مواد پر جائیں

ناحق زیادتی کی حرمت

سید منظور الحسن اردو

اللہ تعالیٰ نے اخلاقیات کے دائرے کی پانچ چیزوں ـــــ فواحش، حق تلفی، ناحق زیادتی، شرک اور بدعت ـــــکو حرام قرار دیا ہے۔سورۂ اعراف میں ارشاد فرمایا ہے:

قُلۡ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الۡفَوَاحِشَ مَا ظَہَرَ مِنۡہَا وَ مَا بَطَنَ وَ الۡاِثۡمَ وَ الۡبَغۡیَ بِغَیۡرِ الۡحَقِّ وَ اَنۡ تُشۡرِکُوۡا بِاللّٰہِ مَا لَمۡ یُنَزِّلۡ بِہٖ سُلۡطٰنًا وَّ اَنۡ تَقُوۡلُوۡا عَلَی اللّٰہِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ. (7: 33)

’’کہہ دو، میرے پروردگار نے تو صرف فواحش کو حرام کیا ہے، خواہ وہ کھلے ہوں یا چھپے اور حق تلفی اور ناحق زیادتی کو حرام کیا ہے اور اِس کو کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھیراؤ، جس کے لیے اُس نے کوئی سند نازل نہیں کی اور اِس کو کہ تم اللہ پر افترا کرکے کوئی ایسی بات کہو جسے تم نہیں جانتے۔‘‘

اِن پانچ محرمات میں سے تیسری چیز بغی یعنی ناحق زیادتی ہے۔ ’بغی یبغی‘ کے لغوی معنی کسی چیز کی طلب میں حدِ اعتدال سے تجاوز کرنے کے ہیں۔1 یہ تجاوز جب دوسروں کے حقوق میں مداخلت اور اُن کی بجا آوری سے انحراف کی سطح تک جا پہنچے تو ظلم و زیادتی، سرکشی و بغاوت اور ضد اور ہٹ دھرمی کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ قرآنِ مجید میں ’بَغْی‘ کا لفظ اِن تینوں پہلوؤں سے استعمال ہوا ہے۔

سورۂ شوریٰ میں یہ لفظ زیادتی کے مفہوم میں آیا ہے۔ صالحین کےاوصاف بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اول تو وہ مخالفین کی اشتعال انگیزی پر درگذر کرتے ہیں اور اگر کبھی جوابی اقدام کرتے ہیں تو بس اُسی وقت کرتے ہیں، جب اُن سے صریح زیادتی (بغی) کی جاتی ہے:

وَ الَّذِیۡنَ اِذَاۤ اَصَابَہُمُ الۡبَغۡیُ ہُمۡ یَنۡتَصِرُوۡنَ . ( 42: 39)

’’اور وہ کہ جو بدلہ اُس وقت لیتے ہیں، جب اُن پر زیادتی کی جائے۔‘‘

اِسی زیادتی کے مفہوم میں یہ لفظ سورۂ حجرات میں بھی آیا ہے۔ مسلمانوں کو ہدایت فرمائی ہےکہ اگر اُن کے دو گروہوں میں سے ایک گروہ دوسرے کے ساتھ زیادتی کرے تو وہ زیادتی کرنے والے کے خلاف جنگ کریں:

وَ اِنۡ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اقۡتَتَلُوۡا فَاَصۡلِحُوۡا بَیۡنَہُمَا ۚ فَاِنۡۢ بَغَتۡ اِحۡدٰىہُمَا عَلَی الۡاُخۡرٰی فَقَاتِلُوا. (49: 9)

’’اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو اُن کے درمیان صلح کراؤ۔ پھر اگر اُن میں سے ایک گروہ دوسرے پر زیادتی کرے تو جو زیادتی کرے، اُس سے جنگ کرو۔‘‘

’بغی‘ کا لفظ سورۂ قصص میں سرکشی کے مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ قارون کی سرکشی کو اِسی لفظ سےبیان فرمایا ہے۔ارشاد ہے:

اِنَّ قَارُوۡنَ کَانَ مِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰی فَبَغٰی عَلَیۡہِمۡ. (28: 76)

’’قارون موسیٰ کی قوم ہی میں سے تھا، پھر وہ اُن کے خلاف سرکش ہو گیا۔‘‘2

بنی اسرائیل سرکشی میں بہت بڑھے ہوئے تھے۔ اُن کے اِس اخلاقی فساد کا سب سے بڑا ہدف اللہ کی شریعت تھی۔ اللہ نے اِس کی سزا کے طور پر اُن کے لیےبعض ایسی چیزوں کو حرام قرار دیا، جو اللہ کی شریعت میں اصلاً حرام نہیں تھیں۔ ناخن والے جانوروں کے گوشت اور گاے، بھیڑ، بکری کی چربی کو اِسی پہلو سے حرام ٹھہرایا گیا۔ قرآن نے سورۂ انعام میں جب مذکورہ پہلو سے اُن کی سرکشی کا ذکر فرمایا ہے تو اُس کے لیے ’بغی‘ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ ارشاد ہے:

وَ عَلَی الَّذِیۡنَ ہَادُوۡا حَرَّمۡنَا کُلَّ ذِیۡ ظُفُرٍ ۚ وَ مِنَ الۡبَقَرِ وَ الۡغَنَمِ حَرَّمۡنَا عَلَیۡہِمۡ شُحُوۡمَہُمَاۤ اِلَّا مَا حَمَلَتۡ ظُہُوۡرُہُمَاۤ اَوِ الۡحَوَایَاۤ اَوۡ مَا اخۡتَلَطَ بِعَظۡمٍ ؕ ذٰلِکَ جَزَیۡنٰہُمۡ بِبَغۡیِہِمۡ ۫ۖ وَاِنَّا لَصٰدِقُوۡنَ. (6: 146)

’’(یہ، البتہ ٹھیک ہے کہ) جن لوگوں نے یہودیت اختیار کر رکھی ہے، اُن پر ہم نے سب ناخن والے جانور حرام کر دیے تھے اور گاے اوربھیڑ بکریوں کی چربی بھی حرام کر دی تھی، سواے اُس کے جو اُن کی پیٹھ یا انتڑیوں سے لگی ہو یا کسی ہڈی سے لگی ہوئی رہ جائے۔ یہ ہم نے اُن کی سرکشی کی سزا اُنھیں دی تھی اور ہم بالکل سچے  ہیں۔‘‘

امام امین احسن اصلاحی نے اِس آیت کے الفاظ ’ذٰلِکَ جَزَیْنٰھُمْ بِبَغْیِھِمْ وَاِنَّا لَصٰدِقُوْنَ‘ کی وضاحت میں لکھا ہے:

’’… (یہ)علی الاطلاق حرمت بنی اسرائیل پر اِس وجہ سے نہیں تھی کہ فی نفسہٖ اِن چیزوں کے اندر حرمت کی کوئی علت موجود ہے، بلکہ اِن کی حرمت میں اصل دخل بنی اسرائیل کے فسادِ مزاج کو تھا… اِس اخلاقی فساد کو قرآن نے ’بغی‘کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے، جس کے معنی سرکشی کے ہیں۔ بنی اسرائیل کی اِس سرکشی کا ذکر تورات اور انبیا کے صحیفوں میں اِس کثرت سے آیا ہے کہ آدمی پڑھتے پڑھتے اکتا جاتا ہے۔ شریعت کا کوئی حکم ایسا نہیں ہے،جس کو اُنھوں نے بہ خوشی قبول کیا ہو۔ جو حکم بھی اُن کو دیا گیا، اول تو اُنھوں نے اپنے سوال در سوال کی کثرت ہی سے اُس کو نہایت بوجھل بنا لیا، جس کی ایک مثال سورۂ بقرہ میں گاے کے قصے میں گزر چکی ہے۔ پھر اُس کو مانا بھی تو اُس سے گریز و فرار کی اتنی راہیں ڈھونڈھ ڈھونڈھ کے نکال لیں کہ عملاً وہ حکم اُن کے لیے بالکل بے اثر ہو کے رہ گیا۔ اُن کے اِس فرار پسندانہ اور باغیانہ مزاج کا اثر قدرتی طور پراُن کی شریعت پر بھی پڑا۔ جس طرح کسی سرکش جانور کا مالک اُس کو سخت بندھنوں کے اندر رکھنے پر مجبور کرتا ہے یا سرکش رعایا کا حکمران سخت قوانین نافذ کرتا ہے، اُسی طرح اللہ تعالیٰ نے اُن سرکشوں کو نہایت سخت قوانین میں باندھا، جن کو قرآن میں ’اصر و اغلال‘ یعنی بندھن اور طوق سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ ‘‘(تدبر قرآن 3/ 192)

سرکشی تکبر پر مبنی ہوتی ہے، لہٰذا ضد اور عداوت کو جنم دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنِ مجید کے بعض مقامات پر ’بَغْی‘کا لفظ ضدم ضدا کے مفہوم میں بھی استعمال ہوا ہے۔ چنانچہ خدا کے فیصلے کے مقابلے میں یہود کی ضد کو نمایاں کرنے کے لیے سورۂ بقرہ میں یہی لفظ اختیار فرمایا ہے:

بِئۡسَمَا اشۡتَرَوۡا بِہٖۤ اَنۡفُسَہُمۡ اَنۡ یَّکۡفُرُوۡا بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ بَغۡیًا اَنۡ یُّنَزِّلَ اللّٰہُ مِنۡ فَضۡلِہٖ عَلٰی مَنۡ یَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِہٖ .

(2: 90)

’’کیا ہی بری ہے وہ چیز جس کے بدلے میں اِنھوں نے اپنے آپ کو بیچ دیا کہ محض اِس بات کی ضدمیں کہ اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے، اپنا فضل اتارے، یہ اُس چیز کا انکار کر دیں،جو اللہ نے اتاری ہے۔‘‘

امام امین احسن اصلاحی اِس مقام پر ضد اور سرکشی کے باہمی تعلق کو واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’ …یہ وضاحت ہے اُس چیز کی، جس کو اُن لوگوں نے اختیار کیا، وہ یہ ہے کہ اُنھوں نے اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی کتاب اور اُس کے بھیجے ہوئے نبی پر ایمان لانے کے بجاے اُس کے انکار اور مخالفت کی راہ اختیار کی اور چونکہ انکار اور مخالفت کی یہ راہ دیدہ و دانستہ اختیار کی گئی، اِس وجہ سے اِس کا سبب اِس ضد اور عناد کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا کہ اُن کو اللہ تعالیٰ پر غصہ تھا کہ اُس نے آخری دین اور آخری رسول کی نعمت سے بنی اسماعیل کو کیوں نوازا،خود اُن کے اندر سے کسی کو رسول کیوں نہیں بنایا؟ گویا اللہ تعالیٰ کی تمام نعمتوں کے اجارہ دار یہی ہیں اور اِنھی کو حق پہنچتا ہے کہ وہ بتائیں کہ وہ کس منصب کے لیے کس کو منتخب کرے اور کس کو منتخب نہ کرے۔ ’بغی‘ کے معنی یہاں ضد کے ہیں۔ یہ ضد اُن کی سرکشی اور اُن کے استکبار کا نتیجہ تھی۔‘‘

(تدبر قرآن 1/ 271)

اِس تفصیل سے واضح ہے کہ لفظِ ’بغی‘ اخلاقی فساد کے اُن جرائم کے لیے مستعمل ہے، جو حقوق اللہ اور حقوق العباد میں ناروا در اندازی پر مبنی ہوتے ہیں اور اپنے اظہار میں ضد، تکبر اور سرکشی کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ چنانچہ استاذِ گرامی اِس لفظ کے معنی کی وضاحت میں لکھتے ہیں:

’’اِس (بَغْی)کے معنی سرکشی اور تعدی کے ہیں۔ یعنی آدمی اپنی قوت،طاقت اور زور و اثر سے ناجائز فائدہ اٹھائے، حدود سے تجاوز کرے اور دوسروں کے حقوق پر، خواہ وہ حقوق خالق کے ہوں یا مخلوق کے، دست درازی کرنے کی کوشش کرے۔‘‘(میزان 208)

سورۂ اعراف کی مذکورہ آیت میں ’الۡبَغۡیَ‘ کے ساتھ ’بِغَیۡرِ الۡحَقِّ‘ کے الفاظ بھی آئے ہیں۔ اِس سے مقصود جرم کی شناعت اور شر انگیزی کو نمایاں کرنا ہے۔اِس سے یہ اخذ نہیں کرنا چاہیے کہ زیادتی اور سرکشی کی کوئی صورت مبنی بر حق بھی ہو سکتی ہے۔ استاذ ِگرامی نے لکھا ہے:

’’زیادتی کے ساتھ ناحق کا اضافہ اُس کے گھنونے پن کو ظاہر کرنے کے لیے ہے۔ اِس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ کوئی زیادتی برحق بھی ہوتی ہے۔ ہر زیادتی بجاے خود ناحق ہے۔ چنانچہ انبیا علیہم السلام کے قتل کے جرم کے ساتھ بھی یہ لفظ اِسی طرح استعمال ہوا ہے۔‘‘

(البیان 2/ 149- 150)

یہاں یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ اگر ’اثم‘، یعنی ’’حق تلفی‘‘ اور ’بغی‘،یعنی ’’ناحق زیادتی ‘‘ کا تعلق حقوق ہی سے ہے تو پھر دونوں حرمتوں میں تفریق کیوں قائم کی گئی ہے؟ اِس کا جواب یہ ہے کہ دونوں حرمتوں میں واضح فرق ہے۔ اول الذکر حقوق کی خلاف ورزی کی ابتدائی صورت ہے اور ثانی الذکر اُس پر اضافہ ہے۔ یعنی واجب الادا حق کو ادا نہ کرنا ’’حق تلفی‘‘ ہے اور اُس حق کے معاملے میں صاحبِ حق کے خلاف جارحانہ اقدام ’’ناحق زیادتی‘‘ ہے۔ اِس فرق کو والدین کے حقوق کی مثال سے بہ خوبی سمجھا جا سکتا ہے۔ والدین کا حق ہے کہ اُن سے حسن سلوک کیا جائے۔ اولاد اگر ایسا نہیں کرتی تو گویا اُن کا حق ادا کرنے سے انکار کرتی ہے۔ یہ ’’حق تلفی‘‘ ہے۔ اب اِس سے آگے بڑھ کر اگر اولاد والدین سے بدتمیزی اور درشت خوئی کا رویہ اختیار کرتی ہے تو یہ محض ’’حق تلفی‘‘ کا جرم نہیں، بلکہ اُس پر مستزاد ’’ناحق زیادتی‘‘ کا جرم ہے۔ اِس کی شناعت، ظاہر ہے کہ حق تلفی کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔

زیادتی و سرکشی :قرآن و حدیث میں مذکور بعض صورتیں

’الۡبَغۡی‘ کے معنی و مفہوم کی درجِ بالا تفصیل سے یہ بات پوری طرح واضح ہو گئی ہے کہ یہ لفظ اُن حرمتوں کی جامع تعبیر ہے، جو حدود سے باغیانہ تجاوز کو ظاہر کرتی ہیں۔ اِس کے دائرے میں وہ تمام ممنوعات شامل ہیں، جوزیادتی، سرکشی اور ضدپر مبنی ہیں۔ اِس کی نمایاں ترین صورتیں شرک اور افترا علی اللہ ہیں۔ اِن دونوں صورتوں کو اللہ تعالیٰ نے چوتھی اور پانچویں حرمت کے طور پر الگ سے متعین فرمایا ہے۔ اِس کا سبب، ظاہر ہے کہ اِن کی غیرمعمولی شناعت ہے۔ اُنھیں یہاں بیان کرنے کے بجاے منفرد طور پر آگے بیان کیا جائے گا۔ یہاں اُن کے علاوہ قرآن و حدیث میں مذکور باقی نمایاں حرمتیں بیان کی جاتی ہیں:

مذہبی جبر،

فساد فی الارض،

قتل و جراحت،

خود کشی،

قذف،

دوسروں کا مال غصب کرنا،

چوری،

سود،

جوا،

قحبہ گری،

غرور و تکبر،

خلقی ساخت میں تبدیلی،

ظلم و زیادتی میں تعاون۔

  1. ’البَغْي: طلب تجاوز الاقتصاد فيما يتحرّى، تجاوزه أم لم يتجاوزه‘، ’’بغی کے معنی کسی چیز کی طلب میں میانہ روی کی حد سے تجاوز کی خواہش کرنے کے ہیں، خواہ تجاوز کر سکے یا نہ۔‘‘(المفردات فی غریب القرآن 136) سورۂ بقرہ میں ’غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَاعَادٍ‘ کے الفاظ اِسی مفہوم میں آئے ہیں۔ فرمایا ہے: ’’اُس نے تو تمھارے لیے صرف مردار اور خون اورسؤر کا گوشت اور غیراللہ کے نام کا ذبیحہ حرام ٹھیرایاہے۔ اِس پر بھی جو مجبور ہو جائے، اِس طرح کہ نہ چاہنے والا ہو، نہ حد سے بڑھنے والا تو اُس پر کوئی گناہ نہیں۔ اللہ، یقیناً بخشنے والا ہے، وہ سراسر رحمت ہے۔‘‘ (2: 173)
  2. ’’(قارون کی) اِس (سرکشی) کاسبب یہ ہوا کہ بنی اسرائیل کی پوری قوم نے موسیٰ علیہ السلام کی امامت و سیادت تسلیم کر لی اور اُن کے ساتھ ہجرت کرکے مصر سے نکل آئی۔ اِس سے اِس کو بڑا حسد ہوا اور اِس نے یہ نعرہ بلند کر دیا کہ اِس جماعت کا تو ہر آدمی مقدس ہے اور خدا کی معیت بھی پوری جماعت کو حاصل ہے، پھر موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کے لیے یہ امتیاز کیوں کہ وہ قوم کی امامت و پیشوائی کریں؟ چنانچہ اپنے خاندان اور عام بنی اسرائیل میں سے کچھ لوگوں کو ساتھ ملا کر یہ اُن کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا۔ اِس کی یہی بغاوت ہے، جس کا ذکر قرآن نے ’فَبَغٰی عَلَیْہِمْ‘ کے الفاظ میں کیا ہے۔‘‘ (البیان 3/ 620)