مواد پر جائیں

لہو پھر مرا گنگنانے لگا

ڈاکٹر خورشید رضوی اردو

پرانے ترانے سنانے لگا

اُگا ذہن میں اِک شجر سایہ دار

لہکنے لگا، لہلہانے لگا

کھلا آج مجھ سے مرا چارہ گر

مجھے زخم اپنے دکھانے لگا

سنا دی اُسے آج اپنی غزل

چلو یہ ہنر تو ٹھکانے لگا

ہوا پھر سے خورشؔید گرمِ سفر

ستاروں کی شمعیں بجھانے لگا

خیال و خامہ