مواد پر جائیں

اب نئی منزلوں کے خواب کہاں!

جاوید احمد غامدی اردو

لذتِ غم کی بے خودی ہے فقط

ایک غوغا ہے آں سوے افلاک

اب کوئی شمعِ آرزو ہی سہی

قعرِ دریا کو کھینچ لایا ہے

ایک عالم کتاب خواں ہے، مگر

آبلوں کا لہو ہے کانٹوں پر

اِس تمدن میں اب حیا کیسی؟

ہر قدم پر نیا سراب کہاں!

ساقی و مطرب و شراب کہاں!

پوچھتے ہیں، مگر جواب کہاں!

ظلمتِ شب میں آفتاب کہاں!

موجۂ عشق میں حباب کہاں!

ایک بھی صاحبِ کتاب کہاں!

اِس چمن میں کوئی گلاب کہاں!

رہ گیا ہے کوئی حجاب کہاں!

علم آلودۂ سیاست ہے

دعوتِ حق کا اضطراب کہاں!