مواد پر جائیں

مطالعۂ مسندِ احمد

ڈاکٹر عمار خان ناصر/ ڈاکٹر سید مطیع الرحمٰن اردو

(مسندِ احمد کی احادیث سے متعلق استفسارات اور ان کا جواب)

(7)

مطیع سید: ایک صحابی جمعہ کے دن تھوڑا لیٹ آئے توحضرت عمر نے ایک طرح سے انھیں ڈانٹا۔ انھوں نے عذر پیش کیا کہ وضوکرتے ہوئے دیر ہوئی۔حضرت عمر نے اس با ت پر بھی ڈانٹا کہ آپ نے غسل کیوں نہیں کیا (رقم199)۔کیا حضرت عمر غسل کو واجب سمجھتے تھے؟ ورنہ ڈانٹنے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے ؟

عمارناصر: یہ صحابی حضرت عثمان تھے۔ یہ مشہور واقعہ ہے، صحیح بخاری (رقم878) میں بھی آیا ہے۔ حضرت عمر غسل کو واجب نہیں سمجھتے تھے، لیکن جمعہ کے دن کے جو خاص اہتمامات ہیں، ان میں شامل ہے اور مسلمانوں کوعموماً‌ غسل کا اہتمام کرناچاہیے۔ خاص طورپر اس طرح کے حضرات جو پیشوا بھی ہیں،انھیں زیادہ اہتمام کرنا چاہیے۔ اس پہلو سے حضرت عمر نے کہا کہ اچھا، آپ اتنے مصروف رہے کہ غسل کے لیے بھی آپ نے وقت نہیں نکالا اور مسجد میں بھی تاخیر سے آئے ہیں! یہاں فقہی وجوب کی بات نہیں ہو رہی۔

مطیع سید: یہ روایت کئی دفعہ آئی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں یہود اور نصاریٰ کو جزیرۂ عرب سے نکال دوں گا اور اس میں صرف مسلمانوں کورہنے دوں گا(رقم201)۔کیا یہ حکم صرف مشرکین کے لیے نہیں تھا کہ انھیں جزیرۂ عرب سے نکال دیاجائے؟

عمارناصر: نہیں، مشرکین کے لیے تو حکم یہ تھاکہ وہ ایمان لائیں یا پھر ان کے خلاف قتا ل کیا جائے گا۔جزیرۂ عرب سے ان کا نکل جانا یا نکال دیا جانا قرآن کا دیا ہوا انتخاب نہیں ہے۔قرآن یہ نہیں کہہ رہا کہ وہ یہاں سے چلے جائیں یا ایمان لے آئیں۔ہاں، وہ اس سے بچنے کے لیے خود ہی نکل جائیں تو الگ بات ہے،لیکن قرآن نے خود یہ آپشن بیان نہیں کیا۔ ان کے برخلاف، اہلِ کتاب کے متعلق اللہ تعالیٰ نے اجازت دی تھی کہ ان سے جزیہ لیا جاسکتا ہے۔ اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک سیاسی ترجیح بیان کر رہے ہیں کہ ان کو جزیہ دے کر رہنے کی بھی اجازت ہے، لیکن جزیرۂ عرب کی جو خاص حیثیت ہے،اس لحاظ سے میرا ارادہ ہے کہ میں اہلِ کتاب کو بھی اس میں رہنے نہ دوں۔یہ خالص مسلمانوں کاعلاقہ ہوجائے۔

مطیع سید: مسلمان اس وقت پوری طاقت میں تھے، پھر انھیں ان سے کیا تحفظا ت تھے؟ اسلام اس خطے میں کسی دوسرے مذہب کو قبول نہیں کرنا چاہتا یا تکثیری معاشرے کےساتھ چل نہیں سکتا؟

عمارناصر:اس پالیسی کی بنیاد اس علاقے کی خصوصی حیثیت ہے۔ اس سے ہٹ کر باقی علاقوں میں تکثیریت قبول کی جا سکتی ہے، لیکن جزیرۂ عرب میں نہیں۔ یہاں مسلمانوں کے مقدس ترین مراکز ہیں، اس لیے اسے مسلمانوں کے لیے خاص کر دیا گیا ہے۔

مطیع سید: کیا جزیرۂ عرب سے مراد وہ پوراعرب ہے جو ہمیں نقشے میں دکھائی دیتا ہے ؟

عمارناصر: روایات میں آپ کو مختلف تعبیرات ملیں گی۔بعض میں حجاز کا ذکر ہے کہ آپ نے فرمایا کہ میں حجاز سے ان کو نکال دوں گا،کیونکہ اصل مرکزی علاقہ جہاں حرمین ہیں، وہ تو حجاز ہی ہے۔ بعض روایات میں ’جزیرۃ العرب‘ کا ذکر ملتا ہے۔اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کون سی تعبیر استعمال کی،حتمی طور پر نہیں کہا جا سکتا۔ ہوسکتا ہے، ’جزیرۃ العرب‘ کی استعمال کی ہو،اور ہوسکتا ہے کہ حجاز کی استعمال کی ہو۔عملاً‌ یہ ہواکہ حضرت عمر نے اپنے دورمیں حجاز اور اس کے قریب کے علاقوں پر ارتکاز کیا کہ یہاں یہود ونصاریٰ نہ رہیں۔جس کو اب جزیرۃ العرب کہتے ہیں، جس میں یمن تک کا پورا علاقہ شامل ہے، اس سے اخراج پر صحابہ نے اصرار نہیں کیا۔ نجران میں مسیحی بھی رہتے رہے ہیں،بعد میں حضرت عمر کے دور میں ان کا آپس میں کوئی جھگڑا ہو گیا تو انھی کی فرمایش پر ان کو یہاں سے کسی دوسرے علاقے میں منتقل کر دیاگیا۔اس طرح یہودی جو خیبر سے جلا وطن ہوئے،وہ بھی جزیرۃ العرب کے حدود سے باہر نہیں نکال دیے گئے۔شام کے علاقوں میں بعض بستیاں تھیں،تیما اور ایلہ وغیرہ، جہاں پہلے سے کچھ یہودی رہ رہے تھے،وہاں ان کو بھیج دیاگیا۔ بنیادی مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کا جو مرکزی علاقہ ہے، جہاں ان کے دو مقدس مقامات ہیں،اس میں کسی طرح کا بھی رسک نہ لیا جائے۔یہ سیاسی طور پر بالکل محفوظ رہیں۔یہاں غیر مسلموں کی آبادی نہ ہو۔

مطیع سید: آج کے لیے بھی یہی حکم ہے کہ مکہ اور مدینہ کے اردگرد غیرمسلموں کو آباد نہیں کیا جائے گا ؟

عمارناصر:جی، سعودی عرب میں اسی لیے اجازت نہیں ہے۔حجاز میں تو بالکل نہیں ہے،لیکن بعض دوسرے علاقوں میں وہ عارضی طورپر شاید رہتے ہیں۔ پچھلے دنوں عرب امارات نے جو جزیرۃ العرب کے ایک کنارے پر آباد ہے، وہاں ہندوؤں کومندر بنانے کی اجازت دی تو پھر یہ بحث پیداہوئی تھی کہ کیا پورے جزیرۃ العرب میں اس پابندی کا اطلاق ہونا چاہیے کہ یہاں صرف مسلمان ہوں گے اور غیر مسلموں کو یہاں شہریت نہیں دی جائے گی؟ وہاں کی حکومت نے فیصلہ کیاہے کہ ہم دیں گے، لیکن غامدی صاحب نے اس سے اختلاف کیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ معاملے کی جو نوعیت اور نزاکت ہے، اس میں اجتہادی طورپر تو گنجایش ہے کہ آپ اس پابندی کو حجاز تک محدود رکھیں اور باقی علاقوں میں تھوڑی سی رعایت دےدیں، لیکن بہتریہ ہے کہ پورے جزیرۃ العرب پر اس کا اطلاق کیاجائے۔

مطیع سید: اگر کچھ غیر مسلم وہاں آباد ہوجائیں تو اس میں آخر کیا نقصان ہے ؟

عمارناصر:مذہبی لحاظ سے نہیں،اس کو سیاسی پہلو سے دیکھیں کہ وہ اگر وہاں رہیں گےتو کل کو ان کی تعداد میں بھی اضافہ ہوگا۔ آج کل کے جمہوری نظام میں آپ کو پھر سیاسی لحاظ سے امتیاز کرنا مشکل ہو جاتاہے،آپ کو انھیں سیاسی حقوق بھی دینے پڑیں گے۔ اس علاقے کو مسلمانوں کے لیے خاص کرنے سے اصل مقصد یہ ہے کہ کفر اور شرک کی یہاں کوئی موجودگی نہ ہو۔ تو اس علاقے کی جو حیثیت ہے کہ اس میں صرف مسلمان ہی رہیں،نتیجے کے لحاظ سے اس پر زد پڑنے کا خطرہ ہے۔ یہ سدِ ذریعہ کی نوعیت کا ایک حکم ہے، ورنہ کفار و مشرکین دنیا میں اور جگہ پر بھی رہتے ہیں،وہاں بھی اگر رہیں تو اسلام پر تو کوئی فرق نہیں پڑتا،لیکن ایک بندوبست کیا گیا ہےکہ مرکزِ توحید اور اس کے گر دو نواح کا علاقہ محفوظ رہے اور اس میں مسلمان ہی ہوں تاکہ کفر کی اور خاص طورپر شرک کی وہاں پر موجود گی نہ ہو،اس پہلو سے یہ بات کہی گئی ہے۔

مطیع سید:غزوۂ خیبر میں شہداکے بارے میں صحابہ فرمارہے تھے کہ فلاں شہید ہے، فلاں بھی شہیدہے تو ان میں سے ایک کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اسے جہنم میں دیکھا ہے، اس نے مالِ غنیمت میں سےایک چادر چرائی تھی(رقم203)۔ لیکن اس سے اگلی روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے دوجنازےگزرے۔ ایک کے بارے میں چند لوگوں نے کہا کہ یہ بہت اچھا آدمی تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے لیے جنت واجب ہوگئی اور دوسرے کے بارے میں صحابہ کے تبصرے سن کر فرمایا کہ جہنم واجب ہو گئی (رقم204)۔ اس واقعے میں صحابہ کی شہادت کو قبول کیا جارہا ہے، لیکن غزوۂ خیبر والے واقعے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی گواہی کو کافی نہیں سمجھ رہے۔ اس فرق کی کیا وجہ ہے؟

عمارناصر:ان دونوں میں کوئی تعارض نہیں ہے۔ایک بات یہ ہے کہ اگر لوگوں کی کسی کے بارے میں گواہی اچھی ہے اور اللہ کے علم کے مطابق بھی ایسی کوئی چیز نہیں جو اس سے ٹکرا رہی ہو، یعنی اس کے اعمال میں ایسا کوئی عمل نہیں ہے جو اس ظاہری شہادت کے منافی ہو تو پھر ٹھیک ہے۔ اصل میں لوگوں کا گواہی دینا، یہ اصل موجب نہیں ہے کہ لوگوں نے گواہی دی تو اس پر مغفرت ہوگئی، بلکہ لوگ اگر اس بات کی گواہی دے رہے ہیں تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ اس کا باطن اچھا ہی ہو گا تو اس سے ہم جان سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی مغفرت کر دی ہے۔لیکن اصل حقیقت تو اللہ ہی جانتا ہے۔اگر آدمی کے عمل میں ایسی کوئی چیزہے جو لوگوں کے علم میں نہیں ہے، لیکن اللہ کے علم میں ہے تو اللہ تعالیٰ اسی کے لحاظ سے فیصلہ کریں گے۔

مطیع سید:غزوۂ بدر میں قیدیوں سے متعلق حضرت عمر کی راے یہ تھی کہ انھیں قتل کر دیا جائے، لیکن حضرت ابوبکر اور دوسرے صحابہ نے فدیہ لے کر چھوڑ دینے کی راے پیش کی۔ پھر اس سے متعلق آیات نازل ہوئیں، جن میں قیدیوں سے فدیہ لینے پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کو سخت عتاب کیا گیا۔ یہ واقعہ ذکر کر تے ہوئے حضرت عمر جنگِ احد کی شکست کو اس فدیہ لینے کے واقعے کے ساتھ جوڑتے ہیں(رقم208)۔ بات تو غزوۂ بدر کی ہورہی ہے، اسے جنگِ احد کے ساتھ کیسے جوڑا جا رہا ہے ؟

عمار ناصر: ان کا مطلب یہ ہے کہ چونکہ بدر کے قیدیوں کو آزاد کر کے فدیہ لینا،یہ اللہ کو ناپسند تھا تو یہ کہاگیا کہ اچھا، تم نے اگر ستر قیدیوں سےفدیہ لیا ہے تو اس کا کفارہ پھر اللہ تمھاری جانوں کی صورت میں لے گا۔ اس کے بعد جب جنگِ احد ہوئی تو اس میں اللہ تعالیٰ نے اتنی ہی تعداد میں مسلمانوں کو شہادت سے سرفراز کر دیا۔ تو حضرت عمر کہہ رہے ہیں کہ ستر مسلمانوں کا جان سے ہاتھ دھونا، یہ بدر کے ستر قیدیوں سے فدیہ لینے کی سزا تھی جو مسلمانوں کو دی گئی۔

مطیع سید:یہ وہ اپنی طرف سے قیاس کر رہے ہیں یا اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا؟

عمارناصر: اس روایت میں تو یہ بات حضرت عمر کے حوالے سے ہی بیان ہوئی ہے، یعنی وہ قیاس کر رہے ہیں کہ احد میں جو جانی نقصان ہوا، وہ بدر میں فدیہ لینے کی وجہ سے تھا۔ شاید دونوں واقعات میں ستر (70) کی تعداد سے وہ یہ قیاس کر رہے ہیں، لیکن کچھ تفسیری روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ بدر کے موقع پر جبریل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس باقاعدہ پیشکش لے کر آئے تھے کہ آپ اپنے صحابہ سے کہیں کہ وہ چاہیں تو قیدیوں کو قتل کردیں اور چاہیں تو فدیہ لے لیں، لیکن پھر فدیے کے بدلے میں اگلی جنگ میں اتنے ہی مسلمان قتل کیے جائیں گے۔ اس پر صحابہ نے فدیہ لینے کا انتخاب کیا اور کہا کہ اگلی جنگ میں ہم میں سے اتنے ہی لوگ شہید کر دیے جائیں۔ ابن کثیر نے یہ روایت نقل کی ہے، لیکن ساتھ ہی کہا ہے کہ بہت ہی غریب روایت ہے، یعنی اس کا مضمون بہت ہی عجیب ہے۔ مجھے بھی یہی لگتا ہےکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ یا کچھ دوسرے صحابہ قیاس ہی کر رہے ہیں کہ احد میں ہمارے ساتھی اتنی ہی تعداد میں شہید ہوئے تو یہ غالباً‌ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بدر میں فدیہ لینے کا اجتماعی کفارہ تھا۔

مطیع سید:مولانا اصلاحی تو ان آیات کو بالکل اور طرح سے دیکھتے ہیں۔ ان کا اختلاف کس بنیاد پر ہے؟

عمارناصر: جی، وہ تو ان آیات کی تفسیر بالکل مختلف طریقے سے کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ یہاں زجر وتوبیخ مسلمانوں کو نہیں کی گئی، بلکہ مشرکین کو کی گئی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ جنگ میں دشمن کو قیدی بنانا اور ان سے فدیہ لینا، اس کی اجازت تو اس سے پہلے سورۂ محمد(47: 4) میں دی جاچکی تھی تو اگر مسلمانوں نے اس اجازت کے تحت بدر میں کچھ قیدی گرفتار کیے اور ان سے فدیہ لیا تو اس پر ان کو زجر کرنے کا تو جواز نہیں بنتا۔مولانا کے نزدیک آیت کی تفسیر یہ ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قیدی بنائے اور ان سے فدیہ لیا تو شکست خوردہ مشرکین نے اپنی خفت مٹانے کے لیے اس کو پروپیگنڈا کا ذریعہ بنانے کی کوشش کی کہ دیکھو، یہ اللہ کا نبی ہے جو اپنے لوگوں کی خوں ریزی کر رہا ہے تاکہ انھیں قیدی بنا کر آزادی کے بدلے میں ان سے فدیہ لے۔ اس کے جواب میں قرآن نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صفائی دی ہے کہ نبی کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ اس مقصد کے لیے خوں ریزی کرےکہ اس کے ہاتھ میں قیدی آئیں، اصل میں دنیا کے مال کے طالب تم ہو۔ یعنی خطاب اہل ایمان سے نہیں، بلکہ قریش سے ہے کہ مال کے لالچی تم ہو،جو دنیا کی محبت میں پیغمبر کو جھٹلا بھی رہے ہو اور اس کے ساتھ جنگ کرنے کے لیے بھی آ گئے ہو۔ ابھی تو اللہ نے تمھیں موقع دیا ہے کہ سنبھل جاؤ، ورنہ وہ چاہتا تو اسی جنگ میں تم پر بہت بڑا عذاب نازل کر دیتا۔ یعنی مولانا ’تُرِیدُونَ عَرَضَ الدُّنیَا‘، ’’تم دنیا کے سامان کے طالب ہو‘‘(الانفال8: 67) اور ’لَمَسَّکُم فِیمَا اَخَذتُم عَذَابٌ عَظِیمٌ‘، ’’تم نے جو راستہ اختیار کیا، اس میں تم پر ایک بڑا عذاب نازل ہو سکتا تھا‘‘(الانفال8: 68) کے جملوں کا مخاطب قریش کو قرار دیتے ہیں اور ’اَخَذتُم‘ کو فدیہ لینے کے بجاے ’’طرز عمل اختیار کرنے“ کے معنی میں لیتے ہیں۔

مطیع سید: آپ کی اس تفسیر کے متعلق کیا راے ہے؟

عمارناصر: مجھے تو اس پر بہت اشکالات ہیں۔ پندرہ بیس سال پہلے میں نے ’’المورد‘‘ کی ایک علمی نشست میں وہ بیان بھی کیے تھے۔ اصل میں دو تین ایسی چیزیں ہیں جو مولانا اصلاحی کی تاویل کو قبول کرنے میں مانع ہیں۔ ایک تو یہ کہ ’تُرِیدُونَ عَرَضَ الدُّنیَا وَاللّٰہُ یُرِیدُ الاٰخِرَۃَ‘ (تم دنیا کے سامان کے طالب ہو، جب کہ اللہ آخرت کا ارادہ کرتا ہے) کا جو جملہ ہے، اس کا مخاطب قریش کو تصور کرنا بالکل قرین قیاس نہیں۔ یہ بات تو مسلمانوں کو ہی کہی جا سکتی ہے کہ تم اس موقع پر دنیوی فائدے کی طرف مائل ہو گئے، لیکن اللہ کا ارادہ تو آخرت کا تھا۔ یہ تنبیہ کا اور متوجہ کرنے کا جملہ ہے، جس کے مخاطب مسلمان ہی ہو سکتے ہیں، کفار کو یہ بات کہنے کا محل نہیں بنتا کہ تمھاری توجہ آخرت سے کیوں ہٹ گئی۔ پھر اس کے ساتھ اگلا جملہ ہے: ’لولَا کِتٰبٌ مِّنَ اللّٰہِ سَبَقَ لَمَسَّکُم فِیمَا اَخَذتُم عَذَابٌ عَظِیمٌ‘ (اگر اللہ کی طرف سے ایک لکھت نہ ہوتی تو تم نے جو کچھ لیا، اس کی وجہ سے تم پر ایک بڑا عذاب نازل ہو سکتا تھا)۔ یہ بات بھی بدر کے تناظر میں قریش کو نہیں کہی جا سکتی۔ ان کے لیے تو بدر کی جنگ عذاب عظیم ہی تھا۔ ان کی صف اول کی قیادت ڈھیر ہو گئی اور شکست فاش سے دوچار ہوئے جس سے پورے عرب کی نظر میں ان کی قائدانہ حیثیت مجروح ہو کر رہ گئی۔ قرآن اسی لیے تو جنگ بدر کو ’یوم الفرقان‘ کہتا ہے۔ اسی طرح ’اَخَذتُم‘ کو’’طرز عمل اختیار کرنے“ کے معنی میں لینا بھی بہت ہی نادر معنی ہے۔ قرآن میں تو کم سے کم اس کی کوئی نظیر نہیں ہے۔ مولانا نے اس استعمال کے لیے جس آیت کا حوالہ دیا ہے، وہ اس کی نظیر نہیں بنتی۔ ’قَدۡ اَخَذۡنَاۤ اَمۡرَنَا مِنۡ قَبۡلُ‘ (التوبہ 9: 50)۔ میں ’اخذ‘ کا فعل اکیلا نہیں آیا، بلکہ ’اَخَذۡنَاۤ اَمۡرَنَا ‘ کی پوری ترکیب ہے۔ اکیلا فعل ’اَخَذْتُمْ‘ کوئی چیز لینے کے معنی میں ہی متبادر ہے(تدبر قرآن 3/511)۔

مطیع سید: اس دلیل کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں کہ قیدی بنانے اور فدیہ لینے کی اجازت تو سورۂ محمد میں دی جا چکی تھی تو پھر اس کی وجہ سے کیسے مسلمانوں کو زجر وتوبیخ کی جا سکتی تھی؟

عمارناصر: جی، یہ درست سوال ہے اور دوسرے مفسرین کے پیش نظر بھی ہے۔ مولانا مودودی اس سوال کا جواب یہ دیتے ہیں کہ اصل میں سورۂ محمد میں اللہ تعالیٰ نے اس شرط پر قیدی بنانے کی اجازت دی تھی کہ پہلے دشمن کی خوب خوں ریزی کر لی جائے اور پھر ان کو قیدی بنایا جائے: ’حَتّٰی اِذَا اَثخَنتُمُوہُم فَشُدُّوا الوَثَاقَ‘ (یہاں تک کہ جب تم اِن کا خون اچھی طرح بہا دو تو پھر ان کو مضبوط باندھ کر قیدی بنا لو)۔ مولانا کہتے ہیں کہ بدر میں صحابہ نے مشرکین کی اچھی طرح خوں ریزی کرنے سے پہلے ہی ان کو قیدی بنانا شروع کر دیا تھا جس کا محرک یہ تھا کہ ان سے فدیہ لے کر ہم اپنی مالی حالت کو کچھ بہتر کر لیں گے تو اللہ تعالیٰ نے دراصل اس کوتاہی پر ناراضی کا اظہار فرمایا ہے۔ مولانا نے اس حوالے سے سعد بن معاذ کی راے کا بھی حوالہ دیا ہے جو ابن ہشام نے سیرت میں نقل کی ہے۔ سعد بن معاذ نے جب مسلمانوں کو دیکھا کہ وہ قیدیوں کو پکڑ پکڑ کر باندھ رہے ہیں تو انھیں اچھا نہیں لگا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے تاثرات محسوس کر کے ان سے پوچھا تو انھوں نے کہا کہ یہ مشرکین کے خلاف ہمارا پہلا معرکہ تھا تو اس میں اگر ہم قیدی پکڑنے کے بجاے ان سب کو تہ تیغ کر دیتے تو یہ زیادہ بہتر ہوتا(تفہیم القرآن 2/159)۔

مطیع سید: یہ تو کافی معقول اور وزنی توجیہ لگتی ہے۔ آپ کی کیا راے ہے؟

عمارناصر: جی، مجھے بھی یہ توجیہ تھوڑی سی ترمیم کے ساتھ درست معلوم ہوتی ہے۔ اصل میں سورۂ محمد کی ہدایت پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے ساتھ جنگوں کا جو پورا سلسلہ آیندہ آنے والا ہے، ان کے متعلق ایک جامع پالیسی بیان کی ہے اور کہا ہے کہ جب تک جنگ ہتھیار نہ ڈال دے (حَتّٰی تَضَعَ الحَرْبُ اَوْزَارَہَا)، یعنی جب تک مشرکین میں مقابلہ کرنے کی سکت بالکل ختم نہ ہو جائے، اسی پالیسی پر عمل کیا جائے۔ اس حکمت عملی میں جنگ کے دو مرحلے بتائے گئے ہیں۔ پہلے مرحلے کے متعلق کہا گیا ہے کہ مشرکین کی خوب خوں ریزی کی جائے اور ان کی طاقت کو کچلا جائے (فَاِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فَضَرْبَ الرِّقَابِ)۔ اس مرحلے میں اللہ تعالیٰ نے صرف گردنیں مارنے کی تاکید کی ہے۔ پھر اس کے بعد دوسرے مرحلے پر یہ کہا ہے کہ ان کو جنگی قیدی بنا لیا جائے (حَتّٰۤی اِذَاۤ اَثۡخَنۡتُمُوۡہُمۡ فَشُدُّوا الۡوَثَاقَ)۔ یعنی یہاں ایک ہی جنگ میں پہلے ان کا خون بہانے اور پھر قیدی بنانے کا ذکر اصلاً‌ مقصود نہیں ہے، اصل میں متوقع جنگوں کے پورے سلسلے کے دو مرحلے بتائے گئے ہیں اور کہا گیا ہے کہ پہلے مرحلے پر ساری توجہ مشرکین کو تہ تیغ کرنے پر مرکوز رہنی چاہیے۔ ہاں، جب ان کی خاصی تعداد جنگوں میں ماری جا چکی ہو تو پھر اگلے مرحلے پر ان کو قیدی بھی بنایا جا سکتا ہے۔ مولانا مودودی نے بدر میں حضرت سعد بن معاذ کی جس روایت کا حوالہ دیا ہے، اس میں وہ بھی یہی فرما رہے ہیں کہ یہ تو ہمارا مشرکین کے ساتھ پہلا معرکہ تھا، اس میں ہمیں چاہیے تھا کہ میدان جنگ میں جو لوگ قابو میں آئے تھے، ان سب کا کام وہیں تمام کر دیتے، کسی کی جان بخشی کر کے اس کو قیدی بنانے کی نوبت ہی نہ آتی۔

مطیع سید: حضرت عمر روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آزاد عورت کی رضامندی کے بغیر عزل کرنے سے منع فرمایا (رقم212)۔ عزل تو حمل کو روکنے کا ایک طریقہ تھا۔ کیا اس سے یہ بتایا گیا ہے کہ بچہ پیدا کرنا عورت کا حق ہے، اگر وہ بچہ پیدا کرنا چاہتی ہے تو شوہر کو اسے منع نہیں کرنا چاہیے؟

عمارناصر:شارحین دونوں پہلو بیان کرتے ہیں۔ یہ بھی کہ اولاد پیدا کرنا عورت کا حق ہے اور اگر وہ پیدا کرنا چاہتی ہے تو یک طرفہ طور پر شوہر کو اس سے منع نہیں کرنا چاہیے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ صرف عورت کا حق ہے، شوہر کا کوئی حق نہیں۔ یہ دونوں کےمل کر کرنے کا فیصلہ ہے۔ اگر شوہر کسی وجہ سے بچہ پیدا نہیں کرنا چاہ رہا تو ظاہر ہے، بیوی کو بھی یک طرفہ طور پر اصرار نہیں کرنا چاہیے۔ دوسرا پہلو شارحین یہ بیان کرتے ہیں کہ حق زوجیت کے حوالے سے بھی عورت کا حق ہے کہ اس کی رضامندی کے بغیر عزل نہ کیا جائے، کیونکہ اس سے جنسی تلذذ کی تکمیل نہیں ہوتی۔

مطیع سید: حضرت عمر فرماتے ہیں کہ اگر میں اگلےسال زندہ رہاتو جو بھی علاقہ فتح ہوا، اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح فاتحین کے درمیان تقسیم کر دوں گا،جیساکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو تقسیم کیا(رقم213)۔ ہم تو اس کو حضرت عمر کے بڑے جرأت مندانہ اجتہادی فیصلوں میں شمارکرتےہیں کہ انھوں نے عراق کی زمینوں کو تقسیم نہیں کیا اور اس میں ان کی بڑی دور اندیشی تھی کہ پھر بعد میں آنے والوں کے لیے کیا بچے گا۔ان کایہ فیصلہ بڑی دانائی پر مبنی سمجھا جاتا ہے،لیکن اس روایت میں تو یوں لگ رہاہے کہ وہ اپنے فیصلے سے مطمئن نہیں تھے اور اس سے رجوع کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔

عمارناصر:نہیں، میرے خیال میں یہاں راوی نے دو الگ الگ روایتوں کے الفاظ گڈمڈ کر دیے ہیں۔ ایک روایت مفتوحہ زمینوں کی تقسیم سے متعلق ہے، اس میں تو ’لولا آخر المسلمين‘ کے الفاظ ہیں(رقم 284)۔ یعنی حضرت عمر کہہ رہے ہیں کہ میں بھی ایسے ہی کرتا اور ساری مفتوحہ زمینیں مجاہدین میں تقسیم کر دیتا، اگر یہ سوال سامنے نہ ہوتا کہ بعد میں آنے والے کیا کریں گے۔ ان کی ضروریات کا بندو بست بیت المال کہاں سے کرے گا ؟ اس روایت میں وہ یہ کہہ رہے ہیں۔ لیکن کئی دوسرے معاملات میں وہ ’لئن عشت‘ (اگر میں زندہ رہا) کے الفاظ سے اپنے کچھ ارادے بھی بیان کرتے ہیں۔ تو مجھے یہی لگتا ہے کہ ان الفاظ کو کسی راوی نے مفتوحہ زمینوں والی روایت کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔ میرے علم کی حد تک روایات میں اس کے شواہد نہیں ہیں کہ حضرت عمر نے اپنے اس فیصلے پر نظر ثانی کا ارادہ کیا ہو۔

مطیع سید: حضرت عمر نے لوگوں کو خطبے میں فرمایا کہ اگر ہجوم زیادہ ہو تو ایک دوسرے کی پشت پر سجدہ کر لیا کرو۔ انھوں نے کچھ لوگوں کو مسجد سے باہر راستے میں نماز پڑھتے دیکھا تو کہا کہ مسجد میں نمازپڑھو (رقم 217)۔ وہ مسجد میں نماز پڑھنے پر اصرار کیوں کر رہے ہیں؟ اگر ہجوم ہو تو ایک دوسرے کی پشت پر سجد ہ کرنے سے بہتر نہیں کہ باہر مسجد میں صفیں بنا لی جائیں؟

عمارناصر: میرے خیال میں وہ شاید مسجد نبوی کی فضیلت کے پہلو سے ایسا کہہ رہے ہوں گے کہ اندر نماز پڑھنا بہتر ہے، چاہے پشت پر سجدہ کرنا پڑے۔ یا ممکن ہے، راستے میں صفیں بنانے سے لوگوں کو دقت پیش آتی ہو۔

مطیع سید: حضرت عبد اللہ بن زبیر عورتوں کو بھی ریشم کا لباس پہنانے سے منع فرماتےتھے اور کہتے تھے کہ جو یہ پہنے گا، وہ آخرت میں اس سے محروم رہے گا(رقم251)۔ حالاں کہ روایات موجود ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو بھی محدود مقدار کی اجازت دی تھی اور عورتوں کے معاملے میں تو مسئلہ ہی نہیں تھا۔عبد اللہ بن زبیر خود ایک نمایاں صحابی ہیں۔ انھوں نے ازواجِ مطہرات اور مسلم خواتین کا عمل بھی دیکھا ہو گا تو ایک نمایاں عملی چیز سے کیسے بے خبر رہے؟ یا پھر وہ اپنے ذاتی ذوق کا اظہار کر رہے ہیں؟

عمارناصر:اگر آپ احادیث کو دیکھیں تو ان میں دونوں طرح کی روایتیں موجود ہیں۔بہت سی احادیث میں علی الاطلاق منع کیا گیا ہے،خواتین کو بھی منع کیاگیاہے،اور بعض میں صرف مردوں کے لیے حرمت بیان کی گئی ہے۔ اس لیے ان احادیث کو متعارض احادیث کی مثالوں میں گنا جاتا ہے۔ جن صحابہ کے سامنے مطلق حرمت کی روایات تھیں، وہ ان کے مطابق لوگوں کو تلقین کرتے تھے۔ عبد اللہ بن زبیر بھی، ظاہر ہے کہ اپنے علم کے مطابق بات کر رہے ہیں۔ لیکن جمہور فقہا نے دونوں طرح کی روایتیں دیکھیں اور امت کا تعامل بھی دیکھا تو ان کا موقف یہی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شاید ابتداءً‌ سب کو منع فرمایا تھا، لیکن پھر وہ حکم منسوخ ہوگیا اور خواتین کو اس کی اجازت دے دی گئی۔

مطیع سید:حضرت اویس قرنی سے حضرت عمر کی ملاقات ہوئی اور انھوں نے ان سے اپنے لیے مغفرت کی دعا کی درخوا ست کی(رقم266)۔ ایک بات یہ بھی کہی جاتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو فرمایا تھا کہ ان سے کہنا کہ تمھارے لیے بخشش کی دعا کریں۔کیا ایسی کوئی بات حدیث میں آئی ہے یا بس لوگوں میں مشہور ہو گئی ہے؟

عمارناصر: نہیں، یہ تو معروف روایت ہے جو امام مسلم نے نقل کی ہے۔اس میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اویس کا نام ذکر کیا اور فرمایا کہ اس کے جسم پر برص کی بیماری تھی، لیکن اس نے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے یہ بیماری دور کر دی۔ ان کے مستجاب الدعوۃ ہونے کا ذکر کر کے آپ نے صحابہ کو ان سے اپنے لیے دعا کرانے کی تلقین فرمائی(مسلم، رقم 2542)۔ یہ کوئی ایسی عجیب بات نہیں کہ اللہ کے ایک بر گزیدہ اور مقرب بندے سے دعا کے لیے کہا جائے۔

مطیع سید: ان میں ایسی کیا خاص بات تھی کہ اللہ تعالیٰ نے باقاعدہ غیب سے اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا اور آپ نے آگے صحابہ کو بتایا کہ ایک ایسا شخص ہو گا اور اس کی یہ نشانی ہو گی ؟

عمارناصر: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تو اللہ تعالیٰ نے بہت سی باتیں بتائی ہوں گی، جو ضروری نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری امت کو بھی بتا دی ہوں۔ان میں سے ایک یہ بات تھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو بتا دی۔ہو سکتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور بھی کئی لوگوں کے بارے میں بتایا گیا ہو، لیکن ایک نیک آدمی جو زندہ تھا،اور اس سے صحابہ کی ملاقات متوقع تھی، اس کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتا دیا۔

مطیع سید: اس سے ایسا تاثر نہیں ملتا کہ تابعین میں سے ایک آدمی کو صحابہ پر فضیلت حاصل ہے اور صحابہ اس سے اپنے لیے استغفار کی دعا کرا رہے ہیں؟

عمارناصر: فضیلت کا معاملہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے من وجہ ہی ہوتا ہے۔ جزوی طور پر کسی پہلو سے ایک تابعی کو کسی صحابی پر فضیلت حاصل ہو تو یہ اچنبھے کی بات نہیں ہے۔ ہاں، صحابی ہونے کی جو فضیلت ہے، وہ ظاہر ہےتابعی کو حاصل نہیں۔ ایک حدیث میں آتا ہے کہ قیامت کے دن کچھ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسا مقام ملے گا کہ انبیا اور شہدا بھی ان پر رشک کریں گے، حالاں کہ وہ لوگ خود نبی نہیں ہوں گے (ابوداؤد، رقم3527)۔ تو جزوی لحاظ سے تو اللہ تعالیٰ کوئی فضیلت نبیوں اور صحابہ کے علاوہ دوسرے لوگوں کو بھی دے دیتے ہیں۔

مطیع سید: حضرت عمر نے بیت المقدس میں کعب الاحبار سے پوچھا کہ مجھے کہاں نماز ادا کرنی چاہیے؟ کعب نے کہا کہ اگر میری راے مانیں تو صخرہ کے پیچھے نماز ادا کریں، ایسا کرنے سے سارا القدس آپ کے سامنے رہے گا۔ لیکن حضرت عمر نے کہا کہ تم یہودیت کی باتیں کر رہے ہو (ضاھیت الیھودیة)۔ میں اس جگہ نماز پڑھوں گا جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی تھی۔ پھر انھوں نے آگے قبلے کی جانب بڑھ کر وہاں نماز ادا کی (رقم 261)۔ غالباً‌ کعب الاحبار یہ چاہتے تھے کہ حضرت عمر دونوں قبلوں کو اپنے سامنے رکھ کر نماز ادا کریں۔ صخرہ یہودیوں کا قبلہ تھا۔ اگر حضرت عمر صخرہ کے پیچھے نماز پڑھتے تو اس کی طرف بھی رخ ہو جاتا اور کعبہ کی طرف بھی ہو جاتا تو اس کو انھوں نے یہودیت کی بات کیوں قرار دیا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بھی تو روایات میں آتا ہےکہ آپ جب مکہ میں تھے تو اس طرح نماز ادا کرتے تھے کہ کعبہ بھی آپ کے سامنے ہوتا تھا اور بیت المقدس کی طرف بھی رخ ہو جاتا تھا۔

عمارناصر: میرے خیال میں حضرت عمر نے دو وجہ سے ایسا کرنے سے گریز فرمایا: ایک تو یہ کہ جب مسلمانوں کا اپنا ایک الگ قبلہ مقرر کر دیا گیا ہے تو پھر یہودیوں کے قبلے کی طرف نماز پڑھنے سے جو ظاہری مشابہت پیدا ہو سکتی ہے، اس سے بچا جائے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے، بیت المقدس کی طرف نماز پڑھنے کی روایات اگر درست ہیں تو وہ تو ابتدائی دور کا واقعہ ہے۔ اس و قت تو بیت اللہ کو حتمی طور پر قبلہ مقرر کرنے کا حکم شریعت میں نہیں آیا تھا۔ آپ جب مدینہ ہجرت کر کے تشریف لے گئے تو ڈیڑھ سال تک بیت اللہ سے رخ موڑ کر بیت المقدس کی طرف نماز ادا کرتے رہے۔ یہ عبوری دور کے اعمال تھے، لیکن جب شریعت کی تکمیل کر دی گئی اور بیت اللہ کو مسلمانوں کا قبلہ مقرر کر دیا گیا تو اس کے بعد حضرت عمر نے مناسب نہیں سمجھا کہ اہتمام کے ساتھ یہودیوں کے قبلے کو سامنے رکھ کر نماز ادا کی جائے۔ دوسرا پہلو میرے خیال میں یہ ہے کہ حضرت عمر یہ نہیں چاہتے تھے کہ کوئی ایسا عمل کیا جائے جس سے مسلمان آگے چل کر یہودیوں کے قبلے پر حق جتانے لگیں۔ آپ نے پڑھا ہوگا کہ انھوں نے ایک مسیحی گرجے میں بھی اس لیے نماز پڑھنے سے اجتناب کیا تھا کہ کل کو مسلمان یہ کہہ کر حق نہ جتانے لگیں کہ یہاں ہمارے خلیفہ نے نماز ادا کی تھی۔ میرے خیال میں اسی خدشے سے انھوں نے بیت المقدس میں بھی اس سے گریز کیا ہوگا اور آگے جنوب کی طرف کونے میں جا کر نماز ادا کی، جہاں پھر بعد میں مسلمانوں نے مسجد عمر تعمیر کر لی۔ اسی کو آج کل مسجد اقصیٰ بھی کہا جاتا ہے۔

مطیع سید: آج کل تو صخرۂ بیت المقدس کے اوپر ایک بہت بڑا قبہ بھی ہے۔ اگر حضرت عمر نے اس سے گریز کیا تھا تو پھر بعد میں مسلمانوں نے کیسے اس جگہ قبہ تعمیر کر دیا؟

عمارناصر: یہ تو عبد الملک بن مروان نے اپنے دور حکومت میں تعمیر کرایا تھا اور شروع میں مقصد یہ تھا کہ صخرہ کو تینوں مذاہب کے ماننے والوں کے لیے ایک زیارت گاہ بنا دیا گیا۔ اسی لیے اس نے یہاں یہودی اور نصرانی خادم بھی مقرر کیے جو عمارت کی صفائی اور دیکھ بھال کا کام کیا کرتے تھے۔ پھر رفتہ رفتہ یہ ساری جگہ مسلمانوں کے تصرف میں ہی رہ گئی۔ یہودیوں اور مسیحیوں کا اس سے کوئی تعلق نہیں رہا۔

مطیع سید: حضرت عمر نے اپنے خطبے میں فرمایا کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود تھے تو آپ پر وحی آتی تھی اور آپ ہمیں لوگوں کی خبریں بتا دیا کرتے تھے۔ اب آپ کے رخصت ہو جانے کے بعد وحی کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے، اس لیے تم لوگ ہمیں ظاہر میں جیسے نظر آؤ گے، ہم تمھارے بارے میں ویسا ہی گمان رکھیں گے، جب کہ تمھارے اندرونی حالات کا معاملہ تمھارے اور اللہ کے مابین ہے (رقم 286)۔ یہاں وہ لوگوں کے متعلق کون سی خبروں کی بات کر رہے ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کو بتا دیا کرتے تھے؟

عمارناصر: آپ نے روایات میں دیکھا ہو گا کہ کسی موقع پر صحابہ کسی شخص کے متعلق کسی ظاہری وجہ سے گمان کرتے تھے کہ وہ برا آدمی ہے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم وحی کے علم سے بتا دیتے تھے کہ ایسا نہیں ہے۔ اسی طرح کسی کے ظاہری عمل سے صحابہ کو گمان ہوتا تھا کہ وہ نیک آدمی ہے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کے ذریعے سے پتا چل جاتا تھا کہ وہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے، جیسے ابھی آپ نے ایک واقعہ نقل کیا کہ ایک آدمی کو لوگ شہید کہہ رہے تھے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ اس نے تو مال غنیمت میں سے ایک چادر چرائی ہے۔ تو حضرت عمر اس طرح کے واقعات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ وحی ختم ہو جانے کے بعد اب ہمارے پاس لوگوں کے حقیقی حالات جاننے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔

مطیع سید: حضرت عمر کے متعلق تو یہ بھی آتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پہلی امتوں میں ایسے لوگوں سے بھی کلام کیا جاتا تھا جو نبی نہیں ہوتے تھے، اگر میری امت میں کوئی ایسا آدمی ہے تو وہ عمر رضی اللہ عنہ ہے (ترمذی، رقم 3693)۔ تو کیا حضرت عمر کو یہ مقام نہیں دیا گیا؟ وہ غیب سے خبر ملنے کی بالکل نفی کیوں کر رہے ہیں؟

عمارناصر: نہیں، یہ وحی یا غیب کی خبر کی بات نہیں ہے۔ اس حدیث میں ’محدث‘ کے الفاظ ہیں، یعنی جس سے بات یا کلام کیا جائے۔ شارحین اس کی تشریح یوں کرتے ہیں کہ ان کو بات سمجھا دی جاتی ہے یا ان کے دل میں صحیح بات ڈال کر ان کی رہنمائی کر دی جاتی ہے۔ یہ وحی کی صورت میں نہیں ہوتی جو انبیا پر کلام کی صورت میں نازل ہوتی ہے یا فرشتے روبرو آ کر ان تک پہنچاتے ہیں۔ وہ تو یقینی چیز ہوتی ہے۔ محدث یا ملہم کے ساتھ جو معاملہ ہوتا ہے، وہ دل میں القا کی حد تک ہوتا ہے، جس کا نتیجہ اصابتِ راے کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ وہ یقینی طور پر یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ بات مجھے اللہ تعالیٰ نے بتائی ہے اور نہ اس بنیاد پر اس کے حجت ہونے کا دعویٰ کر سکتا ہے۔ حضرت عمر کو یہی اصابت راے عطا کی گئی تھی، جس کا ظہور ان کی زبان پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بھی ہوتا تھا اور آپ کے بعد بھی۔ مثلاً‌ ازواج مطہرات کو حجاب میں رکھنے کی راے حضرت عمر نے ہی پیش کی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ بات سجھا دی کہ آپ کی ازواج کو عام مسلمانوں سے پردے میں رہنا چاہیے۔ پھر اسی کی تائید میں قرآن مجید میں احکامِ حجاب بھی نازل ہو گئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو ایک دوسری حدیث میں یوں بیان فرمایا ہے کہ اللہ نے حق کو عمر کی زبان اور دل پر جاری کر دیا ہے: ’إِنَّ اللّٰهَ جَعَلَ الحَقَّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِهِ‘ (ترمذی، رقم 3682)۔

مطیع سید: حضرت عمر کا ایک مشہور واقعہ ذکر کیا جاتا ہےکہ انھوں نے ایک موقع پر جمعے کا خطبہ دیتے ہوئے اپنے ایک لشکر کے کمانڈر کو ’یاساریة الجبل‘ (اے ساریہ، پہاڑ کی طرف چلے جاؤ) کہہ کر پکارا اور وہاں سے سینکڑوں میل کے فاصلے پر ساریہ کے لشکر نے ان کی آواز سن لی۔ (کنز العمال، رقم35788 ) اس واقعے کی کیا نوعیت تھی؟

عمارناصر: یہ دل چسپ اور اہم سوال ہے۔ اس واقعے سے متعلق تاریخی روایات کو جہاں تک مجھے دیکھنے کا موقع ملا ہے، ان میں صورتِ واقعہ بہت مختلف طریقوں سے بیان کی گئی ہے۔ بعض روایات میں ہے کہ حضرت عمر نے لوگوں کو بتایا کہ میں نے رات کو خواب میں دیکھا ہے کہ آج کے دن اور اس وقت ساریہ کا لشکر میدان میں ہے اور ان کی پچھلی جانب پہاڑ ہے جو ان کے لیے زیادہ محفوظ جگہ ہے۔ پھر انھوں نے بلند آواز سے ’یاساریة، الجبل‘ پکارا اور کہا کہ اگر اللہ نے چاہا تو اپنے فرشتوں کے ذریعے سے یہ آواز ان تک پہنچا دے گا۔ کچھ دوسری روایات میں ہے کہ جمعے کا خطبہ دیتے ہوئے اچانک وہ یہ الفاظ پکارنے لگے اور لوگ حیران ہو کر دیکھنے لگے کہ امیر المومنین کو کیا ہوا ہے۔ بعد میں ان سے پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ مجھے کچھ معلوم نہیں، بس میری زبان پر یہ الفاظ جاری ہو گئے۔ کچھ اور روایات میں ہے کہ جب ساریہ کے لشکر کے لوگ مدینہ آئے اور انھوں نے میدان جنگ کا واقعہ سنایا تو لوگوں نے حضرت عمر کو بتایا کہ آپ نے اس دن یہ کلمات کہے تھے۔ بعض روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ حضرت عمر سے جب پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ میرے سامنے میدان جنگ کا منظر آ گیا تھا اور میں نے جب صورت حال دیکھی تو بے اختیار پکار اٹھا کہ ساریہ، پہاڑ کی طرف چلے جاؤ۔

اب ان میں سے کون سی صورتِ واقعہ زیادہ درست ہے، اس پر بات ہو سکتی ہے، لیکن اس کی نوعیت بہرحال وحی کی نہیں ہے۔ یہ تو رؤیا یا کشف کی قسم کا ایک واقعہ ہے جس میں ایک منظر ان کے سامنے آ گیا یا خواب میں دکھا دیا گیا۔ یہ وحی یا یقینی انداز میں غیب کی خبر پہنچانے کا واقعہ نہیں ہے جس کو دینی مفہوم میں فیصلے کی بنیاد بنایا جا سکے۔

[باقی]