے درمیان تناسب کو ملحوظ رکھنا پڑے گا۔ اصل مقصد گھر کے نظم کو درست رکھناہے۔ جب تمدن میں تبدیلی آتی ہے تو ان اصولوں کا باہمی تعلق پھر نئے انداز میں طے کرنا پڑتا ہے۔ آج کے ماحول میں یہ تجویز نہیں کیا جائے گا کہ مرد کا جو اختیار ہے، وہ ان معنوں میں مطلق ہے کہ کوئی دوسرا شخص اس میں مداخلت نہ کرے۔ آج تو یہ تلقین کی جائے گی کہ اگر کسی نے بیوی کو ماراہے تو اس کے پاس اس سوال کا جواب ہونا چاہیے کہ کیا ایسی وجہ تھی کہ اسے ہاتھ اٹھانا پڑا۔یہ پابندی اگر عائد کی جائے تو یہ شریعت کے خلاف نہیں ہوگی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو اپنے دور کی معاشرت میں بھی قرآن کی اصولی اجازت میں اپنے عمل سے ایک توازن پیدا کر رہے ہیں۔قرآن ڈسپلن کے پہلو کو زیادہ اہمیت دے رہا ہے،لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اسوے سے اس پہلو کو زیادہ نمایاں کر رہے ہیں کہ ایک اچھے اخلاقی رویے کے لحاظ سے آدمی کا طرزِ عمل کیا ہونا چاہیے۔آپ نے فرمایا کہ تم میں اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر میں ہوں،اور آپ نے کبھی اپنی کسی اہلیہ یا خادم کونہیں مارا۔یعنی ایک طرف قرآن ڈسپلن کا پہلو بیان کر رہا ہے تاکہ عورتیں سرکش نہ ہو جائیں، اور دوسری طرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم حسن اخلاق کے پہلو کی طرف لوگوں کو متوجہ کر رہے ہیں تاکہ مردسرکش نہ ہوجائیں۔

مطیع سید: بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ اصل میں آئیڈیل سوسائٹی تو وہی ہے جس کا ذکر قرآن اور حدیث میں ملتا ہے، ہم اس سے ڈی ٹریک ہو گئے ہیں۔یعنی سوسائٹی کو واپس وہیں لے کر جائیں گے جو اس کی اصل صورت ہے۔سوسائٹی اگر ٹیڑھی ہوتی جائے گی تو کیاہم بھی ساتھ ساتھ ٹیڑھے ہوتے جائیں گے ؟

عمار ناصر: یہ بھی دیکھنے کا ایک زاویہ ہے، لیکن اس سے اختلاف کیا جا سکتا ہے۔اصل میں دیکھنا چاہیے کہ گھر کے نظم کو قائم رکھنا،یہ ایک مطلوب چیزہے، لیکن کیا نظم کو قائم رکھنے کا طریقہ ہر تمدن کے لیے ایک ہی ہونا چاہیے؟ اگر ایک ایسا معاشرہ ہے، جس میں عورت اپنی عزتِ نفس اپنے شخصی احترام کے حوالے سے زیادہ حساس ہے اور جسمانی تادیب کے طریقے کو نفسیاتی طور پر قبول نہیں کرتی تو کیا قوامیت کو قائم رکھنے کا کوئی متبادل طریقہ شریعت کی نظر میں قابل قبول نہیں ہو سکتا؟ نظم قائم رکھنا بنیادی اصول ہے، لیکن اس کی حکمت عملی تمدن کے لحاظ سے بدل سکتی ہے۔ اگر شریعت کے بنیادی مقاصد کی روشنی میں دیکھیں تو جسمانی تادیب کی اجازت کو محدود اور مشروط کر دینا غلط نہیں لگتا۔

مطیع سید: حضرت عمر نے اپنی وفات سے پہلے وصیت کی کہ میری موت کے وقت عرب کے جتنے بھی لوگ غلام ہیں، وہ سب آزاد کر دیے جائیں (رقم 129)۔ یہ انھوں نے کس مفہوم میں کہا؟ کیا وہ عرب کی حد تک غلامی کو ممنوع قرار دے رہے تھے یا خلیفہ کی حیثیت سے لوگوں کو حکم دے رہے تھے کہ وہ عرب غلاموں کو آزاد کر دیں؟

عمارناصر: یہ ایک سیاسی فیصلہ تھا۔ شریعت میں تو ظاہر ہے، ایسا کوئی فرق قائم نہیں کیا گیا کہ غیر عرب غلام ہو سکتے ہیں اور عرب نہیں ہو سکتے۔ حضرت عمر نے سیاسہ شرعیہ کے تحت یہ فیصلہ کیا کہ کسی عربی کو غلام نہیں رہنا چاہیے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں بھی جنگوں میں عرب قبیلوں کے جو قیدی پکڑے گئے تھے، ان کو بالآخر آزاد کر دیا گیا تھا۔ مثلاً‌ قبیلہ بنو المصطلق کے لوگ قیدی بنے تو انھیں حضرت جویریہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح کے بعد اس رشتے کی وجہ سے اجتماعی طور پر آزاد کر دیا گیا۔ اسی طرح غزوۂ حنین میں جو لوگ قیدی بنے، ان کو مال غنیمت کے طور پر تقسیم تو کیا گیا، لیکن پھر آپ نے لوگوں سے کہا کہ وہ ان سب کو آزاد کر دیں اور انھیں اگلے کسی موقع پر ان کی آزادی کا معاوضہ دے دیا جائے گا۔ حضرت عمر نے اپنے دور میں دیکھا کہ جاہلیت کے دور میں بہت سے عرب جو باہمی جنگوں میں قید ہوئے تھے، وہ ابھی تک غلام کی حیثیت سے موجود ہیں۔ ان کے متعلق وہ اپنے عہد خلافت میں بھی کوشش کرتے رہے کہ ان کی قیمت ادا کر کے انھیں آزاد کرا دیا جائے اور وفات کے وقت بھی وصیت کی کہ جو باقی بچ گئے ہیں، ان سب کی قیمت بیت المال سے ادا کر کے ان کو آزاد کرا دیا جائے۔

مطیع سید: ان کی یہ پالیسی خاص طور پر عرب غلاموں کے لیے کیوں تھی؟ ان کی تخصیص کی کوئی خاص وجہ تھی؟

عمارناصر: عربوں کے لیے اس معنی میں تو خاص نہیں تھی کہ غیر عرب غلاموں کی آزادی کے لیے انھوں نے کوئی اقدامات نہ کیے ہوں۔ مثلاً‌ بعض آثار میں ہے کہ انھوں نے اپنے بعد آنے والے خلیفہ کو وصیت کی کہ جو غلام بیت المال کی ملکیت میں ہیں، ان میں نماز پڑھنے والے ہر غلام کو آزاد کر دیا جائے، البتہ دو سال تک اگر خلیفہ ان سے خدمت لینا چاہے تو لے سکتا ہے(الطبقات الكبرىٰ 3/333)۔ اسی طرح انھوں نے یہ پالیسی بنائی اور تمام عمال کو لکھا کہ جس باندی نے اپنے مالک کے بچے کو جنم دیا ہو، اس کو مالک فروخت نہیں کر سکتا، کیونکہ یہ قطع رحمی ہے اور جائز نہیں (المستدرک علی الصحیحین، رقم 3708)۔ یہ انھوں نے اس لیے کہا کہ باندی جو مالک کے بچے کی ماں بن جائے، اس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ قرار دیا تھا کہ مالک کی وفات کے بعد وہ خود بہ خود آزاد ہو جائے گی۔ لیکن عہد نبوی اور عہد ابی بکر رضی اللہ عنہ میں صحابہ اپنی زندگی میں بہ وقت ضرورت ایسی باندیوں کو فروخت کر دیا کرتے تھے۔ حضرت عمر نے یہ اجتہاد کیا کہ شریعت کا اصل اخلاقی اصول یہ تقاضا کرتا ہے کہ ایسی باندی کو فروخت کر کے اس کے بچے سے جدا نہ کیا جائے۔ چنانچہ انھوں نے اکابر صحابہ کے اتفاق سے اس پر پابندی عائد کر دی اور اسے قطع رحمی کے مترادف قرار دیا۔ البتہ عرب غلاموں کی آزادی کو ترجیحاً‌ مقصد بنانا فطری بات تھی۔ اپنی قوم کی ہم دردی اور عصبیت دوسری قوموں سے زیادہ ہی ہوتی ہے۔

مطیع سید: حضرت عمر کے اقدامات سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ وہ تدریجاً‌ غلامی کو محدود کرنا چاہ رہے تھے۔ کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان کو مزید موقع ملتا تو وہ اس کو کلیتاً‌ ختم کرنے کا فیصلہ بھی کر دیتے؟

عمارناصر: میرا بھی یہی تاثر ہے کہ حضرت عمر کے اقدامات کا تسلسل قائم رہتا اور ان کو یا ان کے بعد ان جیسی بصیرت اور جر أت رکھنے والے کسی خلیفہ کو مزید موقع ملتا تو شاید کسی مرحلے پر مسلمان بہت پہلے غلامی کے خاتمے کا فیصلہ کر لیتے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عمل شروع کیا تھا، اس کو حضرت عمر کافی یک سوئی کے ساتھ آگے بڑھاتے رہے، لیکن وہ مرحلہ نہیں آیا کہ وہ اس کے کلی خاتمے کا فیصلہ کر سکتے۔ پھر ان کے بعد اس انداز فکر کا تسلسل بھی اس طرح قائم نہیں رہا۔

مطیع سید: کیا عرب کے لوگوں کو باقی قوموں سے افضل سمجھنے میں نسلی امتیاز کا پہلو نہیں آ جاتا؟ یہودیوں کے ہاں بھی تو یہی تصور تھا، جس پر قرآن مجید نے تنقید کی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی حجۃ الوداع کے خطبے میں یہ بات فرمائی تھی جو بہت مشہور ہے کہ ’لا فضل لعربی علی عجمی الا بالتقوی‘۔ تو پھر ان کی افضلیت کس حوالے سے ہے؟

عمارناصر:یہ اچھا سوال ہے۔ اس میں نکتہ یہ ہے کہ کیا فضیلت اور برابری یکجا ہو سکتی ہیں؟ یعنی ایک لحاظ سے کسی گروہ کی فضیلت اور امتیاز مانا جائے اور دوسرے لحاظ سے وہ باقی گروہوں کے برابر ہو؟ جہاں تک نسلی اعتبار سے افضل ہونے کا تعلق ہے تو اس کی تو اسلام نے تائید نہیں کی، بلکہ یہ کہا ہے کہ انسان ہونے کے اعتبار سے سب ایک ماں باپ کی اولاد ہیں۔ کسی نسل کو دوسری نسل پر فی نفسہٖ برتری اور امتیاز حاصل نہیں۔ اللہ کی نظر میں پسندیدہ اور مقرب ہونے کا معیار انسان کے اعمال ہیں۔ تو اس لحاظ سے تو برابری ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کے تحت کچھ گروہوں اور نسلوں کو کسی خاص ذمہ داری یا خاص کردار کے لیے چن لیا تو اس لحاظ سے انھیں باقی گروہوں پر فضیلت حاصل ہے۔ جیسے بنی اسرائیل کو نبوت اور شریعت کے لیے چن لیا گیا، اسی طرح ان کے بعد بنی اسمٰعیل کو شہادت علی الناس کے لیے منتخب کیا گیا تو یہ اللہ کی دی ہوئی فضیلت ہے۔ یہ اپنی جگہ اہمیت رکھتی ہے۔ اس میں بنی اسرائیل بھی یہاں سے غلطی میں پڑے کہ انھوں نے کردار اور ذمہ داری کی وجہ سے دی گئی فضیلت کو نسلی فضیلت کے تصور میں بدل لیا اور بڑی حد تک عربوں میں بھی اگر برتری کا یہ احساس ہے تو اس کی بھی یہی حیثیت ہے۔

مطیع سید: ایک روایت ہے جس میں راوی حضرت ابن عباس ہیں۔ وہ قرآن کی آیت ’لَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا‘1کے متعلق بتاتے ہیں کہ یہ مکہ مکرمہ میں کس موقع پر نازل ہوئی تھی۔ (رقم155)۔ اس روایت کو حضرت عمر کی مسند میں کیوں رکھا گیا ہے؟

عمار ناصر:اس آیت میں یہ ہدایت کی گئی ہے کہ نماز پڑھتے ہو ئے نہ بہت اونچی آواز میں تلاوت کی جائے او رنہ بہت پست آواز میں۔ اس کے حوالے سے تفسیری روایات میں نقل ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے حضرت ابوبکر آہستہ آواز میں اور حضرت عمر زیادہ اونچی آواز میں تلاوت کرتے تھے تو آپ نے حضرت ابوبکر سے کہا کہ تم اپنی آواز کچھ بلند کر لو اور حضرت عمر سے کہا کہ آواز کو قدرے پست کر لیا کر لو(تفسیر الطبری 17/‏586)۔ ابن عباس کی یہ روایت بھی چونکہ اسی آیت کی شان نزول بیان کر رہی ہے تو میرے خیال میں اس مناسبت سے اسے حضرت عمر کی مسند میں رکھ دیا گیا ہے۔ لیکن یہ بھی ہو سکتا ہے کہ غلطی سے یہاں درج رہ گئی ہو، کیونکہ مسند کی ترتیب کو حتمی شکل دینے کا موقع تو امام احمدکو نہیں ملا تھا۔

مطیع سید: حضرت عمر نے اپنی وفات سے کچھ دن پہلے ایک خطبہ دیا۔ اس میں بڑے اہم معاملات پر انھو ں نے بات کی ہے اور اس میں رجم کا بھی ذکر ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ یہ اللہ کے حدود میں سے ایک حد ہے اور اگر یہ ڈر نہ ہوتا کہ لوگ کہیں گے کہ عمر نے اللہ کی کتاب میں ایک چیز شامل کر دی تو میں مصحف کے ایک کونے میں اس کو لکھ دیتا۔ یہ بھی فرمایا کہ ایسے لوگ آئیں گے جو رجم کا انکار کریں گے اور قبر کے عذاب اور دجال کا بھی انکارکریں گے (رقم156)۔ جب باقی چیزوں کے متعلق بھی حضرت عمر کو خدشہ تھا کہ لوگ انکار کریں گے تو مصحف میں درج کرنے کی بات وہ صرف رجم کے بارے میں کیوں کر رہے ہیں؟

عمار ناصر : رجم کے بارے میں یہ کہنے کی وجہ روایات میں یہ بیان ہوئی ہے کہ حضرت عمر نے کہا کہ اس کا حکم قرآن میں نازل ہوا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ رجم کی آیت اتری تھی اور ہم نے اسے خوب یاد بھی کیا تھا۔ بعض روایات میں اس آیت کے الفاظ بھی نقل ہوئے ہیں: ’الشَّيْخُ وَالشَّيْخَةُ إِذَا زَنَيَا فَارْجُمُوهُمَا أَلْبَتَّةَ‘ (السنن الکبریٰ، نسائی، رقم 7118)۔

مطیع سید: مولانا اصلاحی اور غامدی صاحب نے تو اس روایت کو موضوع قرار دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ قرآن کو مشکوک بنانے کے لیے گھڑی گئی ہے۔ اگر آیت قرآن میں نازل ہوئی تھی تو پھر وہ کہاں گئی؟

عمار ناصر : ان کا اعتراض ایک تو آیت کے الفاظ پر ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ عربیت کے لحاظ سے یہ بہت ہی رکیک جملہ ہے، جسے قرآن کی آیت نہیں مانا جا سکتا۔ لیکن اصل اعتراض یہ ہے کہ اگر واقعتاً‌ یہ آیت قرآن میں اتری تھی تو پھر موجودہ مصحف میں کیوں نہیں ہے؟ ظاہر ہے، یہ اعتراض معقول ہے اور یہ الجھن اہل علم کے سامنے بھی ہے۔ اسی لیے محدثین اس بیان کو ظاہری مفہوم میں نہیں لیتے۔ وہ اس طرح تشریح کرتے ہیں کہ حضرت عمر قرآن کی آیت کا ذکر نہیں کر رہے، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی میں نازل ہونے والے ایک حکم کا ذکر کر رہے ہیں۔ یہ امام طبری کی راے ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ بعض روایات میں بیان ہوا ہے کہ حضرت عمر نے کہا کہ ایک موقع پر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا تھا کہ مجھے رجم کی آیت لکھوا دیں،لیکن آپ نے لکھوانے سے گریز فرمایا (السنن الكبرىٰ، بیہقی، رقم7107، 7110)۔ اس سے یہ لگتا ہے کہ یہ حکم وحی میں نازل تو ہوا تھا، لیکن قرآن کی آیت کی حیثیت سے نہیں ہوا تھا، ورنہ آپ اسے لکھوانے سے گریز نہ کرتے۔

اسی طرح بعض اہل علم یہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر دراصل قرآن میں نہیں، بلکہ تورات میں رجم کی آیت نازل ہونے کا ذکر کر رہے ہیں، جس کا حکم ہماری شریعت میں بھی ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں بھی بیان ہوا ہے۔ کچھ دیگر محدثین کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ حضرت عمر قرآن میں نازل ہونے والی آیت کا ہی ذکر کر رہے ہیں، لیکن اس کی تلاوت بعد میں منسوخ کر دی گئی تھی، یعنی اسے مصحف میں شامل نہیں کیا گیا، لیکن اس کا حکم باقی ہے۔ اسی سے اصولیین نسخ کی ایک مستقل صورت اخذ کرتے ہیں، جس کو ’منسوخ التلاوۃ دون الحکم‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ لیکن یہ عقلاً‌ ناقابل فہم ہے۔ مولانا مودودی وغیرہ نے اسی پہلو سے اس پر تنقید کی ہے کہ حکم کو منسوخ کر کے آیت کو قرآن میں باقی رکھا جائے، یہ تو قابل فہم اور منطقی بات ہے، لیکن اس کی کیا منطق ہو سکتی ہے کہ حکم باقی رکھا جائے، لیکن آیت کے الفاظ قرآن سے نکال دیے جائیں؟

مطیع سید:ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ جب حضرت عمر خود بتا رہے ہیں کہ اب یہ حکم قرآن میں نہیں ہے اور میں اس کو مصحف میں نہیں لکھ سکتا تو پھر وہ اس کو منسوخ کیوں نہیں سمجھ رہے؟ جیسے وہ حج تمتع اور نکاح متعہ کے متعلق کہتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ نے کسی وقتی مصلحت کے تحت اس کی اجازت دی تھی تو رجم کے حکم کو وہ اس نظر سے کیوں نہیں دیکھتے؟ یہ اصرار کس بنیاد پر کر رہے ہیں کہ بعد میں لوگ اس کا انکار نہ کر دیں، بلکہ اس پر عمل کرتے رہیں؟

عمار ناصر: یہ مشکل سوال ہے۔ حضرت عمر نے ظاہر ہے، خود تو اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔ لیکن اگر ہم قیاساً‌ ان کا نقطۂ نظر سمجھنا چاہیں تو میرے خیال میں وہ اس کو نسخ پر یا کوئی وقتی حکم ہونے پر اس لیے محمول نہیں کر رہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عملاً‌ رجم کے حکم کو ترک نہیں کیا، بلکہ اس پر عمل فرماتے رہے۔ آپ کے ذہن میں ہوگا کہ اس نوعیت کا ایک سوال حضرت عمر کے ذہن میں سفر میں نماز قصر کر نے کے متعلق پیدا ہوا تھا کہ قرآن میں تو یہ اجازت خوف کی حالت میں دی گئی ہے تو جب انھوں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خوف کی حالت ختم ہو جانے کے بعد بھی قصر کر رہے ہیں تو انھوں نے آپ سے یہ سوال پوچھ لیا۔ آپ نے ان کو بتایا کہ یہ بھی ہم اللہ کی اجازت کے تحت ہی کر رہے ہیں، اس کے خلاف نہیں کر رہے۔ شاید حضرت عمر اس پر قیاس کرتے ہوئے یہ سمجھتے ہوں کہ رجم کا حکم بھی اگرچہ قرآن میں نہیں لکھا گیا، لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس پر عمل فرماتے رہے ہیں تو یہ بھی شریعت کا حصہ ہے۔ اس وجہ سے اس کا انکار نہیں کرنا چاہیے کہ یہ قرآن میں لکھا ہوا نہیں ہے۔

مطیع سید:حضرت عمر فرماتے ہیں کہ تین باتوں میں، میری راے اللہ تعالیٰ کے منشا کے مطابق تھی۔ اس میں ایک بات وہ یہ ذکر کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ آپ کے پاس نیک اور بد، ہر طرح کے لوگ آتے ہیں۔ بہتر ہے کہ آپ امہات المومنین کو پردے میں رہنے کی ہدایت فرما دیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حجاب کی آیت نازل کر دی (رقم 157)۔

عمار ناصر: جی، یہ تو قرآن مجید کی آیت سے بھی اور روایات سے بھی بالکل واضح ہے کہ حجاب کی پابندی خاص طور پر ازواج مطہرات کے لیے تھی اور اس کا مقصد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے تقدس اور احترام کو یقینی بنانا تھا۔ سیدنا عمر پہلے سے یہ اصرار کر رہے تھے اور ازواج مطہرات کو اس کی تلقین کرنے کے علاوہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی گزارش کرتے رہتے تھے کہ آپ کی ازواج کے ساتھ ہر شخص کو میل ملاقات اور رسائی کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ میں نے ایک تفصیلی مقالے میں وہ سب روایات جمع کر دی ہیں، جن سے واضح ہوتا ہے کہ عہد نبوی اور عہد صحابہ و تابعین میں حجاب کو امہات المومنین کے لیے ایک خصوصی حکم سمجھا جاتا تھا، اور صحابہ حجاب کی پابندی کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آنے والی خواتین کی ایک خصوصی اور امتیازی علامت کے طور پر ذکر کرتے تھے۔ یہ کئی اقساط میں ماہنامہ’’اشراق“ میں شائع ہو چکا ہے۔

مطیع سید:حضرت عمر نے ایک گھوڑا اللہ کی راہ میں دے دیا،کچھ عرصے بعد وہی گھوڑا یا اس کا بچہ بازار میں بکنے آیا تو حضرت عمر نے نبی صلی اللہ علیہ سے پوچھا کہ کیا میں اسے خرید لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے صدقے سے رجوع نہ کرو (رقم166)۔ بہ ظاہر تو یہ صدقے سے رجوع نہیں تھا، حضرت عمر تو اپنا گھوڑا دوبارہ خرید رہے تھے۔

عمار ناصر: یہ ایک لطیف بات ہے۔ کوئی فقہی یا شرعی حکم نہیں ہے۔ صدقہ کرنے میں اجر و ثواب کا ایک پہلو یہ بھی ہوتا ہے کہ آدمی اپنی کسی محبوب چیز سے جدائی گوارا کر کے اسے اللہ کی راہ میں دے دیتا ہے۔ اب اگر وہی محبوب چیز آدمی دوبارہ خریدنا چاہے تو ایک طرح سے صدقے کی روح مجروح ہوتی ہے۔ بس اس پہلو سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے صدقے سے رجوع کرنے سے تعبیر کیا ہے۔

مطیع سید: حضر ت سمرہ بن جندب نے شراب فروخت کی اور حضرت عمر نے ’قاتل اللّٰہ سمرۃ‘ کہا اور کہا کہ یہودیوں نے بھی چربی کے بارے میں ایسے ہی کیا تھا کہ اللہ نے چربی حرام کی تو اسے بیچنا شروع کر دیا (رقم170)۔ حضرت سمرہ تو نمایاں صحابہ میں سے ہیں۔ کیا شراب کی تجارت کے حرام ہونے کا حکم ان پر واضح نہیں تھا؟

عمارناصر: ایسے ہی لگتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی حرام چیز کی خرید وفروخت سے بھی منع کیا ہے، وہ ان کے علم میں نہیں تھا۔انھوں نے یہ قیاس کیا ہوگا کہ جو ممانعت ہے، وہ شراب کے استعمال سے متعلق ہے، لیکن اس کو بیچ کر قیمت لے سکتے ہیں۔یعنی خود استعمال نہیں کر سکتے، لیکن کسی غیر مسلم کو فروخت کر سکتے ہیں۔

مطیع سید: حضرت عمر کی بات سے یہ محسوس ہوتاہے کہ انھوں نے اس پر کوئی ایکشن نہیں لیا۔

عمار ناصر: جی، انھوں نے بس تبصرہ کیا ہے۔ اجتہادی غلطی پر کوئی سزا وغیرہ نہیں دی۔

مطیع سید: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بچہ اس کا مانا جائے گا جس کے نکاح یا ملکیت میں بچے کی ماں ہو، ’الولد للفراش‘ (رقم 173)۔ اس کی تھوڑی وضاحت فرمادیں۔ آج تو ہمارے پاس اور کافی ذرائع موجود ہیں جن سے ہم معلوم کر سکتے ہیں کہ بچہ کس کا ہے۔

عمار ناصر: یہ بات آپ نے اصل میں تو ایسے موقع پر فرمائی تھی، جب ایک باندی ملکیت میں تو کسی اور شخص کی تھی، لیکن اس کے بچے کا باپ ہونے کا دعویٰ کسی دوسرے شخص نے کیا تھا۔ جب آپ کے سامنے مقدمہ پیش ہوا تو یہ دونوں شخص موجود نہیں تھے، بلکہ دونوں کے متعلقین اس بچے کا رشتہ اپنے ساتھ جوڑنے کا دعویٰ کر رہے تھے۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ باندی جس کی ملکیت میں تھی، بچہ بھی اسی کا تسلیم کیا جائے گا۔ دوسرے شخص کو آپ نے زانی قرار دیتے ہوئے بچے پر اس کا حق تسلیم نہیں کیا۔ اس سے جو فقہی اصول اخذ ہوتا ہے، وہ یہ ہے کہ اگر عورت کسی کے نکاح میں یا ملکیت میں ہو اور اس دوران میں تعلق کسی اور سے قائم کر لے تو اگر شوہر یا مالک بچے کو اپنی اولاد ماننے سے انکار نہیں کرتا تو وہ اسی کا بچہ مانا جائے گا۔ ہاں، اگر شوہر بچے کی ذمہ داری لینے سے انکاری ہو تو پھر اسے لعان کرنا پڑے گا۔ اسی طرح اگر مالک اپنی باندی کے بچے کی ذمہ داری قبول نہ کرے تو اس کا نسب بھی اس سے ثابت نہیں مانا جائے گا۔

گویا بنیادی طور پر ’الولد للفراش‘ کا اصول ایسی صورت حال کے لیے بیان کیا گیا ہے، جب صاحب فراش خود انکار نہ کر رہا ہو۔ اس کے علاوہ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایسے مقدمات بھی آئے جن میں ایک باندی کئی مالکوں کی ملکیت تھی اور سب اس کے بچے کا باپ ہونے کے مدعی تھے تو آپ نے قرعہ اندازی سے ولدیت کا فیصلہ فرمایا، کیونکہ اس کے علاوہ کوئی اور طریقہ دستیاب نہیں تھا۔ میرے خیال میں آج اگر ایسا کوئی معاملہ ہو تو اس میں قرعہ اندازی کے بجاے طبی ذرائع سے مدد لی جا سکتی ہے۔ اسی طرح اگر شوہر اپنی بیوی پر بدکاری کا الزام لگائے او ر بچے کے نسب کی ذمہ داری قبول نہ کرے، لیکن بیوی کا اصرار ہو کہ یہ اسی کا بچہ ہے تو اس صورت میں بھی طبی ذرائع سے مدد لینی چاہیے۔ صرف شوہر کے انکار کو بچے کے نسب کی نفی کے لیے کافی نہیں سمجھنا چاہیے۔

مطیع سید: حضرت اسما ء نے اپنے غلام عبد اللہ کو حضرت ابن عمر کے پاس یہ پوچھنے کے لیے بھیجا کہ آپ ان تین چیزوں کو کیوں حرام قرار دیتے ہیں؟ ان میں لباس میں ریشم کے ٹکڑے لگانا بھی شامل تھا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی وجہ یہ بتائی کہ حضرت عمر نے انھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سنایا تھا کہ دنیا میں ریشم پہننے والے کو آخرت میں ریشم کا لباس نہیں ملے گا (رقم181)۔غالباً‌ احادیث میں اس بات کی تو اجازت دی گئی ہے کہ لباس میں ریشم کے چھوٹے ٹکڑے لگائے جا سکتے ہیں۔تو ابن عمر رضی اللہ عنہ اس سے کیوں منع کر رہے تھے؟

عمار ناصر: جی، احادیث میں تو رخصت موجود ہے، بلکہ اس واقعے کی تفصیلی روایت میں ہے کہ جب عبد اللہ، ابن عمر رضی اللہ عنہ کا جواب لے کر سیدہ اسماء کے پاس گئے تو انھوں نے ایک جبہ نکال کر ان کو دکھایا اور بتایا کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جبہ ہے جو آپ پہنا کرتے تھے۔ اس جبے پر بھی ریشم کے ٹکڑے لگے ہوئے تھے (السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم 6084)۔ اب ابن عمر کے منع کرنے کی وجہ یا یہ ہو سکتی ہے کہ ان کے علم میں نہ ہو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت دی ہے اور وہ ریشم کی عمومی ممانعت سے یہ اخذ کر رہے ہوں کہ تھوڑا سا ریشم استعمال کرنا بھی منع ہے۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ رخصت ان کے علم میں تو ہو، لیکن سدِ ذریعہ کے اصول کے تحت وہ یہ دیکھ رہے ہوں کہ اس کی جتنی مناسب مقدار ہو سکتی،عملاً‌ لوگ اس کی پابندی نہیں کر رہے اور ایک طرح سے ریشم کے عام استعمال کا راستہ کھل رہاہے۔ دونوں پہلو ہو سکتے ہیں۔

[باقی]

  1. ۔ بنی اسرائیل17: 110۔