مواد پر جائیں

معارف نبوی

اردو

ــــــ 1 ــــــ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تین لوگ ایسے ہیں جن سے اللہ قیامت کے دن نہ بات کریں گے،نہ اُن کی طرف نگاہ التفات سے دیکھیں گے اور نہ اُنھیں پاک کریں گے اور اُن کے لیے درد ناک عذاب ہے:ایک وہ شخص جو کسی بیابان میں ضرورت سے زیادہ پانی پر قبضہ جمائے بیٹھا ہو اور مسافر کو اُس سے روک دے۔ دوسرا جو کسی شخص کی بیعت محض دنیا کے لیے کرے،پھر وہ اُس کی خواہش کے مطابق دے دے تو اپنا عہد نباہے اور نہ دے تو بے وفائی کرے۔ اور تیسرا وہ شخص جو عصر کے بعد مدینے یا بقیع کے بازار میں کسی سامان کا بھاؤ تاؤ کر رہا ہو اور اللہ کی قسم کھا لے کہ اُس نے تو اِس کے عوض اتنی اور اتنی قیمت ادا کر رکھی ہے۔ چنانچہ دوسرا اُس پر بھروسا کرکے وہ سامان خریدلے۔( بخاری، رقم 2489)

ــــــ 2 ــــــ

ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :تین لوگ ایسے ہیں جن سے اللہ نہ بات کریں گے،نہ قیامت کے دن اُن کی طرف نگا ہ التفات سے دیکھیں گے اور نہ اُنھیں پاک کریں گے اور اُن کے لیے درد ناک عذاب ہے۔ ابوذر کہتے ہیں: میں نے کہا: یا رسول اللہ، کون ہیں وہ لوگ؟ وہ تو پھر سخت نقصان اور خسارے میں پڑ گئے۔ آپ نے فرمایا: ایک وہ احسان جتانے والا جو کوئی چیز بھی دے تو لازماً احسان جتاتا ہے۔ دوسرا جو جھوٹی قسم کھا کر سامان بیچتا ہے اور تیسرا جو اپنا تہ بند (متکبرانہ) نیچے لٹکائے رکھتا ہے۔(بخاری، رقم2946)

ــــــ 3 ــــــ

عبداللہ بن دیلمی کا بیان ہے کہ میں عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہ اُس وقت طائف میں اپنے باغ میں تھے،جسے ’وہط‘ کہا جاتاتھا۔وہ قریش کے ایک نوجوان کا ہاتھ پکڑے ہوئے ٹہل رہے تھے، جس کے بارے میں لوگوں کا خیال تھا کہ شراب پیتا ہے۔ میں وہاں پہنچا تو اُنھوں نے بتایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا ہے کہ آپ نے فرمایا: جو شخص شراب کا ایک گھونٹ پیے گا، اُس کی توبہ چالیس روز تک قبول نہیں کی جا ئے گی۔ اِس کے بعد، البتہ اُس نے توبہ کی تو اللہ مہربانی فرمائے گا اور اُسے معاف کر دے گا۔ اُس نے پھر یہی کیا اور دوبارہ شراب پی لی تو دوبارہ یہی معاملہ ہوگا اور اُس کی توبہ چالیس روز تک قبول نہیں کی جائے گی۔اِس کے بعد، البتہ اُس نے توبہ کی تو اللہ دوبارہ مہربانی فرمائے گا اور اُس کی توبہ قبول کر لے گا۔ لیکن اُس نے پھر یہی کیا تو اللہ پر لازم ہے کہ اُس کو ہلاکت کی کیچڑ پلادے۔

(السنن الصغریٰ، نسائی، رقم 5604)

تفہیم الآثار