مواد پر جائیں

مسئلۂ ارتقا اور قرآنِ مجید

سید سلیمان ندوی اردو

[’’مختارات‘‘ کا حصہ قدیم و جدید مصنفین کی منتخب تحریروں کے لیے مخصوص ہے۔ اس کا مقصد ماضی اور حال کے فکر و نظر کو قارئین کے سامنے پیش کرنا ہے۔ اس میں ماضی کے نمایندہ اہل علم کی تصانیف سے ایسے اقتباس نقل کیے جاتے ہیں، جو ان کے افکار اور اسالیب کو نمایاں کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ نئے لکھنے والوں کی موثر اور معتبر تحریروں کو بھی شامل کیا جاتا ہے۔ اِس حصے کے مندرجات سے مدیر اور ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ ادارہ]

مسلمانوں میں ایک گروہ ایسا موجود ہے جو مسئلۂ ارتقا کو نہ صرف صحیح سمجھتا ہے، بلکہ اس مسئلے کی صحت کا اس کو اس درجہ اعتقاد ہے کہ وہ کہتا ہے:

’’جب قرآنِ مجید مسئلۂ ارتقا کا منکر ہے تو یہ کون مانے گا کہ قرآنِ پاک جدید فلسفے کے بالکل مطابق ہے؟‘‘

یورپ کے کل علماے طبیعیات بھی اس گروہ کے ہم زبان ہیں۔ یہ ایک دوسری بحث ہے کہ قرآنِ مجید کی صحت کا معیار فلسفیانہ تحقیقات قرار دی جا سکتی ہیں یا نہیں، لیکن اس اصول کو مان کر اس شبہے کے رفع کرنے کے صرف دو طریقے ہو سکتے ہیں:

1۔ مسئلۂ ارتقا خود ثابت نہیں

2۔ اگر مسئلۂ ارتقا ثابت ہے تو قرآنِ مجید اس کا منکر نہیں

ہم مذکورہ بالا شبہے کو رفع کرنے کے لیے علی الترتیب دونوں طریقوں سے کام لیتے ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ مسئلۂ ارتقا گو بجاے خود نہایت صحیح ہو، مگر اس کے جو دلائل ہمارے سامنے پیش کیے جاتے ہیں، وہ اس درجہ کم زور ہیں کہ مسئلۂ ارتقا کا مخالف بجاے اس کے کہ ان کی تردید کی زحمت اٹھائے، صرف ان دلائل کو منظرِ عام پر پیش کر دینا ہی اپنی کامیابی سمجھتا ہے۔ ناظرین خود دیکھ لیں کہ یہ دلیلیں مسئلۂ ارتقا کی صحت کا کہاں تک یقین دلاتی ہیں۔

ڈارون نے ’’The Descent of Man‘‘ نام سے اس بحث میں ایک کتاب لکھی ہے، جس میں اس نے اس مسئلے کے ثبوت کے وہ دلائل لکھے ہیں جن کے اعتماد پر وہ کہتا ہے کہ دنیا کی تمام مخلوق اصل فطرت میں ایک تھی، جس سے ترقی کر کے یہ مختلف نوعیں پیدا ہوئیں اور انسان اس فطری رفتار کا آخری مرحلہ ہے۔ ہم ان تمام دلائل کو ترتیب وار ذکر کرتے ہیں:

1۔ جسمانی مشابہت — انسان کا جسم حیوانات کے جسم کے بالکل مشابہ ہے۔ پٹھے، اعصاب، اعضاے داخلی، دماغ — انسان کے یہ سب اعضا اور حیوانات، مثلاً بندر، چمگادڑ، گاؤ بحری کے بالکل مشابہ ہیں۔

2۔ تشابہِ امراض — انسان جس قسم کی وبائی اور متعدی امراض میں مبتلا ہوتا ہے عموماً حیوانات بھی ان میں مبتلا ہوتے ہیں، مثلاً چیچک، ہیضہ وغیرہ متعدی بیماریاں حیوانوں میں بھی پیدا ہوتی ہیں، جن سے ثابت ہوتا ہے کہ انسان حیوانات کے بالکل مشابہ ہے، خصوصاً بندر سے۔ یہ سن کر تعجب ہو گا کہ انسان کی طرح بندروں کو بھی زکام، بخار، مرگی، آنتوں کی سوزش ہوتی ہے اور ان امراض میں جو دوائیں انسان کو مفید ہیں، وہی بندروں کو بھی مفید پڑتی ہیں۔

3۔ تشابہِ ذوق — بندروں کا ذوق بالکل انسانوں کی طرح ہے۔ چائے، قہوہ، اشیاے مسکرات بندروں کے مرغوبِ طبع ہیں اور ان مسکرات سے انھیں بھی انسانوں کی طرح نشہ ہوتا ہے۔ یہ اتحادِ ذوق، اتحادِ فطرت کی خبر دیتا ہے۔

4۔ تشابہِ طبعی — انسان اور ان تمام حیوانات میں جو دودھ دیتے ہیں، بہت سے طبعی اور فطری اشتراکات بھی ہیں، مثلاً قانونِ تناسل، حمل، وضعِ حمل وغیرہ۔

5۔ تشابہِ جنین — مسئلۂ ارتقا کے مثبت دلائل میں تشابہِ جنین کی دلیل سب سے زیادہ مستحکم سمجھی جاتی ہے۔ تشابہِ جنین کی تفصیل یہ ہے کہ انسان اور کل حیوانات کی پیدایش دراصل نہایت چھوٹے چھوٹے کیڑوں سے ہوتی ہے۔ یہ کیڑے اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ ان کا قطر ایک رتی کے ایک سو پچیسویں حصے سے زائد نہیں ہوتا۔ اس حالت میں بھی انسانی جنین کے کیڑے حیوانی جنین کے کیڑوں کے بالکل مشابہ ہوتے ہیں۔ جنینِ انسان اپنے ابتدائی مراحل میں ان حیوانات کے جنین کے بالکل مشابہ ہوتا ہے جن کی پیٹھ میں ریڑھ کی ہڈیاں ہوتی ہیں۔ یہاں پہنچ کر انسان اور عام حیوانات کے جنین میں امتیاز شروع ہوتا ہے اور ہاتھ پاؤں یا پرندوں کے بازو، یعنی اطراف کے اعضا کی تکوین ہوتی ہے، مگر ابتدا میں انسان اور حیوان کے اعضاے اطراف میں بھی ایک ذرہ اختلاف نہیں ہوتا، مگر پھر اختلاف شروع ہو جاتا ہے۔ انسان کا جنین کتے سے اپنے آخری مراحل میں ممتاز ہوتا ہے اور سب کے بعد بندر سے۔ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ انسان اور تمام حیوانات پہلے ایک تھے، مگر ترقی کے مختلف مدارج نے مختلف نوعیں پیدا کر دیں۔

6۔ غیر مفید اعضا — مسئلۂ ارتقا کی بحث میں یہ بھی ایک عروۃ الوثقیٰ دلیل ہے۔ کوئی حیوان، خواہ وہ انسان ہو یا کتا، بعض غیر مفید اعضا سے خالی نہیں، مثلاً مردوں کی چھاتی کے نشان، کان کا ظاہری حصہ، سر کی کھال کے عضلات، کان کے عضلات وغیرہ، جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ اعضا انسان کے پچھلے تاریک عہد کی یادگار ہیں، جن سے گو اس وقت انسان کو کوئی فائدہ نہیں، مگر یہ پہلے مفید ہوں گے۔ مثلاً جلد اور کان کے عضلات سے انسان کوئی فائدہ نہیں اٹھاتا، نہ کان کے عضلات اس وقت کان کو ہلا سکتے ہیں اور نہ جلد کے عضلات جلد میں کوئی حرکت پیدا کر سکتے ہیں، مگر جب انسان حیوان ہو گا تو یہ عضلات کان اور جلد کو حرکت دیتے تھے اور اب تک یہ غیر مفید عضلات انسان کے پاس بہ طورِ وراثت موجود ہیں۔

یہ دلائل ہیں جن کی بنا پر مسئلۂ ارتقا کے اعتقاد کے لیے ہم سے اصرار کیا جاتا ہے۔ ہر ایک دلیل کو غور سے پڑھو اور دیکھو کہ کیا قلب کو اس سے اطمینان پیدا ہوتا ہے اور شکوک و شبہات کے حملوں سے یہ محفوظ ہے؟ افسوس سے کہو گے کہ ’’نہیں‘‘۔ پھر ایسے غلط مسئلے کی قرآن کیونکر تائید کر سکتا ہے؟ لیکن بعض ہمارے نوجوان دوستوں کا تو یہ حال ہے کہ وہ یورپ کی ہر آواز کو وحی سمجھتے ہیں، حالاں کہ خود ڈارون اپنی تھیوری کو، جس کو 1851ء میں اس نے ظاہر کیا تھا، ایک ظنی مسئلہ کہتا ہے۔

اب ہم مسئلے کے دوسرے پہلو کی طرف رخ کرتے ہیں کہ اگر مسئلۂ ارتقا صحیح بھی ہو تو قرآن اس کا منکر نہیں۔ بعض آیاتِ کریمہ کے مفہوم ایسے پائے جاتے ہیں جن سے اس مسئلے کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے۔

’’مسئلۂ ارتقا اور حکمائے اسلام‘‘ کے مضمون سے لوگ یہ جان چکے ہیں کہ بعض حکماے اسلام بھی مسئلۂ ارتقا کے قائل تھے۔ لیکن یہ سن کر حیرت ہوگی کہ امام راغب اصفہانی نے بھی، جو پانچویں صدی کے ایک مشہور متکلم ہیں، اپنی راے اسی کے قریب قریب ظاہر کی ہے، اور زیادہ حیرت اس سے ہوتی ہے کہ انھوں نے اپنے اس خیال کو قرآنِ مجید سے مطابق کرنا چاہا ہے۔ گو وہ ٹھیک ٹھیک مسئلۂ ارتقا تک نہیں پہنچے ہیں، مگر ان کی تحقیق میں اس مسئلے کا شائبہ ضرور ہے۔ ان کی اصلی عبارت ہم ان کی تصنیف ’’تفصیل النشأتین‘‘ سے نقل کرتے ہیں:

في تكوين الإنسان شيئًا فشيئًا حتى يصير إنسانًا كاملًا: الإنسان يكون أوّلًا جمادًا ميتًا، قال اللّٰه تعالى: وَكُنتُمْ أَمْوَاتًا فَأَحْيَاكُمْ، وذلك حيث كان ترابًا وطينًا وصلصالًا ونحوها، ثم يصير نباتًا، قال اللّٰه تبارك وتعالى: وَاللّٰهُ أَنبَتَكُم مِّنَ الْأَرْضِ نَبَاتًا، ثم يكون نطفةً وعلقةً ومضغةً ونحوها، ثم يصير حيوانًا، وذلك حيث ما يتبع بطبعه بعض ما ينفعه ويحترز من بعض ما يضرّه، ثم يصير إنسانًا مختصًّا بالأفعال الإنسانيّة، وقد نبّه اللّٰه تعالى على ذلك في مواضع، نحو قوله تعالى: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِن كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ فَإِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن تُرَابٍ ثُمَّ مِن نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِن مُّضْغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ وَغَيْرِ مُخَلَّقَةٍ. (30)

’’انسان کے تدریجاً پیدا کرنے میں یہاں تک کہ وہ انسانِ کامل ہو جائے، انسان پہلے مردہ جماد ہوتا ہے۔ خداے پاک فرماتا ہے: تم مردہ تھے تو خدا نے تم کو زندہ کیا۔ اور یہ اس طرح کہ وہ خاک، مٹی، ٹھیکری تھا، پھر نبات ہوتا ہے۔ خداے پاک فرماتا ہے: اور خدا نے تم کو زمین سے پیدا کیا۔ اور یہ اس طرح کہ انسان نطفہ اور گوشت کی بوٹی تھا۔ اور پھر حیوان ہوتا ہے، اور یہ اس طرح کہ وہ مفید چیزوں کا اتباع کرتا ہے اور مضر چیزوں سے بچتا ہے۔ پھر وہ انسان ہوتا ہے جو افعالِ انسانیت کے ساتھ مختص ہوتا ہے۔ خدا نے بہت سی جگہوں پر اسی کی طرف اشارہ کیا ہے، مثلاً وہ فرماتا ہے: اے لوگو، اگر قیامت میں تم کو شک ہو تو یاد رکھو کہ میں نے تم کو خاک سے پیدا کیا ہے، پھر نطفہ سے، پھر بستہ خون سے، اور پھر کامل اور غیر کامل گوشت کے لوتھڑوں سے۔‘‘

لیکن امام موصوف نے چونکہ بہت اختصار سے بحث کی ہے، بلکہ ناکافی بحث کی ہے، اس لیے ہم خود اس پر تفصیلاً بحث کرنا چاہتے ہیں اور یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ مسئلۂ ارتقا بالفرض اگر ناممکن الانکار ہو تو قرآن اس کا مخالف نہیں ہے۔

مسئلۂ ارتقا کا پہلا حکم یہ ہے کہ انسان دفعتاً نہیں پیدا ہوا، بلکہ چند مرحلوں میں انسان اپنی اس آخری منزل تک پہنچا ہے: جماد سے نبات ہوا، نبات سے حیوان، حیوان سے انسان۔ قرآنِ مجید کی بہت سی آیتیں انسان کے چند دوروں میں پیدا ہونے کو ظاہر کرتی ہیں۔ سب سے بیّن آیت ہے:

مَا لَکُمۡ لَا تَرۡجُوۡنَ لِلّٰہِ وَقَارًا. وَ قَدۡ خَلَقَکُمۡ اَطۡوَارًا. (نوح 71: 13- 14)

’’تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کی عظمت کا لحاظ نہیں رکھتے، حالاں کہ اس نے تمھیں کئی حالتوں سے گزار کر پیدا کیا ہے۔‘‘

اس آیت سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ قرآنِ مجید اس کا ناطق ہے کہ انسان چند دوروں میں پیدا ہوا ہے۔ قدیم مفسرین ان دوروں کو یوں بتاتے ہیں کہ انسان پہلے ایک ناپاک شے تھا، پھر گوشت بنا، روح پھونکی گئی، انسان بنا۔ ہم ان دوروں اور اس مطلب کا انکار نہیں کرتے۔ گفتگو یہ ہے کہ جو معنی ہم قرار دیتے ہیں، وہ بھی صحیح ہو سکتے ہیں یا نہیں؟ ظاہر ہے کہ صحیح ہو سکتے ہیں، اور یہی ہمارا مقصد ہے کہ قرآن اس ارتقا کا انکار نہیں کرتا۔

مسئلۂ ارتقا کا دوسرا قانون یہ ہے کہ انسان کی ترقی جماد سے شروع ہوتی ہے، یعنی انسان پہلے جماد تھا۔ خدا نے قرآنِ مجید میں بیسیوں جگہ کہا ہے کہ ’’تم مٹی تھے‘‘، ’’ہم نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا‘‘ اور ’’انسان کی پیدایش مٹی سے شروع کی‘‘:

الَّذِیۡۤ اَحۡسَنَ کُلَّ شَیۡءٍ خَلَقَہٗ وَ بَدَاَ خَلۡقَ الۡاِنۡسَانِ مِنۡ طِیۡنٍ.

(السجدہ 32: 7)

’’وہی ہے جس نے ہر چیز کو خوب بنایا، اور انسان کی پیدایش مٹی سے شروع کی۔‘‘

اس آیت سے صرف اتنا ہی معلوم نہیں ہوا کہ انسان پہلے جماد تھا، بلکہ یہ بھی معلوم ہوا کہ انسانی پیدایش کی ابتدا بھی یہیں سے ہے۔ دوسری جگہ خدا فرماتا ہے:

کَیۡفَ تَکۡفُرُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ کُنۡتُمۡ اَمۡوَاتًا فَاَحۡیَاکُمۡ.(البقرہ 2: 28)

’’بھلا تم اللہ کے منکر کیسے ہو سکتے ہو، حالاں کہ تم مردہ تھے، پھر اس نے تمھیں زندہ کیا۔‘‘

مردہ سے کنایہ جماد ہے اور زندگی سے اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ تم کو نمو بخشی، حرکت دی، یعنی ایک درجہ اوپر بڑھایا، نبات بنایا۔ یہ مسئلۂ ارتقا کا دوسرا زینہ ہے کہ انسان جماد سے نبات بنا، گویا اب اس نے ترقی کی دوسری منزل میں قدم رکھا۔ اس منزل کی طرف قرآنِ مجید نے بالکل صراحت کے ساتھ اشارہ کیا ہے:

وَ اللّٰہُ اَنۡۢبَتَکُمۡ مِّنَ الۡاَرۡضِ نَبَاتًا. ثُمَّ یُعِیۡدُکُمۡ فِیۡہَا وَ یُخۡرِجُکُمۡ اِخۡرَاجًا.

( نوح 71: 17- 18)

’’اور اللہ نے تمھیں زمین سے نباتات کی طرح اُگایا، پھر تمھیں اسی میں واپس لے جائے گا اور دوبارہ نکالے گا۔‘‘

اس آیتِ پاک سے ظاہر ہوتا ہے کہ انسان پہلے نبات تھا۔ اسی دور کی طرف قرآنِ مجید میں دوسری جگہ اشارہ ہے:

ہُوَ اَعۡلَمُ بِکُمۡ اِذۡ اَنۡشَاَکُمۡ مِّنَ الۡاَرۡضِ. (النجم 53: 32)

’’وہ تم سے خوب واقف ہے، جب اس نے تمھیں زمین سے پیدا کیا۔‘‘

موسیو کنٹن کی تھیوری کے مطابق ذی روح مخلوقات پانی میں پیدا ہوئیں اور یہیں بڑھیں، غیر ذی روح انواع سے حیات حاصل کی۔ قرآنِ مجید اس کی طرف یوں اشارہ کرتا ہے:

وَ جَعَلۡنَا مِنَ الۡمَآءِ کُلَّ شَیۡءٍ حَیٍّ ؕ اَفَلَا یُؤۡمِنُوۡنَ. (الانبیاء 21: 30)

’’اور ہم نے ہر جان دار چیز کو پانی سے بنایا تو کیا وہ ایمان نہیں لاتے؟‘‘

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ زندگی پانی سے پیدا ہوئی ہے اور یہیں سے ذی روح مخلوقات کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔ ممکن ہے، بہ قولِ مفسرین، مجازاً پانی سے مراد نطفہ ہو، لیکن ہم نے آیت کا جو مطلب قرار دیا ہے، وہ بھی صحیح ہو سکتا ہے، بلکہ ہمارا پہلو کسی قدر راجح ہے، کیونکہ ’’زندہ‘‘ ایک ایسا عام لفظ ہے جس کے تحت حشرات الارض اور نباتات داخل ہیں، حالاں کہ نباتات اور بعض حشرات الارض نطفہ سے تو نہیں پیدا ہوتے، لیکن پانی سے ضرور پیدا ہوتے ہیں۔

آگے چلو: انسان حیوان تھا، پھر انسان بنا:

وَ لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ مِنۡ سُلٰلَۃٍ مِّنۡ طِیۡنٍ. ثُمَّ جَعَلۡنٰہُ نُطۡفَۃً فِیۡ قَرَارٍ مَّکِیۡنٍ. ثُمَّ خَلَقۡنَا النُّطۡفَۃَ عَلَقَۃً فَخَلَقۡنَا الۡعَلَقَۃَ مُضۡغَۃً فَخَلَقۡنَا الۡمُضۡغَۃَ عِظٰمًا فَکَسَوۡنَا الۡعِظٰمَ لَحۡمًا ٭ ثُمَّ اَنۡشَاۡنٰہُ خَلۡقًا اٰخَرَ ؕ فَتَبٰرَکَ اللّٰہُ اَحۡسَنُ الۡخٰلِقِیۡنَ.

(المومنون23: 12-14)

’’یقیناً ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا، پھر اسے نطفہ بنا کر محفوظ جگہ میں رکھا، پھر نطفہ کو جمے ہوئے خون میں بدلا، پھر اس خون کے لوتھڑے کو گوشت کا ٹکڑا بنایا، پھر گوشت کے ٹکڑے سے ہڈیاں بنائیں، پھر ہڈیوں پر گوشت چڑھایا، پھر اسے ایک دوسری صورت میں پیدا کیا۔ پس بڑی برکت والا ہے اللہ، جو سب سے بہتر پیدا کرنے والا ہے۔‘‘

اس آیتِ پاک میں اجمالاً خلقتِ انسانی کے مدارج ذکر کیے گئے ہیں۔ انسان کی ابتدائی پیدایش مٹی سے بیان کی گئی ہے، پھر درمیانی منازل چھوڑ کر اس منزل کا ذکر کیا گیا ہے، جہاں سے حیوانیت کی ابتدا ہے۔ اس میں جس نطفہ اور گوشت پوست کا ذکر کیا گیا ہے، وہ درجۂ انسانیت سے پہلے کی حیوانیت کا بیان ہے۔ حیوانیت کے لیے گوشت، پوست اور ہڈی جو لوازم تھے، ان کا ذکر کیا گیا۔ یہی درجۂ حیوانیت ہے، جس کے بعد خدا نے فرمایا کہ پھر میں نے اس کو ایک دوسری مخلوق بنایا، یعنی انسان۔

مسئلۂ ارتقا کے حامی یہ بھی کہتے ہیں کہ جنینِ انسان رحم میں درجۂ حیوانیت میں بھی حیوانیت کی کئی شکلیں بدلتا ہے، جیسا کہ تم ابتدا میں پڑھ آئے ہو۔ قرآنِ مجید اس نکتے کو اس طرح ادا کرتا ہے:

یَخۡلُقُکُمۡ فِیۡ بُطُوۡنِ اُمَّہٰتِکُمۡ خَلۡقًا مِّنۡۢ بَعۡدِ خَلۡقٍ فِیۡ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ.

(الزمر 39: 6)

’’وہ تمھیں تمھاری ماؤں کے پیٹ میں ایک بناوٹ کے بعد دوسری بناوٹ میں، تین اندھیروں میں پیدا کرتا ہے۔‘‘

اس مسئلے کے طے ہو جانے کے بعد ایک دوسری بحث حضرت آدم کی ہے۔ مسئلۂ ارتقا کے مخالفین کا عام خیال ہے کہ حضرت آدم اور مسئلۂ ارتقا کی صحت دو متناقض چیزیں ہیں، جو ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتیں، حالاں کہ ایسا نہیں ہے۔ جو شخص عقل و نقل میں تطبیق دینا چاہتا ہے، وہ کہہ سکتا ہے کہ اس تدریجی ترقی کے مطابق جو سب سے پہلا انسان ہوا، وہی ابو البشر آدم تھا۔

خاتمۂ بحث پر فلاسفۂ حال کو مخاطب کر کے ہم پھر کہتے ہیں کہ اگر مسئلۂ ارتقا صحیح ہے تو قرآن اس کا منکر نہیں، بلکہ ہم مسلمانوں کا اعتقاد ہے کہ قرآنِ مجید کبھی صحیح علوم کی مخالفت نہیں کر سکتا۔

علما کی خدمت میں گزارش ہے کہ ہم نے مذکورہ بالا آیتوں کے جو معنی قرار دیے ہیں، ان کا مقصد صرف فلسفیانہ مذاق والوں کو خاموش کر دینا ہے۔ گو مفسرین نے ان آیتوں کے اور معنی سمجھے ہیں اور ہمیں ان کی صحت سے بھی انکار نہیں، لیکن عقل و نقل کی تطبیق کی غرض سے ہم نے جو معنی لیے ہیں، وہ بھی غلط نہیں۔ قرآنِ مجید کے الفاظ دونوں معنوں کے متحمل ہیں۔

(بہ شکریہ الندوہ، جنوری 1908ء)