مواد پر جائیں

سردارانِ فارس اور صحابہ کے مابین مکالمے (18) (15)

ڈاکٹر عمار خان ناصر اردو

عَنْ سَيْفٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ وَطَلْحَةَ وَزِيَادٍ، قَالُوا: أَرْسَلَ إِلَيْهِمْ سَعْدٌ بَقِيَّةَ ذَوِي الرَّأْيِ جَمِيعًا، وَحَبَسَ الثَّلاثَةَ، فَخَرَجُوا حَتَّى أَتَوْهُ لِيُعْظِمُوا عَلَيْهِ اسْتِقْبَاحًا، فَقَالُوا لَهُ: إِنَّ أَمِيرَنَا يَقُولُ لَكَ: إِنَّ الْجِوَارَ يَحْفَظُ الْوُلاةَ، وَإِنِّي أَدْعُوكَ إِلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَنَا وَلَكَ، الْعَافِيَةُ أَنْ تَقْبَلَ مَا دَعَاكَ اللّٰهُ إِلَيْهِ، وَنَرْجِعُ إِلَى أَرْضِنَا، وَتَرْجِعُ إِلَى أَرْضِكَ، وَبَعْضُنَا مِنْ بَعْضٍ، إِلا أَنَّ دَارَكُمْ لَكُمْ وَأَمْرَكُمْ فِيكُمْ، وَمَا أَصَبْتُمْ مِمَّا وَرَاءَكُمْ كَانَ زِيَادَةً لَكُمْ دُونَنَا، وَكُنَّا لَكُمْ عَوْنًا عَلَى أَحَدٍ إِنْ أَرَادَكُمْ أَوْ قَوِيَ عَلَيْكُمْ وَاتَّقِ اللّٰهَ يَا رُسْتُمُ، وَلا يَكُونَنَّ هَلاكُ قَوْمِكَ عَلَى يَدَيْكَ، فَإِنَّهُ لَيْسَ بَيْنَكَ وَبَيْنَ أَنْ تَغْبِطَ بِهِ إِلاَّ أَنْ تَدْخُلَ فِيهِ وَتَطْرُدَ بِهِ الشَّيْطَانَ عَنْكَ.

فَقَالَ: إِنِّي قَدْ كَلَّمْتُ مِنْكُمْ نَفَرًا، وَلَوْ أَنَّهُمْ فَهِمُوا عَنِّي رَجَوْتُ أَنْ تَكُونُوا قَدْ فَهِمْتُمْ، وَإِنَّ الأَمْثَالَ أَوْضَحُ مِنْ كَثِيرٍ مِنَ الْكَلامِ، وَسَأَضْرِبُ لَكُمْ مَثَلَكُمْ تُبْصِرُوا: إِنَّكُمْ كُنْتُمْ أَهْلَ جَهْدٍ فِي الْمَعِيشَةِ، وَقَشَفٍ فِي الْهَيْئَةِ، لا تَمْتَنِعُونَ وَلا تَنْتَصِفُونَ، فَلَمْ نُسِئْ جِوَارَكُمْ، وَلَمْ نَدَعْ مُوَاسَاتَكُمْ، تَقْحُمُونَ الْمَرَّةَ بَعْدَ الْمَرَّةِ، فَنُمِيرُكُمْ ثُمَّ نَرُدُّكُمْ، وَتَأْتُونَنَا أُجَرَاءَ وَتُجَّارًا فَنُحْسِنُ إِلَيْكُمْ، فَلَمَا تَطَاعَمْتُمْ بِطَعَامِنَا، وَشَرِبْتُمْ شَرَابَنَا، وَأَظَلَّكُمْ ظِلُّنَا، وَصَفْتُمْ لِقَوْمِكُمْ فَدَعَوْتُمُوهُمْ، ثُمَّ أَتَيْتُمُونَا بِهِمْ، وَإِنَّمَا مَثَلُكُمْ فِي ذَلِكَ وَمَثَلُنَا كَمَثَلِ رَجُلٍ كَانَ لَهُ كَرْمٌ، فَرَأَى فِيهِ ثَعْلَبًا، فَقَالَ: وَمَا ثَعْلَبُ! فَانْطَلَقَ الثَّعْلَبُ، فَدَعَا الثَّعَالِبَ إِلَى ذَلِكَ الْكَرْمِ، فَلَمَّا اجْتَمَعْنَ عَلَيْهِ سَدَّ عَلَيْهِنَّ صَاحِبُ الْكَرْمِ الْجُحْرَ الَّذِي كُنَّ يَدْخُلْنَ مِنْهُ، فَقَتَلَهُنَّ، وَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّ الَّذِي حَمَلَكُمْ عَلَى هَذَا الْحِرْصُ وَالطَّمَعُ وَالْجهْدُ، فَارْجِعُوا عَنَّا عَامَكُمْ هَذَا، وَامْتَارُوا حَاجَتَكُمْ، وَلَكُمُ الْعَوْدُ كُلَّمَا احْتَجْتُمْ، فَإِنِّي لا أَشْتَهِي أَنْ أَقْتُلَكُمْ. (تاریخ الطبری3/ 525)

’’سیف بن عمر نے محمد، طلحہ اور زیاد سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے کہا: (اس کے بعد) سعد بن ابی وقاص نے باقی اہلِ راے کو اہل فارس کے پاس بھیجا، جب کہ ان تینوں، (یعنی رِبعی بن عامر، حذیفہ بن محصن اور مغیرہ بن شعبہ) کو روک لیا۔ یہ لوگ نکلے اور رستم کے پاس پہنچے تاکہ اس پر اس کے قبیح طرز عمل کی سنگینی کو واضح کریں۔ انھوں نے کہا: ہمارا امیر تم سے کہتا ہے کہ پڑوس داری (یعنی پڑوسیوں کے ساتھ اچھے تعلقات) حکمرانوں کو محفوظ رکھتی ہے، اور میں تمھیں ایک ایسی بات کی دعوت دیتا ہوں جو ہمارے اور تمھارے لیے بہتر ہے۔ (ہم دونوں کے لیے) عافیت اس میں ہے کہ تم اس دعوت کو قبول کر لو جس کی طرف اللہ نے بلایا ہے، اور ہم اپنے علاقے کی طرف لوٹ جائیں اور تم اپنی سرزمین کی طرف، اور ہم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ اچھا تعلق رکھیں۔ البتہ تمھارا علاقہ بھی تمھارا رہے گا اور اقتدار بھی تمھارے پاس ہوگا، اور جو مزید علاقے تم حاصل کرو گے، وہ بھی تمھارے ہی ہوں گے، اور ہمارا ان میں کوئی دخل نہیں ہوگا۔ اگر کوئی دشمن تم پر حملہ کرے یا وہ تمھارے مقابلے میں طاقت ور ہو تو ہم تمھارے مددگار ہوں گے۔ اے رستم، اللہ سے ڈرو، اور اپنے ہی ہاتھوں اپنی قوم کی ہلاکت کا سامان نہ کرو، کیونکہ تمھارے اور اس بہترین پیشکش کے درمیان (جو ہم نے تمھارے سامنے رکھی)، اس سے زیادہ کوئی فاصلہ نہیں کہ تم بس اس کو قبول کر لو اور اس کے ذریعے سے شیطان کو اپنے سے دور کر دو۔

رستم نے جواب دیا: میں نے تم میں سے چند لوگوں سے بات کی ہے، اگر وہ میری بات سمجھ لیتے تو مجھے امید تھی کہ تم بھی سمجھ لو گے۔ بہت زیادہ کلام کرنے کے مقابلے میں مثالوں سے بات زیادہ واضح ہوتی ہے۔ میں تمھارے سامنے ایک مثال بیان کرتا ہوں، جس سے تم بات سمجھ جاؤ گے: تم لوگ سخت مشقت والی اور آسایش سے محرومی کی زندگی گزارتے تھے، نہ اپنا بچاؤ کر سکتے تھے اور نہ (زیادتی کرنے والے) سے بدلہ لے سکتے تھے۔ لیکن ہم نے تمھارے ساتھ پڑوس داری میں برا سلوک نہیں کیا اور نہ تمھاری مدد سے ہاتھ کھینچا۔ تم بار بار ہمارے علاقے میں گھس آتے تھے اور ہم تمھیں غلہ دے کر واپس بھیج دیتے تھے۔ تم مزدور اور تاجر بن کر ہمارے پاس آتے تو ہم تمھارے ساتھ اچھا برتاؤ کرتے تھے۔ لیکن جب تم نے ہماری خوراک کھائی اور ہمارے مشروبات پیے اور ہماری سایہ دار جگہوں میں ٹھہرے تو تم نے جا کر اپنی قوم کو یہ باتیں سنائیں اور انھیں بھی بلا کر ہمارے پاس لے آئے۔ تمھاری اور ہماری مثال اس شخص کی سی ہے جس کے پاس ایک انگور کا باغ تھا۔ اس نے اس میں ایک لومڑی کو دیکھا تو کہا: ایک لومڑی کا کیا ہے! پھر وہ لومڑی گئی اور دوسری لومڑیوں کو بھی باغ میں بلا لائی۔ جب وہ سب جمع ہو گئیں تو باغ کے مالک نے اس سوراخ کو بند کر دیا جس سے وہ باغ میں آتی تھیں اور ان سب کو مار ڈالا۔ (رستم نے کہا): میں جانتا ہوں کہ تمھیں یہاں لانے والی چیز حرص، طمع اور تمھاری بدحالی ہے۔ لہٰذا اس سال یہاں سے لوٹ جاؤ اور اپنی ضرورت کا غلہ لے جاؤ، اور جب بھی ضرورت ہو، دوبارہ آ تے رہو۔ میں یہ نہیں چاہتا کہ تمھیں قتل کروں۔“

لغوی تشریح

’قَشَفٍ‘: بد حالی، بے سروسامانی۔

’تَقْحُمُونَ‘: یعنی کسی علاقے میں جا دھمکنا، کسی کام میں بے سوچے سمجھے گھس جانا۔ قَحَمَ فِي الأمْرِ: رَمَى بِنَفْسِهِ فِيه فَجْأَةً بِلَا رَوِيَّةٍ۔

شرح و وضاحت

رستم کے ساتھ گفتگو میں اہل عرب کے وفد نے وہ نکتہ دوبارہ زیادہ صراحت سے بیان کیا ہے، جس کا ذکر یزدگرد کے دربار میں نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ نے اپنی گفتگو میں کیا تھا۔ نعمان نے کہا:

فان اجبتم الى ديننا خلفنا فيكم كتاب اللّٰه واقمناكم عليه، على ان تحكموا باحكامه، ونرجع عنكم وشأنكم وبلادكم.

(تاریخ الطبری 3/ 499)

’’اگر تم ہمارے دین کو قبول کر لو تو ہم تمھارے پاس اللہ کی کتاب چھوڑ جائیں گے اور تمھیں اس پر قائم کر دیں گے تاکہ تم اس کے احکام کے مطابق فیصلہ کرو اور ہم تمھارے علاقے کو تمھارے سپرد کر کے یہاں سے چلے جائیں گے۔ “

مراد یہ تھی کہ اہل فارس کے ارباب حل و عقد کے اسلام قبول کر لینے کی صورت میں ان کی سیاسی خود مختاری قائم رہے گی اور ان سے اپنی سلطنت کو عرب سلطنت میں ضم کر دینے کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔ رستم کے ساتھ زیر بحث مکالمے میں اہل عرب کے وفد نے مزید واضح کیا ہے کہ ایسی صورت میں سلطنتِ فارس اور عرب حکومت کے مابین دوستانہ تعلقات قائم ہوں گے اور اہل عرب نہ صرف فارسی سلطنت کے داخلی معاملات میں اور ان کے فتح کردہ مزید علاقوں میں کوئی دخل نہیں دیں گے، بلکہ جہاں ضرورت پڑے گی، دشمن کے خلاف ان کی مدد کے لیے بھی تیار ہوں گے۔

تخریج اور اختلاف طرق

سیف بن عمر کی روایت سے یہ واقعہ الکلاعی نے بھی نقل کیا ہے (الاکتفاء 2/462- 463)۔

(16)

عَنِ ابْنِ الرُّفَيلِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: وَقَالَ: لَمْ يَخْلُقِ اللّٰهُ خَلْقًا أَوْلَعَ مِنْ ذُبَابٍ وَلَا أَضَرَّ مَا خَلَاكُمْ يَا مَعْشَرَ الْعَرَبِ، تَرَوْنَ الْهَلَاكَ وَيُدْلِيكُمْ فِيهِ الطَّمَعُ، وَسَأَضْرِبُ لَكُمْ مَثَلَكُمْ: إِنَّ الذُّبَابَ إِذَا رَأَى الْعَسَلَ طَارَ وَقَالَ: مَنْ يُوصِلُنِي إِلَيْهِ وَلَهُ دِرْهَمَانِ؟ حَتَّى يَدْخُلَهُ، لَا يُنَهْنِهُهُ أَحَدٌ إِلَّا عَصَاهُ، فَإِذَا دَخَلَهُ غَرِقَ وَنَشِبَ وَقَالَ: مَنْ يُخْرِجُنِي وَلَهُ أَرْبَعَةُ دَرَاهِمَ؟

وَقَالَ أَيْضًا: إِنَّمَا مَثَلُكُمْ مَثَلُ ثَعْلَبٍ دَخَلَ جُحْرًا وَهُوَ مَهْزُولٌ ضَعِيفٌ إِلَى كَرْمٍ، فَكَانَ فِيهِ يَأْكُلُ مَا شَاءَ اللّٰهُ، فَرَآهُ صَاحِبُ الْكَرْمِ وَرَأَى مَا بِهِ فَرَحِمَهُ، فَلَمَّا طَالَ مُكْثُهُ فِي الْكَرْمِ وَسَمِنَ وَصَلَحَتْ حَالُهُ، وَذَهَبَ مَا كَانَ بِهِ مِنَ الْهُزَالِ أَشِرَ، فَجَعَلَ يَعْبَثُ بِالْكَرْمِ وَيُفْسِدُ أَكْثَرَ مِمَّا يَأْكُلُ، فَاشْتَدَّ عَلَى صَاحِبِ الْكَرْمِ، فَقَالَ: لَا أَصْبِرُ عَلَى هَذَا مِنْ أَمْرِ هَذَا، فَأَخَذَ لَهُ خَشَبَةً وَاسْتَعَانَ عَلَيْهِ غِلْمَانَهُ، فَطَلَبُوهُ وَجَعَلَ يُرَاوِغُهُمْ فِي الْكَرْمِ، فَلَمَّا رَأَى أَنَّهُمْ غَيْرُ مُقْلِعِينَ عَنْهُ ذَهَبَ لِيَخْرُجَ مِنَ الْجُحْرِ الَّذِي دَخَلَ مِنْهُ فَنَشِبَ، اتَّسَعَ عَلَيْهِ وَهُوَ مَهْزُولٌ، وَضَاقَ عَلَيْهِ وَهُوَ سَمِينٌ، فَجَاءَهُ وَهُوَ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ صَاحِبُ الْكَرْمِ، فَلَمْ يَزَلْ يَضْرِبُهُ حَتَّى قَتَلَهُ، وَقَدْ جِئْتُمْ وَأَنْتُمْ مَهَازِيلُ، وَقَدْ سَمِنْتُمْ شَيْئًا مِنْ سَمَنٍ، فَانْظُرُوا كَيْفَ تَخْرُجُونَ!

وَقَالَ أَيْضًا: إِنَّ رَجُلًا وَضَعَ سَلًّا وَجَعَلَ طَعَامَهُ فِيهِ، فَأَتَى الْجُرْذَانُ فَخَرَقُوا سَلَّهُ فَدَخَلُوا فِيهِ، فَأَرَادَ سَدَّهُ، فَقِيلَ لَهُ: لَا تَفْعَلْ، إِذَا يَخْرِقْنَهُ، وَلَكِنِ انْقُبْ بِحِيَالِهِ، ثُمَّ اجْعَلْ فِيهَا قَصَبَةً مُجَوَّفَةً، فَإِذَا جَاءَتِ الْجُرْذَانُ دَخَلْنَ مِنَ الْقَصَبَةِ وَخَرَجْنَ مِنْهَا، فَكُلَّمَا طَلَعَ عَلَيْكُمْ جُرْذٌ قَتَلْتُمُوهُ وَقَدْ سَدَدْتُمْ عَلَيْكُمْ، فَإِيَّاكُمْ أَنْ تَقْتَحِمُوا الْقَصَبَةَ، فَلَا يَخْرُجْ مِنْهَا أَحَدٌ إِلَّا قُتِلَ، وَمَا دَعَاكُمْ إِلَى مَا صَنَعْتُمْ وَلَا أَرَى عَدَدًا وَلَا عُدَّةً‌؟(تاریخ الطبری 3/ 527)

’’ابن رفیل سے روایت ہے کہ ان کے والد رفیل کا بیان ہے کہ رستم نے کہا: اللہ نے مکھی سے زیادہ کسی مخلوق کو لالچی اور زچ کر دینے والا نہیں بنایا، لیکن اے عربو، تم اس سے بھی بڑھ کر ہو۔ تم ہلاکت کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہو، پھر بھی لالچ تمھیں اسی میں جا ڈالتی ہے۔ میں تمھاری مثال بیان کرتا ہوں: مکھی جب شہد کو دیکھتی ہے تو اڑتی ہے اور کہتی ہے: کون ہے جو مجھ سے دو درہم لے لے اور مجھے اس تک پہنچا دے؟ پھر وہ اس میں جا گھستی ہے اور جو بھی اسے روکنے کی کوشش کرتا ہے، وہ اس کی نہیں سنتی۔ پھر جب وہ شہد میں جا گرتی ہے تو اس میں ڈوب کر پھنس جاتی ہے اور پھر کہتی ہے: کون ہے جو مجھ سے چار درہم لے لے اور مجھے یہاں سے نکال دے؟

رستم نے یہ بھی کہا: تمھاری مثال اس لومڑی کی ہے جو (بھوک سے) کم زور اور دُبلی تھی اور اس حالت میں انگور کے ایک باغ میں داخل ہو گئی۔ پھر جب تک اللہ نے چاہا، وہاں سے کھاتی رہی۔ باغ کے مالک نے اسے اور اس کی حالت کو دیکھا تو اس پر ترس کھایا، (اور اسے کچھ نہ کہا)۔ پھر جب اسے باغ میں زیادہ عرصہ ہو گیا اور وہ فربہ ہو گئی اور اس کی حالت سنور گئی، اور اس کا دُبلا پن جاتا رہا تو اس میں اکڑ آ گئی۔ اب وہ باغ کے انگوروں کو کھانے سے زیادہ خراب اور برباد کرنے لگی۔ یہ بات باغ کے مالک کو سخت ناگوار گزری اور اس نے کہا: میں اس کا یہ طرزِ عمل برداشت نہیں کر سکتا۔ چنانچہ اس نے ایک لکڑی اٹھائی اور اپنے غلاموں کی مدد لی اور وہ اسے تلاش کرنے لگے۔ اور لومڑی باغ میں انھیں چکمہ دیتی رہی، لیکن جب اس نے دیکھا کہ وہ اس کا پیچھا چھوڑنے والے نہیں تو اس نے اسی سوراخ سے نکلنا چاہا جس سے داخل ہوئی تھی، مگر پھنس گئی۔ جب وہ دُبلی تھی تو سوراخ کشادہ تھا اور جب وہ فربہ ہو گئی تو سوراخ تنگ پڑ گیا۔ اسی حال میں باغ کا مالک آ پہنچا اور اسے مارتا رہا، یہاں تک کہ اسے مار ڈالا۔ (اے اہل عرب)، اور تم بھی جب یہاں آئے تھے تو دُبلے اور کم زور تھے، لیکن اب موٹے ہو گئے ہو تو سوچ لو کہ یہاں سے نکلنا کیسے ہے!

رستم نے یہ بھی کہا:ایک آدمی نے ایک ٹوکری میں اپنا کھانا رکھا۔ چوہے آئے اور ٹوکری کو کتر کر اس میں داخل ہو گئے۔ اس نے چاہا کہ سوراخ بند کر دے، لیکن لوگوں نے کہا: ایسا نہ کرو، ورنہ وہ پھر سوراخ کر لیں گے۔ اس کے بجاے اس کے بالکل سامنے دوسری طرف ایک اور سوراخ کر دو اور پھر اس میں بانس کی ایک کھوکھلی نالی لگا دو۔ جب چوہے آئیں گے تو اسی نالی سے داخل ہوں گے اور اسی سے نکلیں گے۔ جب بھی کوئی چوہا تمھارے سامنے نکلے تو اسے مار ڈالو، جب کہ تم نے راستے بند کر دیے ہوں گے۔ لہٰذا، (اے اہل عرب)، خبردار! تم اس نالی میں گھسنے کی کوشش نہ کرنا، کیونکہ جو بھی اس سے نکلے گا، قتل کر دیا جائے گا۔ تمھیں اس حرکت پر آخر آمادہ کس چیز نے کیا ہے، جب کہ نہ تمھارے پاس تعداد ہے اور نہ سامانِ جنگ؟“

لغوی تشریح

’لَا يُنَهْنِهُ‘:’ نَهْنَهَ‘ کا مطلب ہے: منع کرنا، باز رکھنا۔

’غَيْرَ مُقْلِعِينَ‘: ’أقلع عن الشيء‘، یعنی کسی کام سے رک گیا، باز آ گیا۔

تخریج اور اختلاف طرق

سیف بن عمر کی روایت سے یہ واقعہ الکلاعی نے بھی نقل کیا ہے (الاکتفاء 2/463)۔

(18)

عَنْ سَيْفٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ وَطَلْحَةَ بِإِسْنَادِهِمَا وَزِيَادٍ مَعَهُمَا، قَالُوا: فَتَكَلَّمَ الْقَوْمُ فَقَالُوا: أَمَّا مَا ذَكَرْتُمْ مِنْ سُوءِ حَالِنَا فِيمَا مَضَى وَانْتِشَارِ أَمْرِنَا فَلَمَّا تَبْلُغْ كُنْهَهُ! يَمُوتُ الْمَيِّتُ مِنَّا إِلَى النَّارِ، وَيَبْقَى الْبَاقِي مِنَّا فِي بُؤْسٍ، فَبَيْنَا نَحْنُ فِي أَسْوَإِ ذَلِكَ بَعَثَ اللّٰهُ فِينَا رَسُولاً‌ مِنْ أَنْفُسِنَا إِلَى الإِنْسِ وَالْجِنِّ، رَحْمَةً رَحِمَ بِهَا مَنْ أَرَادَ رَحْمَتَهُ، وَنِقْمَةً يَنْتَقِمُ بِهَا مِمَّنْ رَدَّ كَرَامَتَهُ، فَبَدَأَ بِنَا قَبِيلَةً قَبِيلَةً، فَلَمْ يَكُنْ أَحَدٌ أَشَدَّ عَلَيْهِ، وَلا أَشَدَّ إِنْكَارًا لِمَا جَاءَ بِهِ، وَلا أَجْهَدَ عَلَى قَتْلِهِ وَرَدِّ الَّذِي جَاءَ بِهِ مِنْ قَوْمِهِ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، حَتَّى طَابَقْنَاهُ عَلَى ذَلِكَ كُلُّنَا، فَنَصَبْنَا لَهُ جَمِيعًا، وَهُوَ وَحْدَهُ فَرْدٌ لَيْسَ مَعَهُ إِلا اللّٰهُ تَعَالَى، فَأُعْطِيَ الظَّفْرَ عَلَيْنَا، فَدَخَلَ بَعْضُنَا طَوْعًا وَبَعْضُنَا كَرْهًا، ثُمَّ عَرَفْنَا جَمِيعًا الْحَقَّ وَالصِّدْقَ لِمَا أَتَانَا بِهِ مِنَ الآيَاتِ الْمُعْجِزَةِ.

وَكَانَ مِمَّا أَتَانَا بِهِ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا جِهَادُ الأَدْنَى فَالأَدْنَى، فَسِرْنَا بِذَلِكَ فِيمَا بَيْنَنَا، نَرَى أَنَّ الَّذِي قَالَ لَنَا وَوَعَدَنَا لا يُخْرَمُ عَنْهُ وَلا يُنْقَضُ، حَتَّى اجْتَمَعَتِ الْعَرَبُ عَلَى هَذَا، وَكَانُوا مِنَ اخْتِلافِ الرَّأْيِ فِيمَا لا يُطِيقُ الْخَلائِقُ تَأْلِيفَهُمْ. ثُمَّ أَتَيْنَاكُمْ بِأَمْرِ رَبِّنَا، نُجَاهِدُ فِي سَبِيلِهِ، وَنَنْفُذُ لأَمْرِهِ، وَنَنْتَجِزُ مَوْعُودَهُ، وَنَدْعُوكُمْ إِلَى الإِسْلامِ وَحُكْمِهِ، فَإِنْ أَجَبْتُمُونَا تَرَكْنَاكُمْ وَرَجَعْنَا وَخَلَّفْنَا فِيكُمْ كِتَابَ اللّٰهِ، وَإِنْ أَبَيْتُمْ لَمْ يَحِلَّ لَنَا إِلاَّ أَنْ نُعَاطِيَكُمُ الْقِتَالَ أَوْ تَفْتَدُوا بِالْجِزَى، فَإِنْ فَعَلْتُمْ وَإِلاَّ فَإِنَّ اللّٰهَ قَدْ أَوْرَثَنَا أَرْضَكُمْ وَاَبْنَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ. فَاقْبَلُوا نَصِيْحَتَنَا، فَوَاللّٰهِ لَإِسْلامُكُمْ أَحَبُّ إِلَيْنَا مِنْ غَنَائِمِكُمْ، وَلَقِتَالُكُمْ بَعْدُ أحبُّ مِنْ صُلْحِكُمْ. وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ رَثَاثَتِنَا وَقِلَّتِنَا فَإِنَّ أَدَاتَنَا الطَّاعَةُ، وَقِتَالَنَا الصَّبْرُ.

وَأَمَّا مَا ضَرَبْتُمْ لَنَا مِنَ الأَمْثَالِ فَإِنَّكُمْ ضَرَبْتُمْ لِلرِّجَالِ وَالأُمُورِ الْجِسَامِ وَلِلجِدِّ الْهَزْلِ، وَلَكِنَّا سَنَضْرِبُ مَثَلَكُمْ: إِنَّمَا مَثَلُكُمْ مَثَلُ رَجُلٍ غَرَسَ أَرْضًا، وَاخْتَارَ لَهَا الشَّجَرَ وَالْحَبَّ، وَأَجْرَى إِلَيْهَا الأَنْهَارَ وَزَيَّنَهَا بِالقُصُورِ، وَاَقَامَ فِيهَا فَلاَّحِينَ يَسْكُنُونَ قُصُورَهَا، وَيَقُومُونَ عَلَى جَنَّاتِهَا، فَخَلا الْفَلاَّحُونَ فِي الْقُصُورِ عَلَى مَا لاَ يُحِبُّ، وَفِي الْجِنَانِ بِمِثْلِ ذَلِكَ، فَأَطَالَ نَظِرَتَهُمْ، فَلَمَّا لَمْ يَسْتَحْيُوا مِنْ تِلْقَاءِ أَنْفُسِهِمُ اسْتَعْتَبَهُمْ فَكَابَرُوهُ، فَدَعَا إِلَيْهَا غَيْرَهُمْ وَأَخْرَجَهُمْ مِنْهَا، فَإِنْ ذَهَبُوا عَنْهَا تَخَطَّفَهُمُ النَّاسُ، وَإِنْ أَقَامُوا فِيهَا صَارُوا خَوَلًا لِهَؤُلاءِ، يَمْلِكُونَهُمْ وَلا يَمَلِكُونَ عَلَيْهِمْ، فَيَسُومُونَهُمُ الْخَسْفَ اَبَدً‌ا، وَواللّٰهِ أَنْ لَوْ لَمْ يَكُنْ مَا نَقُولُ لَكَ حَقًّا، وَلَمْ يَكُنْ إِلاَّ الدُّنْيَا لَمَا كَانَ لَنَا عَمَّا ضَرِينَا بِهِ مِنْ لَذِيذِ عَيْشِكُمْ، وَرَأَيْنَا مِنْ زِبْرَجِكُمْ مِنْ صَبْرٍ، وَلَقَارَعْنَاكُمْ حَتَّى نَغْلِبَكُمْ عَلَيْهِ. (تاریخ الطبری 3/ 528 – 529)

’’ سیف بن عمر نے محمد اور طلحہ اور زیاد سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں:اہل عرب نے (رستم کو) جواب دیتے ہوئے کہا: تم نے ہماری گذشتہ بدحالی اور ہماری پراگندگی کا جو ذکر کیا ہے تو اس کی پوری حقیقت بیان نہیں کی۔ (ہمارا حال تو اس سے بھی برا تھا اور) ہم میں سے جو مر جاتا، وہ جہنم کا ایندھن بنتا تھا، اور جو زندہ رہتا، وہ سخت بدحالی کی زندگی گزارتا تھا۔ ہم اسی انتہائی پستی کی حالت میں تھے کہ اللہ نے ہم میں سے ہی ایک رسول بھیجا، جو انسانوں اور جنوں، دونوں کی طرف مبعوث تھا۔ اس کو بھیج کر اللہ ان پر رحمت فرمانا چاہتا ہے جو اس کی رحمت کے مستحق ہیں، اور ان کو سزا دینا چاہتا ہے جو اس کی دی ہوئی عزت کو ٹھکرا دیں۔ اس رسول نے دعوت کا آغاز ہم سے کیا اور ایک ایک قبیلے کو دعوت دی۔ اس کی مخالفت کرنے میں اور اس کی لائی ہوئی بات کا انکار کرنے میں اور اسے قتل کرنے اور اس کی دعوت کو مٹانے کی کوشش کرنے میں سب سے پیش پیش اس کا اپنا قبیلہ تھا اور پھر اس کے بعد جو قبیلے ان کے قریب تھے، یہاں تک کہ ہم سب اس کے مقابلے میں ایک صف ہو گئے اور ہم سب نے مل کر اس کے خلاف کمر باندھ لی، جب کہ وہ تنہا تھا اور اللہ تعالیٰ کے سوا اس کے ساتھ کوئی نہ تھا، مگر اسے ہمارے مقابلے میں کامیابی عطا ہوئی اور ہم میں سے کچھ اپنی خوشی سے اور کچھ نہ چاہتے ہوئے اس کے دین میں داخل ہو گئے۔ پھر اس کے لائے ہوئے واضح معجزات اور نشانیوں کو دیکھ کر ہم سب نے اس کی صداقت اور حقانیت کو پہچان لیا۔

وہ رسول جو کچھ ہمارے رب کی طرف سے لے کر آیا، اس میں یہ حکم بھی تھا کہ ہم اپنے قریب والوں سے شروع کر کے جہاد کریں۔ چنانچہ ہم نے اپنے درمیان اسی حکم کے مطابق پیش قدمی کی اور ہمیں یقین تھا کہ اس نے ہم سے (فتح اور غلبے کا) جو وعدہ کیا ہے، نہ وہ وعدہ ٹوٹے گا اور نہ اس میں کوئی خلل آئے گا، یہاں تک کہ عرب سب کے سب اس دین پر مجتمع ہو گئے، حالاں کہ اس سے پہلے اس حد تک بٹے ہوئے تھے کہ پوری دنیا کے لوگ مل کر بھی انھیں اکٹھا نہیں کر سکتے تھے۔ اس کے بعد ہم اپنے رب کے حکم سے تمھارے پاس آئے ہیں۔ ہم اس کی راہ میں جہاد کرنا، اس کے حکم کو نافذ کرنا اور اس کے وعدے کو پورا ہوتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہم تمھیں اسلام اور اس کے فیصلوں کی طرف بلاتے ہیں۔ اگر تم ہماری دعوت قبول کر لو تو ہم تمھیں چھوڑ کر واپس چلے جائیں گے اور تمھارے درمیان اللہ کی کتاب چھوڑ جائیں گے، لیکن اگر تم انکار کرو تو ہمارے لیے اس کے سوا کوئی راستہ نہیں کہ یا تو تم سے جنگ کریں یا تم جزیہ دے کر اپنی جان چھڑاؤ۔ اگر تم یہ بھی نہ کرو تو اللہ نے ہمیں تمھاری زمین، تمھارے لوگوں اور تمھارے مال کا وارث بنا دیا ہے۔ لہٰذا ہماری نصیحت قبول کرو۔ اللہ کی قسم، تمھارا اسلام قبول کرنا ہمیں تمھارے مالِ غنیمت سے زیادہ محبوب ہے، اور پھر تم سے جنگ کرنا تمھارے ساتھ صلح کرنے سے زیادہ پسند ہے۔ جہاں تک ہماری بے سر و سامانی اور قلت کی بات ہے جس کا تم نے ذکر کیا ہے تو ہمارا ساز و سامان ہماری اطاعت ہے اور ہماری جنگ کا ہتھیار صبر ہے۔

اور تم نے ہمارے سامنے لوگوں کی اور بڑے بڑے امور کی اور سنجیدگی سے کیے گئے غیر سنجیدہ کاموں کی مثالیں بیان کی ہیں۔ لیکن ہم بھی تمھاری ایک مثال بیان کرتے ہیں: تمھاری مثال اس شخص کی ہے جس نے ایک زمین پر باغ اگایا، اس کے لیے عمدہ درخت اور بیچ منتخب کیے، اس کی طرف نہریں جاری کیں اور اسے محلوں سے آراستہ کیا، اور اس میں کسانوں کو بسایا جو ان محلوں میں رہتے اور اس کے باغات کی دیکھ بھال کرتے تھے۔ پھر کسانوں نے اس کی غیر موجودگی میں محلوں میں اور باغوں میں ایسے کام شروع کر دیے جو مالک کو پسند نہ تھے۔ مالک نے انھیں کافی مہلت دی، مگر جب انھوں نے خود ہی شرم محسوس نہ کی تو اس نے انھیں ملامت کی اور انھیں سدھارنے کی کوشش کی، مگر وہ مالک کے خلاف سرکشی پر اتر آئے۔ تب مالک نے کچھ دوسرے لوگوں کو بلایا اور انھیں وہاں سے نکال باہر کرنے کا فیصلہ کیا۔ اب اگر وہ وہاں سے نکلیں تو لوگ انھیں اچک لے جائیں گے، اور اگر وہ وہیں رہیں تو ان نئے لوگوں کے غلام بن کر رہیں گے۔ وہ ان کے مالک ہوں گے اور یہ ان پر کوئی اختیار نہ رکھیں گے، بلکہ وہ انھیں ہمیشہ ذلت میں رکھیں گے۔ اور خدا کی قسم، جو کچھ ہم تم سے کہہ رہے ہیں، اگر وہ سچ نہ ہوتا، اور معاملہ (اللہ کے حکم پر تمھیں سزا دینے کے بجاے) صرف دنیا ہی کا ہوتا، تب بھی ہم اس آسودہ اور لذیذ زندگی کو—جو اب ہمارے منہ کو لگ گئی ہے—چھوڑنے پر آمادہ نہ ہوتے، اور تمھاری اس چمک دمک کو دیکھ کر صبر نہ کرتے، بلکہ تم سے ٹکرا جاتے، یہاں تک کہ تم پر غالب آ جاتے۔“

لغوی تشریح

’كُنْه‘: ’كنه الامر‘ کا لفظی مطلب کسی بات کا درست وقت اور موقع ومحل ہوتا ہے۔’لَمَّا تَبْلُغْ كُنْهَهُ‘ کا مطلب ہوگا: تم نے ہماری بدحالی کی پوری تصویر نہیں کھینچی۔

’فَنَصَبْنَا لَهُ‘: ’نصب له العداوۃ‘ کا مطلب ہوتا ہے: کسی کے خلاف محاذ بنا لیا اور اس کی دشمنی پر کمر باندھ لی۔

’ضَرِينَا بِهِ‘: ’ضری بِهِ‘ کا مطلب ہوتا ہے: کسی چیز کی ایسی عادت پڑ جانا جس سے چھٹکارا مشکل ہو۔ (ایک روایت میں ہے: ’إنَّ لِلَّحْمِ ضَرَاوَةً كضَرَاوَةِ الخَمْر‘، یعنی گوشت خوری بھی شراب نوشی جیسی ایک عادت ہے، جو چھوٹتی نہیں)۔

’خَوَلًا‘: یعنی ملکیتی مال، غلام۔

’زِبْرَج‘: یعنی زیور، چمک دمک۔

شرح و وضاحت

1۔ کسی قوم کو حکومت و اقتدار بہ طور آزمایش دیا جانا اور پھر اس کی بدعملی کی پاداش میں اس سے چھین کر کسی دوسری قوم کے حوالے کر دیا جانا، اللہ تعالیٰ کی ایک مستقل سنت ہے، جس کی قرآن مجید میں جگہ جگہ وضاحت کی گئی ہے۔ مثلاً‌ فرعون اور بنی اسرائیل کے حوالے سے اس قانون کا ذکر یوں کیا گیا ہے:

اِنَّ فِرۡعَوۡنَ عَلَا فِی الۡاَرۡضِ وَ جَعَلَ اَہۡلَہَا شِیَعًا یَّسۡتَضۡعِفُ طَآئِفَۃً مِّنۡہُمۡ یُذَبِّحُ اَبۡنَآءَہُمۡ وَ یَسۡتَحۡیٖ نِسَآءَہُمۡ ؕ اِنَّہٗ کَانَ مِنَ الۡمُفۡسِدِیۡنَ. وَ نُرِیۡدُ اَنۡ نَّمُنَّ عَلَی الَّذِیۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا فِی الۡاَرۡضِ وَ نَجۡعَلَہُمۡ اَئِمَّۃً وَّ نَجۡعَلَہُمُ الۡوٰرِثِیۡنَ. (القصص 28: 4-5)

’’بے شک، فرعون نے زمین میں سرکشی اختیار کر لی تھی اور اُس کے باشندوں کو گروہوں میں تقسیم کر کے ایک گروہ کو سختی سے دبا رکھا تھا۔ وہ اُن کے بیٹوں کو ذبح کر چھوڑتا اور اُن کی عورتوں کو زندہ رہنے دیتا تھا۔ یقیناً‌ وہ فساد کرنے والوں میں سے تھا۔ اور ہم نے ارادہ کر لیا تھا کہ اُن لوگوں پر عنایت کریں جو اُس ملک میں دبا کر رکھے گئے تھے اور اُن کو امامت عطا فرمائیں اور اُنھیں ملک کا وارث بنائیں۔“

انبیاے بنی اسرائیل کے صحائف میں بھی اس سنت کا ذکر بہ تکرار ہوا ہے۔ چنانچہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے دور میں بنی اسرائیل کو کنعان میں آباد مختلف قوموں کو یہاں سے نکال دینے کا حکم دیا گیا تو ان پر یہ واضح کیا گیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان قوموں کے گناہوں اور بداعمالیوں کی سزا ہے۔ استثنا میں ہے:

’’خداوند تیرا خدا اِن قوموں کی شرارت کے باعث اِن کو تیرے آگے سے خارج کرتا ہے تاکہ یوں وہ اُس وعدہ کو جس کی قسم اُس نے تیرے باپ دادا ابرہام اور اِضحاق اور یعقوب سے کھائی، پورا کرے۔“ ( 9: 5)

احبار میں ہے:

’’ جن قوموں کو میں تمھارے آگے سے نکالتا ہوں، وہ اِن سب کاموں کے سبب سے آلودہ ہیں اور اُن کا ملک بھی آلودہ ہو گیا ہے۔ اِس لیے میں اُس کی بدکاری کی سزا اُسے دیتا ہوں ایسا کہ وہ اپنے باشندوں کو اُگلے دیتا ہے۔“ ( 18: 25-24)

دانی ایل نبی نے ان مختلف سلطنتوں کا ذکر کرتے ہوئے جو انھیں رؤیا میں دکھائی گئی تھیں، ایک سلطنت کے انجام کا ذکر یوں کیا ہے:

’’ اور اُن کی سلطنت کے آخری ایام میں جب خطاکار لوگ حد تک پہنچ جائیں گے تو ایک ترش رو اور رمز شناس بادشاہ برپا ہو گا۔“ (دانی ایل 8: 23)

انجیل متی میں سیدنا مسیح علیہ السلام کی زبان سے بنی اسرائیل کو دیا گیا دینی منصب ان سے چھین لیے جانے کی پیشین گوئی ایک تمثیل کے انداز میں یوں نقل ہوئی ہے:

’’ایک اور تمثیل سنو۔ ایک گھر کا مالک تھا جس نے تاکستان لگایا اور اُس کے چاروں طرف اِحاطہ گھیرا اور اُس میں حوض کھودا اور برج بنایا اور اُسے باغبانوں کو ٹھیکے پر دے کر پردیس چلا گیا۔ اور جب پھل کا موسم قریب آیا تو اُس نے اپنے نوکروں کو باغبانوں کے پاس اپنا پھل لینے کو بھیجا۔ اور باغبانوں نے اُس کے نوکروں کو پکڑ کر کسی کو پیٹا اور کسی کو قتل کیا اور کسی کو سنگسار کیا۔ پھر اُس نے اور نوکروں کو بھیجا جو پہلوں سے زیادہ تھے اور اُنھوں نے اِن کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا۔ آخر اُس نے اپنے بیٹے کو اُن کے پاس یہ کہہ کر بھیجا کہ وہ میرے بیٹے کا تو لحاظ کریں گے۔ جب باغبانوں نے بیٹے کو دیکھا تو آپس میں کہا:یہی وارث ہے۔ آؤ اِسے قتل کر کے اِس کی میراث پر قبضہ کر لیں۔اور اُسے پکڑ کر تاکستان سے باہر نکالا اور قتل کر دیا۔

پس جب تاکستان کا مالک آئے گا تو اُن باغبانوں کے ساتھ کیا کرے گا؟ اُنھوں نے اُس سے کہا: اُن بدکاروں کو بری طرح ہلاک کرے گا اور باغ کا ٹھیکہ دوسرے باغبانوں کو دے گا جو موسم پر اُس کو پھل دیں۔ … اِس لیے میں تم سے کہتا ہوں کہ خدا کی بادشاہی تم سے لے لی جائے گی اور اُس قوم کو جو اُس کے پھل لائے، دے دی جائے گی۔ اور جو اِس پتھر پر گرے گا ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا، لیکن جس پر وہ گرے گا اُسے پیس ڈالے گا۔“ (21: 33-43)

2۔ مجموعی طور پر عرب نمایندوں نے اپنی گفتگو میں مسلمانوں کے حملوں کے پس منظر اور مقصد کے مختلف پہلو اس طرح واضح کیے ہیں کہ حکومت و اقتدار کے باب میں سنت الٰہی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اور اہل عرب کی بہ طور امت تاسیس، اور اس امت پر ڈالی گئی شہادت علی الناس اور جہاد وقتال کی ذمہ داری کا پورا بیانیہ بہت واضح انداز میں سامنے آ جاتا ہے۔ اس ساری گفتگو کا بنیادی مقصد سرداران فارس کے اس زعم یا خود فریبی کو دور کرنا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو دیے گئے سلطنت واقتدار کا سلسلہ ہمیشہ قائم رہنے والا ہے اور یہ کہ اہل عرب ماضی کی طرح اس موقع پر بھی اہل فارس کو میسر اسباب و وسائل میں سے کچھ حصہ پانے کے لیے ان پر حملہ آور ہوئے ہیں۔

تخریج اور اختلاف طرق

سیف بن عمر کی روایت سے یہ واقعہ الکلاعی نے بھی نقل کیا ہے(الاکتفاء 2/464-463)۔

[باقی]