(سوال وجواب کے اسلوب میں)
(2)
]’’نقطۂ نظر‘‘ کا یہ کالم مختلف اصحاب ِفکر کی نگارشات کے لیے مختص ہے۔ اس
میں شائع ہونے والے مضامین سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔[
سوال: قرآن کی عربیت کی رو سے اِس آیت کے الفاظ اور جملے کی تالیف کے مطابق آپ کے نزدیک اِس کا درست ترجمہ ومفہوم کیا ہے؟
جواب: جیسا کہ اوپر بیان ہوچکا ہے کہ زیرِ بحث قرآنی بیان سورۂ یونس(10) کی آیت نمبر 92 میں وارد ہواہے۔ نزولِ قرآن سے کم وبیش دو ہزار سال پہلے عہدِ موسیٰ میں فرعون کی توبہ کو رد کرتے ہوئے عین اُس کے غرقاب ہونے کے موقع پر خود اللہ تعالیٰ نے اُس سے مخاطب ہو کر جو کلام فرمایا تھا، اُس واقعہ کو قرآنِ مجیدمیں اِس طرح نقل فرمایا ہے کہ ’فَالْيَوْمَ نُنَجِّيْكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوْنَ لِمَنْ خَلْفَكَ اٰيَةً‘، ’’اب تو ہم صرف تیری لاش ہی کو بچائیں گے تا کہ تو اپنے پیچھے موجود لوگوں کے لیے نشانی بنے‘‘۔ یہ راقم السطور کے نزدیک اِس آیت کا درست ترجمہ ہے، جس کی توضیح ذیل میں چند نکات کی صورت میں بیان کی جاتی ہے:
1۔ آیت میں پہلی بات یہ بیان ہوئی ہے کہ’’اب تو ہم تیری لاش ہی کو بچائیں گے‘‘، یعنی اب تُو موت سے تو نہیں بچ سکتا، لیکن تیرے باقی سارے لشکر کی طرح تیرے جسم کو ہم سمندر میں غرق نہیں ہونے دیں گے، بلکہ اِس کو غرقاب ہونے سے بچا کر سمندر سے باہر نکال پھینکیں گے۔ یہاں اِس بات پر توجہ رہے کہ قرآن نے ایسا کوئی فعل استعمال نہیں کیا، جس سے فرعون کی لاش کو باقی اور محفوظ رکھنے یا گلنے سڑنے سے بچانے کا کوئی مفہوم نکالا جاسکتا ہو۔ یہاں جسم کو صرف سمندر میں ڈوبنے سے بچانے کا لفظ آیا ہے۔
2۔ دوسرے یہ کہ آیت کے الفاظ ’لِتَكُوْنَ لِمَنْ خَلْفَكَ اٰيَةً‘ میں قرآن نے اسمِ ظرف ِ مکان، یعنی ’خَلْفَ‘ کا لفظ استعمال کیا ہے،جس کی اضافت ضمیر ِمخاطب کی طرف ہوئی ہے۔ اور یہ ’وَرَاءَ‘، یعنی ’پیچھے‘ کے مفہوم میں آتا اور مکانی ظرفیت ہی کا معنی اپنے اندر رکھتا ہے، جیسا کہ علماے لغت و نحو کہتے ہیں1 اور آگےمفسرین کے اقوال سے بھی اِس کی تائید بیان ہوگی۔ کسی بھی ضمیر کی طرف اضافت کے ساتھ یہ لفظ قرآن میں جہاں کہیں بھی وارد ہوا ہے، اِسی طرح ’وَرَاءَ‘، یعنی پیچھے ہی کے معنی میں وارد ہوا ہے۔چنانچہ عربیت کی رو سے اِس کا درست مفہوم یہی ہے کہ ’’تا کہ تو اپنے پیچھے موجود لوگوں کے لیے نشانی بنے‘‘۔ یہاں اِس لفظ سے ظرفِ زمان کا مفہوم اخذ کر کے بعد کی نسلوں اور زمانوں کا مفہوم اخذ کرنا عربیت کی رو سے قطعًا درست نہیں ہے۔
لہٰذا مترجمین کا یہ ترجمہ درست نہیں ہے کہ ’’تا کہ تو اپنے بعد آنے والے لوگوں کے لیے نشانی بنے‘‘، اِس لیے کہ ایک تو قرآن نے یہاں جسم کو آیندہ کے لیے خراب ہونے سے محفوظ اور باقی رکھنے کا کوئی دعویٰ نہیں کیا ہے۔ دوسرے اِس وجہ سے کہ یہاں اسم ظرفِ زمان استعمال نہیں ہوا ہے۔ چنانچہ ظرفِ مکان کا ترجمہ ظرف ِزمان کے طور پر نہیں کیا جاسکتا۔
یہ ترجمہ اُس وقت درست ہوسکتا تھا، جب قرآن اِس آیت میں فرعون کے جسم کو سمندر سےنکالنے کے لیے ’نُنَجِّيْكَ بِبَدَنِكَ‘ کے ساتھ ’وَنُبْقِيْهِ‘ یا کوئی دوسرا مترادف فعل اور اسلوب لاتا، جو جسم کو گلنے سڑنے سے محفوظ رکھنے اور مستقبل میں باقی رکھنے کے معنی میں صریح ہوتا اور مزید یہ کہ اسم ظرفِ مکان ’خَلْفَكَ‘ کے بجاے یہاں اِس طرح کی کوئی تعبیر ہوتی کہ ’لِتَكُوْنَ لِمَنْ يَأتِي مِنْ بَعْدِكَ اٰيَةً‘، جیسا کہ سورۂ صف کی آیت 6 میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت سے اُن کا یہ قول نقل ہوا ہے کہ ’وَمُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ يَاْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ اَحْمَدُ‘، ’’اور میں ایک رسول کی بشارت دینے والا ہوں، جو میرے بعد آئے گا، جس کا نام احمد ہو گا‘‘، جب کہ بالبداہت واضح ہے کہ قرآن نے ایسی کوئی تعبیر اختیار نہیں کی۔
3۔ تیسرے یہ کہ آیت کے آخری قطعے، یعنی ’لِتَكُوْنَ لِمَنْ خَلْفَكَ اٰيَةً‘، ’’تاکہ تو اپنے پیچھے موجود لوگوں کے لیے نشانی بنے‘‘ کا یہی مفہوم سلف وخلف کے بہت سے اہلِ تفسیر نے پوری صراحت سے مکانی ظرفیت ہی کی رعایت سے بیان کیا ہے، جن میں سے بعض کو ہم قارئین کے لیے ذیل میں پیش کیے دیتے ہیں:
• امام زمخشری نے اپنی تفسیر ’’الکشاف‘‘ میں لکھا ہے: ’لمن وراءك من الناس علامة‘، ’’تاکہ تو اپنے پیچھے موجود لوگوں کے لیے نشانی بنے‘‘2۔
• امام بیضاوی اپنی تفسیر ’’انوار التنزيل واسرار التأويل‘‘ میں لکھتے ہیں: ’لمن وراءك علامة‘، ’’تاکہ تو اپنے پیچھے موجود لوگوں کے لیے نشانی بنے‘‘3۔
• امام ابو البرکات ’’تفسیر النسفی‘‘ میں وضاحت کرتے ہیں: ’لمن وراءك من الناس علامة‘، ’’تاکہ تو اپنے پیچھے موجود لوگوں کے لیے نشانی بنے‘‘4۔
• مفسر ابو حیان اندلسی نے ’’البحر المحيط فی التفسير‘‘ میں لکھا ہے:’لِمَنْ وَرَاءَكَ عَلَامَةً‘، ’’تاکہ تو اپنے پیچھے موجود لوگوں کے لیے نشانی بنے‘‘5۔
• مفسر ابو السعود العمادی ’’تفسير ابی السعود‘‘ میں لکھتے ہیں:’لمن وراءك علامةً‘، ’’تاکہ تو اپنے پیچھے موجود لوگوں کے لیے نشانی بنے‘‘ 6۔
• سید قطب الشاربی نے اپنی تفسیر ’’فی ظلال القرآن‘‘ میں بیان کیا ہے کہ ’’ذلك ليدرك من وراءك من الجماهير كيف كان مصيرك‘، تا کہ تیرے پیچھے جو اتنی بڑی تعداد میں تیری قوم ہے، وہ بھی تیرے اِس انجام کے بارے میں اچھی طرح جان لے‘‘7۔
• علامہ طاہر بن عاشور اپنی تفسیر ’’التحریر والتنویر‘‘میں لکھتے ہیں: ’ولِمَنْ خَلْفَكَ أَيْ مَنْ وَرَاءَكَ‘،’’یعنی اپنے پیچھے موجود لوگوں کے لیے (نشانی)‘‘8۔
• قرآن کی زبان کے ایک جید عالم اور علومِ قرآن کے ایک بڑے ماہر عراقی پروفیسر ڈاکٹر فاضل صالح السامرائی نے بھی زیرِ بحث آیت کی یہی توضیح اپنی ایک گفتگومیں نہایت عمدگی سے بیان کی ہے۔ 9
4۔ چوتھے یہ کہ برِ صغیر پاک وہند کے اہل تفسیر میں سے راقم السطور کے استقصا کے مطابق مولانا شاہ رفیع الدین دہلوی، مولانا شاہ عبد القادر محدث دہلوی، مولانا اشرف علی تھانوی، مولانا شبیر احمد عثمانی اور مفتی محمد شفیع عثمانی نے بھی اپنے تراجم و تفاسیر میں قرآن کی عربیت کے عین مطابق آیت کا یہی مفہوم بیان کیا ہے۔
غور کیجیے کہ مذکورہ بالا سب علماے قرآن نے اِس آیت کے الفاظ کی توضیح میں ’خَلْفَ‘ کے لفظ کا ’بَعْدَ‘کے لفظ سے مفہوم بیان نہیں کیا کہ جس سے قاری کو قرآن کا مدعا سمجھنے میں کوئی غلطی لگے، بلکہ ظرفِ مکان ہی کی رعایت سے عربی میں جو مترادف لفظ بن سکتا تھا، وہی اختیار کیا ہے۔ یعنی ’وَرَاءَ‘، جو کہ عین قرآن کی عربیت کے مطابق ہے۔
سوال: آیت میں اِس قطعے کا ترجمہ تو واضح ہوگیا ہے، لیکن اِس بات کا پورا مفہوم و مدعا کیا ہے کہ ’’تا کہ تو اپنے پیچھے موجود لوگوں کے لیے نشانی بنے‘‘؟
جواب: مطلب یہ ہے کہ یہ فرعون، جو اپنی قوم میں نہ صرف یہ کہ ایک عظیم اور با جبروت بادشاہ سمجھا تھا، بلکہ یہ خود اپنے بارے میں الوہیت وربوبیت کا دعویٰ کرتا تھا اور اِس کے متبعین بھی اِس کے بارے میں یہی اعتقاد رکھتے تھے۔ یہ اپنے درباریوں سے کہتا تھا: ’’میں تو اپنے سوا تمھارے لیے کسی اور معبود سے واقف نہیں ہوں‘‘۔ 10 اِسی طرح اِس نے سیدنا موسیٰ سے بھی کہا تھا کہ ’’اگر تم نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تمھیں قید کر کے رہوں گا‘‘۔11 چنانچہ اِس کی اپنی قوم کے اصاغر و اکابر، وزرا وکاہن اِس کے بارے میں یہ تصور نہیں کر سکتے تھے کہ سیدنا موسیٰ اور بنی اسرائیل کے تعاقب میں جاہ وجلال کے ساتھ اپنے پورے لشکر سمیت جانے والا اِن کا ایسا ’زبردست دیوتا‘ اِس انجام کو پہنچ کر اِس طرح رسوائی سے ہلاک ہوجائے گا۔ بالبداہت واضح ہے کہ فرعون کی یہ پوری قوم پیچھے اِس کی اور پورے لشکر کی واپسی کی منتظر ہوگی۔ اِن کے باطل تصورات کی بنا پر یہ ہوسکتا تھا کہ یہ اپنے اِس دیوتا کی موت کے بارے میں تاویلیں گھڑیں اورباتیں بنائیں کہ فرعون ہلاک نہیں ہوسکتا، وہ ضرور واپس آئے گا۔ وہ مغلوب ہوسکتا ہے، نہ اپنے مشن میں نا کام ہوسکتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اِس کی لاش کو غرق ہونے سے بچا لیا اور سمندر سے باہر نکال کر اِسی قوم کو اِس کے باطل معبود کی ہلاکت اور عبرت ناک انجام کا اِس طرح مشاہدہ کرا دیا کہ سمندر کے کنارے پر پورے لشکر میں سے صرف فرعون کی مردہ لاش نکال کر اُن کی آنکھوں کے سامنے رکھ دی تا کہ اُن کو فرعون کے بارے میں اپنے تصورات کے باطل ہونے کا عینی ثبوت مل جائے اور اللہ کے عذاب کی اِس کھلی نشانی سے یہ عبرت حاصل کریں اور اِس بات کا اعتراف کریں کہ اِن کا معبود باطل تھا اور حقیقی معبود اللہ ہی ہے اور وہی غالب ہے۔ اور یہ کہ خدا کی دعوت اور اُس کے وعدے سچے تھے اور یہ کہ اُس کے رسول سے دشمنی کا انجام بالآخر کیا ہوتا ہے۔ اور اِس طرح وہ بغیر کسی تاویل کے یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہو جائیں کہ ایک عام انسان ہونے کے سوا فرعون کی کوئی حیثیت نہیں تھی۔ چنانچہ اِس طرح رسوائی کے ساتھ اُن کا یہ باطل معبود اپنے انجام کو پہنچا اور اِس کے متبعین کا اِس کے بارے میں باطل تصور بھی بالکل پاش پاش ہوگیا۔ زیرِ بحث آیت کی کم و بیش یہی توضیح علامہ ابن عاشور نے بھی اپنی تفسیر میں نہایت عمدہ طریقے سےبیان کی ہے۔12
علاوہ ازیں، امام رازی اپنی تفسیر ’’مفاتیح الغیب‘‘ میں زیرِ نظر آیت کے تحت لکھتے ہیں کہ فرعون کے پیچھے اِس کی قوم نے، جو اِس کے بارے میں الوہیت کا اعتقاد رکھتی تھی،اِس کے غرقاب ہونے کا مشاہدہ اپنی آنکھوں سےنہیں کیا تھا، چنانچہ اُنھوں نے یہ خبر سن کر اِس کی ہلاکت کی تکذیب کی اور یہی خیال کیا کہ اِس جیسے ’دیوتا‘ پر موت واقع نہیں ہوسکتی، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کمالِ قدرت کا اظہار فرماتے ہوئے اُس کی لاش کو صحیح وسالم صورت میں سمندر سے باہر نکال دیا تا کہ یہ قوم اُس کی ہلاکت کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر کے یقین حاصل کرلے۔13
امام رازی نے فرعون کی لاش کو سمندر سے باہر نکالنے میں خدا کی نشانی کا ایک پہلو یہ بھی بیان کیا ہے کہ جب ایک مرتبہ اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اُس کے پورے لشکر کو سمندر میں غرق کر دیا تو اُس کی گہرائیوں سے، سواے فرعون کی لاش کے کسی کو باہر لا کر نہیں ڈالا۔ بالخصوص فرعون کی لاش کے ساتھ اِس عجیب معاملے کا ظہور بھی خدا کے کمالِ قدرت اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی نبوت کی سچائی کی ایک کھلی نشانی اور دلیل تھی۔14
علاوہ ازیں، شیخ محمد بن صالح المنجد اِس آیت کی وضاحت میں لکھتے ہیں:
’’بلاشبہ، ایسے سرکش بادشاہ کی اِس طرح رسوا کن ہلاکت خدا کی اُن بڑی نشانیوں میں سے ہے، جن سے عناد، ظلم اور حق کے سامنے سرکشی کا انجام بالکل واضح ہوجاتا ہے، چنانچہ یہ اللہ تعالیٰ کی مشیت تھی کہ وہ ایسی نشانی لوگوں کو دکھاکر اِسے ثابت کردیں کہ اُن کے لیے شک اور تکذیب کی کوئی گنجایش باقی نہ رہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے فرعون کی مردہ لاش سمندر کے کنارے پر نکل آئی، جس کا مشاہدہ اِس کی قوم اور اِس کو پوچنے والوں نے خود کیا تا کہ فرعون کا ایسا انجام اُن سب کے لیے اچھی طرح عبرت ونصیحت کا ذریعہ بن جائے۔‘‘15
مزید برآں، شیخ منجد کہتے ہیں کہ آیت میں اِس امر کی کوئی دلالت موجود نہیں ہے کہ فرعون کا جسم قیامت تک محفوظ رہے گا، جیسا کہ بعض لوگوں کو وہم ہوا ہے۔ یہ قرآن کے منہ میں ایسی بات ڈالنے کے مترادف ہے جو اِس نے نہیں کہی۔اگر فرعون کے جسم کو باقی رکھنا خدا کو مقصود ہوتا تاکہ اِس کی مردہ لاش بعد کے زمانوں میں بھی تمام انسانوں کے لیے نشان عبرت بنی رہے تو اُس صورت میں اِس کی لاش دنیا میں سب کے لیے معروف اور ایک ظاہری نشانی کے طور پر بعد کے تمام لوگوں پر، جو اِس کی ہلاکت کا قصہ بعد میں سنتے رہے، پوری طرح واضح اور متعین رہتی تاکہ خدا کی یہ نشانی سب کے لیے ظاہر اور عبرت کا سامان بنی رہے اور خدا کے وعدوں کی سچائی کی دلیل ہو۔ اگر خدا کا مقصود یہ ہوتا تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عہدِ موسیٰ ہی سے فرعون کی یہ لاش دنیا کی نظروں سے بالکل اوجھل کیوں رہی ہے کہ تاریخ میں اِس کا کہیں کوئی نام ونشان ملتا ہے، نہ صدیوں تک اِس کا کہیں کوئی ذکر؟ یہ جن اہلِ آثار نے فرعون کی لاش کے دریافت ہونے کا دعویٰ کیا ہے، یہ تو ماضی قریب کی بات ہے۔16
سوال: لفظ ’خَلفَ‘ عربی زبان میں جس طرح مکانی ظرفیت کے لیے استعمال ہوتا ہے، اُسی طرح ’بعد میں آنے والے لوگوں اور بعد کی نسلوں‘ کے لیے بھی یہ اسم مستعمل ہے، جیسے مثال کے طور پر قرآن میں ارشاد ہے: ’فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ وَّرِثُوا الْكِتٰبَ‘17، ’’پھر اِن کے بعد ناخلف لوگ اِن کے قائم مقام ہوئے جو کتاب کے وارث بنے‘‘۔ لہٰذا زیرِ بحث آیت میں لفظ ’خَلْفَ‘ کے یہ معنی کیوں مراد نہیں لیے جاسکتے؟
جواب: عربیت کی رو سے یہ بات بالکل درست ہے کہ لفظ ’خَلْفٌ‘ اور اِسی طرح ’خَلَفٌ‘ بھی، جو ’سَلَفٌ‘ کے ساتھ عام استعمال ہوتا ہے، ایک نسل کے بعد آنے والی نسل اور لوگوں کے لیے یہ لفظ اِن دونوں شکلوں میں عربی میں مستعمل ہے، چنانچہ ابن منظور کہتے ہیں: ’والخَلْفُ: القَرْنُ يأتي بَعْدَ القَرْن‘۔ بعد کی یہ نسل اگر نیک وصالح ہو تو اُن کے لیے ’خَلَفٌ‘ اور اشرار ہوں تو’خَلْفٌ‘ کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔18 قرآن مجید میں دو مقامات پر اِس لفظ کی صرف یہ دوسری شکل ہی وارد ہوئی ہے۔ اِن دونوں لفظوں کے بارے میں عربیت کی رو سے یہ حقیقت بھی جاننا چاہیے کہ ایک تو یہ الفاظ معرب ومنصرف آتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ اِس صورت میں اِن کا مصداق کسی قوم کی ’بعد کی نسل کے لوگ‘ ہی ہوتے ہیں، جیسا کہ سوال میں مذکور آیت میں واضح ہے۔ تیسرے یہ کہ اِس لفظ کی اِن دونوں شکلوں میں مکانی ظرفیت کا معنی عربی زبان میں قطعًا مراد نہیں لیا جا سکتا۔
اب جہاں تک زیرِ بحث آیت ’فَالْيَوْمَ نُنَجِّيْكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوْنَ لِمَنْ خَلْفَكَ اٰيَةً‘ کا تعلق ہے تو اِس میں مندرجہ بالا سوال کے تناظر میں درجِ ذیل کئی پہلو محل غور و تدبر ہیں:
ایک یہ کہ اِس آیت میں ’خَلْفٌ‘ یا ’خَلَفٌ‘ میں سے کوئی معرب ومنصرف لفظ استعمال نہیں ہوا ہے کہ یہاں ’القَرْن يأْتي بَعْدَ القَرْن‘ کا معنی مراد لیا جا سکے۔
دوسرے یہ کہ زیرِ نظر آیت میں وارد لفظ ’خَلْفَ‘ ہے، نہ کہ ’خَلْفٌ‘۔ اور اِس لفظ کا معنی عربیت میں ’ایک نسل کے بعد آنے والی نسل‘ قطعًا مراد نہیں لیا جاسکتا، بلکہ یہ صرف مکانی ظرفیت ہی کے معنی میں آتا ہے۔اِس کلمے کے بارے میں ’’لسان العرب‘‘ میں ابن سیدہ سے منقول ہے: ’وَإِذَا كَانَتْ ظَرْفًا لَمْ تَزَلْ نَصْبًا عَلَى حَالِهَا‘، ’’یہ کلمہ جب ظرف کے معنی میں ہوگا تو بہرحال اپنی نصبی حالت ہی پر رہے گا‘‘۔ اِس کے ساتھ ہی ابن سیدہ نے سورۂ بقرہ میں آیۃ الکرسی کی ایک آیت ’يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ‘19، ’’وہ لوگوں کے آگے اور پیچھے کی ہر چیز سے واقف ہے‘‘ کو مثال کے طور پر پیش کیا ہے۔20
ائمۂ لغت کے علاوہ علماے نحو بھی اِس مبنی علی النصب اسم کو صرف ظرفِ مکان ہی کے لیے مستعمل مانتے ہیں۔21
علاوہ ازیں، زیرِ نظر آیت کی طرح اضافت کی ترکیب میں لفظ ’خَلْفَ‘ پورے قرآن مجید میں جہاں کہیں بھی آیا ہے، مکانی ظرفیت ہی کے معنی میں آیا ہے۔ مثال کے طور پر سورۂ حم السجدہ میں ہے: ’لَا يَأْتِيْهِ الْبَاطِلُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ‘22، ’’اِس میں نہ باطل اِس کے آگے سے داخل ہو سکتا ہے اور نہ اِس کے پیچھے سے‘‘۔
مزید برآں، اِس لفظ سے پہلے اگر حرفِ جر ’مِنْ‘ آجائے تو وہ اِس کلمے کے اعراب پر تو اثر انداز ہوتا ہے، لیکن اِس صورت میں بھی اِس کے مکانی ظرفیت کے معنی میں کوئی فرق واقع نہیں ہوتا، جیسا کہ قرآن مجید میں ابلیس کا ایک قول نقل ہواہے: ’ثُمَّ لَاٰتِیَنَّہُمۡ مِّنۡۢ بَیۡنِ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ مِنۡ خَلۡفِہِمۡ وَ عَنۡ اَیۡمَانِہِمۡ وَ عَنۡ شَمَآئِلِہِمۡ ‘23، ’’پھر اِن کے آگے اور پیچھے، دائیں اور بائیں، ہر طرف سے ضرور اِن پر تاخت کروں گا ‘‘۔
اِس آیت میں بھی دیکھ لیجیے کہ ما قبل کے حرفِ جر کی بنا پر معرب ہو جانے کے باوجود یہ لفظ مکانی ظرفیت کے معنی کے سوا کسی دوسرے مفہوم میں نہیں لیا جا سکتا۔
تیسرے یہ کہ زیرِ بحث آیت میں فرعون کی لاش کو اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کے لیے نشانی قرار دیا ہے، اُن لوگوں کے مصداق کو بیان کرنے کے لیے آیت کے الفاظ ’لِتَكُوْنَ لِمَنْ خَلْفَكَ اٰيَةً‘ میں اسم موصول ’مَنْ‘ پہلے ہی مذکور ہے اور اِس کے فوری بعد ’خَلْفَكَ‘ کی ترکیب ہے، جو اُن لوگوں کی مکانی ظرفیت واضح کر رہی ہے، جن کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ نشانی بنائی ہے۔
چنانچہ اِس سے صاف واضح ہے کہ یہ ’خَلفَ ‘کا لفظ یہاں ’بعد کی نسلوں‘ کے معنی میں بالکل بھی نہیں لیا جا سکتا، اِس لیے کہ ایک تو اسمِ موصول ’مَنْ ‘ کے وارد ہو جانے کے بعد چونکہ نشانی پانے والوں کا مصداق واضح ہوچکا ہے، لہٰذا اِس کے متصل بعد کوئی دوسرا مصداق بھی قرآن کی زبان میں اِس طرح قطعًا بیان نہیں ہو سکتا۔ جملے کی تالیف اِس چیز کو کسی طرح قبول نہیں کرتی۔ چنانچہ اِس آیت میں لفظ ’خَلفَ‘ کا معنی ’بعد کی نسلیں‘ لینا، بالبداہت واضح ہے کہ ممکن نہیں ہے۔ یہ معنی تو اُس صورت میں لیے جا سکتے تھے جب آیت کے الفاظ بالفرض اِس طرح ہوتے: ’لِتَكُوْنَ لِخَلَفِكَ اٰيَةً‘۔ دوسرے یہ کہ ’بعد کی نسلوں‘ کے معنی اِس وجہ سے بھی نہیں ہو سکتے کہ یہاں ’خَلفَ‘ کا لفظ معرب ومنصرف اور بغیر اضافت کے وارد نہیں ہوا ہے کہ جس کے معنی ’بعد کی نسلوں‘ کے لیے جاسکتے ہوں، بلکہ یہاں لفظ اُسی شکل اور ترکیب میں وارد ہوا ہے جو مکانی ظرفیت ہی کے معنی کے ساتھ خاص ہے۔ چنانچہ مذکورہ بالا ائمۂ لغت ونحو کی راے اور قرآن مجید کے شواہد کی روشنی میں اِس کے معنی صرف مکانی ظرفیت ہی کے لیے جا سکتے ہیں، یعنی تیرے پیچھے جو تیری قوم موجود ہے، تُو اُس کے لیے نشانِ عبرت بنے‘۔
چوتھے یہ کہ ’خَلْفٌ‘ کا اسمِ معرب قرآنِ مجید میں دو مقامات پر ایک ہی تعبیر کے ساتھ فعل’خَلَفَ‘ کا فاعل بن کر اِس طرح وارد ہوا ہے: ’فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ،24جب کہ زیرِ بحث آیت میں لفظ ’خَلْفٌ‘ نہیں، بلکہ مبنی علی النصب کلمہ ’خَلْفَ‘ آیا ہے اور وہ بھی ضمیر ِخطاب کی طرف اضافت کے ساتھ۔ اور یہ لفظ نہ بعد میں آنے والوں کے لیے استعمال ہو سکتا ہے،نہ آیت میں اِس سے قبل کوئی ایسا فعل وارد ہوا ہے جس کا یہ کلمہ کسی طرح فاعل بن سکتا ہو۔چنانچہ جاننا چاہیے کہ سوال میں مذکور آیت کے لفظ ’خَلْفٌ‘ سے زیرِ بحث آیت کا کلمہ’خَلفَ‘کسی اعتبار سے تطابق نہیں رکھتا کہ اِس سے اُس طرح کا معنی نکالا جاسکے جو ہم مثال کے طور پر ’سلف وخلف‘ کی تعبیر میں اِس کا مفہوم مراد لیتے ہیں۔
آخری نکتہ یہ عرض ہے کہ زیرِ بحث آیت میں اگر بالفرض اللہ تعالیٰ ایسے کلمات کی صراحت فرما دیتے کہ فرعون کی لاش کو ہم نے ’بعد کی نسلوں کے لیے‘ نشانی بنایا ہے تو اُس صورت میں ایک وقیع اشکال یہ بھی پیدا ہوجاتا کہ فرعون کی ہلاکت کے اِس واقعے کے وقت پیچھے اِس کو پوجنے والی جو اِس کی اپنی قوم موجود تھی، جن کے لیے بلا شبہ، اِس کی لاش میں عبرت کا سب سے بڑا سامان تھا، اِس قوم کو شامل کیے بغیر اللہ تعالیٰ یہ کیوں فرمائیں گے کہ یہ نشانی میں نے ’بعد کی نسلوں‘ کے لیے رکھی ہے؟ یعنی یہ معنی مراد لینے کی صورت میں خود قومِ فرعون کے لیے اِس کی لاش کے نشان ِعبرت ہونے کی صراحت بھی آیت میں کالعدم ہوجاتی ہے، جنھوں نےخود یہ لاش اپنی آنکھوں سے دیکھی تھی، جب کہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ بعد کی نسلوں نے فرعون کی یہ لاش کبھی دیکھی تھی، خود تاریخ میں اِس بات کا کہیں کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔
[باقی]
نعیم احمد بلوچ
ہابیل کا قتل : ایک تقابلی و نفسیاتی مطالعہ
]’’نقطۂ نظر‘‘ کا یہ کالم مختلف اصحاب ِفکر کی نگارشات کے لیے مختص ہے۔ اس
میں شائع ہونے والے مضامین سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔[
قابیل اور ہابیل کا واقعہ انسانی تاریخ کا محض پہلا قتل نہیں، بلکہ نفس ِ انسانی میں اخلاقی بحران اور تشدد کے باطنی محرکات کا گہرا اظہار ہے۔ قرآنِ مجید، عہدِ عتیق اور عہد جدید، تینوں اس واقعے کو بیان کرتے ہیں، مگر اسلوب، ترجیحات اور مقاصد میں فرق کے ساتھ۔ اس تحریر کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ تینوں الہامی متون اس قصے کے ذریعے سے جرم کے ایک ایسے محرک کی نشان دہی کرتے ہیں جو جدید جرم شناسی میں عموماً نظرانداز رہتا ہے، یعنی حسد اور زخمی انا۔ یہ اندرونی اخلاقیات کو انسانیت کے لیے امن وسلامتی کا بنیادی منبع قرار دیتا ہے۔ مزید یہ کہ اس واقعے میں انسان کی اس وقت کی تہذیب کے جو خدو خال ملتے ہیں، ان کی نشان دہی بھی کی گئی ہے۔
قرآنی بیانیہ: اخلاقی و تہذیبی زاویہ
قرآنِ مجید قابیل اور ہابیل کے واقعے کو نہایت اختصار، مگر غیر معمولی معنوی گہرائی کے ساتھ بیان کرتا ہے۔ قرآن کے مطابق:
’’اِنھیں آدم کے دو بیٹوں کا قصہ سناؤ،ٹھیک ٹھیک۔جب اُن دونوں نے قربانی پیش کی تو اُن میں سے ایک کی قربانی قبول کر لی گئی اور دوسرے کی قبول نہیں کی گئی۔ (پھر جس کی قربانی قبول نہیں کی گئی)، اُس نے کہا: میں تجھے مار ڈالوں گا۔ دوسرے نے جواب دیا: اللہ تو اپنے اُنھی بندوں کی قربانی قبول کرتا ہے جو اُس سے ڈرنے والے ہوں۔ تم مجھے قتل کرنے کے لیے اپنا ہاتھ مجھ پر اٹھاؤ گے توبھی میں تمھارے قتل کے لیے تم پر اپنا ہاتھ اٹھانے والا نہیں ہوں، میں اللہ رب العٰلمین سے ڈرتاہوں۔میں چاہتا ہوں کہ (تم نے میرے قتل کا ارادہ کر لیا ہے تو) اپنے اور میرے گناہ کا بار تمھی لے جاؤ اور دوزخی بن کر رہو۔ اِس طرح کے ظالموں کی یہی سزا ہے۔(اِس پر بھی وہ باز نہیں آیا اور ) اُس کے نفس نے بالآخر اپنے بھائی کے قتل پر اُس کو آمادہ کر لیا اور اُسے مار کر وہ اُن لوگوں میں شامل ہو گیا جو نقصان اٹھانے والے ہیں۔پھر اللہ نے ایک کوے کو بھیجا جو زمین کھودنے لگا تاکہ اُس کو بتائے کہ وہ اپنے بھائی کی لاش کس طرح چھپائے۔ (یہ دیکھ کر) وہ بولا: ہاے میری کم بختی، میں اِس کوے جیسا بھی نہ ہو سکا کہ اپنے بھائی کی لاش ہی چھپا لیتا۔ سو (اِس پر) وہ پچھتاتا رہ گیا۔(انسان کی) یہی (سرکشی) ہے جس کی وجہ سے ہم نے (موسیٰ کو شریعت دی تو اُس میں) بنی اسرائیل پربھی اپنا یہ فرمان لکھ دیا تھا کہ جس نے کسی ایک انسان کو قتل کیا، اِس کے بغیر کہ اُس نے کسی کو قتل کیا ہو یا زمین میں کوئی فساد برپا کیا ہو تو اُس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کردیا اور جس نے کسی ایک انسان کو زندگی بخشی، اُس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔‘‘25 ( المائدہ 5 : 27-32)
یوں معلوم ہوا کہ دونوں نے قربانی پیش کی؛ ایک قبول ہوئی اور دوسری رد کر دی گئی۔قبولیت یا رد کی بنیاد تقویٰ قرار دی گئی، نہ کہ محض عمل کی صورت۔ردِّ قربانی نے قابیل کے اندر حسد اور غصے کو جنم دیا، جو بالآخر قتل پر منتج ہوا۔
قرآن یہاں جرم کے خارجی اسباب (مال، عورت، اقتدار) کو موضوع نہیں بناتا، بلکہ باطنی کیفیت کو نمایاں کرتا ہے۔
کوے کا کردار
قرآن میں کوے کا ذکر ایک علامتی اضافہ ہے۔اس سے یہ پہلو ہمارے لیے قابل غور ہیں :
* کوا قابیل کو تدفین کا طریقہ سکھاتا ہے، جس پر قابیل اعتراف کرتا ہے کہ وہ ایک جانور جتنی فطری اخلاقیات بھی برقرار نہ رکھ سکا۔ یہ منظر جرم کے احساس کے بعد ردِعمل، تہذیب کی ابتدا (تدفین)، اور جرم کے بعد کی جھوٹی ندامت کو نہایت بلیغ انداز میں واضح کرتا ہے۔یعنی جو شخص اپنے ضمیر کی آواز کو دباتا ہے اور اپنے جذبات کے ہاتھوں بے قابو ہو جاتا ہے، وہ پھر اپنوں کے بجاے خارج سے، یعنی کووں ہی سے ہدایت پاتا ہے۔
* یہاں کوا کم تر مخلوق کا استعارہ نہیں، بلکہ خارجی عنصر کی قبولیت کا اشارہ ہے اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جرم کی کیفیت انسان کے اندر سوچنے سمجھنے کی قابلیت بھی چھین سکتی ہے۔
* یہ پہلو بھی قابل غور ہے کہ قابیل اگر سچی ندامت اور توبہ کرتا تو اپنے والد کے سامنے پیش ہو جاتا۔
* اسی سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ وہ آدم کی اس پہلی بستی سے فرار ہو گیا تھا۔ یہ پہلو اگرچہ قرآن میں لفظاً بیان نہیں ہوا، لیکن قتل کے بعد اس کا آدم سے کوئی مکالمہ بیان نہیں ہوا۔ مزید یہ کہ بائیبل سے اس تاثر کی تائید ہوتی ہے۔
عہد عتیق کا بیان
بائیبل عہد عتیق (کتابِ پیدایش15-1:4) قابیل اور ہابیل کے قصے کو نسبتاً تفصیل سے نفسیاتی اور اخلاقی انداز میں بیان کرتی ہے۔ یہاں بھی دونوں قربانی دیتے ہیں؛ ایک قبول ہوتی ہے اور دوسری رد:
’’آدم اپنی بیوی حوّا کے پاس گیا اور وہ حاملہ ہوئی اور قابیل کو جنم دیا۔ اُس نے کہا: میں نے خداوند کی مدد سے ایک مرد حاصل کیا۔پھر اُس نے اُس کے بھائی ہابیل کو جنم دیا۔ ہابیل بھیڑ بکریاں چرانے والا تھا اور قابیل کھیتی باڑی کرنے والا تھا۔
کچھ عرصہ کے بعد قابیل زمین کی پیداوار میں سے خداوند کے حضور نذر لایا، اور ہابیل بھی اپنے ریوڑ کے پہلوٹھوں اور اُن کی چربی میں سے لایا۔ خداوند نے ہابیل اور اُس کی نذر کو قبول کیا، لیکن قابیل اور اُس کی نذر کو قبول نہ کیا۔ اس پر قابیل نہایت غضب ناک ہوا اور اُس کا چہرہ اتر گیا۔
خداوند نے قابیل سے کہا: تو کیوں غضب ناک ہوا؟ اور تیرا چہرہ کیوں اتر گیا؟ اگر تو نیکی کرے تو کیا تو مقبول نہ ہوگا؟ اور اگر تو نیکی نہ کرے تو گناہ دروازے پر گھات لگائے بیٹھا ہے۔ اُس کی رغبت تیری طرف ہے، لیکن تو اُس پر قابو رکھ۔
اور قابیل نے اپنے بھائی ہابیل سے بات کی، اور جب وہ دونوں کھیت میں تھے تو قابیل اپنے بھائی ہابیل پر چڑھ دوڑا اور اُسے قتل کر ڈالا۔
پھر خداوند نے قابیل سے کہا: تیرا بھائی ہابیل کہاں ہے؟ اُس نے کہا: میں نہیں جانتا۔ کیا میں اپنے بھائی کا نگہبان ہوں؟
خداوند نے فرمایا: تو نے کیا کیا؟ تیرے بھائی کے خون کی آواز زمین سے مجھے پکار رہی ہے۔ اب تو زمین کی طرف سے ملعون ٹھہرا جس نے اپنا منہ کھول کر تیرے ہاتھ سے تیرے بھائی کا خون لیا۔ جب تو زمین کی کاشت کرے گا تو وہ پھر اپنی قوت تجھے نہ دے گی۔ تو زمین پر آوارہ اور خانہ بدوش ہوگا۔
قابیل نے خداوند سے کہا: میری سزا میری برداشت سے زیادہ ہے۔ دیکھ، آج تو نے مجھے زمین کے رُوئے سے نکال دیا ہے اور میں تیرے حضور سے چھپا رہوں گا اور زمین پر آوارہ اور خانہ بدوش ہوں گا، اور جو کوئی مجھے پائے گا، مجھے قتل کرے گا۔
خداوند نے اُس سے کہا: جو کوئی قابیل کو قتل کرے گا اُس سے سات گنا بدلہ لیا جائے گا۔ اور خداوند نے قابیل کے لیے ایک نشان مقرر کیا تاکہ جو کوئی اُسے پائے اُسے قتل نہ کرے۔
پس قابیل خداوند کے حضور سے نکل گیا اور عدن کے مشرق کی طرف ’’نود ‘‘کے علاقہ میں جا بسا۔‘‘
عہدِ جدید کا بیان
یہاں ہابیل اور قابیل کے واقعے کو تفصیل سے دوبارہ بیان نہیں کیا گیا، بلکہ اس واقعے کی حکمت اوراخلاقی سبق کی نشان دہی کی گئی ہے۔اور عہد عتیق میں بیان کردہ واقعے کی انتہائی خوب صورتی سے تشریح کی گئی ہے۔ مختلف مقامات پر رسولوں نے اس واقعے کا حوالہ دے کر راست بازی اور بدی کے فرق کو واضح کیا ہے۔ہم تمام تشریحات کو بیان کرتے ہیں :
ایمان کی پختگی کا بیان
’’ایمان ہی سے ہابیل نے خدا کو قابیل سے بہتر قربانی گزرانی،اور اسی کے وسیلہ سے اُس کی بابت گواہی دی گئی کہ وہ راستباز تھا۔‘‘(عبرانیوں 11 :4)
یہاں ہابیل کی قربانی کو پختہ ایمان کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ زور قربانی پر نہیں، بلکہ دل کی حالت اور ایمان پر ہے۔قرآن نے اسے ’تقویٰ‘ سے تعبیر کیا ہے۔
راست بازی اور بدی کا تضاد
’’ہمیں قابیل کی مانند نہ ہونا چاہیے جو(حسد ) کے شرسے (متاثر )تھا اور اُس نے اپنے بھائی کو قتل کیا۔کیونکہ اُس کے اعمال بُرے تھے اور اُس کے بھائی کے راستباز۔‘‘(1-یوحنا 3 :12)
یہاں قابیل کے حسد اور انا کے ٹوٹنے کو نفرت اور بدی کی علامت،اور ہابیل کے تقویٰ اور ضبط نفس کو راست بازی کی علامت بتایا گیا ہے۔اور نتیجہ یہ نکالا گیا ہے کہ حقیقی ایمان اور تقویٰ محبت پیدا کرتا ہے، حسد قتل تک لے جاتا ہے۔
قابیل کے جرم کا تسلسل اور نبیوں کا قتل
یسوع مسیح نے یہودی علما کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
’’تاکہ زمین پر جتنا راست ( بے گناہ ) خون بہایا گیا ہے وہ سب تم پر آئے۔ راست باز ہابیل کے خون سے لے کر زکریاکے خون تک۔‘‘(متی 23 :35)
اس میں ہابیل کو تاریخ کا پہلا راست باز شہید قرار دیا گیا،جسے حسد اور زخمی اَنا کی وجہ سے قتل کیا گیا۔
قرآن نے اسی بیان کا حوالہ دے کر فرمایا:
’’(انسان کی) یہی (سرکشی) ہے جس کی وجہ سے ہم نے (موسیٰ کو شریعت دی تو اُس میں) بنی اسرائیل پربھی اپنا یہ فرمان لکھ دیا تھا کہ جس نے کسی ایک انسان کو قتل کیا، اِس کے بغیر کہ اُس نے کسی کو قتل کیا ہو یا زمین میں کوئی فساد برپا کیا ہو تو اُس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کردیا اور جس نے کسی ایک انسان کو زندگی بخشی، اُس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔‘‘( المائدہ 5 : 32)
قابیل کے حسد کو گم راہی کی راہ قرار دینا
’’اُن پر افسوس! کیونکہ وہ قابیل کی راہ پر چلے…‘‘(یہوداہ 1 :11)
نبیوں کے قتل ہی کے حوالے سے یہ بیان قابل توجہ ہے۔ اس میں ’’قابیل کی راہ‘‘سے مراد ہے: خودغرض دین داری،حسد،خدا کی مرضی کو رد کرنا،ظاہری مذہب، باطنی بغاوت۔ کیونکہ قابیل نے خدائی حکم کے آگے سر تسلیم خم کرنے کے بجاے حکم عدولی کی۔ ایسے ہی نبیوں پر ایمان لانے کے بجاے بنی اسرائیل نے سرکشی اختیار کی اور انھیں قابیل کی طرح قتل کر ڈالا۔ یہاں ان کے جرائم کی نشان دہی کی گئی ہے۔
عہدِ جدید کے مطابق اس واقعے کی تشریح کا قرآن سے تقابل
عہدِ جدید میں اس واقعے کی وہ تشریح جو حضرت عیسیٰ سے روایت کی گئی ہے، بہت معنی خیز اور قرآن کے بیان سے حیرت انگیز طور پر مماثلت رکھتی ہے۔ اس میں قابیل ظاہری مذہب، خود غرضی، حسد، نفرت اور بغاوت کا حامل کردار ہے، جب کہ ہابیل خالص ایمان، راست بازی، قبولیت،محبت اور شہادت کی اقدار کو ماننے والا ہے۔ قرآن میں یہی بات قابیل کی تقویٰ کے بغیر قربانی اور عدم قبولیت کے بعد ہابیل کو قتل کی دھمکی میں بیان کی گئی ہے، جب کہ ہابیل کا قرآن میں مذکور جملہ ’’میں اللہ سے ڈرتا ہوں ‘‘ اور ہاتھ نہ اٹھانے کا ارادہ اُن اخلاقی اقدار کا بیان ہے جن کوحضرت عیسیٰ نے لفظاً بیان فرما دیا ہے۔
قرآن مجید نے ہابیل کے اس بیان میں کہ ’’میں تم پر ہاتھ اٹھانے والا نہیں ہوں‘‘ اضافی طور پر یہ واضح کیا ہے کہ صبر اور ردعمل کی نفسیات کا شکار ہونے سے انکار تشدد کے پھیلاؤ کو روک سکتا ہے، چاہے مظلوم کو جان ہی کیوں نہ دینی پڑے۔مزید یہ کہ ہابیل کا یہ بیان کہ میں دوزخ میں نہیں جانا چاہتا، یہ ظاہر کرتا ہے کہ اگر حسد اور غصہ منفی طاقت کو جنم دے سکتا ہے تو صبر، ضبط اور اعلیٰ آدرش( دوزخ سے بچنا ) تشدد کے پھیلاؤ کو روکنے کی طاقت بن سکتا ہے۔
عہد عتیق کے متن میں خدا قابیل سے مکالمہ کرتا ہے اور اسے خبردار کرتا ہے کہ گناہ دروازے پر گھات لگائے بیٹھا ہے، مگر اس پر قابو پانا انسان کے اختیار میں ہے۔اسی بیان کو حضرت مسیح نے کھول کر بیان کیا ہے۔ بائیبل میں قتل کے بعد قابیل کا جملہ:’’کیا میں اپنے بھائی کا نگہبان ہوں؟‘‘ انسانی سماجی ذمہ داری سے فرار اور اخلاقی انکار کی پہلی واضح مثال ہے۔
جرم کا مذہبی تصور بہ مقابلہ جدید جرم شناسی
جدید جرم شناسی عموماً جرم کے اسباب کو ان خارجی عوامل میں تلاش کرتی ہے:
مالی محرومی،طاقت اور کنٹرول کی خواہش اور وسائل اور مفادات کا حصول۔
مذہبی بیانیہ اس فہرست میں ایک بنیادی اضافہ کرتا ہے، وہ ہے: حسد اور زخمی انا، کیونکہ قابیل نہ محروم تھا، نہ بے روزگار، نہ مظلوم؛ اس کے باوجود اس نے قتل کیا۔ یہ حقیقت اس نتیجے تک پہنچاتی ہے کہ جرم کی جڑ باطن میں بھی ہوتی ہے، محض حالات میں نہیں۔یہ اصل میں اسی قرآنی دعویٰ کی تشریح ہے :
وَ نَفۡسٍ وَّ مَا سَوّٰىہَا. فَاَلۡہَمَہَا فُجُوۡرَھا وَ تَقۡوٰھا. قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ زَکّٰىہَا. وَ قَدۡ خَابَ مَنۡ دَسّٰىہَا.
(الشمس 91: 7-10)
’’اور نفس اور جیسا اُسےسنوارا، پھر اُس کی بدی اور نیکی اُسے سجھادی۔ فلاح پا گیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا۔ اور نامراد ہوا وہ جس نے اُسے آلودہ کر ڈالا۔‘‘
یہ وہ پہلو ہے جو جدید سیکولر تصورات میں نہیں ملتا۔ واضح رہے کہ بائیبل اور قرآن مجید کے اصل متن میں شادی یا بہن کے تنازع کا کوئی ذکر نہیں؛ یہ پہلو بعد کی یہودی تفسیری روایات ’’مدراش ‘‘میں ملتا ہے اور وہیں سے مسلمانوں کے مذہبی لٹریچر کا حصہ بنا ہے۔
ہابیل اور قابیل کے واقعے میں انسانی تہذیب کے ارتقا کی علامتیں
اس واقعے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ
*پہلی انسانی بستی ایک ترقی یافتہ بستی تھی، جو کھیتی باڑی یا گلہ بانی جانتی تھی؛ تبھی تو کسی چیز کی قربانی دی گئی۔ اور بائیبل میں واضح ہے کہ ہابیل گلہ بان اور قابیل کسان تھا۔ یعنی یہ وہ انسان نہیں تھے جو جانوروں کی طرح کی زندگی بسر کرتے تھے۔
* الہامی متون سے واضح ہے کہ یہ پہلے انسانوں کی بستی تھی۔اور وہ پہلے انسان آدم کے بیٹے تھے۔ اب یہ سوال بہت اہم ہے کہ انسانوں کی اس پہلی بستی میں یہ تہذیبی ترقی کیسے ہوئی ؟ انھیں گلہ بانی اور زراعت کے ہنر کس نے سکھائے ؟ یہ سوال ہمیں تہذیبی ارتقا کے حقائق کو جاننے کی دعوت دیتا ہے۔ اس سے ڈائریکٹ کری ایشن، یعنی براہ راست تخلیق کا نظریہ بالکل ختم ہو جاتا ہے۔
* قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر نفخ روح کے بعد بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم و حوا کو ایک خاص باغ، یعنی جنت میں رہنے کا حکم دیا۔ کیا یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ کھیتی باڑی اور دوسرے تہذیبی وسائل آدم کو یہاں سکھائے گئے ؟ اور اس نے اس باغ سے نکلنے کے بعد اپنے بیٹوں کو یہ ہنر سکھلائے۔
* ہابیل مقتول ہوئے، قابیل وہاں سے فرار ہو کر دوسری جگہ چلے گئے۔ اس کے بعد بائیبل میں بیان کیا گیا ہے کہ شیث تیسرے بیٹے ہوئے اور ان سے انسانی آبادی آگے بڑھی۔ شیث کی شادی کس کے ساتھ ہوئی؟ ان کی بیوی کہاں سے آئی؟ الہامی متون خاموش ہیں۔ قرآن اور بائیبل بیٹوں کی پیدایش کا ذکر تو کرتا ہے، سوال ہے کہ بیٹی کی پیدایش کا ذکر کیوں نہیں ہوا؟
* بائیبل کے بیان کے مطابق : ’’پس قابیل خداوند کے حضور سے نکل گیا اور عدن کے مشرق کی طرف نود کے علاقہ میں جا بسا۔‘‘ یعنی آدم کی اس ’’پہلی انسانی بستی‘‘ کے متوازی ایک نئی بستی قائم ہوئی۔ اور بائیبل کا یہ بیان :
’’ اب تو زمین کی طرف سے ملعون ٹھہرا جس نے اپنا منہ کھول کر تیرے ہاتھ سے تیرے بھائی کا خون لیا۔ جب تو زمین کی کاشت کرے گا تو وہ پھر اپنی قوت تجھے نہ دے گی۔ تو زمین پر آوارہ اور خانہ بدوش ہوگا۔‘‘ (پیدایش 4: 11-12)
اس بات کی طرف صاف اشارہ کر رہے ہیں کہ قابیل ایک جگہ نہیں ٹھہرا اور وہ جس جگہ گیا، وہ کاشت کے قابل نہیں تھی۔ اور اسے کاشت کاری کے سوا دوسرا روزگار تلاش کرنا پڑا۔
* بائیبل کے بیان کے مطابق قابیل اور خدا کے درمیان براہ راست مکالمہ بیان کیا گیا ہے۔ بائیبل کے شارحین اسے خدا سے براہ راست مکالمہ بھی کہتے ہیں اور اسے قابیل کا ضمیر بھی قرار دیتے ہیں۔ خدا سے براہ راست مکالمے کی صورت میں ہمیں اس دور کی مذہبی ہیئت کو سمجھنا چاہیے۔ کیا ابتدائی انسان کے لیے خدا سے براہ راست ہدایت کی سہولت دستیاب تھی؟ یا اس مکالمے کی کوئی اور تشریح کی جا سکتی ہے ؟
- ۔ لسان العرب،ابن منظور الافریقی 9/82۔ متن الآجروميۃ، ابن آجُرُّوم الصنهاجی18: وقال ابن آجُرُّوم: وظرف المكان هو: اسم المكان المنصوب بتقدير ’في‘ نحو: أمامَ، وخَلْفَ، وقُدَّامَ، ووراءَ، وفَوْقَ، وتَحتَ، وعِندَ، ومَعَ، وإزاء، وحِذَاءَ، وتِلقَاءَ، وهنا، وثَمَّ، وما أشبه ذلك۔
- ۔ 2/369۔
- ۔ 3/123۔
- ۔ 2/151۔
- ۔ 6/ 103۔
- ۔ 4/ 174۔
- ۔ 3/ 1818۔
- ۔ 11/ 279۔
- ۔ دیکھیے: یوٹیوب پر ڈاکٹر فاضل السامرائی کے پروگرام ’’لمسة بيانية‘‘ میں اُن کی گفتگو اِس لنک پر: https://www.youtube.com/watch?v=Tos00C4sbxM
- ۔ القصص28: 38۔
- ۔ الشعراء 26: 29۔
- ۔ التحریر والتنویر،طاہربن عاشور11/279۔
- ۔ مفاتيح الغيب، فخر الدين الرازی 17/298۔
- ۔ مفاتيح الغيب، فخر الدين الرازی 17/298۔
- ۔ دیکھیے: ویب سائٹ ’’موقع الاسلام سؤال وجواب‘‘ پریہ لنک: <تفسير قوله تعالى ( فَاْليَوْمَ نُنَجِّيْكَ بِبَدَنِكَ) – الإسلام سؤال وجواب>۔
- ۔ دیکھیے: ویب سائٹ ’’موقع الاسلام سؤال وجواب‘‘ پریہ لنک: <تفسير قوله تعالى ( فَاْليَوْمَ نُنَجِّيْكَ بِبَدَنِكَ ) – الإسلام سؤال وجواب>۔
- ۔ الاعراف7 :169۔
- ۔لسان العرب، ابن منظور الافریقی 9/84۔
- ۔ البقرہ 2: 255۔
- ۔ لسان العرب، ابن منظور الافریقی 9/ 82۔
- ۔ متن الآجروميۃ، ابن آجُرُّوم الصنهاجی18۔
- ۔ حم السجدہ 41: 42۔
- ۔ الاعراف7 : 17۔
- ۔ الاعراف 7 :169۔ مریم 19: 59۔
- ۔ البیان 1/ 618- 623۔