مواد پر جائیں

حیات ِامین

نعیم احمد بلوچ اردو

(سوانح مولانا امین احسن اصلاحی)

(30)

]صاحب ’’تدبر قرآن‘‘ کی وصیت کے مطابق

ان کے سوانح نگار نعیم احمد بلوچ کے قلم سے [

اس غم کو سہارنے کے لیے پہاڑ جیسی طاقت چاہیے تھی اور مولانا کا صبر واقعی پہاڑ جیسا ہی ثابت ہوا، لیکن اس کے باوجود وہ تھے تو گوشت پوست کے انسان ہی۔ اور پھر بہت ہی حساس دل کے مالک تھے۔ آخر وہ لکھنے پرمجبور ہوئے :

’’اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ اس حادثے نے مجھے اندر سے بالکل ہلا ڈالا تھا، لیکن اب میرے رب نے مجھے سنبھال لیا ہے۔کبھی کبھی تنہائی میں رونے کو اب بھی جی چاہتا ہے، لیکن الحمدللہ! اس معاملے میں مجھے اپنے پروردگار سے کوئی شکایت نہیں۔ میرا دل بالکل مطمئن ہے کہ جو کچھ ہوا ہے اسی میں سب کی بہتری ہے ــــــ مرحوم کی بھی، اس کے ننھے ننھے بچوں کی بھی، اس کی غم زدہ بیوہ کی بھی، اس کے غمگین ماں باپ اور بھائی بہنوں کی بھی!‘‘ (ماہنامہ میثاق، لاہور، جون 1965ء)

اس حادثے نے مولانا کی زندگی پر جس بری طرح اثر ڈالا وہ تو سب پر واضح ہی تھا، لیکن اصل میں یہ حادثہ ایک قومی سانحہ بھی تھا۔ اس حوالے سے مولانا لکھتے ہیں :

’’اگر ابو صالح کا غم تنہا میرا ہی غم ہوتا تو میں اس کا ذکر ان صفحات میں نہ کر تا، بلکہ اس کو اپنے سینے کا راز بنا کر اس کو اپنے ساتھ قبر میں لے جاتا، لیکن حادثے کی نوعیت نے اس کو ایک قومی غم بنا دیا ہے۔اب ابو صالح تنہا میرے نہیں تھے،بلکہ اپنی قوم کے تھے۔اس کی صلاحیتیں پوری قوم کا سرمایہ تھیں۔ اس نے زندگی مختصر پائی، لیکن شان دار پائی!کہنے کو تو وہ ’’کوہستان‘‘سے طلوع ہوا، ’’مشرق‘‘ میں چمکا اور ’’قاہرہ‘‘ میں غروب ہو گیا، لیکن اتنی ہی مدت میں اس کے قلم نے ملک کی صحافت کی تاریخ میں اس کے کام اور نام کو زندۂ جاوید بنا دیا۔ چھتیس سال کی عمر ہی کیا ہوتی ہے، لیکن اتنی ہی عمر میں اس نے صحافت میں وہ مقام حاصل کیا کہ آج ہماری صحافت کی اساطین و عمائد اس کو جدید دور صحافت کے بانیوں کی صفِ اول میں شمار کرتے ہیں! باپ کے نگاہوں میں بیٹا ہمیشہ بچہ ہی رہتا ہے اور وہ تو ابھی بچہ ہی تھا، لیکن اس کے قلم کی پختگی،شگفتگی اور معنی آفرینی پر مجھے بھی سخت حیرانی ہوتی تھی اور دل میں کبھی کبھی یہ خیال کرتا تھا کہ اگر اس لڑکے کو زندگی ملی تو میرا خاندان بھی صحافت اور اردو زبان کی کچھ خدمت کر جائے گا۔اس کی زندگی کا یہ پہلو اجتماعی نوعیت رکھتا ہے،اس وجہ سے میں نے یہ چند حرف لکھ دیے ہیں،اگر طبیعت نے ساتھ دیا تو شاید میثاق کے آیندہ شمارے میں اس کی زندگی کے بعض ایسے گوشوں کو بھی روشنی میں لانے کی کوشش کروں گا جن سے باپ ہونے کے سبب سے میں ہی واقف ہوں۔ عجب نہیں کہ ہونہار نوجوانوں کو ان سے فائدہ پہنچے۔یہ فائدہ مدِ نظر نہ ہوتا تو،جیسا کہ عرض کر چکا ہوں، ایک حرف بھی اس غم کا ظاہر کرنا میں پسند نہ کرتا، رونا تنہائی ہی کا اچھا ہوتا ہے۔‘‘ (ماہنامہ میثاق، لاہور، جون 1965ء)

وعدے کے مطابق مولانا نے اگلے شمارے میں اس موضوع پر دوسرا مضمون بھی لکھا۔ اس کے اہم اقتباسات درج کیے جاتے ہیں :

’’میثاق کا یہ شمارہ نہایت پریشانی کے حالات میں مرتب ہوا ہے۔میں کچھ نہیں کہہ سکتا کہ کیا لکھا گیا ہے اور کیا چھپا ہے۔تاخیر تو عام حالات میں بھی اس رسالہ کا معمول بن چکی تھی، لیکن اب تو جن حالات و مسائل میں میں گھر گیا ہوں،نہیں کہہ سکتا کہ بےنظمی اور بےقاعدگی کے ساتھ بھی یہ پرچہ جاری رہ سکے گا یا نہیں۔ اس دوران میں مجھے نقل مکان کی الجھنوں سے بھی دو چار ہونا پڑا، اس لیے کہ ابو صالح مرحوم کے بچوں کی دیکھ بھال کے لیے مجھے رحمان پورہ سے منتقل ہو کر فیروزپور روڈ پر آنا پڑا اور اب تک کوئی ایسا مکان حاصل نہیں ہو سکا ہے، جس میں ان بچوں کے ساتھ یکجا قیام کی صورت پیدا ہو سکے۔میثاق کا دفتر بھی ابھی ایک عارضی جگہ پر ڈال دیا گیا ہے۔ہر چیز الجھی ہوئی ہے اور صرف اللہ ہی کو علم ہے کہ اس الجھاؤ کے سلجھنے کی کوئی شکل نکلے گی یا نہیں۔‘‘(ماہنامہ اشراق، لاہور، جولائی 1965ء)

وقت کے انسان کی قدر معاشروں نے کم ہی کی ہے، سبھی تاریخ کے انسان ہی کے مجسمے بناتے ہیں۔ آج زمانہ جن ’’ امام امین احسن اصلاحی‘‘ کو جانتا ہے، ان پر لاتعداد لوگ جان اور مال وارنے کو تیار ہوں گے، لیکن جب وہ اپنی زندگی کے سب سے بڑے صدمے سے گزر رہے تھے تو رہایش کے لیے مناسب بندوبست بھی ممکن نہ تھا۔ جن حالات اور جن کیفیات میں تھے، اس کا ہلکا سا اندازہ اوپر کی سطور سے لگایا جا سکتا ہے۔ اللہ اکبر۔ اب ذرا یہ اقتباس ملاحظہ فرمائیں :

’’میں اب ایک عرصے سے تفسیر’’تدبرقرآن‘‘ اور حلقۂ تدبر قرآن کے سوا تمام دوسرے کاموں سے تقریباً الگ تھلگ ہو گیا تھا۔ ذمہ داریاں خواہ گھر کی ہوں یا باہر کی، ان سے جی گھبراتا تھا۔معاش کی مجبوریوں کے سبب سے زمین داری کی تھوڑی سی دیکھ بھال کرنی پڑتی تھی، لیکن یہ کام بھی مارے باندھے ہی کرتا تھا۔لڑکوں نے اپنی ذمہ داریاں خود نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ سنبھال لی تھیں اور اب وہ اس قابل تھے کہ مجھے امید تھی کہ مجھ سے متعلق جو بعض ذمہ داریاں باقی رہ گئی ہیں، ان سے وہ مجھ سے زیادہ خوبی کے ساتھ عہدہ برآ ہو سکیں گے۔لیکن ابو صالح مرحوم کی ناگہانی موت نے حالات کا سارا نقشہ ہی بدل دیا۔ اب نہ صرف میری ذمہ داریاں مجھ سے از سر نو توجہ کا مطالبہ کر رہی ہیں،بلکہ مرحوم ابو صالح نے اپنی ذمہ داریاں بھی میرے ناتواں کندھوں پر ڈال دی ہیں۔اس نے چھوٹے چھوٹے چھ بچے چھوڑے ہیں جن میں سے سب سے بڑی بچی کی عمر کل آٹھ سال ہے۔ ان بچوں کی اٹھان ایک خاص نہج پر ہوئی ہے۔ (خاصے اچھے حالات میں )مجھ سے دور رہنے کے سبب سے یہ مجھ سے اچھی طرح مانوس بھی نہیں ہیں۔ ان کے بھولے پن کا ہی عالم ہے کہ میری ایک پوتی جو شکل و شباہت اور مزاج و عادات میں اپنے مرحوم باپ کا کامل نمونہ ہے، ایک شب میں سوتے وقت اپنی نانی اماں سے پوچھ بیٹھی کہ’اماں !اللہ میاں کس چیز کی فراک پہنتے ہیں؟‘ انھوں نے جواب دیا کہ’نور کی!‘۔ یہ جواب اس کے حافظے میں محفوظ رہ گیا۔ صبح کو جب وہ اٹھی اور اس کی نانی اس کو نہلا کر اس کی فراک بدلنے لگی تو وہ مچل گئی کہ میں تو نور کی فراک پہنوں گی! اور نور کی فراک کے لیے ایسی بہ ضد ہوئی کہ سارے گھر کے لیے ایک مسئلہ پیدا ہو گیا۔یہاں تک کہ مجھے اپنے جدید کلامی دلائل کے ساتھ مداخلت کرنی پڑی تب کہیں جا کر یہ نزاع ختم ہوئی۔

مولانا شبلی نعمانی نے اپنے بھائی مولوی اسحاق مرحوم کا جو درد انگیز مرثیہ لکھا ہے، وہ بچپن سے مجھے پورا زبانی یاد تھا۔ اس کے جو شعر مجھے خاص طور پر پسند تھے، ان میں وہ شعر بھی تھا جس میں مولانا نے مولوی اسحاق مرحوم کے بچوں کی طرف اشارہ کیا ہے:

لاڈلے ہیں کہ کسی اور کے بس کے بھی نہیں

اس کے بچے ابھی سات آٹھ برس کے بھی نہیں

یہ شعر میں اکثر نہایت رقت انگیز انداز میں پڑھا کرتا تھا۔اب یہ راز کھلا کہ یہ شعر مجھے اس درجہ کیوں پسند تھا۔معلوم ہوا کہ مولانا نے اس شعر میں اپنے ہی درد ِدل کی کہانی نہیں سنائی تھی، بلکہ اس میں میرا درد دل بھی شامل کر دیا تھا۔میرا یہ ایک مستقل نظریہ ہے کہ آدمی کو شعر وہی پسند ہوتے ہیں جن میں وہ اپنے دل کی صدائیں سنتا ہے۔‘‘( ماہنامہ میثاق، لاہور، جولائی 1965ء)

اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی اس آزمایش کی جہاں وہ حکمت واضح کرتے ہیں، وہیں وہ اپنا محاسبہ بھی کرتے نظر آتے ہیں۔ لکھتے ہیں :

’’مجھے اچھی طرح علم ہے کہ آدمی پر ذمہ داریاں خدا ڈالتا ہے اور وہی ان کے اٹھانے کی توفیق و ہمت بھی عطا فرماتا ہے۔میں جو خوف و ہراس محسوس کر رہا ہوں، یہ محض علم کی کمی اور طبیعت کی سہل پسندی کا نتیجہ ہے۔جو امتحان باقی ہیں وہ ہو کے رہیں گے۔ وہ اس وجہ سے نہیں ملتوی ہو جائیں گے کہ میں امتحان سے گھبراتا ہوں اور کمر کھول کر اب سستانے اور آرام کرنے کا خواہش مند ہو گیا ہوں۔یہ امتحان اللہ تعالیٰ کی سنت ہے، جس سے کسی حال میں مفر نہیں ہے۔اسی سے بندے کی صلاحیتیں اجاگر ہوتی اور اس کی کم زوریاں دور ہوتی ہیں۔ آدمی کا بڑھاپا بھی اس کے لیے کوئی عذر نہیں ہے۔ بڑھاپے میں جس طرح جسمانی بیماریاں اور کم زوریاں لاحق ہوتی ہیں،اسی طرح عقلی و ایمانی بیماریاں بھی لاحق ہوتی ہیں۔ آدمی جب عصائے پیری (لاٹھی) کا محتاج ہوتا ہے تو بہت سی غلط چیزوں پر تکیہ کرنے لگتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ اپنی توحید کے معاملے میں بڑا غیور ہے۔وہ یہ نہیں چاہتا کہ اس کا بندہ کسی اور پر اعتماد کرے۔ میں محسوس کرتا ہوں کہ اس عمر میں آکر میرے اندر بھی ایک غلط قسم کا اعتماد پیدا ہو چلا تھا۔ اگرچہ میری کوئی ضرورت ابو صالح سے وابستہ نہیں تھی مگر ایک باپ کو اپنے بیٹے پر جو فخر و ناز ہوتا ہے،غیر محسوس طور پر میرے اندر بھی تھا۔اس کی شہرت اور نام وری سے میرے دل کو خوشی ہوتی تھی۔ لوگ اس کی تعریفیں کرتے تھے تو میرے خون میں اضافہ ہوتا تھا۔اس کے بھرے گھر کو دیکھ کر میرا دل باغ باغ ہوتا تھا۔میں جب پیار سے یا غصے سے اس کو بے وقوف کہتا تھا اور وہ مسکرا کر نگاہیں نیچی کر لیتا تھا تو مجھے فخر ہوتا تھا کہ میں ملک کے ایک نامور صاحب ِقلم اور چوٹی کے صحافی کو ’’بے وقوف‘‘ کہہ دیتا ہوں اور وہ میرے اس خطا ب پر خوش ہوتا ہے ـــــ اس طرح غیر محسوس طور پر میں نے ابو صالح کے اعتماد میں اپنے دل کے اندر پندار کا ایک صنم خانہ تعمیر کر لیا تھا۔قدرت نے 20؍ مئی 1965ء کی صبح کو اس صنم خانے کو ڈھا دیا۔ یہ ٹھیک ہے کہ مجھے اس حادثے سے بڑا غم ہوا، لیکن یہ بھی واقعہ ہے کہ اس حادثے کے بعد سے میرے اور میرے پروردگار کے درمیان کوئی حجاب حائل نہیں رہا۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرا خاتمہ اس حال میں کرے کہ میرا دل اعتماد ِغیر کے ہر شائبہ سے پاک ہو۔

مرحوم کے بعض دوستوں کی باصرار یہ خواہش ہے کہ میں اس کے ابتدائی حالات اور اس کے مزاج کی خصوصیات پر ایک مضمون لکھ دوں … لیکن ابھی نہیں۔ ابھی تو میری کوشش یہ ہے کہ دل پر اس کے تصور کا جو غلبہ ہے، وہ کچھ کم ہو تاکہ میں کچھ پڑھنے لکھنے اور سوچنے سمجھنے کے قابل ہو سکوں۔میرا یہ گمان نہیں ہے کہ ابو صالح میں خوبیاں ہی خوبیاں تھیں۔نہیں!ا س میں نقائص بھی تھے، لیکن میں اس کے نقائص میں اپنے نقائص کا عکس دیکھتا تھا۔اس کی امی جب اس طرح کی کسی چیز کی شکایت کرتیں تو میں ان کو جواب دیتا کہ اس چیز کی فکر نہ کرو،یہ چیز اس نے باپ سے وراثت میں پائی ہے۔جس طرح باپ کے دماغ کو عمر اور تجربے نے درست کر دیا ہے، اسی طرح عمر اور تجربہ سے اس کا دماغ بھی درست ہو جائے گا۔مجھ سے، میرے خاندان کی روایات کے زیر اثر اس کو ایک حجاب سا رہا، لیکن یہ حجاب محض ظاہر کا پردہ تھا، اس پردے کے پیچھے جس طرح وہ میرے دل میں بسا ہوا تھا، اسی طرح میں بھی اس کے دل و دماغ پر چھایا ہوا تھا۔ بھائیوں، بہنوں اور عزیزوں سے اسے نہایت گہری محبت تھی۔اپنی چھوٹی بہن ـــــمریم صدیقہ ــــکو پیار سے ہمیشہ’مُنّی!‘کہتا تھا اور اس کی ہر چھوٹی بڑی خواہش بلا تاخیر پوری کرتا تھا۔(یاد رہے کہ یہ ان کی سوتیلی بہن تھیں)پچھلے دنوں وہ بیمار ہو گئی تو اس کی تیمارداری اور دیکھ بھال میں اس نے رات دن ایک کر دیے۔ اس کے آپریشن کی نوبت آئی تو لاہور میں جو بہتر سے بہتر انتظام ممکن تھا، اس نے وہ کیا۔ اس کا چھوٹا بھائی ــــابو سعد سلمہ ــــ بھارت میں ہے۔ اس کے لیے وہ مجھ سے زیادہ فکر مند رہتا تھا۔ اپنے دوسرے چھوٹے بھائی ــــابو سعید سلمہ ــــکو اس نے تعلیم دلائی اور اب اگست 1965ء میں اس کے امریکہ جانے کا پروگرام تھا۔ طبیعت نہایت خود دار، فیاض اور غم گسار پائی تھی۔ اس کے اخلاق سے متعلق نہ صرف یہ کہ کبھی کوئی شکایت سننے میں نہیں آئی، بلکہ اس کے خاص دوستوں نے بہ قید قسم یہ شہادت دی کہ اس سے زیادہ پاکیزہ نگاہ نوجوان انھوں نے نہیں دیکھا ! میں جانتا ہوں کہ یہ چیز اس میں بر بناے تقویٰ نہیں تھی، بلکہ محض طبیعت کے تَرفّع کا نتیجہ تھی، لیکن میں مطمئن تھا کہ اس ترفع نے اسے بہت سے فتنوں سے محفوظ رکھا۔ اس ترفع ہی کا ایک پہلو یہ بھی تھا کہ معیار زندگی اونچا رکھنے کے باوجود مکان پر نام کی تختی نہیں لگواتے تھے،گھر پر فون نہیں رکھتے تھے،اخبار میں اپنی تصویر نہیں چھپواتے تھے۔بلکہ تاکید تھی کہ اگر کسی گروپ کے ساتھ ان کی تصویر ہو بھی تو ان کی تصویر کاٹ کر گروپ کی تصویر اخبار میں دی جائے۔ اسی طرح اپنے مخصوص کالم پر،جس کی اخباری دنیا میں بڑی دھوم تھی،کبھی اپنا نام نہیں دیا۔

صحت بہت اچھی تھی،آنکھیں ہمیشہ ہنستی ہوئی رہتی تھیں۔ مطالعہ بہت کرتے تھے اور معلومات بہت وسیع تھیں لیکن مطالعہ اور معلومات کا بوجھ چہرے بشرے سے نمایاں نہیں ہوتا تھا۔چہرہ ہمیشہ تازہ گلاب کی طرح شگفتہ رہتا۔تفریحات میں سے صرف احباب کے ساتھ مجلس آرائی سے دل چسپی تھی۔ ان کے اکثر احباب عمر میں ان سے بڑے تھے، لیکن مشہور روایت یہی ہے کہ جس مجلس میں ہوتے، اپنے حسنِ بیان،اصابت ِراے اور وسعتِ معلومات کی وجہ سے نمایاں رہتے۔دل میں دنیا حاصل کرنے کی خواہش تھی، لیکن بڑی خودداری اور اصول کے ساتھ !پچھلے دنوں انھیں ایک خاص حلقے کی طرف سے بڑی اہم پیشکش ہوئی، لیکن انھوں نے نہایت بے نیازی کے ساتھ ٹھکرا دی۔ حلقۂ ملاقات و تعلقات ہر طبقے میں بہت وسیع تھا، لیکن اس سے ذاتی فوائد حاصل کرنے کی کبھی کوشش نہیں کی۔البتہ اس سے دوسرے ضرورت مندوں کو فائدے پہنچائے۔ دعا کیجیے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی کم زوریوں سے درگذر فرمائے اور اس کی نیکیوں کو قبول فرمائے!‘‘ ( ماہنامہ میثاق، لاہور، جولائی 1965ء)

تنظیم اسلامی کی قرارداد

ماچھی گوٹھ کے اجلاس منعقدہ 1957ء میں ہونے والے اختلافات کی وجہ سے جماعت اسلامی سے علیحدہ ہونے والے اکثر اراکین کی بڑی خواہش تھی کہ وہ کوئی متبادل نظم بنا سکیں۔ یہ کوششیں جاری رہیں۔ مولانا عبد الغفار حسن ( فیصل آباد )اور شیخ سلطان احمد صاحب (کراچی) نے پورے ملک میں بکھرے ہوئے لوگوں سے رابطہ کیا۔ مولانا اصلاحی اصولی طور پر کسی جماعت کے قیام کے حق میں نہیں تھے، لیکن انھوں نے اختلاف راے کے باوجود ان دوستوں کے بے حد اصرار پر تعاون کی ہامی بھری۔انھوں نے، البتہ یہ واضح کر دیا تھا کہ کسی بھی تنظیمی ذمہ داری کو اٹھانے سے قاصر ہوں گے۔ آخر ہم خیال اہل علم کا ایک اجتماع 6- 9 ؍ ستمبر 1967ء کو رحیم یار خان میں ہوا۔ اسں میں آیندہ کام کے لیے ایک قرار داد منظورکی گئی۔ اس کے مطابق :

’’ہمارے نزدیک دین کا اصل مخاطب فرد ہے۔ اسی کی اخلاقی و روحانی تکمیل اور فلاح و نجات دین کا اصل موضوع ہے اور پیش نظر اجتماعیت اصلاً اسی لیے مطلوب ہے کہ وہ فرد کو اس کے نصب العین یعنی رضاے الٰہی کے حصول میں مدد دے۔‘‘ (مقالات اصلاحی 2/355)

مولانا اس اجتماع میں شریک بھی ہوئے اور تقریر بھی کی۔ چنانچہ ’’تنظیم اسلامی‘‘ کے نام سے ایک تنظیم بنانے کا فیصلہ ہوا اور اس کے لیے ایک مجلس مشاورت کا تقرر ہوا۔ اس مجلس کے حسب ذیل سات ارکان تھے:

مولانا امین احسن اصلاحی، مولانا عبدالغفار حسن، مولانا عبدالحق جامعی، سردار محمد اجمل خان لغاری، ڈاکٹر نذیر احمد، ڈاکٹر اسرار احمد اورشیخ سلطان احمد(معتمد)۔

مگر اس کے باوجود یہ تنظیم قائم نہ ہوسکی۔البتہ مجلس کے فیصلوں کی روشنی میں ڈاکٹر اسرار احمدنے اپنے گھر پر ہفتہ وار درس قرآن شروع کیا، جس میں مولانا نے بھی قرآن مجید کی آخری سورتوں کا درس دیا۔

[باقی]

عربی ادب قبل از اسلام 6