مواد پر جائیں

رنج اتنا کہ جئیں اور مریں ساتھ کے ساتھ

ڈاکٹر خورشید رضوی اردو

بات ایسی کہ کہیں اور نہ کہیں، ساتھ کے ساتھ

اہلِ دنیا تو نہیں ہم مگر اے اہلِ جنوں

کام دنیا کا بھی کچھ کر کے چلیں، ساتھ کے ساتھ

کیا تماشا ہے یہ اور کون تماشا گر ہے

شمع و پروانہ، سرِ طاق جلیں ساتھ کے ساتھ

اے صبا شاخ کو چھو کر مرے دل سے بھی گزر

کہ اِدھر زخم، اُدھر پھول کھلیں ساتھ کے ساتھ

خیال و خامہ