مواد پر جائیں

فرعون کی لاش اورقرآن مجید کا بیان تفسیری آرا کا ایک تحقیقی و تجزیاتی مطالعہ

تحقیق وتالیف: ڈاکٹر محمد عامر گزدر اردو

(سوال وجواب کے اسلوب میں)

(3)

]’’نقطۂ نظر‘‘ کا یہ کالم مختلف اصحاب ِفکر کی نگارشات کے لیے مختص ہے۔ اس

میں شائع ہونے والے مضامین سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔[

سوال:فرعون کے غرقاب ہونے کے اِس واقعے کے بعد اِس کی لاش کا کیا ہوا؟

جواب: اِس کے بعد لاش کے ساتھ کیا ہوا، یہ بات نہ قرآن کا موضوع ہے اور نہ خود تورات میں کہیں مذکور ہے۔ اِس حوالے سے جو بات بھی کہی جائے گی،محض تاریخ کی بنیاد پر کہی جائے گی۔ کلام الہٰی اِس پر بالکل خاموش ہے۔ لوگوں کے دیکھنے کے بعد فرعون کی لاش واپس سمندر میں ڈوب گئی؛ اُسی جگہ پر پڑی گل سڑ گئی؛ اِس کی قوم کے لوگ اِسے اٹھالے گئے یا پھر کہیں دفن کر دیا یا حنوط لگا کر کہیں محفوظ کرنے کی کوشش کی؛ اِن سب تاریخی امکانات میں سے قرآن اور تورات نے کسی چیز کی طرف کوئی اشارہ تک نہیں کیا۔ یہ تاریخ کا موضوع ہے اور علمِ تاریخ کی بنیاد پر اِس کے بارے میں علمی لحاظ سے کوئی حتمی بات نہیں کہی جا سکتی ہے۔ کتابوں میں، البتہ اِس حوالے سے مختلف قصے مل جاتے ہیں، جیسے مثال کے طور پر ’’تفسیر قرطبی‘‘ میں مذکور ہے کہ جب لوگوں نے غرقاب ہونے کے بعد فرعون کی لاش دیکھی تو اُنھیں اِس کی ہلاکت کا یقین ہوگیا اور پھر سمندر نے اِسے دوبارہ نگل لیا۔ 1

اِسی طرح ’’تفسیر التحریر والتنویر‘‘ میں بیان ہوا ہے کہ بہ ظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ مصر میں پیچھے موجود قومِ فرعون کے لوگوں نے جب دیکھا کہ کافی وقت ہو گیا ہے، فرعون اور اِس کا لشکر ابھی تک واپس کیوں نہیں آیا۔ چنانچہ وہ تلاش میں نکل کھڑے ہوئے اور پھر دیکھا کہ بحرِ احمر کے مغربی ساحل پر صرف فرعون کی لاش پڑی ہوئی ہے۔ سو وہ اِسے اٹھا کر شہر میں لے گئے اور یہ اُن کے لیے سامانِ عبرت بن گئی۔ علاوہ ازیں، ابن عاشور نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ غرقاب ہونے کے بعد جب فرعون کی لاش سمندر سے باہر آئی تو اِسے مصر کی وادیِ ملوک میں دفن کر دیا گیا۔ 2

اِس وضاحت کی روشنی میں جاننا چاہیے کہ جن مفسرین نے اپنی تفاسیر میں زیرِ بحث آیت کےتحت یہ بات بیان کی ہے کہ عصر ِحاضر میں فرعون کی لاش کے مصر میں دریافت ہونے کا دعویٰ قرآن کے بیان کی حقانیت کی دلیل ہے، جیسا کہ مثال کے طور پر امام امین احسن اصلاحی اور مفتی تقی عثمانی صاحب نے صراحت کی ہے، 3 اِن کی یہ بات تساہل پر مبنی اور محلِ نظر ہے، اِس لیے کہ قرآن نے فرعون کی لاش کو محفوظ اور باقی رکھنے یا کسی زمانے میں لوگوں کے سامنے منکشف کردینے کا کوئی بیان نہیں دیا ہے، جیسا کہ اِس تحقیق میں پیچھے بالتفصیل بیان ہوچکا ہے۔اِس معاملے کا تعلق سر تا سر تاریخ اور آثارِ قدیمہ کی تحقیق سے ہے۔ یہ فرعونِ موسیٰ کی لاش ثابت ہوتی ہے یا نہیں، اِس کو صرف اِسی علم کی بنیاد پر پرکھ کر حکم لگایا جائے گا۔ قرآن مجید اِس پر بالکل خاموش ہے۔یعنی آج بالفرض کوئی لاش علمِ آثار کی بنیاد پر فرعونِ موسیٰ کی لاش ثابت بھی ہوجائے تو یہ قرآن کی کسی پیشین گوئی کی حقانیت کی دلیل نہیں ہوگی، بلکہ محض ایک تاریخی چیز ہوگی، اِس لیے کہ قرآن نے ایسا کوئی دعویٰ نہیں کیا ہے۔

سوال: فرعون کی ہلاکت کے موقع پر وہاں موجود لوگوں نے تو ظاہر ہے کہ اِس کی لاش لازماً دیکھی ہوگی، لیکن کیا بعد کی نسلوں میں اِس لاش کے وجود و بقا کے کوئی شواہد بھی تاریخ میں ہمیں ملتے ہیں؟

جواب: قرآن کے بیان کے مطابق فرعون کی لاش کا جو مشاہدہ اُس وقت اِس کی قوم نے کیا، اِس واقعے کے بعد سے آج تک کم وبیش ساڑھے تین ہزار سال کا عرصہ گزر چکا ہے، لیکن علمِ تاریخ و آثار کی بنیاد پر ایسی کوئی بات ثابت نہیں ہے کہ فرعون کے بعد کی نسلوں میں کہیں یہ لاش محفوظ پائی گئی ہو اور یہ کہ اُن نسلوں نے اپنے زمانوں میں بھی اِس کا کبھی مشاہدہ کیا تھا۔

سوال:کہا جاتا ہے کہ فرعونِ موسیٰ ہی کی لاش آج بھی قاہرہ کے ایک عجائب گھر میں محفوظ ہے، اِس دعوے کی کیا حقیقت ہے؟

جواب: اِس سوال کے جواب میں مندرجہ ذیل چند نکات پیش خدمت ہیں:

ایک یہ کہ اوپر یہ بات بالتفصیل بیان ہوچکی ہے کہ یہ بات قرآن کا اپنا دعویٰ تو قطعاً نہیں ہے کہ فرعون کی لاش آیندہ کے لیے محفوظ کی جائے گی۔

دوسرا قابلِ غور نکتہ یہ ہے کہ فرعون کے ساتھ سابقہ سیدنا موسیٰ اور بنی اسرائیل کو پیش آیا تھا، لیکن اِس کی ہلاکت کے بعد اِس کی لاش کے ساتھ اِس خدائی معجزے کا بیان خود تورات میں بھی کہیں مذکور نہیں ہے، جب کہ عقلی اقتضا کے لحاظ سے دیکھا جائے تو قرآن سے بھی پہلے اِس ’معجزے‘ کا بیان خود تورات میں ہونا چاہیے تھا۔ اور بالفرض فرعون کی ہلاکت کے بعد اِس کی لاش اگر بنی اسرائیل کے ہاتھ آجاتی تو اُس صورت میں بھی ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا وہ اِسے محفوظ رکھنے اور سنبھال کر رکھنے کی چیز سمجھتے یا ٹکڑے ٹکڑے کردیتے یا کوئی اور معاملہ کرتے؟ ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں سیدنا موسیٰ علیہ السلام بھی وہی طرز ِ عمل اپناتے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ بدر میں ہلاک ہونے والے سردارانِ قریش کی لاشوں کے ساتھ کیا تھا۔ یعنی بدر کے ایک کنویں میں ڈال کر اُن کی لاشوں کو آپ نے چھپانے کا حکم دیا تھا۔4 غرض یہ کہ ایسی مفروضہ صورت میں بھی اِس لاش کے دنیا میں باقی اور محفوظ رہنے کا کوئی امکان نہیں تھا۔

تیسرے یہ کہ جس زمانے میں قرآن نے فرعون کی لاش کے بارے میں یہ کلام کیا تھا، وہ آج سے 1400 سال سے بھی زیادہ قدیم بات ہے۔ اُس زمانے میں بھی دنیا میں فرعون کی لاش کی موجودگی تو بعید بات ہے، اِس کا دنیا میں کہیں کوئی ذکر تک موجود نہیں تھا، جب کہ فرعون کا یہ واقعہ نزولِ قرآن سے بھی کم وبیش دو ہزار سال قدیم تھا۔

بالفرض اگر قرآن نے اِس بات کی واقعتاً صراحت کی ہوتی کہ فرعون کی لاش کو بعد کے زمانوں کے لوگوں کے مشاہدے کے لیے اللہ تعالیٰ خود باقی ومحفوظ رکھیں گےتو اُس صورت میں اِس لاش کو نزولِ قرآن سے قبل بھی دنیا میں محفوظ ہونا چاہیے تھا اور قرآن کے مخاطبین کے سامنے بھی اِس کی لاش لوگوں کو معلوم ہونی چاہیے تھی، جب کہ اِس کے برعکس یہ معلوم ہے کہ فرعون کی لاش نہ قرآن سے پہلے کے زمانے میں کہیں موجود تھی اور نہ نزولِ قرآن کے بعد اِس کا کہیں کوئی وجود تھا۔

چوتھے یہ کہ مسلمانوں میں قرآن کے جمہور علما ومفسرین نے بھی اپنی کتب وتفاسیر میں فرعون کی لاش کے دنیا میں موجود ومحفوظ ہونے کا کبھی کوئی مفہوم قرآن سے سمجھا ہے، نہ بیان کیا ہے۔

پانچویں یہ کہ قاہرہ کے عجائب خانے میں موجود لاش کی دریافت کو ابھی ڈیڑھ سو سال بھی نہیں ہوئے ہیں۔ یہ 1881ء میں دریافت ہوئی تھی۔5 اور مصر کے ہر بادشاہ کا لقب فرعون ہوا کرتا تھا۔ سیدنا موسیٰ کا مخاطب بادشاہ اصل میں کون شخص تھا، اُس کا نام کیا تھا؛ خود اِس بارے میں اہل علم وتاریخ کے مابین بہت اختلافات پائے جاتے ہیں۔ اور مصر میں موجود یہ لاش کس فرعون کی ہے، یہ بات بھی علم ِآثار کی بنیاد پر قطعیت سے ثابت نہیں ہے۔

بالفرض اگر اللہ تعالیٰ فرعون کی لاش کو محفوظ رکھنے کی یہ پیشین گوئی قرآن میں بیان فرما دیتے تو اُس صورت میں یہ ممکن نہیں تھا کہ سیدنا موسیٰ کے زمانے سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت تک اور پھر نزولِ قرآن کے بعد بھی 1881ء تک یہ لاش دنیا کی نظر سے اوجھل رہتی، اِس صورت میں تو نزولِ قرآن کے زمانے میں بھی نہ صرف یہ کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اِس لاش کے بارے میں متجسس ہوتے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اِس کے مصداق کے بارے میں دریافت کرتے، بلکہ قرآن کے منکر بھی ضرور اِس کتاب کے بیان پر یہ اعتراض و مطالبہ کرتے کہ اللہ کی محفوظ کردہ فرعون کی یہ لاش دنیا میں کہاں ہے؟ قرآن کا یہ بیان اگر سچا ہے تو ہمیں یہ لاش صحیح وسالم دکھاؤ تاکہ ہم سمجھیں کہ یہ واقعی خدا کی کتاب ہے۔غرض یہ کہ یہ سب کچھ اِس وجہ سے رونما نہیں ہوا کہ در اصل قرآن نے ایسی کوئی پیشین گوئی کی تھی، نہ قرآن کے مخاطبین نے ایسی کوئی بات قرآن سے سمجھی تھی۔

چھٹے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے 10 سال بعد سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت میں ملکِ مصر فتح ہو گیا تھا۔ اُس زمانے میں سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ وہاں کے والی تھے۔6 لہٰذا فرض کیجیے کہ اگر قرآن نے واقعی اِس بات کی صراحت کی تھی کہ فرعون کی لاش دنیا میں باقی ومحفوظ رہے گی اور آج مصر میں دریافت شدہ لاش اُسی فرعون کی ہے تو پھر فتحِ مصر کے بعد مسلمانوں نے اُس زمانے میں اِس لاش کو وہاں کیوں دریافت نہیں کیا؟ بالبداہت واضح ہے کہ وہ قرآن کی اِس آیت سے ایسا کوئی معنی نہیں سمجھے تھے۔ مزید برآں، آج مصر ہی میں دریافت شدہ جس لاش کے بارے میں بعض لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ فرعونِ موسیٰ کی لاش ہے، اِس کے بارے میں یہ نہایت عجیب بات ہے کہ یہ لاش اگر واقعی سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے سے مصر میں موجود تھی تو صحابۂ کرام کو فتح مصر کے بعد یہ لاش وہاں کیوں دکھائی نہ دی؟ یہ دنیا کو 1881ء میں کیوں ملی ہے؟

ساتویں یہ کہ علمِ تاریخ وآثار کی روشنی میں بھی دیکھا جائے تو مصر کی ’جامعہ اسکندریہ‘ میں تاریخِ مصر کےاستاذ پروفیسر ڈاکٹر محمد بیومی مھران نے اپنی کتاب ’’دراسات تاریخیۃ من القرآن الكريم (2) فی مصر‘‘میں اِس بات کو موکد کیا ہے کہ باوجود اِس کے کہ مصر میں اِس کی قدیم تہذیب کے تاریخی آثار بہ کثرت موجود ہیں، لیکن اِن میں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے مخاطب فرعون کی شخصیت اور بنی اسرائیل کے ساتھ اِس کے معاملے کا کوئی اشارہ تک موجود نہیں ہے۔7

مصری علماے آثار میں سے ڈاکٹر زَاہی حواس کہتے ہیں کہ یہ بات دنیا میں موجود آج کسی انسان کے علم میں نہیں ہے کہ متعین طور پر سیدنا موسیٰ کا مخاطب ’فرعون‘ کون شخص تھا اور نہ کسی دلیل سے اِس کی شخصیت کو ثابت کیا جا سکتا ہے۔جو لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ فرعون دراصل مرنبتاح (مِنفِتاح) تھا، وہ علم وفہم سے عاری ہیں۔علاوہ ازیں، ڈاکٹر زَاہی کا کہنا ہے کہ ایسی سب روایات بھی جھوٹی اور من گھڑت ہیں کہ ’مرنبتاح‘ یا ’رعمسیس دوم‘ نے بنی اسرائیل کو مصر سے جلا وطن کیا تھا۔8

علاوہ ازیں، مصر کے آثارِ قدیمہ کے ایک اسکالر ڈاکٹر حسین عبدالبصیر نے صراحت کی ہے کہ سیدنا موسیٰ کے مخاطب فرعون کی لاش کی شناخت کا معاملہ نہایت پیچیدہ ہے اور مصری علمِ آثار اب تک اِسے قطعی طور پر حل نہیں کر سکا۔ اِس ضمن میں پیش کی جانے والی تمام آرا محض مفروضات کی حیثیت رکھتی ہیں، کیونکہ اِن کے حق میں آثارِ قدیمہ کا کوئی براہِ راست ثبوت موجود نہیں ہے۔

ڈاکٹر عبد البصیر نے مزید اِس بات کی صراحت بھی کی ہے کہ آثارِ قدیمہ کے ایسے کوئی بھی متون موجود نہیں ہیں جو سیدنا موسیٰ یا بنی اسرائیل کےکسی بھی مصری فرعون سے تعلق کی تائید کرتے ہوں،یہی وجہ ہے کہ مذہبی روایات اور آثارِ قدیمہ کے تاریخی حقائق کے مابین ربط قائم کرنا ایک پیچیدہ اور الجھا ہوا معاملہ بن گیا ہے۔ 9

اِسی طرح ڈاکٹر حسین عبدالبصیر نے ایک اور موقع پر وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے :’’ہم بہ طور ماہرینِ آثارِ قدیمہ اور مصریات کے علما کے، یقینی طور پر یہ نہیں جانتے کہ مصر میں سیدنا موسیٰ کا مخاطب فرعون اُس زمانے میں کون تھا، لہٰذا ہم قطعی طور پر یہ نہیں کہہ سکتے کہ فرعونِ موسیٰ خاص طور پر بادشاہ رعمسیس دوم ہی تھا، جس کی لاش مصر کے عجائب گھر میں آج موجود ہے اور یہ بھی جاننا چاہیے کہ رعمسیس دوم کی اِس لاش کے سمندر میں غرق ہونے کے قطعاً کوئی شواہد موجود نہیں ہیں‘‘۔ 10

مندرجہ بالا تحقیق وتفصیل سے متحقق ہوا کہ فرعون کی لاش کی بقا وحفاظت کی نہ قرآن نے کوئی پیشین گوئی کی ہے، نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی کوئی بات ارشاد فرمائی ہے، نہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے فرعون کی لاش کی دریافت کے لیے کبھی کوئی جستجو اور سوال کیا، نہ معترضینِ قرآن نے اِس حوالے سے قرآن پر ایسا کوئی اعتراض کبھی کیا، نہ قرآن کے جمہور مفسرین نے ایسا کوئی دعویٰ قرآن سے سمجھا اور نہ عصر حاضر میں مصر کے علماے آثار کے نزدیک فرعونِ موسیٰ کی لاش کا وجود مصر میں ثابت ہے۔

بالخصوص قرآن کی نسبت سے اِس دعوے کو بیان کرنا اور انیسویں صدی عیسوی میں ایک لاش کی انسانی دریافت اور محض دعوے کو خدائی معجزہ قرار دینا، قرآن کے منہ میں ایسی بات ڈالنے کے مترادف ہے جو اُس نے بالکل نہیں کہی۔

چنانچہ مفتی شفیع عثمانی صاحب نے بجا طور پر لکھا ہے:

’’کچھ عرصہ ہوا اخباروں میں یہ خبر چھپی تھی کہ فرعون کی لاش صحیح سالم بر آمد ہوئی اور عام لوگوں نے اِس کا مشاہدہ کیا، اور وہ آج تک قاہرہ کے عجائب گھر میں موجود ہے، مگر یہ یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ یہ وہی فرعون ہے جس کا مقابلہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ہوا تھا یا کوئی دوسرا فرعون ہے، کیونکہ لفظ فرعون کسی ایک شخص کا نام نہیں، اُس زمانے میں مصر کے ہر بادشاہ کو فرعون کا لقب دیا جاتا تھا۔‘‘ 11

سوال: عرب کے محقق علماے عصر زیرِ بحث آیت سے کیا مفہوم اخذ کرتے ہیں؟

جواب: عرب کے جن معاصر علما ومحققین نے قرآن کے بیان، تاریخ اور علمِ آثار کے حقائق کی روشنی میں اِس تصور کو رد کیا ہے کہ فرعون کی لاش کو اللہ تعالیٰ نے بعد کے زمانوں تک محفوظ رکھنے کی صراحت فرمائی ہے، اُن میں راقم السطور کے اب تک کے استقصا کے مطابق نمایاں اصحابِ علم کے نام یہ ہیں: الشیخ محمدبن صالح العثیمین، الشیخ صالح الفوزان، علامہ یحییٰ بن علی الحجوری، شیخ محمد بن صالح المنجد اور شیخ عبد الرحمٰن الشثری۔ اِن سب اہلِ علم کا موقف بھی یہی ہے کہ فرعون کی لاش کو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں اُسی موقع پر مشاہدہ کرنے والوں کے لیے اِس کے عبرت ناک انجام کی ایک نشانی قرار دیا ہے۔باقی دنیا کے لیے یہ لاش نہ کوئی نشانی تھی اور نہ اُنھوں نے اِسے کبھی دیکھا۔

سوال: کیا فرعون کے اِس واقعے میں بعد کے زمانوں کے انسانوں کے لیے بھی کوئی نشانی یا سبق پایا جاتا ہے؟

جواب:قومِ فرعون کی بعد کی نسلوں اور قیامت تک کے سب انسانوں کے لیے اب فرعون کی لاش نہیں، بلکہ اِس کے رسوا کن انجام کی وہ سرگذشت جس کے مطابق ایک قیامتِ صغریٰ فرعون اور اِس کے پورے لشکر پر نازل ہوئی اور اب رہتی دنیا تک یہ ایک تاریخی حقیقت کے طور پر معلوم و مسلّم ہے، بہرحال ساری انسانیت کے لیے قیامتِ کبریٰ کی حقانیت کی ایک نشانی اور تاریخی دلیل کے طور پر بالکل موجود ہے، جس طرح حق کے سامنے سرکش ہونے والی باقی رسولوں کی اقوام کی سرگذشتیں آج بھی قیامت کبریٰ کے تاریخی شواہد کے طور پر دنیا میں موجود ہیں۔

خلاصۂ بحث

1۔ سیدنا موسیٰ کے مخاطب فرعون کے سمندر میں غرقاب ہونے کے بعد اِس کی ہلاکت کا واقعہ کم وبیش دو ہزار سال بعداللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں سورۂ یونس (10) کی آیت 92 میں بیان کیا ہے۔

2۔ اِس آیت کی توضیح میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی روایت منقول نہیں ہے۔

3۔ طبقۂ صحابہ میں سے صرف سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اِس باب میں ایک اثر نقل ہوا ہے، جو درایت کے اعتبار سے محل نظر ہے۔

4۔ اِس واقعے سے متعلق قرآن مجید نے بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرعون کو اِس کی ہلاکت سے پہلے بہ طور تنبیہ جو آخری بات براہِ راست فرمائی تھی، اُس کی تفصیل یہ ہے کہ موت کی صورت میں اب تُو خدا کے عذاب سے تو نہیں بچ سکتا، لیکن تیرے پیچھے جو لوگ موجود ہیں، اُن کو تیرے اِس انجامِ ہلاکت اور عذاب کی یقین دہانی کے لیے تیری لاش کو میں سمندر سے بچا کر باہر نکالوں گا، تا کہ وہ اپنی آنکھوں سے اِسے دیکھ کر تیرے بارے میں اپنے باطل تصورات کی اصلاح بھی کرلیں اور اپنے علم وعمل میں عبرت بھی حاصل کریں۔

5۔ قرآن مجید نے فرعون کی لاش کے بارے میں ایسی کوئی بات ارشاد نہیں فرمائی کہ اِسےسمندر سے نکالنے کے بعد اللہ تعالیٰ اِس کو باقی اور محفوظ رکھنے کا اہتمام بھی کریں گے، تاکہ اِس کی قوم کے علاوہ آیندہ آنے والی نسلیں بھی اِس لاش کا مشاہدہ کرتی رہیں۔اور یہی فہم امت کے صدر اول سے عصر حاضر تک کے جمہور علما ومفسرین نے اِس آیت کی نص سے حاصل کیا ہے۔ قدیم اور تمام عرب مفسرین میں سےکسی مفسر نے قرآنِ مجید کے بیان سےکبھی یہ بات نہیں سمجھی کہ خود قرآن نے فرعون کی لاش کو آیندہ نسلوں کے لیے محفوظ رکھنے کا دعویٰ کیا ہے۔

6۔ بر صغیر پاک وہند کے جن قرآنی مترجمین ومفسرین نے قرآن کی زیرِ بحث آیت کا اِس طرح ترجمہ کیا ہے کہ ’’اب تو ہم صرف تیری لاش ہی کو بچائیں گے تا کہ تُو بعد کی نسلوں یا اپنے بعد آنے والوں کے لیے نشانِ عبرت بنے‘‘؛ اُن اصحابِ علم سےمتعلقہ آیت کے ترجمے میں تساہل ہوا ہے، اِس لیے کہ ایک تو عربیت کے لحاظ سے آیت کے الفاظ اور جملے کی تالیف اور اِس کا اسلوب اِس ترجمے کی تائید نہیں کرتا اور دوسرے یہ کہ بعد کی نسلوں کے اِس لاش کو دیکھنے کو تاریخی اور عقلی اساسات پر بھی ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ صدر اول سے آج تک جمہور علماے تفسیر نے اِس آیت سے ایسی کوئی بات سمجھی ہے، نہ بیان کی ہے۔

7۔ جب قرآن نے فرعون کے اِس واقعے کی خبر دی ہے تو بالبداہت واضح ہے کہ اِس کی لاش کو اُس وقت پیچھے موجود قوم نے لا محالہ دیکھا ہوگا۔تاہم، اِس کے بعد اِس لاش کا کیا ہوا، قرآن نے اِس پر کوئی کلام نہیں کیا۔اِس سوال کا تعلق علمِ تاریخ سے ہے۔ اِس باب میں ہمیں کوئی معلومات نہ دوسرے صحیفوں، مثلاً تورات وغیرہ سے ملتی ہیں اور نہ تاریخ کے مصادر اِس بارے میں کوئی رہنمائی کرتے ہیں۔

8۔ اِس واقعے کو آج کم وبیش ساڑھے تین ہزار سال گزر چکے ہیں، لیکن خود مصر کے تاریخی مصادر ومآخذ بھی نہ صرف یہ کہ فرعون کی لاش کے بارے میں یکسر خاموش ہیں، بلکہ علمِ تاریخ و آثار کے علما کے نزدیک آج تک اِس بات کو بھی متعین نہیں کیا جا سکا کہ مصر کی تاریخ کے فراعنہ میں سے سیدنا موسیٰ کا مخاطب فرعون کون شخص تھا۔اِس شعبے کے علما کا کہنا ہے کہ مصر کے تاریخی آثار و متون میں اِنھیں کسی مصری فرعون کے سیدناموسیٰ اور بنی اسرائیل کے ساتھ کسی تعلق اور معاملے کے بھی کوئی شواہد نہیں ملتے، یعنی اِس پہلو سے بھی مراجعِ تاریخ بالکل خاموش ہیں۔

9۔ مصر کے ایک عجائب خانے میں جن لاشوں کے بارے میں دنیا میں شہرت ہوئی ہے کہ اُن میں فرعونِ موسیٰ کی لاش بھی موجود ہے،جو 1881ء میں حنوط شدہ حالت میں دریافت ہوئی تھی؛ یہ مقدمہ خود مصر کے علماے آثار قدیمہ کے نزدیک بھی ثابت نہیں ہے۔اُن کا کہنا ہے کہ اِس طرح کی باتیں بعض لوگوں کے محض اندازے اور خیالات ہیں۔ علمی طور پر یہ تاریخی دعویٰ ثابت نہیں کیا جاسکتا۔

اللهم أرنا الحق حقًّا وارزقنا اتباعه

وأرنا الباطل باطلًا وارزقنا اجتنابه

  1. ۔دیکھیے: الجامع لاحكام القرآن، القرطبی8/ 380۔
  2. ۔ دیکھیے:تفسیر التحریر والتنویر،طاہربن عاشور 11/ 280-281۔
  3. ۔دیکھیے:تدبر قرآن، مولانا امین احسن اصلاحی 4/84-85۔ آسان ترجمۂ قرآن، مفتی محمدتقی عثمانی 2/658۔
  4. ۔ دیکھیے: مسنداحمد، رقم 3962۔
  5. ۔دیکھیے: مجموعۃ من المؤلفين، الموسوعۃ العربيۃ العالميہ13 /350۔
  6. ۔ المنتظم فی تاريخ الاُمم والملوك،ابن الجوزی4/291 ۔
  7. ۔ دیکھیے:ص330-322۔
  8. ۔ لنک ملاحظہ کیجیے:< «عمود مرنبتاح» يعيد الجدل حول «فرعون موسى»>.
  9. ۔ لنک ملاحظہ کیجیے:< تصريحات متناقضة حول هوية فرعون الخروج بين الباحثين المصريين – سلاش ويب>.
  10. ۔لنک ملاحظہ کیجیے: <معركة فكرية جديدة.. حسين عبدالبصير لـ”علي جمعة”: رمسيس الثاني لم يمت غرقًا>.
  11. ۔ دیکھیے:تفسیر معارف القرآن، مفتی محمد شفیع عثمانی4/ 567۔