ملک سبأ کے دارالحکومت مأرب کے جنوب مغرب میں چند میل کے فاصلے پر کو ہسارِ ابلق کے دو حصوں کے درمیان وادی ادینہ (Adana) کے سیلاب کی روک تھام، نیز آب پاشی کی غرض سے قدیم شاہانِ یمن نے ایک زبردست بند تعمیر کیا تھا جو ’’سدِّ مأرب‘‘ کے نام سے مشہور ہے اور جس کے بانیوں کے سلسلے میں مختصر بحث اوپر گزر چکی ہے۔ یہ ’’سدّ‘‘ ایک تاریخی حقیقت ہے جس کے کھنڈر آج بھی باقی ہیں۔ Th.S.Arnaud نے ان آثار کو دریافت کیا اور 1843 ء میں جان جوکھوں میں ڈال کر ساٹھ کے قریب کتبات نقل کیے اور ان آثار کا تفصیلی بیان فرنیچ ایشیاٹک سوسائٹی کے جرنل میں کیا۔1 سید سلیمان ندوی کے بقول Arnaud کی مہیا کی ہوئی تفصیلات طبری اور بغوی کی تفسیر میں دی ہوئی تفصیلات سے مطابقت رکھتی ہیں۔ سدِّ مأرب مہارتِ تعمیر کا ایک عظیم الشان نمونہ تھا۔ اس میں اوپر سے نیچے تک بہت سی کھڑکیاں تھیں جو حسبِ ضرورت کھولی اور بند کی جاسکتی تھیں۔ مشرق و مغرب کی سمت دو بڑے بڑے دروازے تھے جن سے تقسیم ہو کر پانی چپ و راست کی زمینوں کو سیراب کرتا تھا۔2
سدِّ مأرب کی تباہی کا باعث ایک زبردست سیلاب بتایا جاتا ہے جس کے بعد اہل یمن کی شوکت و عظمت کا سورج غروب ہو گیا اور وہ پرا گندہ ہو کر بڑے پیمانے پر شمالی عرب کی جانب ہجرت کر گئے۔ اس حادثے کی تفصیل قدیم عرب روایات کے بموجب یوں ہے :
عمر و بن عامر’’ماء السماء، الملقب بمزيقياء3 بادشاہ یمن کے پاس ایک کا ہن عورت تھی4 جو طریفۃ الخیر‘‘ کہلاتی تھی۔5 اس نے بعض عجیب و غریب ڈراؤنے خواب دیکھے اور ایک سیلاب کی پیش گوئی کی۔ عمرو نے پوچھا: اُس کی علامت کیا ہے؟ طریفہ نے ہدایت کی کہ وہ سد مأرب کی طرف جائے اور اگر وہاں ایک جنگلی چوہے کو چٹانیں لڑھکاتے اور بند کو کھودتے ہوئے پائے تو سمجھ لے کہ تباہی قریب آن لگی ہے۔ عمرو نے اس کی ہدایت پر عمل کیا تو کیا دیکھتا ہے کہ وہ جنگلی چوہا، جس کا ذکر طریفہ نے کیا تھا، اپنی پچھلی ٹانگوں سے ایک اتنی بڑی چٹان لڑھکا رہا ہے کہ پچاس آدمی مل کر بھی اسے حرکت نہیں دے سکتے چنانچہ اس نے واپس آکر طریفہ کو رجز میں یوں خبر دی:
ابصرت امرا عادني منه ألم
وهاج لي من هوله برح السقم
’’میں نے ایک ایسا معاملہ دیکھا جس کے باعث مجھے غم نے گھیر لیا اور جس کے ہول سےبیماری کی سی تکلیف اور بے چینی میرے لیے برانگیختہ ہوگئی۔
من جرذ كفحل خنزير الأجم
او تیس مرم من افاريق الغنم
’’ ایک ایسے دشتی چوہے کے باعث جو ( قد و قامت میں) نر جنگلی سور کی مانند تھا یا گلے کے کشادہ سینگوں والے مینڈھوں میں سے ایک مینڈھے کی طرح۔‘‘
يسحب صخرًا من جلاميد العرم
له مخاليب و انياب قصم
’’وہ بند کے تو دہ ہائے سنگ میں سے ایک چٹان کو گھسیٹ رہا تھا۔ اُس کے پنجے اور دانت ایسے تھے کہ توڑ پھوڑ کر رکھ دیتے تھے۔‘‘
ما فاته سحلا من الصخر قضم
كانما يرعىٰ حظيرًا من سلم
’’جو چٹان اُس کے (پنجوں کے) کھرچنے سے بچ رہتی تھی اُسے دانتوں سے کتر ڈالتا تھا، (اور ایسی سہولت سے ) گویا بیری کی باڑ چر رہا ہے۔‘‘
بعد ازاں عمرو نے بھی خواب میں سیلاب دیکھا۔ بعض اور نشانیاں بھی، جو اسے بتائی گئی تھیں، پوری ہو گئیں۔ چنانچہ اُس نے سمجھ لیا کہ اب یہ علاقے تباہ ہو کر رہیں گے لہٰذا یہاں سے نکل جانا ہی قرینِ مصلحت ہے۔ لیکن جانے سے پہلے وہ یہ چاہتا تھا کہ کسی ترکیب سے اپنا سازو سامان فروخت کر کے کچھ رقم گرہ میں باندھ لے چنانچہ اُس نے کسی کو اپنے دل کی بات بتائے بغیر ایک دل چسپ کھیل کھیلا تا کہ لوگوں کے دل میں کوئی کھٹک پیدا نہ ہونے پائے۔
اُس نے اہلِ مأرب کو ایک شاندار ضیافت پر مدعو کیا جس میں پہلے سے سوچی سمجھی چال کے مطابق اُس کے بیٹے مالک نے اُس سے جھگڑنا شروع کر دیا اور معاملہ ہاتھا پائی تک جا پہنچا۔ مالک نے باپ کو گالیوں کے جواب میں گالیاں دیں اور تھپڑ کے جواب میں تھپڑ مارا۔ اس پر عمرو آگ بگولا ہو کر مالک کو جان سے مار ڈالنے کے لیے اٹھا لیکن لوگوں نے بیچ بچاؤ کرا دیا۔ اس پر عمرو نے کہا: ’’بخدا جس شہر میں میری یہ گت بنی ہو میں وہاں نہیں رہوں گا اور اپنا سب مال و متاع فروخت کر کے یہاں سے نکل جاؤں گا۔‘‘ لوگوں نے اُس کے غصے کو غنیمت جانتے ہوئے لگے ہاتھوں اُس کی املاک خرید لیں۔ بعد ازاں عمرو نے اُن کو ساری بات بتا دی اور مأرب کے باشندے وہاں سے مختلف علاقوں میں منتشر ہو گئے۔6
جس سیلاب سے سدِّ مأرب کی تباہی ہوئی اُسے بالعموم اُس ’’سیل العرم ‘‘سے مطابقت دی جاتی ہے جس کا ذکر قرآن کریم میں یوں وارد ہوا ہے:
لَقَدۡ کَانَ لِسَبَاٍ فِیۡ مَسۡکَنِہِمۡ اٰیَۃٌ ۚ جَنَّتٰنِ عَنۡ یَّمِیۡنٍ وَّ شِمَالٍ کُلُوۡا مِنۡ رِّزۡقِ رَبِّکُمۡ وَ اشۡکُرُوۡا لَہٗ ؕ بَلۡدَۃٌ طَیِّبَۃٌ وَّ رَبٌّ غَفُوۡرٌ. فَاَعۡرَضُوۡا فَاَرۡسَلۡنَا عَلَیۡہِمۡ سَیۡلَ الۡعَرِمِ وَ بَدَّلۡنٰہُمۡ بِجَنَّتَیۡہِمۡ جَنَّتَیۡنِ ذَوَاتَیۡ اُکُلٍ خَمۡطٍ وَّ اَثۡلٍ وَّ شَیۡءٍ مِّنۡ سِدۡرٍ قَلِیۡلٍ. ذٰلِکَ جَزَیۡنٰہُمۡ بِمَا کَفَرُوۡا ؕ وَ ہَلۡ نُجٰزِیۡۤ اِلَّا الۡکَفُوۡرَ.7
’’بالیقین (اہل ) سبأ کے لیے ان کے مسکن میں ایک نشانی تھی۔ دو باغ، دائیں اور ہائیں۔ اپنے پروردگار کے رزق میں سے کھاؤ اور اُس کا شکر بجا لاؤ۔ عمدہ شہر اور بخشنے والا رب۔ سو انھوں نے روگردانی کی۔ پس ہم نے اُن پر ’’سیل العرم‘‘8 چھوڑ دیا۔اور انھیں اُن کے دونوں باغوں کے عوض دو ایسے باغ بدل دیے جن میں بدمزہ پھل، کچھ جھاؤ اور کچھ تھوڑے سے بیری کے درخت تھے۔ یہ بدلہ ہم نے اُن کو کفرانِ (نعمت) کے باعث دیا اور (ایسا) بدلہ ہم بڑے ناسپاس ہی کو دیا کرتے ہیں۔‘‘
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اہلِ یمن پر کوئی سیلاب عظیم بطور سزا کے آیا جس سے اُن کی خوشحالی اور رزق کی فراوانی جاتی رہی۔ تاہم قدیم روایتوں کا یہ تصور محققین کے نزدیک ایک تاریخی حقیقت کے طور پر قابل قبول نہیں یعنی یہ کہ صرف ایک ہی شدید سیلاب کے ریلے سے یمن والوں کا عروج یکبارگی مبدّل بہ زوال ہو گیا اور وہ فی الفور منتشر ہو گئے۔ قیاس کیا جاتا ہے کہ مختلف اسباب کی بنا پر رونما ہونے والے ایک طویل مدت پر پھیلے ہوئے تدریجی زوال کو علامتی انداز میں ایک ہی حادثے سے تعبیر کر دیا گیا ہے۔9 قرآن پاک کی مندرجہ بالا آیات میں بھی ’’سیل العرم‘‘ کو تنگیِ رزق اور سلبِ نعمت کا سبب بتایا گیا ہے نہ کہ جلا وطنی و در بدری کا۔
جناب سید سلیمان ندوی کی رائے میں ان آیات سے آگے کی آیات 10میں اُن کے زوال اور پراگندگیِ جمعیت کے حقیقی سبب کا سراغ ملتا ہے۔ یعنی اُن کے لیے انعامِ خداوندی سے ایک پر امن شاہراہِ تجارت مدتوں سے چلی آتی تھی لیکن انھوں نے کفرانِ نعمت کا راستہ اختیار کیا جس کے نتیجے میں اللہ نے اُنھیں قصے کہانیاں بنا کے رکھ دیا اور پارہ پارہ کر ڈالا۔11
جناب سید کی رائے میں اس کا سبب یہ ہوا کہ یونانیوں اور رومیوں نے ہندوستان اور افریقہ کے مابین تجارت کو بری راستے سے بحری راستے یعنی بحر احمر کی طرف منتقل کر دیا اور اس تبدیلی کے باعث یمن سے شام کو جانے والی وہ شاہراہ تجارت اُجڑ کر رہ گئی جس پر سبأ کی اقتصادیات کا دارو مدار تھا۔12
بہر حال زوال و انتشار کا سبب جو کچھ بھی ہو یہ بات طے شدہ ہے کہ طلوعِ اسلام سے پہلے کی صدی میں یمن کا آفتاب بعض وجوہات سے غروب ہو چکا تھا اور اُن کی عظمت پارینہ، قرآن کے الفاظ کے بموجب، محض’’ احادیث‘‘ یعنی ’’ افسانے اور داستانیں‘‘ بن کر رہ گئی تھی۔
یہ بات بھی طے ہے کہ انھی وجوہات سے یمن کے قبائل ترکِ وطن پر مجبور ہو کر منتشر ہو گئے۔ اُن کا یہ انتشار ایسا تھا کہ ضرب المثل ہو گیا چنانچہ کسی گروہ کے تتر بتر ہو جانے کے لیے ’’تفرق القوم ایدی سبأ ‘‘کی مثل رائج ہو گئی یعنی وہ لوگ سبأ کی طرح منتشر ہو گئے۔
ان یمنی قبائل نے ایک بہت بڑی ہجرت شمالی عرب کی طرف کی جہاں بیشتر علم و ہنر سے عاری، غیر متمدن صحرائی قبائل بود و باش رکھتے تھے لیکن جہاں تقدیر کے فیصلے نے اُس عظیم الشان انقلاب کے سامان بہم کرنے شروع کر دیے تھے جسے اسلام کہتے ہیں۔
اس ہجرت کے بعد اہلِ یمن مختلف قبائل کی شکل میں شمالی عرب کے طول و عرض میں آباد ہو گئے۔ ان کی دو بنیادی شاخیں ’’ کہلان‘‘ اور ’’حمیر‘‘ قرار دی جاتی ہیں۔ ’’کہلان‘‘ میں طے، ہمدان، مذحج، عاملہ، جذام اور ازد اہم قبائل ہیں۔ حمیر کی اہم شاخیں قضاعہ، تنوخ، کلب، جہینہ، اور عُذرہ ہیں۔ مشہور انصاری قبائل اوس اور خزرج نیز قبیلۂ خزاعہ اور غسان13 ’’ ازد‘‘ کے ذیل میں آتے ہیں اور لخم اور کندہ کے قبائل ’’جذام ‘‘کے ذیل میں۔14 آخر الذکر تینوں قبیلے یعنی غسّان، لخم اور کندہ عربی ادب کے پس منظر میں نہایت اہم ہیں چنانچہ اُن پر قدرے تفصیل کے ساتھ بحث آگے آئے گی۔
یمن سے متعلق قدیم روایات میں ایک اور اہم کردار شاہ یمن تُبان اسعد ابو کرب کا ہے جو اپنے ایک بیٹے کے قتل کے باعث غضبناک ہو کر یثرب پر حملہ آور ہوا لیکن وہاں دو یہودی عالموں نے اُسے بتایا کہ یہ مقام نبی آخر الزمانؐ کی ہجرت گاہ بننے والا ہے چنانچہ وہ اس شہر کی تخریب سے باز آیا۔ بعد ازاں قبیلۂ ہذیل کے کچھ لوگوں نے اُسے خانۂ کعبہ پر حملہ کرنے کی ترغیب دلائی جو دراصل اسے ہلاک کرانے کی نیت سے تھی لیکن انھی دو یہودی عالموں کے مشورے پر وہ نہ صرف اس ارادے سے باز رہا بلکہ بیت اللہ کی تعظیم کی اور طواف، قربانی اور سر منڈانے کی شکل میں وہاں کے شعائر بھی پورے کیے اور پے بہ پے خواب میں اشارہ پانے کے سبب تین بار خانۂ کعبہ پر بہتر سے بہتر غلاف چڑھایا۔ عام روایات کے مطابق بیت اللہ پر غلاف چڑھانے والا پہلا شخص یہی تھا۔ تُبان نے یہودی مذہب اختیار کر لیا اور اسی کے سبب سے یمن میں یہودیت کا آغاز ہوا۔15
تُبان اسعد ابو کرب کے بعد اُس کے بیٹے حسّان نے عنانِ حکومت سنبھالی۔ یہ وہی حسّان بن تبّع ہے جس نے عام روایات کے بموجب قبیلۂ طسم کی درخواست پر جدیس کو موت کے گھاٹ اتارا تھا۔16 جب اقتدار اُس کے ہاتھ آیا تو وہ اہلِ یمن کو لے کر جنگی مہمات میں مصروف ہو گیا۔ وہ چاہتا تھا کہ عرب و عجم کی سرزمینوں کو پامال کر ڈالے۔ اُس کی ان مہم جوئیوں سے یمنی قبائل اکتا گئے اور گھروں کی یاد اُنھیں ستانے لگی چنانچہ اُنھوں نے حسّان کے بھائی عمرو بن تبان سے ساز باز کی کہ تم اپنے بھائی کو مار ڈالو اور ہم تمھیں بادشاہ تسلیم کر لیں اور پھر تم ہمیں گھروں کو واپس لے چلو۔ عمرو نے یہ بات مان لی اور سب لوگوں نے اُس کے ساتھ گٹھ جوڑ کر لیا۔ صرف ایک شخص ذو رُعین حمیری ایسا تھا جس نے اُسے اس حرکت سے باز رکھنا چاہا لیکن اس کی ایک نہ چلی۔ اس پر ذو رعین نے یہ شعر کہے:
الا من يشترى سهرًا بنوم
سعيد من يبيت قرير عين
’’سن اے شخص، جو نیند بیچ کر بے خوابی خرید رہا ہے، خوش نصیب ہے وہ شخص جو آنکھوں کی ٹھنڈک کے ساتھ شب بسری کرتا ہے۔‘‘
فإمّا حمير غدرت وخانت
فمعذرة الالٰه لذى رعين
’’ اگر اہلِ حمیر بے وفائی اور خیانت پر اتر آئے ہیں تو ذو رعین کے لیے خدا کا عذر ہے۔‘‘
یہ شعر اُس نے ایک رقعے پر لکھے اور سر بمہر کر کے عمروکے حوالے کر دیے کہ انھیں محفوظ رکھنا۔ بعد ازاں عمرو نے حسّان کو قتل کر ڈالا۔ جب یمن واپس پہنچا تو اُس کی نیند اڑ گئی۔ آخر بے خوابی سے تنگ آکر طبیبوں، نجومیوں، کا ہنوں اور عرافوں سے مشورہ کیا۔ اُسے بتایا گیا کہ جب بھی کسی شخص نے زیادتی کرتے ہوئے اپنے بھائی یا کسی قرابت دار کو اس انداز میں قتل کیا ہے جس طرح تم نے اپنے بھائی کو کیا ہے اُس کی نیند اڑ گئی ہے اور بے خوابی اُس پر مسلط کر دی گئی ہے۔ یہ سن کر اس نے یمن کے اُن تمام سر کردہ لوگوں کو تہ تیغ کرنا شروع کر دیا جنھوں نے اُسے حسّان کے قتل پر اکسایا تھا۔ جب ذو رعین کی باری آئی تو اُس نے وہ سر بمہر کا غذ یاد دلایا۔ جب عمرو نے اس کے شعر پڑھے تو اُس کی خیر خواہی کا قائل ہوا اور اُسے چھوڑ دیا۔
عمرو کی وفات کے بعد حمیر کے خانوادہ شاہی کا شیرازہ بکھر گیا اور ایک غاصب شخص ’’لخنیعۃ ینوف ذوشناتر‘‘17 اقتدار پر قابض ہو گیا اور شاہی خاندان کے لوگوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا۔ یہ سخت بد کردار شخص تھا۔ جب تبان اسعد ابو کرب کا چھوٹا بیٹا ’’زُرعۃ ذو نُواس‘‘ جوان ہوا تو اُس نے لخنیعہ کو قتل کر کے تخت و تاج کو دوبارہ حمیر کے دودمانِ شاہی کی طرف لوٹا لیا۔18 ذو نو اس متعصب قسم کا یہودی بتایا جاتا ہے۔ نجران کے علاقے میں عیسائی آبادی تھی۔ وہاں دو یہودی بچوں کے قتل پر، یا بقول بعض، حبشہ کی نصرانی حکومت سے اہلِ نجران کے گٹھ جوڑ کے باعث، غضبناک ہو کر اُس نے نجران کے عیسائیوں کا قتلِ عام کیا۔19 بعض روایات کے مطابق ایک موقعے پر اس نے ایک خندق میں آگ بھروا کر یہودیت قبول نہ کرنے والے عیسائیوں کو اس میں بھسم کیا۔ مفسرین نے عموماً قرآنی آیات :
قُتِلَ اَصۡحٰبُ الۡاُخۡدُوۡدِ. النَّارِ ذَاتِ الۡوَقُوۡدِ. اِذۡ ہُمۡ عَلَیۡہَا قُعُوۡدٌ. وَّ ہُمۡ عَلٰی مَا یَفۡعَلُوۡنَ بِالۡمُؤۡمِنِیۡنَ شُہُوۡدٌ وَ مَا نَقَمُوۡا مِنۡہُمۡ اِلَّاۤ اَنۡ یُّؤۡمِنُوۡا بِاللّٰہِ الۡعَزِیۡزِ الۡحَمِیۡدِ. 20
’’مارے گئے خندق والے۔ یعنی ( بہت سے) ایندھن کی آگ ( والے)۔ جب کہ وہ اُس پر (نگراں) بیٹھے تھے۔ اور جو کچھ سلوک ایمان لانے والوں کے ساتھ کر رہے تھے اُسے آنکھ سے دیکھ رہے تھے۔ اور جس قصور کی انھوں نے اُن لوگوں کو سزا دی تھی وہ بجز اس کے کچھ نہ تھا کہ وہ خدائے عزیز و حمید پر ایمان لے آئے تھے۔‘‘
کا اشارہ اس واقعے کی طرف سمجھا ہے اور اہلِ ایمان سے عیسائی مراد لیے ہیں کہ اسلام سے پہلے کا دین برحق عیسائیت ہی تھی۔ اس واقعے کے ضمن میں ایک عیسائی راہب اور ایک لڑکے اور ساحر کے واقعات کی جو تفصیل صحیح مسلم میں مذکور ہے،21 اس میں ’’بادشاہ‘‘ سے مراد عموماً ’’ذونواس‘‘ ہی سمجھا جاتا ہے۔22 البتہ احمد امین کو اس تفسیر کے ماننے میں اس لیے تامل ہے کہ خدائے عزیز و حمید کو ماننے میں تو یہودی اور نصرانی دونوں ہی یکساں تھے لہٰذا اُن کے نزدیک ان آیات کا اشارہ اس واقعے کی طرف تصور کرنا بعید از قیاس ہے۔23
ذونواس کی متعصبانہ ستم کیشی کے ردِ عمل کے طور پر عیسائیوں نے قیصرِ روم سے مدد چاہی اور قیصر کے ایما پر نجاشی 24 حبشہ نے ذونواس کے خلاف لشکر روانہ کیا۔ روایت ہے کہ پہلی بار ذونواس نے ایک جنگی چال سے کام لے کر حبشی فوج کو تباہ کرا دیا، بعد ازاں ’’اریاط ‘‘ نامی ایک سردار کی قیادت میں ایک لشکرِ جرار حبشہ سے آیا اور یمن میں حمیری اقتدار کا چراغ گُل کر دیا۔ ذونواس نے شکست کھا کر اپنا گھوڑا سمندر میں ڈال دیا اور پھر کبھی نظر نہ آیا۔ اُس کے جانشین ’’ذوجدن‘‘ اور ’’ذو یزن‘‘ بھی اہلِ حبش کی یلغار کے سامنے نہ ٹھیر سکے اور یمن پر اریاط کا قبضہ ہو گیا۔ اُس نے انتقامی کارروائی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی اور خوب قتل و غارت گری کی۔ بیس برس کے لگ بھگ وہ حکمران رہا۔
اریاط کے لشکر میں ’’ابر ہہ ‘‘25نامی ایک شخص تھا۔ اُس نے اُس کے مقابلے میں سر اٹھایا۔ حبشی لشکر کی وفاداریاں دونوں سرداروں میں بٹ گئیں۔ تصادم قریب تھا کہ ابرہہ نے اریاط کو یہ تجویز پیش کی کہ اہلِ حبش کے دونوں گروہوں کو آپس میں لڑانے کی بجائے ہم دونوں دست بدست مقابلہ کر لیں اور جو دوسرے کو قتل کر ڈالے اس کے ساتھ سارا لشکر ہو جائے۔ اریاط راضی ہو گیا اور حربے سے ابرہہ کے سر پر وار کیا جس سے اُس کے ابرو آنکھ اور ناک سے گزر کر ہونٹ تک شگاف آیا اور اسی سبب سے اُس کا لقب ’’ابرہۃ الأشرم‘‘ 26ہوا۔ ابرہہ کا ایک غلام ’’عتودہ‘‘ اُس کی پشت پر استادہ تھا۔ اُس نے حملہ کر کے اریاط کو مارڈالا۔ ابرہہ نے بعد کو اریاط کا خوں بہا ادا کر دیا اور یمن پر قابض ہو گیا۔
نجاشی کو اس صورت حال کا علم ہوا تو اُسے ابرہہ کی اس سرکشی پر سخت غصہ آیا اور اُس نے قسم کھائی کہ وہ ابرہہ کی سرزمین کو پامال کیے بغیر اور اُس کی پیشانی کے بال کترے بغیر اُسے نہ چھوڑے گا۔ ابرہہ نے کمال سیاست سے کام لیتے ہوئے خود ہی اپنا تمام سرمنڈوا دیا اور یمن کی مٹی ایک چرمی تھیلے میں بھر کر نجاشی کے پاس روانہ کر دی کہ وہ اُسے پامال کر کے اپنی قسم پوری کرلے۔ نجاشی کا غصہ اس تدبیر سے ٹھنڈا ہو گیا اور اُس نے یمن میں ابرہہ کی گورنری کی توثیق کر دی۔27 پھر ابرہہ نے صنعاء کے مقام پر ’’القُلَّیس‘‘ 28نامی ایک گر جا تعمیر کرایا جس کی اُس زمانے میں روئے زمین پر کہیں نظیر نہ تھی۔ ابرہہ نے نجاشی کو اس کی تعمیر کی اطلاع دیتے ہوئے یہ بھی لکھا کہ میں عربوں کے حج کا رخ اس طرف پھیرے بغیر دم نہ لوں گا۔ عربوں کا مرکزِ حج دورِ جاہلیت میں بھی خانۂ کعبہ ہی تھا۔ جب ابرہہ کے اس عزم کا چرچا ہوا تو بنو فقیم کے ایک شخص کو غصہ آگیا۔ وہ گیا اور قلیس میں فراغت کر کے اُسے نجس کر دیا۔ اس پر غضبناک ہو کر ابرہہ نے خانۂ کعبہ کو منہدم کرنے کے لیے لشکر کشی کی۔ اس مہم کی تفصیلات کتبِ تاریخ وسیرت میں مذکور ہیں۔ مختصر یہ کہ یہ لشکر، جس میں تیرہ ہاتھی بھی شامل تھے، مکہ پر حملہ آور ہوا۔ قریش پہاڑوں کی چوٹیوں اور گھاٹیوں میں پناہ گزیں ہوئے۔ روایات میں آیا ہے کہ نجاشی کے خاص ہاتھی ’’محمود‘‘29 کے کان میں نفیل بن حبیب خثعمی نے یہ کہہ دیا: ’’محمود ! بیٹھ جا۔ یا سیدھا سیدھا جدھر سے آیا ہے ادھر ہی کو پلٹ جا کیونکہ تو اللہ کے حرمت والے گھر میں ہے۔‘‘ چنانچہ وہ بیٹھ گیا اور ہر چند کہ آہنی تبر اور خمیدہ چھڑیوں سے اُسے زخمی کر ڈالا گیا وہ مکہ کی جانب نہ اُٹھا البتہ کسی بھی اور سمت کو چلایا گیا تو تیزی سے چل کھڑا ہوا۔ اسی اثنا میں سمندر کی طرف سے پرندوں کے جھنڈ نمودار ہوئے جنھوں نے دونوں پنجوں اور چونچ میں ایک ایک سنگریزہ مسور یا چنے کے دانے کے برابر تھاما ہوا تھا۔ یہ کنکریاں جس جس کے جالگیں وہ ہلاک ہوا۔ لشکرِ یمن نے گرتے پڑتے راہِ فرار اختیار کی اور جابجا راستے میں مرتے گئے۔ ابرہہ کو ایسی بیماری ہوئی کہ اُس کے اعضا گل گل کر ریزہ ریزہ جھڑتے گئے اور خون اور پیپ رسنے لگی۔30
عربوں نے اس سال کو ’’عام الفیل‘‘ (ہاتھی کا سال) کے نام سے یاد رکھا۔ اسی سال، اور بعض روایات کے مطابق اس واقعے سے ٹھیک پچاس روز بعد، آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ولادت با سعادت ہوئی۔ پھر تقریباً پچاس برس بعد سورۂ فیل نازل ہوئی جس میں اس واقعے کا تذکرہ یوں فرمایا گیا:
اَلَمۡ تَرَ کَیۡفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِاَصۡحٰبِ الۡفِیۡلِ. اَلَمۡ یَجۡعَلۡ کَیۡدَہُمۡ فِیۡ تَضۡلِیۡلٍ. وَّ اَرۡسَلَ عَلَیۡہِمۡ طَیۡرًا اَبَابِیۡلَ ۙتَرۡمِیۡہِمۡ بِحِجَارَۃٍ مِّنۡ سِجِّیۡلٍ. فَجَعَلَہُمۡ کَعَصۡفٍ مَّاۡکُوۡلٍ. 31
’’کیا تو نے نہیں دیکھا کہ تیرے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیسا معاملہ کیا۔ کیا اُس نے اُن کی چال کو الجھا کر نہیں رکھ دیا؟ اور ان پر غول در غول پرندے بھیجے جو انھیں کنکر کی پتھریوں سے نشانہ بنا رہے تھے۔ سواُس نے اُنھیں کھائے ہوئے بھس کی مانند کر ڈالا۔‘‘32
واقعۂ فیل کے بعد عرب میں قریش کی تو قیر بہت بڑھ گئی۔ اُن کو ’’اہل اللہ‘‘ تصور کیا گیا کہ اللہ نے خود اُن کی طرف سے جنگ کی اور اُنھیں دشمن کی سختی و زور آوری سے محفوظ رکھا۔ اس واقعے کے بارے میں بہت سے اشعار بھی کہے گئے جن کو یہاں نقل کرنا باعث طوالت ہو گا۔33 علاوہ ازیں اسے ادب میں ایک مستقل تلمیح کی حیثیت حاصل ہو گئی۔
ابرہہ کے بعد اُس کے بیٹے ’’ یکسوم ‘‘ 34اور ’’مسروق‘‘ یکے بعد دیگرے برسر ِاقتدار آئے۔ یمن پر حبشی تسلط کو ستر بہتر برس35 ہو چکے تھے کہ حمیر کے پرانے شاہی خانوادے کے چشم و چراغ سیف بن ذی یزن36 نے اس کے خلاف کمرِ ہمت کسی اور قیصرِ روم سے امداد کا طالب ہوا لیکن قیا صرہ دنیائے عیسائیت کے سر پرست تھے، اور جیسا کہ گذشتہ اوراق میں بیان ہو چکا ہے، ذونواس کے خلاف عیسائیوں کی دادرسی کے لیے نجاشی حبشہ کی طرف سے یمن پر لشکر کشی اور بالآخر وہاں حبشی تسلط کا قیام ابتداءً در بارِ قیصری ہی کے ایما پر عمل میں آیا تھا۔ ظاہر ہے کہ وہاں سیف بن ذی یزن کی پذیرائی کی کوئی صورت نہ تھی۔ مایوس ہو کر وہ اُس وقت کی دوسری بڑی طاقت یعنی ایران کی طرف متوجہ ہوا اور شاہ ِحیرہ نعمان بن منذر کی وساطت سے المدائن میں کسریٰ انوشرواں کے دربار تک رسائی حاصل کی۔ کسریٰ کے دربار میں اُس کے ورود اور ایک لطیف تدبیر سے کسریٰ کو فتحِ یمن پر مائل کرنے کی تفصیلات دل چسپ ہونے کے باوجود بخوف طوالت یہاں حذف کی جاتی ہیں۔37 قصہ کو تاہ آٹھ سو قیدی، جنھیں سزائے موت کا حکم سنایا جا چکا تھا، ’’ وہرز‘‘ نامی ایک سپہ سالار کی قیادت میں نوشیرواں نے سیف بن ذی یزن کے ساتھ کر دیے۔ یمن پہنچ کر سیف نے اپنے حامیوں کو بھی اس لشکر کے ساتھ ملایا۔ مسروق بن ابرہہ مارا گیا اور یمن میں حبشی اقتدار کا خاتمہ ہو گیا۔ کچھ عرصہ ایرانیوں نے سیف کو نام نہاد بادشاہ بنا کر ایک مشترک حکومت کا نظام جاری کیا اور سیف غُمدان کے مشہور قلعے میں سریر آرا ہوا لیکن جلد ہی یمن مکمل طور پر ایک ایرانی صوبہ بن گیا۔ سیف بن ذی یزن کی کوئی حیثیت نہ رہی اور عیسائی تسلط کی جگہ زرتشتی تسلط نے لے لی۔
آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بعثت کے وقت ’’باذان‘‘ ایرانیوں کی طرف سے یمن کا گورنر تھا۔ آپؐ کے اعلانِ نبوت کی خبر سن کر کسریٰ نے بعض گستاخانہ احکام دے کر اسے حضورؐ کے پاس جانے کی ہدایت کی۔ باذان نے کسریٰ کا خط آپؐ کی خدمت میں بھجوا دیا۔ آپؐ نے جواب میں اُسے لکھوا بھیجا کہ اللہ نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ فلاں مہینے کی فلاں تاریخ کو کسریٰ قتل ہو جائے گا۔ جب اُسی روز کسریٰ اپنے لڑکے شیرویہ کے ہاتھوں قتل ہو گیا تو باذان نے حضورؐ کی خدمت میں اپنا وفد بھیج کر اپنے دوسرے ایرانی ساتھیوں سمیت اسلام لانے کا اعلان کر دیا۔38
[باقی]
- ۔ Nicholson, 15۔
- ۔ ارض القرآن،1/252-250 Hitti, 54,64-65. Nicholson,۔
- ۔ عمرو کے لقب ’’ مزیقیاء‘‘کو ’’مزق‘‘ (چاک کرنا) سے مشتق تصور کرتے ہوئے یہ روایت بیان کی گئی ہے کہ وہ ہر شب اُس روز کے پہنے ہوے لباس کو چاک کر ڈالتا تھا۔ اُس کے باپ عامر کے لقب ’’ماء السماء‘‘ (آسمان کا پانی) کا سبب یہ بتایا گیا ہے کہ خشک سالی کے زمانے میں وہ اپنے قبیلے کی کفالت کر کے گویا بارش کا نعم البدل ثابت ہوتا تھا۔ (تفصیل کے لیے دیکھیے : لسان العرب، ’’ مزق‘‘ ،’’ موه ‘‘)
- ۔ سُہیلی کے بیان کے مطابق یہ اُس کی بیوی تھی، پورا نام طریفۃ بنت الخير الحمیریۃ تھا۔ (الروض الأنف، 1/18)
- ۔ مروج الذہب کے قلمی نسخوں میں یہ نام ’’ظریفۃ ‘‘ ظائے منقوطہ سے تھا۔ اسی کو نکلسن نے اختیار کر لیا (15 Nicholson,)، لیکن مروج الذہب کے محققِ متن نے وضاحت کی ہے کہ یہ تصحیف ہے۔ (مروج الذہب، 2/185)
- ۔ مروج الذہب ،2: 189-185۔یہ روایت عربی ادب میں ایک تلمیح کی حیثیت رکھتی ہے۔ قدماء میں اعشیٰ کہتا ہے:ففي ذاك للمؤتسى أسوةبمأرب عفّیٰ عليها العرم’’ سو اس صورت حال میں مثال اخذ کرنے والے کے لیے ایک مثال موجود ہے/ مأرب میں جسے (سیلِ) عرم نے ملیا میٹ کر دیا ۔‘‘ (کئی اشعار۔ دیکھیے بہ اختلاف روایت مروج الذہب ، 2/184، دیوانِ اعشیٰ 43 ، ابنِ ہشام، 1/ 14 ، معجم البلدان، 4/ 388-387 ’’مأرب‘‘) اور بہت بعد کے زمانے میں عمارة بن علی ایمنی (ف 1174ء) کہتا ہے:ولا تحتقر كيد الضعيف فربّماتموت الأفاعي من سموم العقارب’’کمزور کی چال کو حقیر نہ سمجھ کہ بسا اوقات بچھوؤں کے زہر سے سانپ مر جاتے ہیں۔‘‘فقد هدّ قِد مًا عرش بلقيس هدهدوحرّب فأر قبل ذا سدَّ مأرب’’ چنانچہ زمانۂ قدیم میں بلقیس کے تخت کو ایک ہدہد نے ڈھا دیا اور اس سے بھی پہلے سدِّ مأرب کو ایک چوہے نے برباد کر دیا۔‘‘
- ۔ القرآن، 34/17-15۔
- ۔ لفظ ’’عرم‘‘ کے کئی مفہوم سمجھے گئے ہیں۔ ایک مطلب ہے ’’تند اور منہ زور‘‘ چنانچہ ’’سیل الامر العرم‘‘ تصور کرتے ہوئے اس سے مراد’’ تند و تیز سیلاب‘‘ ہو گا۔ دوسرا مطلب ہے ’’ بند‘‘۔ اس صورت میں وہ سیلاب مراد ہوا جو ’’ بند‘‘ کو توڑ کر چڑھ آیا تھا۔ ایک اور مطلب ’’ بڑا جنگلی چوہا‘‘ بھی سمجھا گیا ہے یعنی ’’ چوہے کا سیلاب‘‘ اور اس سے اُسی چو ہے کی طرف اشارہ تصور کیا جاتا ہے جس نے بند میں سوراخ کیا تھا۔ (دیکھیے: مفرداتِ راغب، 332، ’’ عرم‘‘)
- ۔ دیکھیے:Hitti, 65۔
- ۔ القرآن، 34/18-19۔
- ۔ ’فَجَعَلۡنٰہُمۡ اَحَادِیۡثَ‘ کے قرآنی الفاظ واقعی ایک ایسی قوم کے المناک انجام کی نشاندہی کرتے محسوس ہوتے ہیں جن کے اسبابِ عروج وزوال کی ٹھیک ٹھیک تفصیلات تک معلوم کرنا دشوار ہو گیا اور جن کا وجود مختلف قسم کی داستانوں اور روایتوں پر منحصر رہ گیا۔ اسی طرح’و مزّقنا هم کلّ ممزّق‘ کے الفاظ سے ایک قوم کے ہر سمت پراگنده و منتشر ہو جانے کی تصویر سامنے آتی ہے۔
- ۔ ارض القرآن، 1/268-271۔پروفیسر حتّی نے اہلِ روم اور اہلِ یمن کی اس تجارتی منافست اور بالآخر سمندری راستوں پر رومیوں کی بالادستی کا حال زیادہ تفصیل سے لکھا ہے۔ (60,65-58 ,Hitti)
- ۔ یہاں غسّان سے مراد صرف بنو جفنہ لیے گئے ہیں ورنہ یہ لقب اوس و خزرج، خزاعہ اور بنو جفنہ سب پر حاوی ہے۔ ( معجم البلدان، 801-3، غسّان)
- ۔ فجر الاسلام ،7۔
- ۔ ابنِ ہشام ،1/19-28۔
- ۔ موازنہ کیجیے: ص 58۔
- ۔ ابنِ درید نے ’’لخیعۃ ‘‘ (بلانون) بتایا ہے اور ’’یاء ‘‘ کو زائد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ’’لخع‘‘سے مشتق ہے جس کا مطلب ہے جسم کا ڈھلک جانا۔ (جمہرۃ اللغۃ، 3/335) بعض مصادر میں لختیعۃ ہے اور ینوف کو ’’تنوف ‘‘ بھی لکھا گیا ہے۔
- ۔ ابنِ ہشام، 1/28-31۔
- ۔ فجر الاسلام ، 24، 26- 27۔
- ۔ القرآن ، 85/ 4- 8۔
- ۔ صحیح مسلم، کتاب الزہد، باب قصۃ أصحاب الاخدود، نیز دیکھیے: ابنِ ہشام ، 1/34- 36 جہاں لڑکے کا نام عبد اللہ بن الثامر بتایا گیا ہے۔
- ۔ دیکھیے : ارض القرآن ، 1/296- 97۔
- ۔ فجر الاسلام ، 26- 28۔
- ۔ ’’نجاشی‘‘،’’نجوس‘‘ (Negus) کا معرّب بتایا جاتا ہے جس کے معنی حبشی زبان میں ’’بادشاہ‘‘ کے ہیں۔ یہ شاہانِ حبش کا لقب تھا۔ فتحِ یمن کے دور کے نجاشی کا نام یونانی مؤرخین ’’الیباس‘‘ بتاتے ہیں جو درحقیقت ’’یلا اصبحہ‘‘ ہے اور عرب اسے ’’الا صبح‘‘ کہتے ہیں۔ (ارض القرآن ،1/303- 306)
- ۔ ’’ابر ہہ ‘‘جناب سید سلیمان ندوی کے خیال میں لفظ ’’ابراہیم ‘‘ کا حبشی تلفظ ہے۔ (ارض القرآن، 1/ 309)
- ۔ ’’شرم‘‘کے لغوی معنی’’ شق‘‘ کرنے کے ہیں۔ ’’الأ شرم‘‘ اسے کہا جاتا ہے جس کی ناک میں شگاف آیا ہو۔ بینی شگافۃ۔
- ۔ ابنِ ہشام،1/37- 38 ، 41- 42۔ ارض القرآن، 1/304ومابعد۔
- ۔ اس گرجے کی عمارت بہت بلند و بالا تھی۔ اس کی تعمیر میں ابرہہ نے اہلِ یمن سے بڑی سخت بیگار لی۔ کئی فرسنگ کے فاصلے پر ’’قصرِ بلقیس‘‘تھا۔ وہاں سے سیاہ و سفید مرمر نیز ایسے پتھر، جن پر سونے سے نقاشی کی گئی تھی ، ڈھو ڈھو کر لائے گئے۔ طلوع آفتاب سے پہلے پہلے اگر کوئی کاریگر مصروفِ عمل نہ پایا جاتا تو اُس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا تھا۔ (مزید تفصیلات کے لیے دیکھیے : الروض الأنف ،1/40- 41)
- ۔ روایت ہے کہ سب ہاتھی ہلاک ہوئے صرف یہی آخر میں بچ رہا۔ (ایضاً، 1/ 45)
- ۔ روایات عرب میں مذکور ہے کہ چیچک اور خسرہ کا ظہور عرب میں پہلی بار اسی سال ہوا۔ (ابنِ ہشام ، 1/54) مستشرقین نے اس سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ ابرہہ کی فوج میں چیچک کی وبا پھوٹ نکلی تھی جس سے وہ تباہ و برباد ہو گئی ۔ جناب سلیمان ندوی نے اس سلسلے میں یہ قیاس ظاہر کیا ہے کہ عین ممکن ہے پرندوں کی پھینکی ہوئی کنکریوں میں چیچک کے وبائی جراثیم ہوں۔ (ارض القرآن،1/ 314)
- ۔ القرآن ، 105۔
- ۔ یہ سورت غیر مسلم محققین کے لیے بھی ایک تاریخی سند ہے کیونکہ اس کے نزول کا زمانہ اصل واقعے سے اتنا قریب ہے کہ جب یہ نازل ہوئی تو ہنوز ایسے لوگ موجود تھے جنھوں نے خود اس واقعے کا زمانہ پایا تھا اور اس کا مشاہدہ کیا تھا یا اپنے بڑوں سے اس کے چشم دید واقعات سنے تھے۔ چونکہ تمام تر عناد کے باوجود کفارِ قریش کی طرف سے اس سورت پر کسی قسم کا مخالفانہ تبصرہ نہیں کیا گیا لہٰذا اس واقعے کا اسی طرح عمل میں آنا مسّلم ہے۔ البتہ اس سلسلے میں غیر از قرآن جو تفصیلات مروی ہیں ان میں صحت وسقم کے تناسب کے بارے میں وثوق سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
- ۔ دیکھیے : ابنِ ہشام ،1/57- 61۔
- ۔ ابر ہہ کی کنیت ’’ ابو یکسوم‘‘ اسی بیٹے کے نام پر ہے۔
- ۔ ابنِ ہشام، 1/68۔
- ۔ سیف بن ذی یزن کی شخصیت عوامی داستانوں میں ایک ہیرو کی حیثیت اختیار کر گئی۔ بہت ساعوامی ادبِ منظوم و منثور اس مرکزے کے گرد پیدا ہوا۔ قاہرہ کے قہوہ خانوں کے سامنے مدتوں ’’سیرۃ عنتر‘‘ کے ساتھ ساتھ داستان گو حضرات ’’سیرۃ سیف بن ذی یزن‘‘ سے بھی لوگوں کو مسحور و محظوظ کرتے رہے۔
- ۔ دیکھیے : ابنِ ہشام ، 1/62- 63۔
- ۔ اس باب کے اساسی مآ خذ یہ ہیں :ابنِ ہشام، 1/37- 70، ارض القرآن ، 1/296- 315، طبری، 2/115، 66-65 Hitti, ۔