مواد پر جائیں

البیان

جاوید احمد غامدی اردو

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سورة آل عمران
(11)

وَ لَا تَحۡسَبَنَّ الَّذِیۡنَ قُتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ اَمۡوَاتًا ؕ بَلۡ اَحۡیَآءٌ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ یُرۡزَقُوۡنَ ﴿۱۶۹﴾ۙ فَرِحِیۡنَ بِمَاۤ اٰتٰہُمُ اللّٰہُ مِنۡ فَضۡلِہٖ ۙ وَ یَسۡتَبۡشِرُوۡنَ بِالَّذِیۡنَ لَمۡ یَلۡحَقُوۡا بِہِمۡ مِّنۡ خَلۡفِہِمۡ ۙ اَلَّا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ ﴿۱۷۰﴾ۘ یَسۡتَبۡشِرُوۡنَ بِنِعۡمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ وَ فَضۡلٍ ۙ وَّ اَنَّ اللّٰہَ لَا یُضِیۡعُ اَجۡرَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۷۱﴾ۚۛ اَلَّذِیۡنَ اسۡتَجَابُوۡا لِلّٰہِ وَ الرَّسُوۡلِ مِنۡۢ بَعۡدِ مَاۤ اَصَابَہُمُ الۡقَرۡحُ ؕۛ لِلَّذِیۡنَ اَحۡسَنُوۡا مِنۡہُمۡ وَ اتَّقَوۡا اَجۡرٌ عَظِیۡمٌ ﴿۱۷۲﴾ۚ اَلَّذِیۡنَ قَالَ لَہُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَدۡ جَمَعُوۡا لَکُمۡ فَاخۡشَوۡہُمۡ فَزَادَہُمۡ اِیۡمَانًا ٭ۖ وَّ قَالُوۡا حَسۡبُنَا اللّٰہُ وَ نِعۡمَ الۡوَکِیۡلُ ﴿۱۷۳﴾ فَانۡقَلَبُوۡا بِنِعۡمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ وَ فَضۡلٍ لَّمۡ یَمۡسَسۡہُمۡ سُوۡٓءٌ ۙ وَّ اتَّبَعُوۡا رِضۡوَانَ اللّٰہِ ؕ وَ اللّٰہُ ذُوۡ فَضۡلٍ عَظِیۡمٍ ﴿۱۷۴﴾ اِنَّمَا ذٰلِکُمُ الشَّیۡطٰنُ یُخَوِّفُ اَوۡلِیَآءَہٗ ۪ فَلَا تَخَافُوۡہُمۡ وَ خَافُوۡنِ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ﴿۱۷۵﴾

(اِن باتوں کی پروا نہ کرو، اے پیغمبر)، اور (اِس جنگ کے دوران میں) جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوئے ہیں، اُنھیں ہرگز مردہ خیال نہ کرو۔ وہ مردہ نہیں، بلکہ اپنے پروردگار کے حضور میں زندہ ہیں، اُنھیں روزی مل رہی ہے۔ اللہ نے جو کچھ اپنے فضل میں سے اُنھیں عطا فرمایا ہے، اُس پر شاداں و فرحاں، اُن کے اخلاف میں سے جو لوگ ابھی اُن سے نہیں ملے، اُن کے بارے میں خوشیاں مناتے

وَ لَا یَحۡزُنۡکَ الَّذِیۡنَ یُسَارِعُوۡنَ فِی الۡکُفۡرِ ۚ اِنَّہُمۡ لَنۡ یَّضُرُّوا اللّٰہَ شَیۡئًا ؕ یُرِیۡدُ اللّٰہُ اَلَّا یَجۡعَلَ لَہُمۡ حَظًّا فِی الۡاٰخِرَۃِ ۚ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ﴿۱۷۶﴾ اِنَّ الَّذِیۡنَ اشۡتَرَوُا الۡکُفۡرَ بِالۡاِیۡمَانِ لَنۡ یَّضُرُّوا اللّٰہَ شَیۡئًا ۚ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۱۷۷﴾ وَ لَا یَحۡسَبَنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اَنَّمَا نُمۡلِیۡ لَہُمۡ خَیۡرٌ لِّاَنۡفُسِہِمۡ ؕ اِنَّمَا نُمۡلِیۡ لَہُمۡ لِیَزۡدَادُوۡۤا اِثۡمًا ۚ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ مُّہِیۡنٌ ﴿۱۷۸﴾

مَا کَانَ اللّٰہُ لِیَذَرَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ عَلٰی مَاۤ اَنۡتُمۡ عَلَیۡہِ حَتّٰی یَمِیۡزَ الۡخَبِیۡثَ مِنَ الطَّیِّبِ ؕ وَ مَا کَانَ اللّٰہُ لِیُطۡلِعَکُمۡ عَلَی الۡغَیۡبِ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ یَجۡتَبِیۡ مِنۡ رُّسُلِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ ۪ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رُسُلِہٖ ۚ وَ اِنۡ تُؤۡمِنُوۡا وَ تَتَّقُوۡا فَلَکُمۡ اَجۡرٌ عَظِیۡمٌ ﴿۱۷۹﴾

ہوئے کہ (خدا کی اِس ابدی بادشاہی میں) اُن کے لیے بھی نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ کبھی غم زدہ ہوں گے۔ اللہ کی نعمتوں اور اُس کے فضل سے خوش وقت اور اِس بات سے کہ ایمان والوں کے اجر کو اللہ کبھی ضائع نہ کرے گا۔ اُن لوگوں کے اجر کو جنھوں نے چوٹ کھانے کے بعد بھی اللہ اور اُس کے رسول کی آواز پر لبیک کہی ہے۔ اُن میں سے جنھوں نے خوبی سے کام کیے اور خدا سے ڈرتے رہے، اُن کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔ یہ وہ ہیں کہ جنھیں لوگوں نے کہا کہ دشمن نے تمھارے خلاف بڑی طاقت جمع کرلی ہے، سواُس سے ڈرو تو اُن کا ایمان (یہ سن کر) اور بڑھ گیا اور اُنھوں نے جواب دیا کہ ہمارے لیے اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے۔ سو وہ اللہ کی نعمت اور اُس کا فضل لے کر (اِس مہم سے) واپس آئے، اُن کو کوئی گزند نہیں پہنچا اور وہ اللہ کی خوشنودی کے طلب گار ہوئے اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ بڑی عنایت کرنے والا ہے۔ (اب یہ بات تو تم پر واضح ہوگئی کہ) یہ شیطان ہی ہے جو اپنے ساتھیوں کے ڈراوے دے رہا تھا۔ سو اِن سے مت ڈرو، اگر تم سچے مومن ہو تو صرف مجھ سے ڈرو۔ 169- 175

اور تمھارے لیے، (اے پیغمبر)، یہ لو گ کسی غم کا باعث نہ ہوں جو (اِس وقت) کفر کی راہ میں بڑے سرگرم ہیں۔ یہ اللہ کو ہرگز کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں گے۔ اللہ چاہتا ہے کہ آخرت میں اِن کا کوئی حصہ نہ رکھے۔ (یہ مجرم ہیں) اور اِن کے لیے وہاں ایک بڑا عذاب ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ایمان کو چھوڑ کر جن لوگوں نے بھی اپنے لیے کفر خریدا ہے، وہ اللہ کو ہرگز کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں گے اور اُن کے لیے (اُس نے) بڑا دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ یہ ڈھیل جو ہم اِن کو دے رہے ہیں، اِس کو یہ منکر اپنے حق میں ہرگز کوئی بہتری کی چیز نہ سمجھیں۔ (اِنھیں معلوم ہونا

وَ لَا یَحۡسَبَنَّ الَّذِیۡنَ یَبۡخَلُوۡنَ بِمَاۤ اٰتٰہُمُ اللّٰہُ مِنۡ فَضۡلِہٖ ہُوَ خَیۡرًا لَّہُمۡ ؕ بَلۡ ہُوَ شَرٌّ لَّہُمۡ ؕ سَیُطَوَّقُوۡنَ مَا بَخِلُوۡا بِہٖ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ وَ لِلّٰہِ مِیۡرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ ﴿۱۸۰﴾ لَقَدۡ سَمِعَ اللّٰہُ قَوۡلَ الَّذِیۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰہَ فَقِیۡرٌ وَّ نَحۡنُ اَغۡنِیَآءُ ۘ سَنَکۡتُبُ مَا قَالُوۡا وَ قَتۡلَہُمُ الۡاَنۡۢبِیَآءَ بِغَیۡرِ حَقٍّ ۙ وَّ نَقُوۡلُ ذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡحَرِیۡقِ ﴿۱۸۱﴾ ذٰلِکَ بِمَا قَدَّمَتۡ اَیۡدِیۡکُمۡ وَ اَنَّ اللّٰہَ لَیۡسَ بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِیۡدِ ﴿۱۸۲﴾ۚ

چاہیے کہ ) اِن کو یہ ڈھیل ہم صرف اِس لیے دے رہے ہیں کہ اپنے گناہوں میں کچھ اور اضافہ کر لیں۔ (اِس کے بعد اِنھیں ہمارے ہی پاس آنا ہے) اور (وہاں)ایک سخت ذلیل کر دینے والی سزا اِن کی منتظر ہے۔176- 178

(اِس جنگ کے موقع پر جو آزمایش پیش آئی ہے، یہ اُس کو سمجھ نہیں رہے۔ اِنھیں بتاؤ کہ) اللہ یہ نہیں کر سکتا تھا کہ ناپاک کو پاک سے الگ کیے بغیر مسلمانوں کو اُسی طرح چھوڑ دے، جس طرح تم تھے، اور نہ یہ اللہ کا طریقہ ہے کہ تمھیں غیب پر مطلع کر دے (اور اِن کے دلوں کی حالت جان کر تم اِنھیں الگ الگ کر لو)، بلکہ اللہ (کا طریقہ یہ ہے کہ اِس کے لیے وہ) اپنے رسولوں میں سے جس کو چاہتا ہے، منتخب کر لیتا ہے، (پھر اُن کی جدوجہد میں ایسی آزمایش برپا کرتا ہے کہ کھوٹے اور کھرے، سب ایک دوسرے سے الگ ہو جاتے ہیں)، اِس لیے اللہ اور اُس کے رسولوں پر ایمان رکھو اور (جان لو کہ) اگر تم ایمان اور تقویٰ اختیار کرو گے تو تمھارے لیے بہت بڑا اجر ہے۔179

اور (اِن میں سے) جو لوگ اُن چیزوں میں بخل کرتے ہیں جو اللہ ہی نے اپنے فضل سے اُنھیں عطا فرمائی ہیں، وہ ہرگزیہ خیال نہ کریں کہ یہ اُن کے لیے بہتر ہے۔ نہیں، یہ اُن کے حق میں بہت برا ہے۔ (اُنھیں معلوم ہونا چاہیے کہ) جس چیز پر اُنھوں نے بخل کیا ہے، قیامت کے دن عنقریب اُس کا طوق اُنھیں پہنایا جائے گا اور (معلوم ہونا چاہیے کہ) زمین اور آسمانوں کی میراث اللہ ہی کے لیے ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اُسے جانتا ہے۔ اللہ نے اُن لوگوں کی بات سن لی ہے جنھوں نے کہا ہے کہ اللہ محتاج ہے اور ہم غنی ہیں۔ اِن کی یہ باتیں ہم لکھ رکھیں گے اور اِن کا پیغمبروں کو ناحق قتل کرنا بھی ہم نے لکھ رکھا ہے۔ اور (فیصلے کے دن) اِن سے کہیں گے کہ اب چکھو آگ کا عذاب۔ یہ اُسی کا بدلہ ہے جو تم نے اپنے ہاتھوں آگے بھیجا تھااور اِس لیے ہے کہ اللہ اپنے بندوں پر ذرا بھی ظلم کرنے والا نہیں ہے۔ 180- 182

اَلَّذِیۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰہَ عَہِدَ اِلَیۡنَاۤ اَلَّا نُؤۡمِنَ لِرَسُوۡلٍ حَتّٰی یَاۡتِیَنَا بِقُرۡبَانٍ تَاۡکُلُہُ النَّارُ ؕ قُلۡ قَدۡ جَآءَکُمۡ رُسُلٌ مِّنۡ قَبۡلِیۡ بِالۡبَیِّنٰتِ وَ بِالَّذِیۡ قُلۡتُمۡ فَلِمَ قَتَلۡتُمُوۡہُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۱۸۳﴾ فَاِنۡ کَذَّبُوۡکَ فَقَدۡ کُذِّبَ رُسُلٌ مِّنۡ قَبۡلِکَ جَآءُوۡ بِالۡبَیِّنٰتِ وَ الزُّبُرِ وَ الۡکِتٰبِ الۡمُنِیۡرِ ﴿۱۸۴﴾ کُلُّ نَفۡسٍ ذَآئِقَۃُ الۡمَوۡتِ ؕ وَ اِنَّمَا تُوَفَّوۡنَ اُجُوۡرَکُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ فَمَنۡ زُحۡزِحَ عَنِ النَّارِ وَ اُدۡخِلَ الۡجَنَّۃَ فَقَدۡ فَازَ ؕ وَ مَا الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الۡغُرُوۡرِ ﴿۱۸۵﴾

یہ لوگ، جنھوں نے کہا ہے کہ اللہ نے ہمیں یہ ہدایت کر رکھی ہے کہ ہم کسی رسول کی بات اُس وقت تک نہ مانیں گے، جب تک وہ ہمارے سامنے ایسی قربانی پیش نہ کرے جسے (آسمان سے اتر کر ) آگ کھا لے، اِن سے کہو: تمھارے پاس مجھ سے پہلے بہت سے رسول نہایت واضح نشانیاں لے کر آ چکے ہیں اور وہ نشانی بھی لائے ہیں جس کے لیے تم کہہ رہے ہو،پھر تم نے اُن کو قتل کیوں کر دیا، اگر تم سچے ہو؟ اِس لیے، (اے پیغمبر)، یہ تمھیں جھٹلاتے ہیں تو اِس میں تعجب کی کیا بات ہے، بہت سے رسول تم سے پہلے بھی (اِسی طرح) جھٹلائے گئے ہیں جو کھلی ہوئی نشانیاں اور صحیفے اور روشن کتاب لے کر آئے تھے۔ (تم انتظار کرو اور یہ بھی انتظار کریں)، ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے اور تم کو تمھارا پورا پورا بدلہ تو قیامت کے دن ہی ملے گا۔ پھر جو دوزخ سے بچا لیا جائے اور جنت میں داخل کر دیا جائے، وہی کامیاب ہے اور یہ دنیا کی زندگی تو محض دھوکے کا سودا ہے۔ 183- 185

[باقی]