مواد پر جائیں

حیات ِامین

نعیم احمد بلوچ اردو

(سوانح مولانا امین احسن اصلاحی)

(31)

]صاحب ’’تدبر قرآن‘‘ کی وصیت کے مطابق

ان کے سوانح نگار نعیم احمد بلوچ کے قلم سے [

ڈاکٹر اسرار احمد ( 1932ء-2010ء) کے بارے میں مولانا اصلاحی بہت اچھا گمان رکھتے تھے۔ ان کے دینی جذبے سے متاثر تھے۔ وہ 1966 ء میں لاہور منتقل ہو گئے۔ اس سے قبل وہ ساہیوال اور کراچی میں اپنا مطب چلاتے تھے۔ لاہور میں ان کے مستقل قیام کے فیصلے پر مولانا نے خوشی کا اظہار کیا۔ جناب خالد مسعود صاحب بتاتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب نے مولانا سے ملاقات کر کے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ باقاعدہ ان کے سامنے زانوے تلمذ تہ کرنا چاہتے ہیں۔ مولانا نے انھیں خوش آمدید کہا اور حلقۂ تدبر قرآن میں دوسرے احباب کے ساتھ علمی سفر شروع کرنے کی دعوت دی۔ اس وقت مولانا فقہ پر اسباق دے رہے تھے، لیکن ڈاکٹر صاحب نے حلقے کے دروس میں شمولیت اختیار نہ کی۔ ان کے بہ قول وہ اس کے بجاے قرآن ہی کی تعلیم میں دل چسپی رکھتے ہیں۔

ماہنامہ’’ میثاق‘‘ کی ڈاکٹر اسرار احمد کو سپردگی

یہ وہ دور تھا جب ابو صالح کی وفات کی وجہ سے مولانا مالی مسائل کا شکار تھے۔ ماہنامہ ’’میثاق‘‘ بھی تعطل کا شکار تھا۔ جب اس کی اشاعت چند ماہ تک مسلسل رکی رہی تو ڈاکٹر صاحب نے اس کی ذمہ داری اٹھانے کی خواہش ظاہر کی۔ یوں اس کی ادارت اور اشاعت ان کو سونپ دی گئی۔ اب ’’میثاق‘‘ پر مدیر کی جگہ ڈاکٹر اسرار صاحب کا نام شائع ہونے لگا کیونکہ اس کے مالکانہ حقوق بھی انھیں حاصل ہو چکے تھے، جب کہ مولانا اصلاحی کا نام اس کے سرپرست کے طور پر لکھا ہوتا۔ ڈاکٹر صاحب نے اس حوالے سے لکھا:

’’تدبر قرآن کی جلد اوّل کی طباعت اور ’’میثاق‘‘ میں ’’تدبر قرآن‘‘ اور افادات فراہی کی سلسلہ وار اشاعت محض مولانا اصلاحی کے ساتھ ذاتی مراسم کی بنا پر نہیں، بلکہ اس گہرے یقین پر مبنی ہے کہ اگر قرآن حکیم کو مستقبل میں واقعتاً ایک زندہ کتاب اور انسانیت کے لیے واقعی رہنمائی اور لائحۂ عمل بننا ہے تو اس کی کوئی صورت اس کے سوا ممکن نہیں ہے کہ اس پر خالص سائنٹیفک طریق پر غور و فکر کی راہیں روشن ہوں اور اس کے لیے تدبر قرآن کا وہ اسلوب جو مولانا فراہی نے عمر بھر کے غور و فکر کے بعد مدون کیا اور جس پر مولانا اصلاحی نے عملا ًایک علمی تحریک کی بنیاد بھی رکھ دی،بے حد اہم اور نہایت مفید ہے۔ راقم الحروف اپنے ذاتی تجربے کی بنا پر جانتا ہے کہ مولانا اصلاحی کی بیش بہا تصانیف کے مطالعے سے قاری کا براہ ِراست تعلق قرآن حکیم سے قائم ہو جاتا ہے۔ اس کا ذہن قرآن کے ساتھ مناسبت محسوس کرنے لگتا ہے اور قلب میں اس کے ساتھ اُنس کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔‘‘ (میثاق، جولائی 1967ء)

’’میثاق‘‘ کی اشاعت کی ذمہ داری ڈاکٹر صاحب نے اس احساس کے ساتھ قبول تو کر لی کہ ’’میثاق‘‘ کا ایک ماضی ہے اور وہ اس کے ماضی کا لحاظ رکھتے ہوئے اسے شائع کریں گے تاکہ یہ فکرِ فراہی کی اشاعت کا ذریعہ بنے، مگر ایسا نہ ہو سکا۔ وہ خود لکھتے ہیں:

’’1968ء – 1969ء کے دوران میں ’’میثاق‘‘میں ( جس طرح سے شائع ہوتا رہا ) ایک خلا سا رہا۔ (یعنی وہی کیفیت رہی کہ)… وہ بس خط لکھیں گے گرچہ مطلب کچھ نہ ہو، کے سے انداز میں ایک نیم دینی، نیم علمی اور نیم سیاسی ماہنامے کی حیثیت سے شائع ہوتا رہا۔‘‘

(میثاق، جولائی 1976ء)

اس دور کے حوالے سے جناب خالد مسعود صاحب، جو ’’میثاق‘‘ کے باقاعدہ مصنفین میں سے تھے، بتاتے ہیں کہ جریدے کےقارئین پرچے کی کیفیت کا شکوہ مولانا سے کرتے اور وہ اس کی اصلاح کے لیے ڈاکٹر صاحب کو تنبیہ بھی کرتے اور بعض اوقات سرزنش بھی۔ ڈاکٹر صاحب مولانا کو تسلی تو دیتے کہ جلد ’’میثاق‘‘ اپنی پچھلی روایت کے ساتھ شائع ہو گا، لیکن صورت حال بہتر نہ ہوئی۔ خالد مسعود صاحب کے بیان کی تصدیق خود ڈاکٹر صاحب کی اس تحریر سے ہوتی ہے، جس میں انھوں نے یہ تسلیم کیا :

’’اس میں شک نہیں کہ مولانا نے اس نازک صورت حال کو بہت خوش اسلوبی سے نبھایا۔ لیکن گاہے گاہے انھیں خاصی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا، اس لیے کہ الفاظ اور طرزِ تعبیر کا معاملہ تو ہے ہی بہت اختلافی، کبھی کبھی مولانا کو راقم کے کسی خیال یا نظریے سے خود بھی شدید اختلاف ہوتا تھا۔ ‘‘( میثاق، نومبر 1972ء)

مولانا اصلاحی کا ’’میثاق‘‘ سے ا ظہار براءت

شاید مولانا کا ضبط برقرار رہتا، لیکن ڈاکٹر صاحب سے ایسا کچھ سرزد ہوا جسے مولانا کبھی برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ وسط 1972ء میں ڈاکٹر صاحب نے ’’انجمن خد ام القرآن‘‘ کی بنیاد رکھی۔ اس کے لیے مجوزہ قواعد و ضوابط مولانا کے علم میں آئے تو انھوں نے اس پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ خاص طور پر یہ اصول ملاحظہ فرمائیں :

’’1۔ انجمن سے وابستگی کی واحد شرط مالی تعاون ہے، جس کی مقدار یک مشت پانچ ہزار روپے،دو ہزار روپے یا اس سے کم رقم ہے اور ماہانہ زرتعاون کی مخصوص مقدار کی ادائیگی اس پر مستزاد ہے۔

2۔ انجمن کے اجلاس میں پانچ ہزار یوں کے تین اور دو ہزاریوں کے دو ووٹ ہوتے ہیں، جب کہ اس سے کم دینے والوں کو صرف ایک ووٹ دینے کا حق حاصل ہوتا ہے۔ …

3۔ انجمن کے تا حین ِحیات صدر ڈاکٹر اسرار صاحب ہوں گے اور انھیں مجلس منتظمہ کے کسی بھی فیصلے کو کلیتا ًیا جزوی طور پر رد کر دینے کا حق حاصل ہو گا۔

4۔ ڈاکٹر صاحب کے انتقال کے بعد انجمن کسی ایک شخص کی قیادت و رہنمائی میں کام نہ کر سکے گی، بلکہ یہ اس وقت کی مجلس ِ منتظمہ رہنمائی کا یہ فرض ادا کرے گی۔ اس وقت کا صدر انجمن مجلس منتظمہ کے کسی فیصلے کو رد کرنے کا حق نہیں رکھے گا۔

5۔ ڈاکٹر صاحب کی موجودگی میں انجمن کے بجٹ اور اخراجات کا پورا معاملہ ان کی صواب دید پر ہو گا اور مجلس منتظمہ کی ذمہ داری صرف نگرانی کی ہو گی۔ اور ان کے بعد اختیار بالکلیہ مجلس منتظمہ کو منتقل ہو جائے گے۔ اس وقت کے صدر انجمن کو یہ اختیار تفویض نہ ہو سکے گا۔‘‘

(اسرار نامہ، خالد مسعود 8-9)

ظاہر ہے، مولانا اصلاحی آمرانہ اختیارات ہی کی وجہ سے جماعت اسلامی سے مستعفی ہوئے تھے۔ انھوں نے مولانا ابو الاعلیٰ مودودی جیسے جید عالم اور انتہائی شفیق دوست کے لیے اس سے کہیں کم اختیارات کو گوارا نہ کیا تھا اور یہاں جو اصول ڈاکٹر صاحب نے اپنے لیے مقرر کیے، وہ بہت دل چسپ ہیں۔ وہ انھیں کیسے قابل قبول ہو سکتے تھے۔

جب یہ قواعدو ضوابط مولانا کے علم میں آئے تو انھوں نے ڈاکٹر صاحب کو سختی اور نرمی، دونوں طرح سے سمجھایا۔ اپنی خاص طبیعت کے مطابق یہ تبصرہ بھی فرمایا کہ عزیزم، اگر آپ اس انجمن کا نام ’’ڈاکٹر اسرار احمد اینڈ کمپنی‘‘ رکھتے تو مجھے کوئی اعتراض نہ ہوتا، لیکن دینی کام کے لیے کسی بھی اجتماعیت کو قائم کرنے کے لیے شریعت کی پاس داری ضروری ہے۔

اس قضیے کے دوران میں مولانا نے اصلاح کی کیا کیا کوششیں کیں اور ان کا کیا نتیجہ بر آمد ہوا، اس کا اندازہ ان خطوط سے لگایا جا سکتا ہے جو انھوں نے اپنے بعض رفقا اور شاگردوں کو لکھے۔

ڈاکٹر عبد اللطیف خان، جو مولانا کے معالج تھے، کے نام 17؍ستمبر 1972ء کو لکھا یہ خط ملاحظہ ہو:

’’بڑے غم کے سا تھ آپ کو اس سانحے کی اطلا ع دیتا ہوں کہ میں نے ڈا کٹر اسرار احمد صاحب کے بعض خلاف ِشریعت اقدا ما ت کی وجہ سے ان سے اور رسالہ ’’میثاق‘‘ سے بالکل قطع تعلق کر لیا ہے۔ حا دثے کی تفصیلات سے آ پ کو دکھ ہو گا، اس وجہ سے ان کے ذکر سے گریز کر تا ہوں۔میں نے بھی اور مجھ سے بہتر دوسرے احبا ب نے بھی ڈا کٹر صاحب کو بہت سمجھا نے کی کوشش کی، لیکن افسوس ہے کہ کا میا بی نہیں ہوئی۔ قدرتی طور پر اس سانحہ کا میری صحت پر بہت برا اثر پڑا ہے۔ دعا فرما ئیے کہ یہ زندگی کا آخری سا نحہ ہو۔ اب اس قسم کے سانحہ کے برداشت کر نے کی ہمت نہیں رہی ہے۔

میر ے درس کا سلسلہ الحمد للہ جا ری ہے اور اب میں تفسیر کے لکھنے کا کا م بھی( دوبارہ ) شروع کر رہا ہوں۔دعا فرمائیے کہ آخر دم تک یہ کا م جا ری رہے۔‘‘(سہ ماہی تدبر، جولائی 1998ء)

یاد رہے کہ اس حادثے کے بعد ہی مولانا شدید بیماری کا شکار ہوگئے تھے، اس کا ذکر اگلے صفحات میں کیا جارہا ہے، لیکن اس خط سے واضح ہوتا ہے کہ جواں سال بیٹے کی ناگہانی موت اور پھر ڈاکٹر صاحب کی طرف سے یہ معاملہ ہی ان کی خرابی صحت کا باعث بنا تھا۔

حکیم شیخ سلطان احمد کے نام لاہور سے 17 ؍ستمبر 1972ء کو لکھاگیا یہ خط ملاحظہ ہو :

’’اگر چہ معا ملہ زیر بحث میں اب مجھے کسی خیر کی امید نہیں ہے، لیکن آپ اگر کسی خیر کی امید دیکھتے ہیں تو کو شش کر دیکھیے۔ جہا ں تک میرا تعلق ہے، میں اب با لکل ما یو س ہو چکا ہوں۔ اس وجہ سے میں نے کہلا دیا ہے کہ پر چے کے سرورق سے میرا نا م نکا ل دیا جائے اور تفسیر کی اشا عت پر چے (میثاق)میں بند کر دی جا ئے۔ میر ا خیا ل ہے کہ میر ی طرف سے اظہارِ براء ت کے لیے یہ چیز کا فی ہو گی۔ پبلک میں کو ئی اعلان کر کے میں اپنی رسوائی کی مزید تشہیر نہیں کر نا چاہتا۔ چنا نچہ ’’چٹا ن‘‘ وغیرہ مجھ سے انٹر ویو کے خواہش مند تھے، لیکن صحت کی خرابی کا عذر کر کے میں نے بات ٹال دی ہے۔… سلا متی اسی میں ہے کہ خاموشی سے اس فتنہ سے الگ ہو جائیے۔ ان کو کسی پہلو سے منہ لگا نا بھی آپ لو گوں کے شایانِ شا ن نہیں ہے بس جو حادثہ پیش آنا تھا وہ پیش آچکا۔ اب صبر کے سوا کو ئی چا رہ نہیں۔‘‘(سہ ماہی تدبر، جولائی 1998ء، 67- 68)

خود ڈاکٹر اسرار احمد صاحب نے اس پر جو رویہ پبلک کے سامنے اپنایا، وہ ’’میثاق‘‘ میں لکھے گئے اداریے سے واضح ہو جاتا ہے :

’’پچھلے دو تین ماہ کے دوران میں ’’مرکزی انجمن خدام القرآن‘‘ لاہور کی ہیئت ِترکیبی کے بارے میں یہ صورت ِحال غیر معمولی شدت سے پیدا ہوئی اور اس سے مولانا کو سخت پریشانی کا سامنا رہا۔ اس پیچیدگی کا یہ حل تلاش کیا گیا ہے کہ آیندہ کے لیے یہ بات قارئین ِ ’’میثاق‘‘ پر واضح کر دی جائے کہ مولانا ’’میثاق‘‘ کی پالیسی کے ضمن میں نہ مسئول ہیں، نہ ذمہ دار۔ ان کی ذمہ داری بس تفسیر ’’تدبرِ قرآن‘‘ کی حد تک ہے یا پھر کسی ایسی تحریر کے بارے میں جو ان کے نام سے شائع ہو۔ اسی بات کی مزید تصریح و تاکید کے لیے ’’میثاق‘‘ کے سرور ق سے متذکرہ بالا الفاظ( سرپرست ) بھی حذف کیے جا رہے ہیں۔‘‘(میثاق، نومبر 1972ء)

اس سب کے باوجود مولانا کا ’’میثاق‘‘ اور ڈاکٹر اسرار صاحب سے تعلق بالکل ختم نہ ہوا، تفسیر ’’تدبر قرآن‘‘ کی اقساط شائع ہوتی رہیں اور احباب تعلقات کی بہتری کی طرف بھی متوجہ رہے اور ’’تدبر قرآن‘‘ کی پہلی دو جلدیں بھی ’’انجمن خدام القرآن‘‘ ہی نے شائع کیں، لیکن پھر ایک اور واقعہ ہوا۔

ڈاکٹر صاحب ’’انجمن خدامُ القرآن‘‘ کے نام سے بنائی جانے والی اس انجمن سے آگے بڑھے اور اسلامی انقلاب کے لیے 1975ء میں ایک باقاعدہ تنظیم بناڈالی۔ اس کا نام بھی انھوں نے ’’تنظیمِ اسلامی‘‘ رکھا۔ یہ وہی نام تھا جس کے تحت پہلے بھی کوشش ہو چکی تھی، لیکن اس کے مقاصد، اس کی تنظیمی ہیئت بالکل مختلف تھی اور یہ مذہبی آمریت کی کلاسیکل مثال تھی۔ ملاحظہ ہو کہ ڈاکٹر صاحب اس تنظیم کے لیے کیا تھے !

’’ ڈاکٹر اسرار احمد کو تنظیم اسلامی کے ’’داعی عمومی‘‘ کی حیثیت حاصل ہو گی اور وہ اس عبوری دور کی حد تک بغیر کسی متعین مجلس شوریٰ یا مجلس منتظمہ کے’امرھم شوریٰ بینھم‘ کے وسیع تر اصول کے تحت تنظیم کے معاملات کو بھی چلائیں گے۔ وہ ایک معین مجلس شوریٰ کو بھی نام زد کرنے کے مجاز ہوں گے، لیکن ان کو حق ِاستقرار حاصل ہو گا۔

تنظیم کے بیت المال سے خرچ کے جملہ اختیارات داعی عمومی کو حاصل ہوں گے۔ دعوتی اور تنظیمی اخراجات کے لیے سرمائے کی فراہمی کے لیے انفاق فی سبیل اللہ کے ضمن میں ہررفیق کوشش کرے گا کہ اپنی کل آمدنی کے کم از کم عُشر (دسویں حصے) کے لگ بھگ ضرور تنظیم کو ادا کرے۔ ‘‘ ( میثاق، اگست 1976ء)

اس کے بعد ڈاکٹر صاحب نے تنظیم میں شامل ہونے کے لیے اپنی بیعت کرنا بھی ضروری قرار دے دیا۔ بعض ایسے دعوے بھی کرنا شروع کر دیے جو مولانا اصلاحی کے لیے ہی نہیں، کسی بھی محتاط مسلمان کے لیے قابل قبول نہیں ہو سکتے تھے۔ اس کی اگرچہ ایک لمبی فہرست ہے، لیکن یہاں نمونے کے طور پر ایک اقتباس نقل کرنا کافی ہوگا :

’’میں عالم دین ہونے کا ہرگز مدعی نہیں، بلکہ مجھے اپنی نسبت ’’امیت‘‘ پر فخر ہے۔ گویا بہ قول علامہ اقبال مرحوم :میں نہ عارف،نہ مجدد، نہ مُحَّدث، نہ فقیہ۔میری کل حیثیت قرآن کے ایک ادنیٰ طالب علم اور دین کے ایک ادنیٰ خادم کی ہے۔ البتہ قرآن کے مطالعہ سے مجھے یہ ضرور معلوم ہو گیا ہے کہ دین میں مقدم کیا ہے اور موخر کیا۔ اولیت کسے حاصل ہے اور ثانوی درجہ کس کا ہے۔جڑ اور اصل کی حیثیت رکھنے والی چیزیں کون سی ہیں اور فروعات کی حیثیت کن کی ہے۔گویا حکمتِ دین کے اس شعبے سے اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک حصہ عطا فرمایا ہے۔‘‘

(میثاق، نومبر 1974ء)

واضح رہے کہ یہاں ڈاکٹر صاحب اپنے آپ کو نعوذباللہ ’’ اُمی‘‘ قرار دے رہے ہیں، کیونکہ ان کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی کسی استاد سے پڑھے ہوئے نہیں تھے اور وہ بھی اسی طرح کسی کے شاگرد نہیں۔

ایسی ہی بہت ساری غلطیوں پر انھوں نے لکھ کر ایک معافی نامہ بھی مولانا اصلاحی کو بھجوایا۔ اس کا تذکرہ کرتے ہوئے جناب خالد مسعو صاحب لکھتے ہیں :

’’ مولانا اصلاحی کے ایک شاگرد نے ماہنامہ ’’شمس الاسلام‘‘ بھیرہ، (ضلع سرگودھا) میں آڑے ہاتھوں لیا اور ان کی بعض غلط بیانیوں کو بے نقاب کیا۔ اس کے نتیجے میں ڈاکٹر صاحب نے مولانا اصلاحی کو ایک معافی نامہ لکھا جو مولانا نے قبول نہ کیا۔ ‘‘(اسرار نامہ، خالد مسعود 20)

مولانا کی اس شدید ناپسندیدگی اور دل گرفتگی کے باوجود ’’میثاق‘‘ میں ’’تدبر قرآن‘‘ کی اشاعت جاری رہی۔ مگر جس واقعے نے اس سلسلے کو منقطع کر دیا، اس کا اظہار بھی خود داکٹر اسرار احمد صاحب سے ہوا۔

[باقی]

عربی ادب قبل از اسلام 7