مواد پر جائیں

علامات قیامت اور تاریخی واقعات: بائیبل اور قرآن کی روشنی میں (12)

محمد سعد سلیم اردو

]’’نقطۂ نظر‘‘ کا یہ کالم مختلف اصحاب ِفکر کی نگارشات کے لیے مختص ہے۔ اس

میں شائع ہونے والے مضامین سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔[

گدھوں کی طرح زنا کرنا — قوموں کے درمیان عہدِ وفاداری کا انہدام

ایک حدیث میں ایک خوش گوار ہوا کا ذکر ہے، جو مومنوں کی روحوں کو اُن کی بغلوں کے نیچے سے آہستگی سے قبض کر لیتی ہے اور صرف وہ لوگ باقی رہ جاتے ہیں جو ’’گدھوں کی طرح زنا کرتے ہیں‘‘— اور اُنھی پر قیامت قائم ہو گی۔ 1

سیاق و سباق

اِس حدیث میں یہ واقعہ اُس دور کے بعد پیش آتا ہے جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور اُن کے ساتھی یاجوج و ماجوج کی ہلاکت کے بعد فراوانی میں زندگی گزار رہے تھے۔ اِس مضمون میں اِس کی تعبیر اُس غیر معمولی خوش حالی سے کی گئی ہے جو 1945ء کے بعد امریکہ اور اُس کے اتحادیوں کو حاصل ہوئی۔ لہٰذا اِس بیان کا موضوع بنیادی طور پر وہ اقوام ہیں جنھوں نے دوسری جنگِ عظیم کے فوراً بعد بے پناہ فائدہ اٹھایا— بر خلاف کمیونسٹ حکومتوں کے، جنھوں نے معاشی اصلاحات اپنانے کے بعد بہت دیر سے خوش حالی حاصل کی۔

علامت کی تعبیر

نبوی زبان میں ممالک یا قوموں کا زنا اُن لوگوں کی بے وفائی یا کھلم کھلا عہد شکنی کی نمایندگی کرتا ہے جو پہلے سے کسی عہد میں بندھے ہوئے ہوں۔ گدھے کے ذریعےسے اِس فعل کی تصویر کشی اُس عمل کی علانیہ اور بے شرمانہ نوعیت کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ علامت ایسی صورتِ حال کی عکاسی کرتی ہے جیسے کوئی شخص شادی شدہ رہتے ہوئے کھلے عام زنا کرے۔ نکاح — یعنی عہد — باقاعدہ طور پر ختم نہیں کیا جاتا، لیکن اُس کی روح مسلسل کھلی بے وفائی سے پامال ہوتی رہتی ہے۔

اِس علامت کی براہِ راست مماثلت بنی اسرائیل کے انبیا کے صحائف میں ملتی ہے۔ آٹھویں صدی قبل مسیح میں حضرت ہوسیع علیہ السلام نے شمالی مملکتِ اسرائیل کو ایک جنگلی گدھی سے تشبیہ دی جو اکیلی بھٹکتی ہے اور اپنے آپ کو عاشقوں کے ہاتھ بیچتی ہے— یہ مصر اور اشوریہ جیسی طاقتوں کے ساتھ موقع پرستانہ اتحاد کی تبدیلی کی طرف اشارہ تھا، جو خدا کے ساتھ اُن کے عہد کی روح کی خلاف ورزی تھی۔2 بعد ازاں حضرت حزقی ایل علیہ السلام نے اسرائیل کو مصر، اشوریہ اور بابل کے ساتھ بدکاری میں مبتلا دکھایا— یہ حریف قوموں کے ساتھ اتحاد بنانے کی کوششوں کی طرف اشارہ تھا، جب کہ وہ اپنی موجودہ عہدی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔3

یہ بات اہم ہے کہ حدیث میں جو ترتیب بیان ہوئی ہے — یعنی پہلے ایمان کا اٹھ جانا، پھر کھلے عام زنا ہونا — وہی ترتیب یہود کے انبیا کی تعلیمات میں بھی نظر آتی ہے۔ معاملہ ہمیشہ اِسی طرح ہوتا ہے: پہلے قوم کے دل سے عہد کی سچی پابندی ختم ہوتی ہے، پھر کھلی بے وفائی سامنے آتی ہے۔ قومی سطح پر یہ دونوں مرحلے ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں — یعنی جنگِ عظیم دوم کے بعد جو عالمی عہد قائم ہوا تھا، وہ قوموں کے نزدیک اپنی اخلاقی اہمیت کھو بیٹھا، اور پھر اُس کی کھلی خلاف ورزی عام بات بن گئی۔

مثالیں

اِس علامت کی موجودہ دور میں متعدد مثالیں دیکھی جا سکتی ہیں۔ 1998ء کے بعد سے خود امریکہ — جو 1945ء کے بعد کے عہد کا معمار تھا — نے اِس عہد کی روح کو سب سے نمایاں طور پر کھوکھلا کیا ہے۔ 1945ء کے بعد کا قانونی نظام بنیادی عہدوں پر قائم تھا: قوموں کی خودمختاری، اقوامِ متحدہ کے فریم ورک کے ذریعے سے اجتماعی تحفظ، اور یہ اصول کہ جنگ کے لیے یا تو دفاعِ نفس یا سلامتی کونسل کی اجازت درکار ہے۔ امریکی ماہرینِ قانون نے اقوامِ متحدہ کا چارٹر تیار کیا، اور پھر بھی یہ خود امریکہ ہی تھا جس نے اِس فریم ورک کو اختیاری سمجھنے کی مثال قائم کی— خفیہ طور پر نہیں جیسا کہ سرد جنگ کے دوران میں ہوتا تھا، بلکہ کھلم کھلا اور بغیر کسی ادارہ جاتی پردے کے۔یہ اخلاقی زوال امریکہ سے اُس کے اتحادیوں اور شراکت داروں تک پھیل گیا۔ 1945ء کے بعد کے نظام کا رسمی ڈھانچا بڑی حد تک برقرار ہے: معاہدوں پر دستخط ہوتے ہیں، رکنیتیں برقرار رہتی ہیں، سربراہی اجلاس منعقد ہوتے ہیں۔ تقریباً کسی ریاست نے باقاعدہ طور پر عہد نہیں توڑا۔ جو چیز منہدم ہوئی ہے، وہ روح ہے— وہ بنیادی تفہیم کہ یہ عہد حقیقی باہمی ذمہ داری کی نمایندگی کرتے ہیں، نہ کہ ایسے لین دین کے انتظامات جن کی پاس داری صرف سہولت کے وقت کی جائے۔

ذیل میں پہلے امریکہ اور پھر دیگر اقوام سے متعلق چند منتخب مثالیں پیش کی جا رہی ہیں:

• 1998ء کے بعد سے امریکی طرزِ عمل کی مثالیں: 1999ء میں نیٹو نے یوگوسلاویہ پر اٹھہتر دن بم باری کی، بغیر سلامتی کونسل کی کسی ایک قرارداد کے جو طاقت کے استعمال کی اجازت دیتی— یہ مغربی اتحاد کی پہلی بڑی فوجی کارروائی تھی جو مکمل طور پر اُس قانونی ڈھانچے سے باہر انجام دی گئی جو اُس کے اپنے سرکردہ رکن نے تعمیر کیا تھا۔ 2003ء میں امریکہ نے سلامتی کونسل کی واضح اجازت کے بغیر عراق پر حملہ کیا، ایسے ہتھیاروں کے دعووں کی بنیاد پر جو جھوٹے ثابت ہوئے، جب کہ معائنہ کار ابھی میدان میں موجود تھے— اِسے وسیع پیمانے پر 1945ء کے بعد کے قانونی نظام کی سب سے سنگین خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے۔ 2011ء میں جب سلامتی کونسل کی قراردادِ 1973ء نے لیبیا کے شہریوں کی حفاظت کے لیے نو فلائی زون کی اجازت دی تو نیٹو نے اِس کارروائی کو مکمل تبدیلیِ حکومت تک وسیع کر دیا، اختیار سے اِس قدر تجاوز کیا کہ روس اور چین نے عملاً کونسل کے عمل پر دوبارہ اعتماد کرنے سے انکار کر دیا۔ 2018ء میں امریکہ نے تصدیق شدہ تعمیل کے باوجود یک طرفہ طور پر ایران جوہری معاہدے سے دست برداری اختیار کی۔ سی آئی اے کی غیر معمولی حوالگی اور خودمختار ممالک میں بغیر رضامندی ڈرون حملوں نے خودمختاری اور انسانی قانون کے اُن اصولوں کو مزید کم زور کیا جو خود امریکہ نے مدوّن کیے تھے۔ 2026ء میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے پاس جنگ کے بعد کے فریم ورک کے تحت کوئی باقاعدہ قانونی چھتری نہیں تھی۔

• 1998ء کے بعد سے دیگر اقوام کے طرزِ عمل کی مثالیں:ترکی نے نیٹو میں رہتے ہوئے روسی ایس-400 میزائل خریدے۔ نیٹو اتحادیوں کے متفقہ دو فی صد دفاعی اخراجات کے ہدف کو کبھی مسترد نہیں کیا گیا— بس دو دہائیوں تک خاموشی سے نظرانداز کیا گیا۔ جرمنی نے امریکی جوہری چھتری تلے پناہ لیتے ہوئے روس کے ساتھ نورڈ اسٹریم (Nord Stream)پائپ لائنز تعمیر کیں۔ خلیجی ریاستوں نے امریکی سلامتی کی ضمانتوں کی توقع رکھتے ہوئے ہتھیاروں کے سودوں اور سرمایہ کاری کے لیے چین اور روس سے تعلقات بڑھائے۔ ہنگری نے یورپی یونین اور نیٹو کا رکن رہتے ہوئے روس پر یورپی یونین کی پابندیوں کو روکا۔ جاپان نے روس کے خلاف مغربی پابندیوں کے ساتھ باضابطہ طور پر ہم آہنگ ہونے کے باوجود روسی توانائی منصوبوں میں اپنی شراکت برقرار رکھی۔ برطانیہ نے اپنے انٹیلیجنس اتحادیوں کے سلامتی خدشات کے باوجود چینی کمپنیوں کو اہم قومی بنیادی ڈھانچے میں کردار ادا کرنے کی اجازت دی۔ اٹلی مغربی اتحاد کے نظام کا مکمل حصہ رہتے ہوئے چین کے بیلٹ اینڈ روڈ (Belt and Road) اقدام میں باضابطہ طور پر شامل ہونے والا جی سیون(G7) کا پہلا رکن بن گیا۔

تنبیہ

گدھے کی مثال بھی غور طلب ہے، کیونکہ یہ ایسا جانور ہے جو کھلے عام اور بغیر روک ٹوک کے ملاپ کرتا ہے۔ یہاں اصل بات صرف یہ نہیں کہ عہد توڑے جا رہے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ سب کے سامنے اور بے شرمی کے ساتھ توڑے جا رہے ہیں، جب کہ عہد کی ظاہری شکل ابھی بھی موجود ہے۔ یہی چیز موجودہ دور کو سرد جنگ کے زمانے سے ممتاز کرتی ہے۔ اُس دور میں خلاف ورزیاں تو ہوتی تھیں، مگر اُنھیں چھپایا جاتا تھا، کیونکہ عہد کی اخلاقی اہمیت اب بھی مانی جاتی تھی، لیکن جب چھپی ہوئی خلاف ورزی کھلی خلاف ورزی میں بدل جائے تو یہی اِس بات کی علامت بنتی ہے کہ ’’ایمان‘‘— یعنی یہاں سچی عہدی وفاداری — پوری طرح رخصت ہو چکا ہے۔

حدیث متنبہ کرتی ہے کہ یہی وہ کیفیت ہے جس پر قیامت واقع ہوگی۔

پرندوں کی طرح ہلکے، درندوں جیسی خواہشات رکھنے والے، اور بتوں کی عبادت کرنے والے — امریکی پالیسیوں کی ناپایداری، توسیعی عزائم اور قوم پرستی (2017ء–تاحال)

ایک اور حدیث میں پچھلی حدیث میں بیان کیے گئے اخلاقی زوال کی مزید وضاحت اور تفصیل بیان کی گئی ہے کہ جب شام کی ٹھنڈی ہوا مومنوں کی روحیں سمیٹ لے گی تو زمین پر صرف اشرار باقی رہ جائیں گے — ’’جو پرندوں کی طرح ہلکے اور درندوں جیسی خواہشات رکھنے والے ہوں گے۔‘‘ وہ نہ نیکی کو پہچانیں گے، نہ برائی سے گریز کریں گے۔ پھر شیطان اُن کے درمیان ظاہر ہوگا اور اُنھیں بتوں کی عبادت کا حکم دے گا، حالاں کہ وہ مادی آسایش اور خوش حالی کی زندگی گزاریں گے — تو صور پھونک دیا جائے گا۔ 4

پچھلی حدیث کے برعکس، جس میں یاجوج و ماجوج کی ہلاکت کے بعد کے واقعات بیان ہوتے ہیں، یہ روایت دجّال کی ہلاکت کے بعد کے مرحلے کا ذکر کرتی ہے، لہٰذا اِس کا اطلاق صرف امریکہ پر کیا گیا ہے۔

یہ حالات کچھ عرصے سے پروان چڑھ رہے تھے، تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ صدارت میں وہ خاص طور پر نمایاں ہو گئے۔ حدیث کے اجزا کو درجِ ذیل انداز میں سمجھا جا سکتا ہے:

• پرندوں کی سی سبک حالی — پالیسیوں کی ناپایداری: ’’سبک حالی‘‘ ایسے طرزِ عمل کی طرف اشارہ کرتی ہے جو کسی مضبوط بنیاد سے بندھا نہ ہو، بلکہ فائدے کے بدلتے ہی رُخ بدل لینے کو تیار رہے، جیسے پرندے ہوا کے ساتھ بہتے ہیں۔ یہ کیفیت پالیسیوں اور اتحادوں کی تیز رفتار تبدیلیوں میں دکھائی دیتی ہے، جہاں طویل مدتی وابستگیاں ذرا سی قیمت سامنے آتے ہی پسِ منظر میں چلی جاتی ہیں۔ ٹرمپ کے دورِاقتدار میں امریکی خارجہ پالیسی میں ایسے اچانک موڑ کثرت سے دیکھے گئے۔

• درندوں کے خواب — توسیعی محرک: حدیث میں ’’درندے‘‘ اُن قوتوں کی علامت ہیں جو غلبہ اور وسائل کے حصول کی خواہش سے محرک ہوں۔ موجودہ صورت میں اِس رجحان کی جھلک اُن بار بار دہرائی جانے والی تجاویز میں دیکھی جا سکتی ہے جن میں امریکہ کے گرین لینڈ، حتیٰ کہ کینیڈا کو بھی اپنے اندر شامل کرنے کے امکانات زیرِ بحث آئے، اور وینزویلا کے تیل کے گرد اختیار کی گئی جارحانہ سفارتی و معاشی حکمتِ عملی میں۔ یہ صورتِ حال اثر و رسوخ کو پھیلانے اور وسائل کو یقینی بنانے کی خواہش کی نشان دہی کرتی ہے۔

• نہ نیکی کا حکم دینا، نہ برائی سے روکنا : ماضی کی دہائیوں میں امریکہ عموماً اپنے اقدامات کو انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون جیسے اصولوں کے حوالے سے پیش کرتا تھا، چاہے عملی اطلاق منتخب ہی کیوں نہ ہو۔ حالیہ ماحول میں یہ زبان کم زور پڑ گئی۔ تعلقات زیادہ کھلے طور پر مفاد، دباؤ اور مصلحت کے پیمانوں میں بیان ہونے لگے؛ اتحادیوں کی حمایت یا ترک کرنا مشترکہ اقدار سے کم اور فوری افادیت سے زیادہ وابستہ دکھائی دیا۔ اگرچہ یہ تبدیلی ٹرمپ سے شروع نہیں ہوئی، مگر اُن کے دور میں غیر معمولی حد تک صراحت کے ساتھ سامنے آئی۔

• شیطان کا ظہور — ایک خودپسند رہنما کی علامت: شیطان کی اصل فطرت تکبر اور خود پسندی پر مبنی ہے، اُس نے حضرت آدم علیہ السلام کے سامنے سجدہ کرنے سے غرور کے باعث انکار کیا۔ حدیث اِس جانب اشارہ کرتی ہے کہ ایک ایسا رہنما اُبھرے گا جو اِسی تکبر، خود پرستی، اور عظمت کے خمار میں مبتلا ہوگا — جو شیطان کی طرح اپنی بڑائی کا اِظہار بے شرمی سے کرے گا۔

• بتوں کی عبادت کا حکم، حتیٰ کہ جب وہ خوش حال ہوں— قوم پرستی کی ترویج: چونکہ یہاں بات قوموں اور سلطنتوں کی ہو رہی ہے، اِس لیے ’’بت پرستی‘‘ سے مراد کسی پتھر کے بت کی پوجا نہیں، بلکہ اُس خودساختہ مثالی شبیہ کی عبادت ہے جو ایک قوم اپنے بارے میں بنا لیتی ہے — ایک کامل، طاقت ور اور پاکیزہ قوم کی شبیہ۔ جب کوئی قوم اپنے آپ کو ہی مقدس ماننے لگتی ہے تو اُس کے اپنے مفادات سب سے بڑی نیکی بن جاتے ہیں۔ اخلاقی یا آفاقی اصول اُس کے سامنے ثانوی ہو جاتے ہیں۔ کتابِ مکاشفہ میں اُن لوگوں کا ذکر ہے جنھیں ’’اُس درندے کی عبادت کا کہا گیا جو سمندر سے اُبھرا۔‘‘ 5 یہ تصویر رومی سلطنت کی علامت تھی — ایک ایسی قوم جو اپنی طاقت اور جاہ و جلال کی پوجا کرتی تھی۔ اِسی طرح امریکہ کے صدر، ڈونلڈ ٹرمپ نے 2017ء میں اقوامِ متحدہ میں اپنی تقریر کے دوران میں قوم پرستی کو اِس طرح پیش کیا، جیسے یہ قوموں کی نجات کا راستہ ہو۔6 امریکہ میں قوم پرستی کے اِس رجحان کا اظہار ‘‘Make America Great Again’’ جیسے نعروں کے ساتھ ہوا، حالاں کہ امریکہ اب بھی دنیا کا سب سے زیادہ دولت مند ملک ہے—یعنی وہی مادی خوش حالی اور اخلاقی زوال، جس کی پیشین گوئی حدیث میں کی گئی تھی۔

آخرکار، حدیث کے مطابق، اِن تمام واقعات کے بعد قیامت برپا ہوگی۔

[ باقی]

  1. ۔ مسلم، رقم 2937۔
  2. ۔ ہوسیع 8:8-10۔
  3. ۔ حزقی ایل16: 26-29، 23: 1-21۔
  4. ۔ مسلم، رقم 2940۔
  5. ۔ مکاشفہ 13 : 14-15۔
  6. ۔ Donald Trump, ‘‘Trump pitches nationalism in UN speech’’, YouTube video, 3:29, posted by McClatchy Washington Bureau, September 24, 2019:https://www.youtube.com/watch?v=CBlChsxkeak.